بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حضرت مجدد الف ثانی  کی شخصیت ایک نظر میں

حضرت مجدد الف ثانی  کی شخصیت ایک نظر میں

محترم خالد محی الدین

جب کم عمر او ران پڑھ مغل اعظم شہنشاہ اکبر سریر آرائے سلطنت تھا، اسے گم راہ اور کم اندیش حواریوں نے ایسی غلط روش پر ڈال دیا تھا کہ پاک وہند میں اسلامی شعائر اور شریعت محمدیہ لادینی کا شکار ہو گئے۔ ہر طرف بدعات ومنکرات اور الحاد ولادینیت کا دور دورہ ہو گیا، مبارک ناگوری کے دونوں بیٹوں ابو الفضل اور ملا فیضی کی تمام تر ذہانت وفطانت بادشاہ وقت کی حمایت او رمبینہ دین الہٰی کی نشرواشاعت میں صرف ہونے لگی۔

حضرت مجدد الف ثانی سرہند میں 14 شوال 971 ہجری جمعہ کی شب شیخ عبدالاحد کے گھر تولد ہوئے۔ نام نامی احمد رکھا گیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والدمحترم سے حاصل کی۔ قرآن پاک حفظ کیا اور سترہ برس کی عمر میں تمام علوم متداولہ اور عربی وفارسی پر عبور حاصل کیا۔ کچھ وقت درس وتدریس میں گزرا ،پھر آگرہ تشریف لے گئے اور سلسلہ قادریہ کے ایک بزرگ حضرت شاہ سکندر کیتھلی سے فیض حاصل کیا۔ خداداد ذہانت اور قابلیت کا یہ عالم تھا کہ بیس برس کی عمر میں تمام علوم ظاہری وباطنی میں جامع کمالات ہو گئے۔

کشادہ پیشانی، متوسط قد، گندمی رنگ، گھنی ریش،بڑی آنکھیں، چہرے پر ملاحت کے آثار، خوب صورت نقوش اور باوقار شخصیت کے حامل تھے۔ شیخ خلیل الله بدخشی او رکئی دوسرے بزرگ آپ کے ورود مسعود کے متعلق پیش گوئیاں کرتے رہے۔

یہ مجاہد اعظم امام ربانی مجدد الف ثانی کے لقب سے ملقب ہوئے۔ انہوں نے ہندوستان میں دین محمد صلی الله علیہ وسلم کے خزاں رسیدہ شجر کو اپنے خون جگر سے سینچا، مؤثر انداز میں توحید ورسالت کے صحیح مسلک کی تلقین کی اورجادہ حق سے منحرف لوگوں کو شریعت اسلامیہ کے اسرار ورموز سے آگاہ کیا۔

والد مکرم کی وفات کے بعد1008 ہجری میں حضرت مجدد الف ثانی حج بیت الله کے ارادے سے دہلی پہنچے، تو وہاں سرتاج اولیاء حضرت خواجہ باقی بالله سے ملاقات ہوئی، جو برصغیر میں سلسلہ عالیہ نقش بندیہ کے سرتاج ہیں۔ ان کو دیکھتے ہی آپ نے ارادہ سفر ترک کر دیا اور خواجہ صاحب کے اخلاق وکردار سے متاثر ہو کر ان کا دامن تھام لیا، بیعت کی اور بقائے حق کا درس لینا شروع کر دیا۔ قلیل عرصیمیں وہ کمال حاصل کیا کہ حضرت خواجہ نے خلعت خلافت عطا کیا اور فرمایا کہ حضرت مجدد ایک درخشندہ آفتاب کے مانند ہیں اور ہم سب ان ستاروں کی طرح جن کی تب وتاب آفتاب کی روشنی میں ماند پڑ جاتی ہے۔

اُمت محمدیہ پر الله تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے کسی دور میں بھی اپنے نیک بندوں سے دنیا خالی نہیں رہنے دی۔ ادھر اکبر کا دین الہٰی شب وروز پھیل رہا تھا۔ آپ ایسے تاریک دور میں بھلا کیسے خاموش رہتے؟ سرہند سے آگرہ پہنچے او راکبر کے مقربین کو واشگاف الفاظ میں متنبہ کیا کہ بادشاہ الله اور اس کے رسول کا نافرمان ہو گیا ہے۔ اسے میرا پیغام دو کہ وہ الله تعالیٰ اور اس کے رسول برحق حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی شریعت پر کار بند رہے، بصورت دیگر ہلاکت کے لیے تیار ہو جائے۔ اکبر اعظم میں یہ حق اورسچ سننے کی کہاں تاب تھی، اس نے حضرت مجدد کو اپنے سلطانی جاہ وجلال اور شان وشکوت سے مرعوب کرنے کے لیے شاہی دربار میں طلب کیا۔ وہاں ایک طرف عمائدین سلطنت او راپنے جاری کردہ دین الہٰی کے پیروکاروں کے لیے عظیم الشان نشستیں بنائی گئیں۔ دوسری جانب دربار محمدی کا اہتمام کیا گیا، جو ان تمام ظاہری تکلفات سے مبرا تھا۔

کارروائی کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا کہ قدرت کے غضب اور قہر سے ایسا زبردست طوفان بادوباراں نازل ہوا جو دربار اکبری کے تمام تکلفات کی تباہی کا باعث بن گیا۔ خیمے اکھڑ گئے، نشستیں الٹ گئیں اور درباری بھاگ گئے۔ اکبر خود بھی ایک خیمے کی چوب سے زخمی ہوا، لیکن الله کے مقرب بندوں کو کسی قسم کی گزند نہ پہنچی۔ بعض مورخین کے مطابق اس واقعے کے بعد اکبر نے توبہ کر لی تھی۔ تاہم دین الہٰی کا فتنے اکبر کے ساتھ ہی دفن نہ ہو سکا۔

اکبر کی موت کے بعد شہزادہ سلیم (جہانگیر) تخت نشین ہوا ،جو رانی جو دھابائی کے بطن سے تھے۔ یہ بھی کچھ عرصہ اپنے باپ کے نقش قدم پر چلا۔ حضرت مجدد الحاد وبدعت کے لیے شمشیر قاطع تھے۔ انہوں نے جب دربار میں سجدہ کرنے والوں کے خلاف فتویٰ دیا تو مخدوم الملک ملا عبدالله اور دیگر عمائدین سلطنت تلملا اٹھے۔ اور حضرت کے خلاف جہانگیر کے کان بھرنے لگے۔ آخر باپ کی طرح بیٹے نے بھی حضرت موصوف کو دربار میں طلب کر لیا۔ کچھ سوالات کیے، تو آپ نے مسکت جواب دیے۔ تمام معاندین ومخالفین بھی دم بخودرہ گئے۔ جب محلاتی سازشیں ناکام ہوگئیں، تو انہوں نے بادشاہ کو از سر نو بھڑکایا او رکہا کہ حضرت امام حکومت کے باغی اوردرویشی کے روپ میں ایک زرہ پوش فوج تیار کر رہے ہیں، تاکہ تخت وتاج پر قبضہ کیا جاسکے۔

جہانگیر کو مذہبی مخالفت سے زیادہ سیاسی خطرہ نظر آیا، تو اس نے پھر آپ کو دربار طلب کیا اور آداب شاہانہ یعنی ظل سبحانی کو دربار میں سجدہ کرنے کا مطالبہ کیا، مگر حضرت سرہندی کو تمام شاہی جاہ وجلال اور کر وفر مرعوب نہ کرسکے، آپ نے فرمایا:

”اے بادشاہ وقت! یہ ایک کھلی ضلالت ہے کہ میں ایک مجبور انسان کو قابل سجدہ سمجھوں۔ الله تعالیٰ کی ذات بابرکات کے سوا کسی کے سامنے سجدہ جائز نہیں۔“
          گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
          جس کے نفس گرم سے ہے گرمیٴ احرار
          وہ بندہ ہند میں سرمایہٴ ملت کا نگہباں
          الله نے بروقت کیا جس کو خبردار

یہ سب کچھ جہانگیر کی توقع کے برعکس تھا، بھرے دربار میں ایک درویش اس کی حکم عدولی کرے۔ مصلحت اندیش او رمنصب وجاہ کے طالب علمائے سُو اور کچھ حاشیہ نشینوں کا بغض او رتعصب بھی رنگ لایا۔ وہ تو پہلے ہی ایذارسانی کے درپے تھے، لہٰذا علمائے دربار نے حضرت مجدد الف ثانی کے قتل کا فتویٰ دے دیا، تاہم جہانگیر نے کچھ سوچ کر آپ کو گوالیار کے قلعہ میں نظر بند کر دیا۔

گوالیار کے اس قید خانے میں عموما باغی بند کیے جاتے تھے۔ وہاں آپ کے فیوض وبرکات کی بدولت لا تعداد فاسق وفاجر قیدی اسلام کے گردیدہ ہو گئے اور ہزار ہا غیر مسلم ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئے۔

جب حضرت امام کے قید کیے جانے کی خبر اطراف سلطنت میں پھیلی تو عام بغاوت کے آثار پیدا ہوگئے۔ حضرت کے معتقدین عہدے داروں نے متفقہ طور پر کابل کے گورنر مہابت خاں کو اپنا سربراہ بنا کر جہانگیر کی اطاعت سے انکار کر دیا اور شاہ خراساں سے امداد لے کر فوج کشی کی تیاریاں کیں۔ ادھر جہانگیر بھی اپنا لاؤ لشکر لے کر مہابت خاں کے مقابلے کے لیے کابل کی طرف روانہ ہوا، تواراکین سلطنت او رکئی امراباغی ہو گئے۔ انہوں نے موقع پاتے ہی حکومت پر قبضہ کر لیا۔ ان باغیوں نے پھر جیل میں حضرت مجدد سے درخواست کی کہ دہلی کا تخت وتاج سنبھال لیں، لیکن حضرت مجدد الف ثانی کا جواب تھا ”درویش کو سلطنت کی خواہش نہیں اور نہ ہی فتنہ وفساد پسند ہے۔ میری قید ایک اعلیٰ مقصد کے لیے ہے، آپ لوگ بادشاہ کی اطاعت کریں۔“

ادھر جہانگیر کے کئی سالار مہابت خاں سے جا ملے۔ اسی دوران حضرت امام کا مکتوب مہابت خاں کو ملا، تو اس نے آپ کے فرمان کے مطابق بادشاہ کو دہلی جانے کی اجازت دے دی اور خود شاہی آداب بجالایا۔ اب جہانگیر کی آنکھیں کھلیں اور وہ پشیمان ہوا۔ سیاسی مصلحت اور دیگر تمام تاریکیاں پھٹ گئیں، تو آپ کی رہائی کا حکم صادر کیا او رمعذرت طلب کی اور خط میں اپنی گزشتہ کوتاہیوں اور نافرمانیوں کی معافی چاہی۔ یعنی بالآخر وہ ہدایت پاگیا۔ حضرت مجدد کو بصد عز واحترام رہا کر دیا گیا اور شاہانہ تعظیم وتکریم کے ساتھ سرہند روانہ کیا، لیکن آپ نے رہائی سے پہلے کچھ شرائط پیش کیں، مثلاً بادشاہ کو دربار میں سجدہ کرنا بند کر دیا جائے، ذبیحہ گائے سے مسلمانوں کو نہ روکا جائے، مساجد جو شہید ہو چکی ہیں انہیں از سر نو تعمیر کیا جائے اور کفار سے ازروئے شریعت محمدیہ جزیہ لیا جائے۔ اب جہانگیر کی ذہنی ہیئت تبدیل ہوچکی تھی، لہٰذا اس نے تمام شرائط قبول کر لیں۔

چناں چہ تزک جہانگیری میں ایک جگہ وہ خود رقم طراز ہے کہ دامان ِ زندگی میں کوئی ایسا عمل نہیں جس کے باعث بخشش کی امید کی جاسکے البتہ ایک مرتبہ حضرت شیخ احمد سرہندی نے فرمایا تھا ”درویش کو جب الله تعالیٰ جنت میں داخل ہونے کا حکم دیں گے، تو وہ تمہیں بھی ساتھ لے جائے گا۔“

حضرت مجدد کے کشف وکرامات او رروحانی کمالات ملک وملت کے لیے باعث برکت ثابت ہوئے۔ آپ سب سے پہلے عقائد کی درستی پر زور دیتے، پھر شرعی احکامات پر عمل کی تلقین فرماتے۔ آپ کا معمول تھا کہ تہجد کے وقت بیدار ہوتے او رپھر نوافل کے بعد درود شریف کا ورد فرماتے۔ یہ سلسلہ نماز فجر تک جاری رہتا۔ اشراق کے بعد مطالعہ او رتلاوت کرتے، دوپہر کے بعد قیلولہ فرماتے۔ سفر میں بھی معمولات کی پابندی فرماتے، حضرت سچے عارف تھے، وہ ایک لمحے کے لیے بھی یاد الہٰی سے غافل نہ ہوتے۔

حضرت مجدد الف ثانی کا نکاح تھا میر ضلع کرنال صوبہ ہریانہ کے رئیس شیخ سلطان کی صاحب زادی سے ہوا۔ اس شادی سے انہیں مال ودولت بکثرت ملا۔ وطن واپس جاکر ایک نئی حویلی او راس کے قریب ایک مسجد بنوائی۔

28صفر1023 ہجری کو 63 برس کی عمر میں یہ آفتاب دنیا کی نظروں سے اُوجھل ہو گیا۔ نماز جنازہ آپ کے صاحب زادے محمد سعید نے پڑھائی۔ آپ سرہند کی پاک سر زمین میں دفن ہوئے ،جو آج بھی مرجع خلائق ہے۔

تزک واحتشام جہانگیری کے آگے سینہ سپر ہونا او رسجدہ تعظیمی کی رسم بد کو حرف غلط کی طرح مٹا دینا یعنی دین الہٰی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا حضرت مجدد الف ثانی کا اسلامیان ہندو پاک پر بہت بڑا احسان ہے۔