بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حضرت ابن اُم مکتوم رضی الله عنہ

حضرت ابن اُم مکتوم رضی الله عنہ

مولانا شاہ معین الدین ندوی

نام ونسب
حضرت ابن ام مکتوم رضی الله عنہ کی کنیت اتنی مشہو رہوئی کہ ان کا اصلی نام بالکل چھپ گیا، چناں چہ ارباب سیر نے ان کے مختلف نام لکھے ہیں، بعض عبدالله کہتے ہیں اور بعض عمرو بتاتے ہیں، باپ کا نام قیس تھا، لیکن ماں کی نسبت سے ابن ام مکتوم مشہور ہوئے، سلسلہ نسب یہ ہے، عمروبن قیس بن زائدہ بن اصم بن ہرم بن رواحہ بن حجر بن عدی بن معیص بن عامر بن لوی القرشی، ماں کا نام عاتکہ تھا، نانہالی شجرہ عاتکہ بنت عبدالله بن عنکثہ بن عامر بن مخزوم ہے۔ (اسدالغابہ:3/127)

اسلام
ابتدائے بعثت میں سر زمین مکہ میں مشرف باسلام ہوئے، ابن ام مکتوم رضی الله عنہ گو ظاہری آنکھوں کی روشنی سے محروم تھے، مگر چشم دل واتھی، اس لیے مکہ میں جیسے ہی اسلام کا نور چمکا وہ کفر کی تاریکی سے باہر نکل آئے اور ذات نبوی صلی الله علیہ وسلم سے ایک خاص قرب واختصاص حال ہو گیا، چناں چہ اکثر آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ مکہ کے مغرور امراء اور رؤساء بھی مجلس نبوی صلی الله علیہ وسلم میں آیا کرتے تھے، جو ابن ام مکتوم کی ظاہری نابینائی اور غربت وافلاس کی وجہ سے ان کو ذلیل سمجھتے تھے اور آں حضرت صلی الله علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ ہماری مجلس میں ایسے لوگ برابر نہ بیٹھا کریں، آں حضرت کے دل میں یہ لگن تھی کہ کسی طرح قریش کے رؤساء دعوت حق قبول کر لیں، اس لیے آپ ان کی خاطر داری کرتے تھے، ایک مرتبہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم رؤسائے قریش میں تبلیغ فرمارہے تھے کہ اس درمیان میں حضرت ابن ام مکتوم آگئے اورکچھ مذہبی مسائل پوچھنا شروع کر دیے، آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کو ان کی یہ بے موقع گفت گو اس لیے ناگوار ہوئی کہ اس سے رؤسائے قریش کی تبلیغ میں رکاوٹ پیدا ہوتی اور ان کے دلوں میں تأثر کے بجائے تکدر پیداہوتا، اس لیے ابن ام مکتوم رضی الله عنہ کی طرف التفات نہ فرمایا اور بدستور سلسلہ گفت گو جاری رکھا، آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کا یہ طرز عمل گو تبلیغ حق اور دعوت اسلام کی سچی خواہش پر مبنی تھا، تاہم خدا کے دربار میں ناپسندیدہ ہوا اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (فتح الباری :8/531)

﴿عَبَسَ وَتَوَلَّیٰ، أَن جَاءَ ہُ الْأَعْمَیٰ، وَمَا یُدْرِیکَ لَعَلَّہُ یَزَّکَّیٰ، أَوْ یَذَّکَّرُ فَتَنفَعَہُ الذِّکْرَیٰ، أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَیٰ، فَأَنتَ لَہُ تَصَدَّیٰ، وَمَا عَلَیْکَ أَلَّا یَزَّکَّیٰ، وَأَمَّا مَن جَاءَ کَ یَسْعَیٰ، وَہُوَ یَخْشَیٰ، فَأَنتَ عَنْہُ تَلَہَّیٰ﴾․(عبس، آیات:10-1)

”محمد صلی الله علیہ وسلم! جب تمہارے پاس نابینا آیا تو تم ترش رو ہوئے او رمنھ موڑ لیا او رتم کیا جانو کہ عجب نہیں وہ تمہاری تعلیم سے پاک ہو جائے یا نصیحت سنے اور اس کو وہ نصیحت فائدہ بخشے، لیکن جو شخص بے توجہی کرتا ہے اس کی طرف تم خوب توجہ کرتے ہو، حالاں کہ وہ اگر درست نہ ہو تو تم پر کوئی الزام نہیں او رجو تمہارے پاس خدا کے ڈر سے دوڑتا ہوا آتا ہے تو تم اس سے بے اعتنائی کرتے ہو۔“

اس آیت کے نزول کے بعد رسول الله صلی الله علیہ وسلم خاص طورپر ابن ام مکتوم رضی الله عنہ کا لحاظ رکھتے تھے او رکاشانہٴ نبوی میں ان کی بڑی خاطر مداری ہوتی تھی، حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا آپ کو لیموں اور شہد کھلایا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ نزول آیت کے بعد یہ ابن ام مکتوم رضی الله عنہ کا روزینہ تھا۔(مستدرک حاکم:3/634)

اذان ہجرت کے بعد حضرت ابن ام مکتوم رضی الله عنہ بھی ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے، اس وقت تک آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے ہجرت نہیں فرمائی تھی۔ (ابن سعد جز4ق1ص:150) آپ کی ہجرت کے بعد مؤذنی کے جلیل القدر منصب پر مامور ہوئے، رمضان میں ان کی اذان اختتام ِ سحر کا اعلان ہوتی تھی۔ اس کے بعد لوگ کھانا پینا بند کر دیتے تھے۔ (بخاری، کتاب الاذان، باب الاذان قبل الفجر)

غزوات
ہجرت مدینہ کے بعد غزوات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، لیکن ابن ام مکتوم رضی الله عنہ اپنی مجبوری کے باعث جہاد کی شرکت سے معذور رہا کرتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی:﴿لَّا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ﴾․(نساء:95)

ترجمہ:” یعنی وہ مسلمان جو گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں وہ رتبہ میں مجاہدین فی سبیل الله کے برابر نہیں ہیں۔“
اور آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کاتب وحی حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ سے اس کو لکھانے لگے تو ابن ام مکتوم رضی الله عنہ بھی پہنچ گئے اورعرض گزار ہوئے یا رسول الله اگر مجھ کو جہاد کی قدرت ہوتی اور اس کے لائق ہوتا تو میں بھی شرف جہاد حاصل کرتا، ان کی یہ حسرت آرزو بارگاہ ِ خداوندی میں اتنی پسند ہوئی کہ وحی الہٰی نے ان کو او ران کے جیسے تمام مجبور اشخاص کو اس حکم کے ذریعہ سے:﴿لَّا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنفُسِہِمْ﴾․ (نساء:95) ”یعنی ضرر رسیدہ لوگوں کے علاوہ مسلمان جو گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں وہ مرتبہ میں ان مجاہدین فی سبیل الله کے برابر نہیں ہیں جو اپنے جان ومال سے جہاد کرتے ہیں۔“مستثنیٰ کر دیا( بخاری، کتاب التفسیر، باب لایستوی القاعدون) اورتمام مجبور اشخاص پر سے شرکت جہاد کا فرض ساقط ہو گیا، لیکن اس حکم سے ان کا ولولہٴ جہاد کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا، چناں چہ نابینا ہونے کے باوجود کبھی کبھی جنگ میں شریک ہوتے تھے اور لوگوں سے کہتے تھے کہ مجھ کو علم دے کر دونوں صفوں کے درمیان کھڑا کردو، میں نابینا ہوں، اس لیے بھاگنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔(اصابہ واستیعاب ترجمہ ابن ام مکتوم رضی الله عنہ) الله، الله! یہ جوش فدویت وجاں نثاری کہ ظاہری آنکھیں بے نور ہیں، ایک قدم چلنا مشکل ہے، لیکن جہاد فی سبیل میں کٹنے کے لیے رگ جاں تڑپ رہی ہے، درحقیقت یہی وہ کمال اخلاص تھا، جس نے ذات خداوندی کو متوجہ کر لیا تھا، اوریہی ولولہ تھا جس نے اسلام کی قوت کا لوہا ساری دنیا سے منوالیا تھا۔

گو حضرت ابن ام مکتوم رضی الله عنہ اپنی معذوری کے باعث اکثرجہاد کے شرف سے محروم رہتے تھے، لیکن اس سے بڑھ کر شرف یہ حاصل ہوتا تھا کہ جب آں حضرت صلی الله علیہ وسلم بہ نفس نفیس اکابر مہاجرین وانصار کے ساتھ کہیں باہر تشریف لے جاتے تو ابن ام مکتوم رضی الله عنہ کو جو معذوری کی وجہ سے مدینہ ہی میں رہتے تھے، امامت کی نیابت کا شرف عطا فرماتے تھے، چناں چہ غزوہ ابواء، بواط، ذوالعسیرہ، جہینہ، سوق، غطفان، حمراء الاسد، نجران، ذات الرقاع وغیرہ میں ان کو جلیل القدر منصب عطا ہوا، بدر میں بھی کچھ دنوں اس منصب کے حامل رہے، لیکن چند روز کے بعد یہ شرف حضرت ابولبابہ رضی الله عنہ کی جانب منتقل ہو گیا۔ (اسد الغابہ: 4/137) مجموعی حیثیت سے ان کو 13 مرتبہ آں حضرت صلی الله علیہ و سلم کی نیابت کا شرف حاصل ہوا۔ (تہذیب الکمال،ص:289)

وفات
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد سے خلافت فاروقی کے اختتام تک ان کے حالات پردہ خفا میں ہیں، صرف اس قدر پتہ چلتا ہے کہ جنگ قادسیہ میں علم بلند کیے، زرہ بکتر لگائے میدان کا رزار میں کھڑے تھے، واقدی کے بیان کے مطابق ان کی وفات مدینہ میں ہوئی، لیکن زبیر بن بکار کی روایت کی رو سے قادسیہ میں شہادت پائی۔(ابن سعد جزو4 ق1ص:184) اکثر ارباب سیر اس روایت کو صحیح سمجھتے ہیں۔

جماعت کی حاضری
نابینا تھے، مسجد نبوی سے گھر دور تھا، راستہ میں جھاڑیاں پڑتی تھیں، کوئی راہ نما بھی نہ تھا، ان تمام دشواریوں کے باوجود ابن ام مکتوم رضی الله عنہ ہمیشہ مسجد نبو ی میں نماز پڑھتے تھے، ایک مرتبہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم سے گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت چاہی، لیکن اذان اور اقامت کی آوازان کے گھر تک جاتی تھی، اس لیے آپ نے اجازت نہ دی، چناں چہ اسی حالت میں چھڑی سے ٹٹولتے مسجد آتے تھے، حضرت عمر رضی الله عنہ نے اپنے زمانے میں ان کو راہ نما دیا تھا۔ (ابن سعد، حوالہ مذکور)

فضل وکمال
حضرت ابن مکتوم رضی الله عنہ کا سب سے بڑا طغرائے امتیاز تو یہی ہے کہ ان کو 13مرتبہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی نیابت کا اعزاز ملا، جس میں وہ مسجد نبوی کی امامت کرتے تھے، اس کے علاوہ قرآن مجید کے حافظ تھے اورمدینہ آنے کے بعد لوگوں کو قرأت سکھاتے تھے۔ (ایضاًص:151)

آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے فیض صحبت سے احادیث سے بھی ان کا دامن خالی نہ تھا، چناں چہ ان سے حضرت انس رضی الله عنہ اور زربن حبیش نے احادیث روایت کی ہیں۔ (تہذیب الکمال:289)