بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی  کا سانحہٴ ارتحال

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی  کا سانحہٴ ارتحال

عبید اللہ خالد

ہندوستان کے قصبہ دیوبند کے جن حضرات کو ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کے ساتھ خصوصی تعلق رہا ہے، ان میں دیوبند کا عثمانی خاندان نہایت نمایاں ہے۔ اس خاندان کی کئی عظیم ہستیوں نے اس عظیم ادارے کی تعمیر وترقی میں حصہ لیا، کئی شخصیات نے اس سے فیض حاصل کیا اور پھر اس کی شناخت او راس کے مقصد وکاز کی نشرواشاعت کا ذریعہ بنے اور الله تعالیٰ نے ان سے دین حنیف کی خدمت کا عظیم الشان کام لیا اور ان کے علوم وفیوض سے ایک دنیا فیض یاب ہوئی۔ ان عظیم ہستیوں میں دارالعلوم کراچی کے بانی مفتی اعظم پاکستان مولانامفتی محمد شفیع عثمانی رحمة الله علیہ کا نام نامی بھی شامل ہے او راپنی عظیم خدمات دینیہ کی وجہ سے ان کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، ان کے والد گرامی مولانا محمد یسٰین صاحب رحمة الله علیہ بھی دارلعلوم دیوبند کے استاذ رہے ہیں اور خود مولانا مفتی محمد شفیع صاحب بھی دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث او رمفتی رہے ہیں۔ آپ نے اپنے عظیم شیخ ومرشد حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله علیہ کی سرپرستی میں تحریک پاکستان میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا او رپھر قیام پاکستان کے پانچ سال بعد پاکستان کے شہر کراچی میں ایک دارالعلوم کی بنیاد رکھی، جس کا شمار پاکستان کے صف اول کے دینی اداروں میں ہوتا ہے۔

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رحمة الله علیہ آپ کے فرزند ارجمند ہیں اور اپنے عظیم والد کی وفات کے بعد دارالعلوم کراچی کا انتظام وانصرام اورباگ ڈور آپ نے سنبھالی اور ا دارے کی تعمیر وترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اسے چار چاند لگائے۔ قیام پاکستان کے وقت مفتی صاحب رحمة الله علیہ کم سن تھے او رانہوں نے اپنے تعلیمی مراحل اپنے والد کے زیر سایہ دارالعلوم کراچی میں مکمل کیے۔ اس وقت دارالعلوم کراچی میں حضرت والد صاحب استاذ المحدثین شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم الله خان صاحب نوّرالله مرقدہ بھی پڑھاتے تھے اور مفتی صاحب  نے ہدایہ آخرین (دونوں جلدیں)، فلسفہ کی معروف کتاب میبذی اور دورہ حدیث میں حدیث شریف کی اہم کتاب ترمذی شریف حضرت والد صاحب نوّرالله مرقدہ سے پڑھی، ان کا شمار حضرت والد صاحب نوّرالله مرقدہ کے خصوصی تلامذہ میں ہوتا ہے، حضرت والد صاحب کی ملی وقومی معاملات اور وفاق المدارس کے امور میں ان حضرات سے خاص طور پر مشاورت رہتی تھی او رحضرت والد صاحب نوّرالله مرقدہ سے ان کا نہایت گہرا اور مضبوط تعلق تھا۔ حضرت والد صاحب  کی وفات کے بعد ان کی شخصیت پرتحریر کردہ اپنے مضمون میں لکھا کہ ”حضرت سے بندہ کا تعلق اگرچہ گوناں گوں جہتوں میں آخر تک رہا، لیکن نہایت گہرا تعلق جو سب تعلقات پر بھاری ہے، تلمذ اور شاگردی کا تعلق ہے، وہ میرے انتہائی شفیق ومہربان استاذ تھے“۔

مفتی صاحب نے اپنے والد گرامی کے قائم کردہ ادارے دارالعلوم کراچی کو ظاہری او رمعنوی دونوں اعتبار سے مضبوط ومستحکم کیا، ملک وملت کے معاملات میں اپنی رائے کا اظہار کرکے قوم وملت کی راہ نمائی کا فریضہ بھی انجام دیتے تھے۔ ایک عرصہ تک وہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے رکن اور پھر نائب صدر رہے اور اس وقت ان کا شمار وفاق المدارس العربیہ کے سرپرستوں میں ہوتا تھا۔ مفتی صاحب کی وفات حسرت آیات سے ملت اسلامیہ ایک بزرگ اور عظیم دینی راہ نما سے محروم ہو گئی ہے۔ الله تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے او رملک وقوم کو ان کے فیوض وبرکات سے مستفید ہونے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!