بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جھوٹ اور دھوکا دہی معاشرتی تباہی کے اسباب!

جھوٹ اور دھوکا دہی معاشرتی تباہی کے اسباب!

محترمہ ناجیہ شعیب احمد

بیرونی دروازے پر مسلسل دستک ہورہی تھی۔ گھر کے اندر سب ہی افراد موجود تھے۔ مگر کیا دروازے پر ہونے والی دستک کسی کو بھی سنائی نہیں دے رہی تھی؟ دستک تو بہت واضح طور پر سنائی دے رہی تھی، البتہ اہل خانہ ٹس سے مس نہیں ہورہے تھے۔ دراصل امان صاحب نے سختی کے ساتھ حکم دے رکھا تھا کہ کوئی فرد ہلکی سی بھی آواز نہ نکالے ،جبکہ ننھی مومنہ کو دروازے کی اوٹ سے نکالے با آواز بلند یہ کہنے پر مامور کیا گیا تھا کہ کہو:” بابا گھر پر نہیں ہیں“ بچے تو من کے سچے ہوتے ہیں۔ چھوٹی معصوم سی مومنہ کا یہ پہلا تجربہ تھا، بے چاری سفید جھوٹ بولتے ہوئے سخت کشمکش کا شکار تھی اور کن اکھیوں سے دم سادھے کھڑی ماں اور تیوری چڑھائے باپ کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی آواز حلق میں اٹک رہی تھی۔ ابھی تک دستک کا جواب موصول نہیں ہوا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ باہر کھڑے انور علی بھی تہیہ کر کے آئے تھے کہ آج دروازہ کھلوا کر ہی دم لیں گے ۔ امان صاحب نے کھا جانے والی نظروں سے مومنہ کو گھورا تو بچی کی آواز حلق سے برآمد ہوگئی ۔ ”انور انکل ! بابا گھر پر نہیں ہیں“۔

بیٹی ! مجھے ان سے بہت ضروری کام ہے۔ جیسے ہی گھر آئیں تو ان سے کہنا کہ مجھ سے فوری رابطہ کریں۔ انور علی نے مومنہ کی آواز سنتے ہی مردہ سی آواز میں اپنا پیغام دیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے چلے گئے۔ انور علی کے جاتے ہی امان صاحب کے اہل خانہ کی سانسیں بحال ہوگئیں۔ دو سال پہلے امان صاحب نے ایک ماہ کے وعدے پر انور علی سے ایک لاکھ روپے ادھار مانگے تھے، جو انور علی نے پڑوسی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے فوراً سے پیشتر انہیں دے دیے تھے۔ دے کر بھول جانا انور علی کی اچھی عادت تھی، جبھی بھلے مانس نے دو سال تک اپنی ادھاردی گئی رقم کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا۔ تھوڑی تنگی آئی تو یاد آیا اور پھر بیسیوں چکر لگائے، مگر ہر بار بے نیل ومرام دروازے سے لوٹ جاتے۔ ہر مرتبہ ایک نیا جھوٹا بہانہ ان کی راہ تکتا۔ امان صاحب کے اس برے رویے نے انور علی جیسے شریف النفس آدمی کو شرمندہ کر کے رکھ دیا تھا۔

آگے چلیں ۔یہ ایک پھل فروش کا ٹھیلہ ہے۔ جو پھل منڈی میں مناسب دام میں دستیاب ہے وہی پھل یہ منھ مانگی قیمت میں فروخت کر رہا ہے۔ لوگ خریدنے پر مجبور ہیں۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ ایک تو جھوٹ بول کر اسے قدرے مہنگے داموں پر بیچ رہا ہے، اس پر طرہ یہ کہ ناپ تول میں بھی ڈنڈی ما رنے سے قطعاً عار نہیں کھاتا، بلکہ دھڑلے سے کم تولتا ہے۔ چکنی چپڑی باتوں میں الجھائے رکھتے ہوئے آنکھ بچا کر ایک آدھ گلا سڑاپھل شاپر میں ڈال کر گاہک کو تھمادیتا ہے۔ ہاں! اگر گاہک خراب نوٹ پکڑا دے تو یہ پھر بڑا ہلا مچاتا ہے کہ نوٹ خراب ہے، پھٹا ہوا ہے، دوسرا دو، ورنہ شاپر واپس رکھ دو۔ واہ! بہت خوب ۔ اسے کہتے ہیں چوری پر سینہ زوری ۔

ماں بیٹی کی گفتگو بھی سنتے جایئے ۔ ہر جگہ تربیت کا فقدان ہے، جو المیہ ہی المیہ ہے۔ امی آپ کا فون ہے۔ کہہ دو ماما سو رہی ہیں۔ کبھی بچے جھوٹ بولتے یا چوری کرتے ہوئے پکڑے بھی جائیں تو مسکرا کر ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ شاباش! بہت اچھا کام کیا اور پھر چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھوٹ بولنا اور بڑے بڑے دھوکے اور غلط بیانیاں کرنا اس کی عادت بن جاتی ہے۔ ”مانو بیٹا! یہ چاکلیٹ آپ نے کھائی ہے؟“ نہیں! امی میں نے تو نہیں کھائی۔ ماں نے مسکراتے ہوئے بیٹی کے منھ پر لگی چاکلیٹ صاف کی اور بولی ”جھوٹ پکڑا گیا۔“ مانو نے ماں کے نرم لہجے پر فورا کانوں پر ہاتھ رکھ کر معصومیت سے سوری کہا، ماں نے نہال ہو کر بیٹی کو گلے لگالیا ۔ تربیت یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ مگر آج کی مائیں ادھر ادھر کی باتوں میں لگ کر سمجھانے کا یہ قیمتی وقت ضائع کر دیتی ہیں۔ آج کے بچے ، بڑے اور بوڑھے ہر کوئی جھوٹ بولتا ہے۔ کوئی عادتاً تو کوئی نظریہٴ ضرورت کے تحت یا مصلحتاً۔

لیکن جھوٹ کا پکڑا جانا بد ترین بد اخلاقی تصور کی جاتی ہے۔ اعتماد کرچی کرچی ہو جاتا ہے ۔ بلکہ یوں سمجھیں کہ شخصیت کا بنا بنایا تاثر ہی بگڑ کر رہ جاتا ہے اور پھر دوبارہ اس جھوٹے شخص پر اعتماد بحال نہیں ہوتا ۔ لوگ کھلے عام کہتے پھرتے ہیں کہ آزمائے ہوئے کو بھلا بار بار کیا آزمانا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بچوں کو جھوٹ بولنا بھی بڑے ہی سکھاتے ہیں۔ پھر بچے ماہرانہ انداز میں بڑی صفائی سے جھوٹ بولتے ہیں، یہاں تک کہ انہیں ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔

ابتدا یہیں سے ہوتی ہے، کسی کا فون آیا یا دروازے پر دستک ہوئی، ہم بات نہیں کرنا چاہتے تو بچے سے کہلوا بھیجتے ہیں کہ ”ابو گھر پر نہیں ہیں“ پھر ایک دن بچہ اسے عادتا اختیار کر لیتا ہے۔ کلاس سے غائب ہونا یا اسکول کی چھٹی کرنا ، گھر آکر ہوم ورک نہ ملنے کا بہانہ بنانا۔ دوستوں کا آپس میں سفید جھوٹ بول کر اپنے خلوص اور محبت کا یقین دلانا یہ سب دھوکا دہی کے زمرے میں آتے ہیں۔

حضرت صفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم : ”ہاں۔“پھر سوال کیا گیا کہ: کیا مسلمان بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

”ہاں ۔“ پھر عرض کیا گیا: کیا مسلمان جھوٹا ہو سکتا ہے؟ جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”نہیں ( اہل ایمان جھوٹ نہیں بول سکتا)۔“ ایک حدیث میں ہے کہ جھوٹ اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے ، لہٰذا الله کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو ایمان کا منافی عمل قرار دیا ہے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو رحمت کے فرشتے اس سے ایک میل دور ہو جاتے ہیں۔(سنن الترمذی)

سچائی اور اچھائی یہ ایک ایسی اقدار ہیں کہ جن کی پیروی اس وقت تک نہیں کی جاسکتی جب تک کہ ہم اپنے لیے راہ مستقیم منتخب نہ کر لیں۔ اگر ہم روحانی اقدار کو تسلیم کر لیں تو قناعت ، طمانیت قلب اور سنجیدگی سے ہمارے ذہنی جسمانی صحت پر خوش گوار اثرات مرتب ہوں گے۔ جھوٹ نہ بولنے کی اچھائی محبت کی روح ہے، ایسی محبت جو کسی کا برا نہیں سوچتی اور اپنے لیے کوئی اجر نہیں چاہتی۔ زندگی کی قدر بنی نوع انسان کو صرف جسمانی بیماریوں اور گناہوں کے لیے بھی شفا دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب ہماری اندرونی شخصیت کسی وجہ سے مجروح ہوجاتی ہے اور ہم ڈٹ کر حقائق کا سامنا نہیں کرسکتے تو راہ فرار اختیار کرتے ہوئے جھوٹ کی پناہ چاہتے ہیں، مگر جھوٹ عریاں کرتا ہے، پناہ نہیں دیتا۔ جھوٹ کھل جائے تو بنے بنائے تعلقات ، رشتے خراب ہو جاتے ہیں۔ جھوٹ، غلط بیانی یا دھوکا دہی کرنے والوں سے لوگ نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ جھوٹ بولنے، دھوکا دینے یا غلط بیانی کی عادت پختہ بنانے سے پہلے سوچ لیں کہ بعد میں مایوسی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو بہت دشوار ہوتا ہے، پھر ہم چاہ کر بھی بہترین کارکردگی نہیں دکھاسکتے۔ اللہ پاک سب مسلمانوں کو جھوٹ، مکرو فریب اور دھوکا دہی سے بچائے ۔آمین!