بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حصول خیر میں محنت کی ضرورت اور والدین کا مقام

حصول خیر میں محنت کی ضرورت اور والدین کا مقام

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله خان ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالی ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)
الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلا ھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد: فأعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم․
﴿فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْْراً یَرَہُ ،وَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَرَہُ ٰ﴾․(سورة المائدة، آیة:8-7)
وقال الله سبحانہ و تعالیٰ: ﴿یُرِیْدُونَ لِیُطْفِؤُوا نُورَ اللَّہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَاللَّہُ مُتِمُّ نُورِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ﴾․(سورة الصف، آیة:8)
وقال رسول الله صلی الله علیہ وسلم:”خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ“․( الجامع الصحیح للبخاري، کتاب فضائل القرآن، باب خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ، رقم الحدیث:5027، وسنن الترمذي، ابواب فضائل القرآن، باب تعلیم القرآن، رقم الحدیث: 2909) صدق الله مولانا العظیم․

میرے محترم بھائیو، بزرگو اور دوستو! الله تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْْراً یَرَہُ﴾ پس جو کوئی ذرے کے وزن کے برابر خیر اور نیکی کرے گا وہ اس کا نتیجہ، انجام، بدلہ ضرور دیکھے گا: ﴿وَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَرَہُ﴾ اور جو کوئی ذرے کے وزن کے برابر بدی اور سیئہ اور شر کرے گا تو وہ بھی اس کا نتیجہ ،اس کا انجام، اس کا بدلہ دیکھے گا۔

یہاں الله تعالیٰ دو باتیں بیان فرمارہے ہیں: ایک خیر اور دوسری شر، خیر متعین ہے کہ الله تعالیٰ کے احکامات اور الله تعالیٰ کے اوامر کو بجا لانا خیر ہے، الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات، آپ کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کرنا خیر ہے اور یہ خیر بہت وسیع موضوع اور عنوان ہے، ہمیشہ یاد رکھیں کہ خیر خود بخود نہیں ہوتا، اس کے لیے کچھ کرنا پڑتا ہے،خواہ وہ خیر الله تعالیٰ کے احکامات سے متعلق ہو، خواہ وہ خیر الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی شریعت سے متعلق ہو، اس کے لیے آدمی کو بہت محنت کرنی پڑتی ہے، کوشش کرنی پڑتی ہے۔

دوسری چیز جو یہاں الله تعالیٰ بیان فرمارہے ہیں وہ شر ہے، سیئہ اور گناہ، یہ شر اور خرابی اس پوری دنیا کے خمیر میں ہے، اس کے مزاج میں ہے، آپ اس کو اس طرح سمجھ لیں کہ مثلاً آپ خود ہیں، آپ اپنے جسم پر کسی قسم کی کوئی محنت نہ کریں، اس جسم کو اس کے حال پر چھوڑ دیں، تو شاید مہینے کے بعد جب آپ اپنے آپ کو آئینے میں دیکھیں گے تو خود ڈر جائیں گے، نہ آپ اپنی لبیں درست کریں، نہ اپنی ڈاڑھی درست کریں، نہ آپ اپنے جسم کو پاک اور صاف کرنے کی کوشش کریں، تو کچھ ہی عرصے کے بعد آدمی اپنے آپ سے ڈرنے لگتا ہے، حالاں کہ آپ نے کچھ بھی نہیں کیا، بدبو جسم میں پیدا ہو جائے گی، تعفن کے بھبکے آپ کے جسم سے اُٹھیں گے کہ آپ خود اپنے آپ سے ڈرنے لگیں گے، حالاں کہ آپ نے کچھ کیا نہیں۔

آپ کا گھر ہے مکان ہے، آپ نے بڑی محنتوں سے اسے تیار کیا ،بنایا، آپ اس کی طرف سے منھ موڑ لیں، آپ اس کی طرف آنا جانا چھوڑ دیں، کچھ بھی نہ کریں ، وہ مکان آہستہ آہستہ خود بخود برباد ہونا شروع ہو جائے گا، اس کی دیواریں خراب ہوں گی، اس کا رنگ خراب ہو گا، اس کا فرش خراب ہو گا، اس میں چھپکلیاں، لال بیگ، حشرات الارض… کئی مہینے بعد جب آپ جائیں ، اس کو کھول کر آپ اس میں داخل ہونا چاہیں گے، تو آپ خود ڈرجائیں گے، آپ نے باغ بنایا بڑی محنت سے، بہت اعلیٰ درجے کے درخت اس میں لگائے اور پھر آپ نے اس کی طرف سے منھ موڑ لیا، اب وہاں آپ کا آنا جانا نہیں ہے، چند مہینوں کے بعد جب آپ جائیں گے تو وہ باغ جو بڑی محنت سے آپ نے تیار کیا تھا، وہاں پھول بھی تھے، کلیاں بھی تھیں، پھل بھی تھے، ساری چیزیں تھیں، لیکن اب جب آپ اس کے دروازے کے اندر داخل ہوں گے، تو آپ اس میں داخل نہیں ہو سکیں گے، جھاڑیاں،حشرات الارض اور سانپ، بچھو، نامعلوم کیا کیا!

آپ نے دعوت کے لیے بہت اعلی کھانا تیارکروایا، بہت معروف باورچی بلایا، بڑی قیمتی اشیاء، شان دار گوشت آپ نے اس کے حوالے کیا، مصالحہ جات اعلیٰ درجے کے فراہم کیے، اس نے نہایت شان دارکھانا تیار کیا اور اس کے بعد آپ اس کو چھوڑ دیں، تو ایک ہی رات کے بعد جب آپ اس کو دیکھیں گے تو اس سے بلبلے اٹھنا شروع ہو جائیں گے اورایک دن مزید گزر گیا تو اس میں سے بدبو اٹھنا شروع ہو جائیں گی اور اگر ایک دن اور گزر گیا، تو اس میں کیڑے پڑنا شروع ہو جائیں گے او راگر ایک دن مزید گزر جائے تو آپ کے گھر میں بدبو پھیلنا شروع ہو جائے گی، آپ نے کچھ نہیں کیا، خود بخود ہو گا، تو بھائی! شرجو ہے وہ دنیا کے خمیر میں ہے۔

الدنیا دنیة، دنیا بہت کمینی جگہ ہے، گندی جگہ ہے، اسی طرح سے آدمی اس کے اندر شرہی شر ہے۔

خیر کے لیے اپنے آپ کو بنانا سنوارنا پڑے گا، اپنے بال،اپنا چہرہ، اپنا جسم، اسے پاک صاف کرنے کے لیے کچھ کرنا پڑے گا، گھر کو اگر بچانا چاہتے ہیں تباہی اور بربادی سے، تو دن رات اس کی صفائی کا خیال کرنا پڑے گا، اسی طرح باغ کو اگر آپ بچانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے مالی رکھنا ہو گا، اس کو سنوارنا ہو گا، اس میں زائد چیزوں کو کاٹنا ہو گا، اس کی زمین کو درست رکھنا ہو گا، کھانے کو اگر آپ خراب ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بھی آپ کو محنت کرنی پڑے گی، اس کے بغیر وہ نہیں بچے گا۔

میرے دوستو! یاد رکھیں کہ دین اسلام میں بھی آپ کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا، آپ انبیاء علیہم السلام، جو اس کائنات میں سب سے عظیم الشان اور اعلی درجے کے انسان اور شخصیات ہیں، ان تمام حضرات نے محنت کی، أشد بلاء الانبیاء سب سے زیادہ مشکل، سب سے زیادہ آزمائش، سب سے زیادہ پریشانی وہ انبیائے کرام علیہم السلام پر آتی ہے:”ثم الأمثل فالأمثل“ (سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب الصبر علی البلاء، رقم الحدیث:23398 ، وجامع الأصول فی أحادیث الرسول، الکتاب الأول فی الفضائل، الباب العاشر، رقم الحدیث:7352،9/585)پھر جو جتنا انبیا ئے کرام علیہم السلام سے قریب ہوتا ہے اس پر آزمائش آتی ہے، محنت کرنی پڑتی ہے، مجاہدے کرنے پڑتے ہیں، قربانیاں دینی پڑتی ہیں، تب جاکر خیر جو الله تعالیٰ کو مطلوب ہے، وہ خیر جس کا الله تعالیٰ کے ہاں مرتبہ اور مقام ہے وہ وجود میں آتی ہے، آدمی یہ چاہے کہ میں کچھ بھی نہ کروں اور خیروجود میں آجائے تو ایسا نہیں۔

اب یہ جو خیر ہے اس میں بڑی تفصیل ہے، نیکی اور حسنہ، وہ نماز پڑھنے سے بھی نیکی بنتی ہے، لیکن وہ نماز اگر طہارت کے بغیر ہے، وہ نماز اگر حسن نیت کے بغیر ہے ،وہ نماز اگر الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کے بغیر ہے تو اس کی بھی کوئی حیثیت نہیں ۔ایسے ہی تمام عبادات ہیں۔

ایسے ہی حقوق العباد ہیں، چھوٹی چھوٹی بعض چیزیں، آپ اپنی والدہ کو مسکرا کر دیکھیں، اس پر بھی اجر ہے، آپ ان کی خدمت کریں اجر ہے اور یہ جو حقوق العباد والا مضمون ہے بہت اہم ہے، اس میں عام طور پر بہت زیادہ ابتلا ہے اور بہت زیادہ مشکلات ہیں، ماں باپ اولاد کو کس محنت سے کس قربانی سے پالتے ہیں ؟ میں اور آپ بھی بچے تھے، ہم بھی شیر خوار تھے، ہمیں بھی چلنا، بولنا، اپنی ضرورتیں پوری کرنا نہیں آتا تھا، ہم اپنی ماں کی گود میں پیشاب اور پاخانہ کر دیتے تھے، اپنے باپ کی گود میں پیشاب پاخانہ کر دیتے تھے، لیکن ماں کی پیشانی پر کبھی بل نہیں آیا، بڑی محبت سے بڑے پیار سے، چاہے دن ہو، چاہے رات ہو، وہ ہمیں پاک صاف کرتی تھیں او رہماری خاطر وہ اپنی نیند قربان کرتیں، بھوک برداشت کرتیں، اپنا آرام قربان کرتیں، انہوں نے ہمیں ظاہری اسباب میں پالا پوسا جوان کیا اورہمیں بہت ساری ایسی چیزیں جوہمیں کچھ نہیں معلوم تھا، ہمارے باپ نے ہمارے لیے راستے ہم وار کیے، آج ہم طاقت ور ہیں اور وہی ماں باپ اب بوڑھے ہیں،اب ان کے دانت نہیں رہے، اب ان کی آنکھیں کم زور ہو گئیں، اب ان کے ہاتھوں اور پیروں میں طاقت نہیں ہے، اب وہ ہمارے بظاہر محتاج ہیں ،اب اگر ہم ان کے ساتھ حسن سلوک نہ کریں، اگر آج ہم ان کی خدمت نہ کریں۔ آج ہم ان کے ساتھ اچھا برتاؤ نہ کریں، آپ سوچیے ان کا دل کیسے کٹتا ہو گا؟ اس پر کیسی چھریاں چلتی ہوں گی؟ لیکن آج بھی وہ صبر کر رہے ہیں کہ بیٹا ہے ،تھکا ہوا آیا ہے ،اس کو آرام کر لینا چاہیے، اس کو کھانا کھا لینا چاہیے، وہ اپنی بھوک اپنی بے آرامی آج بھی بھول جاتے ہیں۔

لیکن میرے دوستو! اپنے اپنے خاندانوں میں، اپنے اپنے دائروں میں، ہم اس کا جائزہ لیں کہ آج ہمارا سلوک ان کے ساتھ کیا ہے؟ کتنے واقعات ہیں، گلی گلی، محلہ محلہ، گاؤں گاؤں کہ اولاد اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتی، والدین کے ساتھ حسن سلوک بہت بڑی نیکی ہے، بہت بڑی خیر ہے، لیکن ہم نے اس کو بھلایا ہوا ہے ۔

(والدین کے دلوں میں اپنی اولاد کے لیے بے پناہ محبت ہوتی ہے ،سوائے ایسے لوگوں کے جن کے دلوں کو الله نے شفقت ومحبت سے محروم کر دیا ہو، والدین اپنی اولاد سے بہت محبت کرتے ہیں اور اولاد سے محبت اوراس محبت کا اظہار ہونا بھی چاہیے، چاہے اولاد بیٹے ہوں یا بیٹیاں، یہ شریعت مطہرہ میں مطلوب بھی ہے اور اولاد کی محبت کا جذبہ ایک ایسا قابل قدر جذبہ ہے جو بچوں کی اصلاح وتربیت اور پرورش کے سلسلے میں بھی بڑا اثر کھتا ہے۔

اولاد سے محبت کی تاکید
جب ایک دیہاتی آپ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا او راس نے آپ صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا بچوں کے ساتھ محبت کا یہ طرز عمل دیکھا کہ وہ اپنے بچوں کو چومتے ہیں، پیار کرتے ہیں، تو اس دیہاتی نے کہا : ”تقبلون الصبیان فما نقبلھم“․

تم لوگ بچوں کو چومتے ہو؟ ہم تو بچوں کو نہیں چومتے۔ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” أو أملک لک أن نزع الله من قلبک الرحمة؟“( الجامع الصحیح للبخاري، کتاب الأدب، باب رحمة الولد وتقبیلہ، رقم:5998) کیا میں اس بات پر قادر ہو سکتا ہوں کہ الله تعالیٰ نے تمہارے دل سے جس رحم اور شفقت کو نکال دیا ہے اس کو روک دوں؟ یعنی جب ا لله تعالیٰ نے تمہارے دل کو پیار ومحبت اور شفقت سے خالی کر دیا ہے تو یہ میرے بس کی بات نہیں کہ تمہارے دل میں شفقت ورحمت کا جذبہ پیدا کروں۔

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا اولاد سے متعلق طرز عمل
اپنی اولاد سے محبت او رمحبت کے اظہار میں کیا طرز عمل ہونا چاہیے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کا کیا طریقہ تھا…، وہ ان دو تین حدیثوں سے بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ چناں چہ حضرت براء بن عازب رضی الله عنہ کی روایت ہے، فرماتے ہیں:

” رأیت الحسن بن علی علیٰ عاتق النبی صلی الله علیہ وسلم وھو یقول: اللھم إنی أحبہ فأحبہ“․

میں نے حسن بن علی رضی الله عنہ کوآپ صلی الله علیہ وسلم کے کندھے پر دیکھا، یعنی حضرت حسن رضی الله عنہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے کندھوں پر تھے اور آپ صلی الله علیہ وسلم فرما رہے تھے ، اے الله! میں اس سے محبت کرتا ہوں آپ بھی اس سے محبت فرمائیں۔ (الجامع الصحیح لمسلم، فضائل الصحابة، باب من فضائل الحسن والحسین، رقم:6258)

اسی طرح حضرت ابو قتادہ رضی الله عنہ کی روایت ہے ، فرماتے ہیں:”خرج علینا النبی صلی الله علیہ وسلم وأمامة بنت أبی العاص علی عاتقہ“․

آپ صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے اور امامہ بنت ابی العاص رضی الله عنہا آپ صلی الله علیہ وسلم کے کندھے پر سوار تھیں۔ (الجامع الصحیح للبخاری، کتاب الادب، باب رحمة الولد وتقبیلہ، رقم:5996)

اسی طرح”سنن الترمذی“ کی روایت ہے:”سئل رسول الله صلی الله علیہ وسلم أیّ أہل بیتک أحب إلیک؟ قال الحسن والحسین، وکان یقول لفاطمة: ادعی لی ابنیّ فیشمھما ویضمھما إلیہ․“

آپ صلی الله علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ آپ کو اپنے گھر والوں میں سے سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن اور حسین۔ اور آپ صلی الله علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی الله عنہما سے فرمایا کرتے تھے، میرے دونوں بیٹوں (نواسوں) کو بلاؤ۔ پھر آپ صلی الله علیہ وسلم دونوں حسن اور حسین کو سونگھتے تھے اور دونوں کو اپنے سے چمٹاتے تھے ۔ (سنن الترمذی، ابواب المناقب ، رقم الحدیث:3804)

باپ بیٹے کا ایک عجیب قصہ
علامہ قرطبی رحمہ الله نے تفسیر میں او رامام طبرانی رحمہ الله نے ”المعجم الصغیر“ میں ایک عجیب قصہ نقل کیا ہے:
حضرت جابر بن عبدالله رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ میرے باپ نے میرا مال لے لیا ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے والد کو بلا کر لاؤ، اسی وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کہا کہ جب اس کا باپ آجائے تو اس سے پوچھیے کہ وہ کلمات کیا ہیں جو اس نے دل میں کہے ہیں خود اس کے کانوں نے بھی ان کو نہیں سنا، چناں چہ جب وہ شخص اپنے والد کو لے کر پہنچا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس شخص کے والد سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ آپ کا بیٹا آپ کی شکایت کرتا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس کا مال چھین لیں؟ والد نے عرض کیا کہ آپ اسی سے یہ سوال فرمائیں کہ میں اس کی پھوپی، خالہ یا اپنے نفس کے سوا کہاں خرچ کرتا ہوں؟ آپ صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا: ”ایہ“ یعنی بس حقیقت معلوم ہو گئی ،اب اور کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں ۔ اس کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا، کہ وہ کلمات کیا ہیں جن کو ابھی تک تمہارے کانوں نے بھی نہیں سنا ؟ اس شخص نے عرض کیا کہ اے الله کے رسول! ہر معاملہ میں الله تعالیٰ آپ پر ہمارا ایمان اور یقین بڑھا دیتے ہیں، جو بات کسی نے نہیں سنی اس کی اطلاع آپ کو ہو گئی، پھر اس نے عرض کیا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ میں نے چند اشعار دل میں کہے تھے، جن کو میرے کانوں نے بھی نہیں سنا تھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: وہ اشعار ہمیں سناؤ، اس وقت اس نے یہ اشعار سنائے۔
        غذوتک مولودا ومنتک یافعا
        تعل بما اجنی علیک وتنھل
میں نے تجھے بچپن میں غذا دی اور جوان ہونے کے بعد بھی تمہاری ذمہ داری اٹھائی، تمہارا سب کھانا پینا میری ہی کمائی سے تھا۔
        إذا لیلة ضافتک بالسقم لم أبت
        لسقمک إلا ساھرا أتململ
جب کسی رات میں تمہیں کوئی بیماری پیش آگئی تو میں نے تمام رات تمہاری بیماری کے سبب بیداری اور بے قراری میں گزاری۔
        کأنی أنا المطروق دونک بالذی
        طرقت بہ دونی فعینی تھمل
گویا تمہاری بیماری مجھے ہی لگی ہے، تمہیں نہیں، جس کی وجہ سے میں تمام شب روتا رہا۔
        تخاف الردی نفسی علیک وانھا
        لتعلم أن الموت وقت مؤجل
میرا دل تمہاری ہلاکت سے ڈرتا رہا، حالاں کہ میں جانتا تھا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے، پہلے پیچھے نہیں ہو سکتی۔
        فلما بلغت السن والغایة التي
        إلیھا مدی ماکنت فیک أومل
پھر جب تم اس عمر اور حد تک پہنچ گئے جس کی میں تمنا کیا کرتا تھا
        جعلت جزائی غلظة وفظاظة
        کأنک أنت المنعم المتفضل
تو تم نے میرا بدلہ سختی اور سخت کلامی بنا دیا، گویا کہ تم ہی مجھ پر احسان وانعام کر تے رہے ہو۔
        فلیتک إذ لم ترع حق أبوتی
        فعلت کما الجار المصاقب یفعل
کاش اگر تم سے میرے باپ ہونے کا حق ادا نہیں ہو سکتا، تو کم از کم ایسا ہی کر لیتے جیسے کہ ایک شریف پڑوسی کیا کرتا ہے۔
        فأولیتنی حق الجوار ولم تکن
        علی بمال دون مالک تبخل
تو کم از کم مجھے پڑوسی کا حق تو دیا ہوتا اور خود میرے ہی مال میں میرے حق میں بخل سے کام نہ لیا ہوتا۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ اشعار سن کر اس کے بیٹے کا گریبان پکڑ کر فرمایا: أنت ومالک لأبیک․ تو اور تیرا مال بھی سب تیرے باپ کا ہے۔ (الجامع لأحکام القرآن للقرطبی، سورة الاسراء، الآیة:24،10/246، و المعجم الصغیر للطبرانی، باب المیم، من اسمہ محمد، رقم:947،ص:652-651)

طاعت والدین کی اہمیت
قرآن کریم کی آیت ہے :﴿وَقَضَیٰ رَبُّکَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا﴾․(سورة الاسراء، آیة:23) اسی طرح ایک اور آیت ہے:﴿أَنِ اشْکُرْ لِی وَلِوَالِدَیْکَ﴾․(سورہ لقمان، آیة:14)

علامہ قرطبی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ اس آیت:﴿وقضی ربک… ﴾․ میں الله تعالیٰ نے والدین کے ادب واحترام اوران کے ساتھ حسن وسلوک کو اپنی عبادت کے ساتھ ملا کر واجب فرمایا ہے، جیسا کہ سورہ لقمان میں اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کو ملا کر لازم فرمایا ہے۔

فرماتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ الله جل شانہ کی عبادت کے بعد والدین کی اطاعت سب سے اہم اور الله تعالیٰ کے شکر کی طرح والدین کا شکر گزار ہونا واجب ہے۔ (الجامع لأحکام القرآن للقرطبی، سورة الاسراء، آیة:23،10/245)

والدین کو ادنی سے ادنی تکلیف دینا بھی منع ہے
قرآن کریم کی آیت ہے :﴿إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلَاہُمَا فَلَا تَقُل لَّہُمَا أُفٍّ﴾․ (سورة الاسراء، آیة:23)

اگر والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو۔

اور بڑھاپے کا ذکر اس لیے کیا کہ جب ماں باپ بوڑھے ہو جاتے ہیں تو بڑھاپے کے اثر کی وجہ سے بعض اوقات ذہن نارمل نہیں رہتا او راس کی وجہ سے بعض اوقات غلط سلط باتوں پر اصرار کرتے ہیں، اس لیے خاص طور پر بڑھاپے کا ذکر کیا کہ چاہے ماں باپ غلط باتیں کہہ رہے ہوں جو تمہارے خیال میں غلط اور ناحق ہی کیوں نہ ہوں، لیکن تمہارا کام یہ ہے کہ اُف بھی مت کہو۔

”تفسیر سمعانی“ میں حضرت علی رضی الله عنہ کا قول منقول ہے:”لو علم الله شیئا أبلغ فی الزجر من قولہ: ”اُف“ لنھی عن ذلک“․(تفسیر السمعانی، سورة الاسراء، آیة:23)

یعنی الله جل شانہکے علم میں اگر کلمہٴ اُف سے نیچے بھی کوئی درجہ ماں باپ کو تکلیف دینے کا ہوتا تو الله تعالیٰ اس کو بھی ضرور حرام او رمنع فرما دیتے۔ مطلب یہ ہے کہ جس چیز سے ماں باپ کو کم سے کم بھی اذیت پہنچے وہ بھی ممنوع ہے۔

والدین کے احسانات کا بدلہ چکانا ممکن ہی نہیں
والدین کے اولاد پر کتنے احسانات ہیں اور والدین کتنی مشقت سے اپنی اولاد کو پالتے ہیں، خاص کر پھر والدہ اپنی اولاد کی تربیت میں جو تکالیف اٹھاتی ہے، اولاد کے لیے ممکن نہیں کہ ان کے ان احسانات کا بدلہ چکا سکیں۔ ”علامہ آلوسی رحمہ الله“ نے ماں کی عظمت پر بڑے درد ناک اشعار نقل فرمائے ہیں۔
        لأمک حق لو علمت کبیر
        کثیرک یا ھذا لدیہ بسیر
تیری ماں کے تجھ پر بہت زیادہ حقوق ہیں، اگر تجھے معلوم ہو، تو ان کو جتنا بھی ادا کرے گا کم ہے۔
        فکم لیلة باتت بثقلک تشتکی
        لھا من جراحا أنة وزفیر
اس نے کتنی راتیں تیرا بوجھ اٹھائے گزار دیں او ربہت سی تکلیفیں اٹھائیں ۔
        وفی الوضع لو تدری علیھا مشقة
        فمن غصص لھا الفوائد یطیر
اگر تجھے معلوم ہو جائے کہ اس نے وضع حمل کے وقت کیا کیا تکالیف برداشت کیں تو تیرے ہوش اڑ جائیں۔
        وکم غسلت عنک الأذی بیمینھا
        وما حجرھا إلا لدیک سریر
کتنی بار اس نے اپنے ہاتھوں سے تیر ی گندگی کو دھویا او راس کی گود تمہارے لیے چار پائی تھی۔
        وتفدیک مما تشتکیہ بنفسھا
        ومن ثدیھا شرب لدیک نمیر
اپنی ذات کو تمہاری تکالیف پر قربان کر دیتی اور اس کا سینہ تمہارے لیے غذا کا ذریعہ تھا۔
        وکم مرة جاعت وأعطتک قُوْتھا
        حنوا واشفاقا وأنت صغیر
اور کتنی بار وہ خود بھوکی رہی، لیکن تیری محبت اور شفقت میں اپنی غذا تجھے دی۔
        فآھا لذی عقل ویتبع الھوی
        وآھا لأعمی القلب وھو بصیر
پس افسوس ہے عقل مند پر جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتاہے اوراس بیٹے پر افسوس ہے جو دل کا اندھا ہے۔
        فدونک فارغب فی عمیم دعائھا
        فانت لما تدعو بہ لفقیر
پس ماں کی دعائیں خوب حاصل کر، کیوں کہ تو اس کی دعاؤں کا محتاج ہے۔(تفسیر روح المعانی:21/86)

والدین کا مقام
حدیث میں ہے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” من أصبح مطیعا في والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من الجنة، وإن کان واحداً، فواحداً، ومن أمسی عاصیا لله فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من النار، وإن کان واحداً فواحدا، قال الرجل وإن ظلماہ؟ قال: وإن ظلماہ، وإن ظلماہ، وإن ظلماہ․“ (شعب الإیمان للبیہقی، الخامس والخمسون من شعب الإیمان، وھو باب فی برالوالدین، رقم الحدیث:7916)

جس شخص نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ ماں باپ کے حق میں الله تعالیٰ کی فرماں برداری کرنے والا ہے، یعنی اس نے ماں باپ کے حقوق ادا کرکے الله تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی ہے، تو وہ اس حالمیں صبح کرتا ہے کہ اس کے لیے جنت کے دودروازے کھلے ہوتے ہیں او راگر اس کے ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہے کہ اس کی اس نے اطاعت کی ہے تو ایک دروازہ کھولا جاتا ہے۔ اور جس شخص نے اس حال میں شام کی کہ وہ ماں باپ کے حق میں الله تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا ہے، یعنی اس نے ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی وتقصیر کرکے الله تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لیے دوزخ کے دو دروازے کھلے ہوتے ہیں اوراگر ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہو کہ جس کی اس نے نافرمانی کی ہے تو دوزخ کاایک دروازہ کھولا جاتا ہے۔

یہ ارشاد سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم کریں؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم کریں، اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم کریں، اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم کریں“۔

بھائی کے ساتھ، بہنوں کے ساتھ، خاندان کے دوسرے لوگوں کے ساتھ ہم حسن سلوک کریں، ہم تمام انسانوں کے ساتھ حسن سلوک رکھیں، دین اسلام بہت مبارک دین ہے، ہر موقع پر ہماری راہ نمائی کرتا ہے۔

چناں چہ جو کوئی ذرے کے وزن کے برابر خیر کرے گا، نیکی کرے گا، الله تعالیٰ اسے ضائع نہیں کر ے گا، چناں چہ تجربہ ہے کہ وہ لوگ جو انسانوں کے لیے، امت کے لیے، اپنے خاندان کے لیے، اپنے پڑوسیوں کے لیے، نافع او رمفید بنتے ہیں، ان کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں ،ان کے لیے خیر کی کوشش کرتے ہیں، الله تعالیٰ آخرت میں تو انہیں دیں گے ہی دیں گے، اس دنیا میں بھی الله تعالیٰ ان کو بہت نوازتے ہیں اور خدانخواستہ اگر ہم ایسا نہیں کرتے، مثلاً بھائیوں سے حسد کہ ان کے پاس کیوں اتنا مال آگیا؟ اس نے مکان کیوں بنا لیا؟ اس کی زمین جائیداد زیادہ کیوں ہو گئی؟ اس کے بچے میرے بچوں سے آگے کیوں بڑھ گئے؟ میرے دوستو! یہ شر ہے اور خوف ناک شر ہے، جو خاندانوں کو تباہ وبرباد کر دیتا ہے۔

الله تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔