بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں

ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں

مولانا خالد سیف الله رحمانی

انسان اس دنیا میں خود اپنے ارادہ سے پیدا نہیں ہوا ہے، بلکہ پیدا کیا گیا ہے، دنیا میں بہت سی چیزیں اس کے لیے فائدہ مند ہیں اور بہت سی چیزیں مضرت رساں، وہ خود اپنے نفع ونقصان سے بھی کماحقہ واقف نہیں، اس کے اندر قسم قسم کی خواہشات اور آرزوئیں ہیں، اس کے نفس میں ایسی حسرتیں بھی پلتی رہتی ہیں جو اسی کے جیسے دوسرے انسانوں کے لیے تباہی وبربادی اور نقصان کا باعث ہیں، بعض ایسی تمنائیں بھی دل میں مچلتی اورذہن کو بے قرار رکھتی ہیں، جو اس کے لیے نہ صرف روحانی بلکہ مادی اورجسمانی اعتبار سے بھی انتہائی نقصان دہ ہوتی ہیں، اس لیے اگر انسان کو زندگی گزار نے کے بارے میں آزاد اور بے لگام چھوڑ دیا جائے، تو وہ نہ صرف دوسروں کے لیے بلکہ خود اپنے لیے بھی طرح طرح کی مصیبتیں اورمشکلات پیدا کرسکتا ہے، اس لیے اسے صحیح طریقہ پر زندگی گزارنے کے لیے پیدا کرنے والے کی جانب سے ہدایت نامہ کی ضرورت ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ یہ ہدایت نامہ کسی انسان ہی کے ذریعہ آئے اور وہ اس پر عمل کرکے دکھائے اور بتائے، الله تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ہر دور میں اس کی تعلیم وتربیت کا سروسامان بھی فرمایا، چنا ں چہ انسان کی راہ نمائی کے لیے الله نے ہدایت نامے بھیجے، جسے”کتاب الله“ کہا جاتا ہے اور اسے پہنچانے اور علمی طور پر اسے برت کر دکھانے کے لیے انبیائے کرام کو بھیجا۔

حضرت آدم علیہ السلام جیسے پہلے انسان تھے، ویسے ہی پہلے پیغمبر بھی تھے، نبوت ورسالت کا یہ سلسلہ پیغمبر اسلام جناب محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر ختم ہو گیا، چوں کہ الله تعالیٰ کو یہ بات منظور تھی کہ سلسلہٴ نبوت آپ صلی الله علیہ و سلم پر تمام ہو جائے، اس لیے قدرتی طور پر وہ اسباب بھی باقی نہ رہے جن کی وجہ سے نئے نبی کی ضرورت پیش آتی تھی، نیا نبی یا تو اس لیے بھیجا جاتا تھا کہ احکام شریعت میں کوئی تبدیلی مقصود ہوتی اور قرآن نے واضح کر دیا کہ اب شریعت الہٰی درجہٴ کمال و تمام کو پہنچ گئی ہے اور نعمت ِ ہدایت کا اتمام ہو چکا ہے :﴿الیوم أکملت لکم دینکم وأتممت علیکم نعمتي ورضیت لکم الإسلام دینا﴾(المائدہ:3) یا نبی اس لیے بھیجے جاتے تھے کہ پہلے نبی پر ایمان رکھنے والوں میں کوئی ہدایت یافتہ اور حق پر ثابت قدم گروہ باقی نہ رہا ہو یا اس لیے کہ پہلے جو آسمانی کتاب اتری ہو، لوگوں نے اس میں ملاوٹ پیدا کر دی ہو، نبوت محمدی کا معاملہ یہ ہے کہ جو کتاب آپ پر نازل ہوئی وہ ایک زبر زیر کی تبدیلی کے بغیر موجود اور محفوظ ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس اُمت میں بہت بڑا طبقہ راہ ہدایت پر قائم ہے اور قائم رہے گا، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اُمت کبھی بھی گم راہی پر متفق نہیں ہوسکتی، لاتجتمع اُمتی علی ضلالة، اس لیے آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد کسی نئے نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

چناں چہ اس بات پر اُمت کا اجماع ہے کہ جناب محمد رسول الله صلی الله علیہ و سلم پر ہر طرح کی نبوت ختم ہوچکی ہے اور آپ صلی الله علیہ و سلم کے بعد کسی قسم کی نبوت باقی نہیں رہی، یہ نہ صرف امت کا اجماعی عقیدہ ہے، بلکہ اس پر قرآن مجید اور صحیح حدیثیں ناطق ہیں، چناں چہ الله تعالیٰ کا ارشاد ہے، کہ آپ صلی الله علیہ و سلم الله کے رسول اور آخری نبی ہیں:﴿ولکن رسول الله وخاتم النبیین﴾․(الاحزاب:40) آسمانی صحائف میں ہمیشہ اگلے رسول کے بارے میں اُمت سے عہد لیا جاتا تھا کہ وہ ان پر ایمان لائیں گے، اگر آپ کے بعد کسی نبی کی آمد ممکن ہوتی تو ضروری تھا کہ الله تعالیٰ نے پوری اہمیت اور وضاحت کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا ہوتا ، لیکن قرآن مجید نے کہیں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا، بلکہ اس کے برعکس بہت ہی واضح الفاظ میں آپ صلی الله علیہ و سلم کے آخری نبی ہونے کا اعلان فرمایا گیا اور اشارة تو کتنے ہی مقامات پر آپ صلی الله علیہ وسلم پر ختم نبوت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

حدیثیں اس سلسلہ میں اتنی کثرت اور وضاحت کے ساتھ مروی ہیں کہ ان کا احاطہ دشوار ہے، حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اور انبیاء کی مثال ایسے محل کی ہے جسے نہایت ہی خوب صورت طریقہ پر بنایا گیا ہو اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ بچی ہو، دیکھنے والے اسے دیکھتے ہوں او راس کے حسن تعمیر پر حیرت زدہ ہوں، سوائے اس اینٹ کی جگہ کے، آپ صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں وہی اینٹ ہوں، مجھ پر عمارت مکمل ہوگئی ہے، رسولوں کا سلسلہ ختم ہوا اور میں آخری نبی ہوں۔ ( بخاری:1/501)

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کاارشادمروی ہے کہ چھ باتوں میں آپ کو تمام انبیاء پر فضیلت دی گئی، ان میں دو باتیں یہ تھیں کہ آپ تمام مخلوقات کی طرف نبی بنا کر بھیج گئے اورمجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔(مسلم:1/99)

حضرت ثوبان رضی الله عنہ کی روایت میں ہے کہ عنقریب میری اُمت میں تیسیوں جھوٹے نبی پیداہوں گے، جو کہیں گے کہ وہ الله کے نبی ہیں، حالاں کہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ (ابوداؤد:1/584)

دارمی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: میں پیغمبروں کا قائد او رخاتم ہوں او رمجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔ (دارمی، حدیث نمبر49)

آپ صلی الله علیہ و سلم نے اپنا ایک نام”عاقب“ بتایا او رپھر اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا، یعنی وہ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو: ”انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی“․ (بخاری:1/501)

حدیثوں نے اس بات کو بھی واضح کر دیا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کے بعد کسی بھی طرح کی نبوت باقی نہیں رہی، چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے فرمایا کہ میرے بعد نبوت کی گنجائش ہوتی تو تم نبی ہوتے:”لو کان بعدی نبيٌ لکان عمر“ (․ترمذی:2/209)

اور حضرت علی رضی الله عنہ سے ارشاد فرمایا کہ تم میری نسبت سے ویسے ہی ہو جیسے حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام تھے، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا:” أنت منی بمنزلة ہارون من موسی إلا أنہ لا نبی بعدی“ ․(بخاری:2/633)

آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا میں آخری نبی ہوں اور تم آخری اُمت ہو:”أنا آخر الانبیاء، وانتم آخر الامم“ ․(ابن ماجہ:207، باب فتنہ الدجال)

آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی مسجد کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ انبیاء سے منسوب جو مسجدیں تھیں ، ان میں آخری مسجد میری مسجد ہے:”مسجدی خاتم مساجد الانبیاء“ ․(دیلمی، حدیث نمبر112)

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ان فرمودات سے واضح ہے کہ آپ پر ہر طرح کی نبوت ختم ہوچکی ہے، آپ آخری نبی ہیں، آپ صلی الله علیہ و سلم پر نازل ہونے والی کتاب آخری کتاب ہے، آپ کی امت آخری امت ہے، انبیاء سے منسوب مساجد میں آپ کی مسجد آخری مسجد ہے اور آپ کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

چوں کہ یہود ونصاریٰ کو اسلام سے ہمیشہ سے عناد رہا ہے اورانہوں نے میدان جنگ سے لے کر معرکہ فکر ونظر تک ہر جگہ اسلام پر یلغار کی ہے، اس لیے انہوں نے اپنے استعماری دور میں ایک نئی تدبیر سوچی کہ کسی شخص کو نبوت کا علم بردار بنا کر کھڑا کیا جائے، تاکہ نبوت محمدی کے مقابلہ ایک نئی نبوت وجود میں آئے اور پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم سے اُمت محمدیہ کو جو محبت ہے، وہ محبت تقسیم ہو جائے، اس کے لیے ایک ایسے علاقہ کا انتخاب کیا گیا جو اس وقت انگریزوں کی عمل داری میں تھا، تاکہ ایسے چھوٹے مدعیٴ نبوت کی پوری حفاظت اور حوصلہ افزائی ہوسکے، چناں چہ پنجاب سے ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کام کے لیے تیار کیا گیا، مرزا صاحب نے خود ہی اپنے بارے میں لکھا ہے کہ میں انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہوں، انگریزوں نے اپنی اس کاشت کو بار آور کرنے اور تقویت پہنچانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔

نبی کے دعوے میں کبھی تدریج نہیں ہوتی، یعنی ایسا نہیں ہوتاکہ وہ آہستہ آہستہ دعویٴ نبوت تک پہنچے، حضرت موسیٰ علیہ السلام آگ کی تلاش میں کوہ ِ طور پر پہنچے تھے، لیکن اچانک ہی نبوت سے سر فراز کیے گئے، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وحی نازل ہونے سے پہلے کبھی اس سلسلہ میں کوئی گفت گو نہیں فرمائی کہ اچانک حضرت جبرئیل علیہ السلام الله کا کلام لے کر نازل ہوئے، لیکن مرزا صاحب ایک ایک سیڑھی چڑھتے ہوئے دعویٴ نبوت تک پہنچے، پہلے الله کی طرف سے ملہم ہونے کا دعویٰ کیا، یعنی ان پر الہام ہوتا ہے، پھر دیکھا کہ حدیث میں حضرت مسیح کے نزول کی پیشین گوئی ہے، تو مسیح ہونے کا دعویٰ کر بیٹھے، جب لوگوں نے کہا کہ حضرت مسیح کے زمانہ میں امام مہدی کا بھی ظہور ہو گا، کہنے لگے کہ میں ہی مہدی ہوں، پھر دعویٴ نبوت ہی کر بیٹھے، اولاً تو اپنی نبوت کو حضور صلی الله علیہ و سلم کی نبوت کا سایہ کہتے تھے، لیکن پھر اپنے کو حضور سے افضل کہنے سے بھی نہیں چوکے او ران کے متبعین نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی دعوت کو ہلال” یعنی پہلی شب“ کا چاند اور مرزا صاحب کی دعوت کو ”بدر کا مل“ یعنی چودہویں شب کا چاند قرار دیا، نبی کی بات میں تضاد نہیں ہوتا، مگر مرزا صاحب کے یہاں اس قدر تضادات ہیں کہ شمار سے باہر ہے، نبی خدا کی صفات او رجلالت شان کو وضاحت وصراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے او راپنی عبدیت وبندگی کو بے کم وکاست سامنے رکھ دیتا ہے، لیکن مرزا صاحب کا حال یہ ہے کہ اپنے آپ کو خدا کا مانند کہنے سے بھی نہیں چوکتے۔ (روحانی خزائن:17/413) ایک موقع سے کہتے ہیں: میں نے خواب میں د یکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔ (روحانی خزاء:5/564) مرزا صاحب اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ یا خدا خود آسمان سے اُتر آیا ہے۔”کأن الله نزل من السماء“․ (اشتہار:20/فروری1886ء)

نبی کی زبان بہت ہی شائستہ او رمہذب ہوتی ہے، دشمنوں کے بارے میں بھی تہذیب واخلاق سے گری ہوئی بات اس کی زبان اور قلم پر نہیں آتی، لیکن مرزا صاحب کے یہاں اپنے مخالفین کے لیے سور، کتے، حرامی وغیرہ کے الفاظ عام ہیں او رانہیں اس طرح کے تخاطب میں کوئی تکلف نہیں، کہتے ہیں کہ ”جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا، تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے، حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔“ (نور الاسلام:30) مشہور عالم مولانا ثناء الله امرتسری کو”کتا مردار خوار“ (روحانی خزائن:11/309) مولانا محمد حسین بٹالوی کو ”پلید بے حیا، سفلہ، گندی کا رروائی، گندے اخلاق وغیرہ“ کے القاب سے نوازا ہے، مولانا سعد الله لدھیانوی کو ”نطفہٴ سفہا، کنجری کا بیٹا“ یہ چند کلمات بطور نمونہ کے ہیں، رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مومن زیادہ لعنت کرنے والا نہیں ہو سکتا، خود مرزا صاحب نے کہا ہے کہ مومن لعَّان نہیں ہوتا۔ (روحانی خزائن:13/456) لیکن خود مرزا صاحب نے عیسائیوں کے خلاف جو کتاب لکھی تو محض چار صفحات میں ایک ہزار بار صرف لعنت لعنت کے کلمات لکھے۔ (حوالہٴ سابق:8/158-63) اور آریوں پر جو لعنت بھیجنی شروع کی ہے تو ایک ساتھ پورے دس دفعہ صرف لعنت کا لفظ ہے۔ (حوالہٴ سابق:2/376) اس سے مرزا صاحب کی زبان وبیان کے معیار کا اندازہ کیا جاسکتا ہے او رغور کیا جاسکتا ہے کہ نبی تو کجا، کیا کسی مہذب آدمی کو بھی ایسے الفاظ زیب دیتے ہیں؟

مرزا صاحب کے دیگر حالات بھی اس پہلو سے قابل مطالعہ ہیں، صرف مرزا صاحب کے محمدی بیگم سے نکاح کی شدید خواہش اور اس سلسلہ میں بار بار وحی الہٰی کا دعوی ، پھر محمدی بیگم، اس کے شوہر او راس کے متعلق کے لیے بد دُعا اور ہلاکت وبربادی کی پیشن گوئی اور بالآخر ان تمام پیشن گوئیاں کا غلط ثابت ہونا ایسی باتیں ہیں، جو مرزا صاحب کے اخلاق وعادات کو بھی روشنی میں لاتی ہیں، مگر افسوس کہ جن مسلمانوں کو مذہبی معلومات حاصل نہیں ہیں یا جو لوگ دیہات میں رہتے ہیں اور وہ کلمہ اور نماز اور دین کے بنیادی احکام سے بھی ناواقف ہیں، وہ دھوکہ میں آجاتے ہیں اور ظاہری طور پر کلمہ کی وحدت او رکچھ عمومی افعال میں یکسانیت کی وجہ سے لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں، پھر جہاں حقیقت ِ حال کا ان کو علم ہوتا ہے اورمسلمان وہاں پہنچتے ہیں، وہاں سے ان غارت گران ایمان کو راہ فرار اختیار کرنی پڑتی ہے، ان کی مالی تحریص، عبادت گاہ اور مکتب کا انتظام اوردوسری ترغیبات سب کی سب اکارت ہو جاتی ہیں، اگر مسلمانوں پر ان باغیان ختم نبوت کے افکار واعتقاد واضح ہو جائیں تو یہ کافی ہے۔

لیکن اس پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے کہ ہم نے اپنی تمام دینی تحریکات، تعلیمی نظام اور دعوتی کوششوں کا محور صرف پر رونق شہروں کو بنا لیا ہے اور ہمارے جو بھائی دیہات کی تیرہٴ وتاریک فضا میں رہتے ہیں، جہاں نہ علم کی روشنی ہے اور نہ برقی کے لیمپ، نہ خوب صورت سڑکیں ہیں، نہ راحت بخش عمارتیں اور عشرت کدے، ان غریب بھائیوں کو ہم نے بالکل بھلا رکھا ہے، ایسا کہ گویا ان سے ہمارا کوئی مذہبی اور ایمانی رشتہ ہی نہ ہو، رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر ختم نبوت ہماری طر ف متوجہ ہے کہ ہم اپنے ان بھائیوں کی طرف نگاہ محبت اٹھائیں، ان کے ایمان کی حفاظت کریں اور ان کو حقیقی صورت حال سے آگاہ کرنے کی کوشش کریں، ہماری تھوڑی سی توجہ انہیں ارتداد کی کھائی میں گرنے سے بچا سکتی ہے، ہم اپنی آمدنی کا بہت ہی معمولی حصہ نکال کر گاؤں گاؤں مکاتب کا نظام قائم کرسکتے ہیں،کتنے ہی گاؤں ہیں،جہاں سینکڑوں سال سے مسلمان آباد ہیں، لیکن وہاں ایک چھوٹی سی مسجد موجود نہیں، ہم چھپر کی سہی، ایک مسجد بنا دیں، انہی مسجدوں میں بچوں کی بنیادی دینی تعلیم کا انتظام کر دیں اور علم کا ایک چراغ وہاں روشن ہوجائے، تو انشاء الله انہیں ہر گز گم راہ نہ کیا جاسکے گا او رکفر اپنی ساری سازشوں کے باوجود خا سرومحروم ہی رہے گا، لیکن کیا ہم اس کے لیے تیار بھی ہیں؟؟