بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جِبْت اور طاغوت پر ایمان لانا

جِبْت اور طاغوت پر ایمان لانا

 

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہل سنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

﴿ٴَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ یُزَکُّونَ أَنفُسَہُمْ بَلِ اللّہُ یُزَکِّیْ مَن یَشَاء ُ وَلاَ یُظْلَمُونَ فَتِیْلاً،انظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الکَذِبَ وَکَفَی بِہِ إِثْماً مُّبِیْناً، أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ أُوتُواْ نَصِیْباً مِّنَ الْکِتَابِ یُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَیَقُولُونَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُواْ ہَؤُلاء أَہْدَی مِنَ الَّذِیْنَ آمَنُواْ سَبِیْلاً، أُوْلَئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللّہُ وَمَن یَلْعَنِ اللّہُ فَلَن تَجِدَ لَہُ نَصِیْراً،أَمْ لَہُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْکِ فَإِذاً لاَّ یُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِیْراً، أَمْ یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَی مَا آتَاہُمُ اللّہُ مِن فَضْلِہِ فَقَدْ آتَیْْنَا آلَ إِبْرَاہِیْمَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَآتَیْْنَاہُم مُّلْکاً عَظِیْماً، فَمِنْہُم مَّنْ آمَنَ بِہِ وَمِنْہُم مَّن صَدَّ عَنْہُ وَکَفَی بِجَہَنَّمَ سَعِیْراً، إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِآیَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْہِمْ نَاراً کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُہُمْ بَدَّلْنَاہُمْ جُلُوداً غَیْْرَہَا لِیَذُوقُواْ الْعَذَابَ إِنَّ اللّہَ کَانَ عَزِیْزاً حَکِیْما،وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَداً لَّہُمْ فِیْہَا أَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَةٌ وَنُدْخِلُہُمْ ظِلاًّ ظَلِیْلاً﴾․(سورة النساء، آیت:57-49)

کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جو اپنے آپ کو پاکیزہ کہتے ہیں؟ بلکہ اللہ ہی پاکیزہ کرتا ہے جس کو چاہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا تاگے برابرO دیکھ کیسا باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ؟ اور کافی ہے یہی گناہ صریحOکیا تو نے نہ دیکھا ان کو جن کو ملا ہے کچھ حصہ کتاب کا جو مانتے ہیں بتوں کو اور شیطان کو ؟اور کہتے ہیں کافروں کو یہ لوگ یہ زیادہ راہ راست پر ہیں مسلمانوں سےO یہ وہی ہیں جن پر لعنت کی ہے اللہ نے اور جس پر لعنت کرے اللہ نہ پاوے گا تو اس کا کوئی مددگارOکیا ان کا کچھ حصہ ہے سلطنت میں؟ پھر تو یہ نہ دیں گے لوگوں کو ایک تل برابرOیا حسد کرتے ہیں لوگوں کا اس پر جو دیا ہے ان کو اللہ نے اپنے فضل سے، سو ہم نے تو دی ہے ابراہیم کے خاندان میں کتاب اور علم اور ان کو دی ہے ہم نے بڑی سلطنت Oپھر ان میں سے کسی نے اس کو مانا اور کوئی اس سے ہٹا رہا اور کافی ہے دوزخ کی بھڑکتی آگ Oبے شک جو منکر ہوئے ہماری آیتوں سے، ان کو ہم ڈالیں گے آگ میں، جس وقت جل جائے گی کھال ان کی توہم بدل دیویں گے ان کو اور کھال، تا کہ چکھتے رہیں عذاب بے شک اللہ ہے زبردست، حکمت والاOاور جو لوگ ایمان لائے اور کام کیے نیک البتہ ان کو ہم داخل کریں گے باغوں میں، جس کے نیچے بہتی ہیں نہریں، رہا کریں ان میں ہمیشہ، ان کے لیے وہاں عورتیں ہیں صاف ستھری اور ان کو ہم داخل کریں گے گھنی چھاؤں میں O۔

پاک بازی کا دعویٰ قبول حق میں پہلی رکاوٹ ہے
دنیا کی تمام قوموں میں سب سے زیادہ نسلی امتیاز یہودیوں میں پایا جاتا ہے ،یہودیوں کے دل و دماغ میں یہ خبط سوار ہے کہ وہ انسانی نسل کی سب سے اعلیٰ وارفع قوم ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہیں، اس لیے ہر طرح کے مواخذے سے محفوظ اور مامون ہیں۔ قرآن کریم نے ان کے اس دعوے کو انہیں کی زبان میں یوں پیش کیا ہے:﴿نَحْنُ أَبْنَاء اللّہِ وَأَحِبَّاؤُہُ﴾․(المائدة:18)(ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے)

اخروی عذاب سے خود کومحفوظ سمجھ کر دعوی کرتے تھے :

﴿لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَّ أَیَّاماً مَّعْدُودَةً﴾․(البقرة: 80) (ہم کو ہرگز آگ نہ لگے گی مگر چند روز گنے چنے)

جنت پر اپنا حق جتاتے ہوئے کہتے تھے:
﴿لَن یَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلاَّ مَن کَانَ ہُوداً أَوْ نَصَارَی﴾․ (البقرة:111) (ہر گز نہ جاویں گے جنت میں مگر جو ہوں گے یہودی یا نصرانی)۔

ان کی خود پسندی اور پاک بازی کے خول میں رہنے کے کئی اسباب ہیں، ان کا بنیادی سبب انبیا کی اولاد اور سید ہونے کا زعم ہے، سیادت کے غرور نے انہیں فکرِ آخرت سے غافل کردیا، یہی وجہ ہے کہ کوئی یہودی عقیدہ اور عمل میں جس قدر بھی کوتاہی کا مرتکب ہو جائے اسے مذہب کے دائرے سے خارج نہیں سمجھا جاتا ،سوائے اس کے کہ وہ اعلانیہ یہودیت کو چھوڑنے کا اعلان کردے، آیت کریمہ میں قوم یہود کے خود ساختہ تقدس پر چوٹ لگا کر امت ِ مسلمہ کو ان سے عبرت دلائی جا رہی ہے کہ محض پیغمبر زادے ہونا یا نیک لوگوں کی اولاد ہونا نجات کے لیے کافی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے شرافت و کرامت، عزت و افتخار کا معیار ایمان و تقوی کو رکھاہے۔ ﴿إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ ﴾․(الحجرات:13)

ایک حدیث میں آپ علیہ السلام نے فرمایا:”لا فضل لأحد علی أحدٍ إلا بدین وتقوی“․(صحیح البخاری:1/234)”کسی شخص کو کسی دوسرے شخص پر کوئی فضیلت نہیں مگر دین داری اور تقوی کی بناء پر“۔

حجة الوداع کے موقع پر جو جامع خطبہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا اس میں انسانی مساوات اور ان میں باہمی فضیلت کا معیار بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”ألا لا فضل لعربی علی عجمی، ولا لعجمی علی عربی، ولا أحمر علی أسود، ولا أسود علی أحمر إلا بالتقوی․“ (مسند الإمام أحمد، رقم الحدیث:23961)

”نہ کسی عربی کو عجمی پر برتری حاصل ہے اور نہ کوئی عجمی کسی عربی پر فوقیت رکھتا ہے ، نہ سیاہ فام سرخ فام پر فوقیت رکھتا ہے، نہ سرخ فام سیاہ فام پر، فضیلت و برتری کا معیار صرف تقوی پر ہے“۔

جب کوئی قوم خود ساختہ پاکیزگی کی چادر اوڑھ لیتی ہے اس میں خیر و بھلائی کا عنصر مفقود ہوتا جاتا ہے، تکبر، بغض، حسد، عناد، حب جاہ، حب مال، کاہلی، کام چوری، جہالت، بدعملی، ریاکاری، دیگر روحانی بیماریاں اس میں بسیرا کر لیتی ہیں، پھر ان کے زوال کا الٹا دور شروع ہوجاتا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت کے لیے کسی پیغمبر زادے یا کسی بزرگ زادے یا کسی شخص اور قبیلے کے محتاج نہیں ہیں، وہ بے نیاز ذات ہے، کوئی فرد اور قوم اپنے آباؤ اجداد کے تقدس کو آڑ بنا کر خود کو خدا کے سامنے جواب دہی سے مستثنیٰ نہ سمجھے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے خیرو شر کے ہر عمل کا پورا بدلہ دے گا اور کسی پر بھی ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

پاکیزگی کا دعوی مذموم ہے
کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے وہ اپنی ذات کے متعلق پاکیزگی اور ہر طرح کے گناہوں سے پاک و صاف رہنے کا دعویٰ کرے اور نہ ہی اپنے لیے ایسے الفاظ، القاب اور نام رکھے جس سے تزکیہ کا دعویٰ جھلک رہا ہو اور نہ کسی دوسرے مسلمان کے متعلق قطعیت کے ساتھ پاکیزگی کی گواہی دے ، بلکہ حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہ کہے”ہم فلاں کو ایسا ایسا سمجھتے ہیں، مگر حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَلَا تُزَکُّوا أَنفُسَکُمْ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَی﴾ (النجم:32) (سو مت بیان کرو اپنی خوبیاں، وہ خوب جانتا ہے اس کو جو بچ کر چلا) دوسرا ارشاد گرامی ہے:﴿وَلاَ تَقْفُ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ﴾ (بنی اسرائیل:36) (اور نہ پیچھے پڑ جس بات کی خبر نہیں تجھ کو)۔

البتہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کسی دینی روحانی نعمت پر احساس شکر کے جذبے سے اس کااظہار کرنا ممنوع نہیں ہے، تحدیث بالنعمت کے طور پر درست ہے، البتہ اس میں کبر و فخر کا عنصر نہ ہو۔

جِبْت اور طاغوت پر ایمان لانا
﴿أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ أُوتُواْ نَصِیْباً مِّنَ الْکِتَابِ یُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ …﴾اس آیت میں یہود کے ایک رویے کی طرف اشارہ ہے۔ یہود توحیدی مذہب ہے ، انبیاء و رسل ، بعثت وحشر پرایمان رکھنے والا مذہب ہے، ان عقائد کی بنا پر انہیں ہر اعتبار سے اہلِ ایمان کے قریب ہونا چاہیے، لیکن ضد اور حسد نے انہیں ایسی قوم کے ساتھ متحد کر دیا ہے، جو نہ توحید پر ایمان رکھتی ہے اور نہ حشر نشر پر۔

عہدیِ نبوی میں مدینہ میں رہائش پذیر یہودی قبائل میں بنو نضیر کا ایک وفد مکہ مکرمہ گیا، جس میں نامی گرامی یہود شریک تھے، قریش مکہ نے ان کے علم و فضل کی بنا پر ان سے پوچھا ہمارا مذہب بہتر ہے یا محمد کا دین بہتر ہے؟ یہودیوں نے جواب میں کہا:تمہارا دین محمدکے دین سے بہترہے اوراس سے زیادہ راہ راست پر قائم ہے۔ اس آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیاگیاہے، حق کی دشمنی نے انہیں شرک کو توحید سے بہتر بتانے پر مجبور کر دیا۔
یہودی قوم دین ِاسلام کے ساتھ دشمنی میں پستی کے اس مقام تک پہنچ چکی ہے کہ اب ”جبت اور طاغوت“پر بھی ایمان لے آتی ہے، ”جبت“ بے فائدہ اوربے ہودہ چیز کو کہتے ہیں، اس سے مراد جادو، ٹوٹکے، منتر، فال گیری ہے اور طاغوت سے ہر وہ فرد، جماعت ادارہ مرادہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکال کر شیطان کی فرماں برداری پر لگادے۔ ابن کثیر رحمة الله علیہ نے مجاہد کا قول نقل کیاہے کہ طاغوت انسان کی شکل میں ایسے شیطان کو کہتے ہیں جس کو لوگ حاکم بناکر اس کے پاس فیصلے کے لیے جاتے ہوں اور وہی ان کے معاملے پر صاحب اختیار ہوتاہے۔(تفسیرابن کثیر، النساء، ذیل آیت:15)

جب قومیں عقیدہ توحید سے غافل ہوجاتی ہیں اور خود ساختہ تقدس کا لبادہ اوڑھ لیتی ہیں اور قومی نسلی تفاخر میں مبتلا ہو جاتی ہیں توخود احتسابی کے وصف سے محروم ہوجاتی ہیں، پھرفکری زوال کی اس حد تک پہنچ جاتی ہیں کہ جھوٹ، دھوکہ فریب، جادو ٹونے اور ہر شیطانی ذریعے سے اپنے مقاصدکی تکمیل چاہتی ہیں، اور شیطان کی پیروی کرنے کے لیے ہر دم تیار رہتی ہیں، انسان کے وضعی قوانین کو شریعت الٰہیہ پر ترجیح دیتی ہیں اور اپنے عمل سے ایسے قوانین کو جواز بخشتی ہیں۔

یہود کے در بدر ہونے کی پیشنگوئی
﴿أَمْ لَہُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْکِ﴾آیت کریمہ میں پیش گوئی ہے کہ یہود کے نصیب میں اقتدار وبادشاہت کاتخت نہیں رہا، رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی تکذیب اوردین ِ حق میں دشمنی کی دنیاوی سزا اقتدار سے محرومی کی شکل میں ان کے مقدر میں آئی، آیت کریمہ کے دوسرے ٹکڑے میں ان کی روحانی بیماری بخل اور مال سے شدید محبت کی نشان دہی کی گئی ہے، اگر ان کے پاس اقتدارواختیارہوتوللہ فی اللہ کسی کوکھجورکی گٹھلی میں پایاجانے والا چھلکا بھی دینے کے لیے تیار نہ ہوں۔

جہاں تک یہود کے دربدر ہونے کی پیش گوئی ہے اس کی ایک جھلک ان کی قومی تاریخ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے رفع سماوی کے چالیس سال بعد رومی حاکم طوس نے تقریباً 70ء میں یروشلم کو اجاڑا اور یہود کے ہیکل کی بنیادیں تک مسمار کر دیں، یہودی قوم دنیا کے مختلف حصوں میں تتر بتر ہوگئی، مگر تقدیر نے انہیں آرام سے رہنے نہیں دیا، یہ لوگ جہاں کہیں گئے نحوست وہاں پہلے سے پڑاؤ ڈال لیتی، لوگوں کی نظروں میں مبغوض رہے اور مختلف زمانوں میں مختلف ممالک سے نکالے گئے، مثلاً667ء میں ان کو حجاز سے نکالا گیا، 890ء میں شام، اسپین سے نکالا گیا، 1290ء میں برطانیہ سے، 1306ء میں فرانس سے، 1307ء میں دوبارہ فرانس سے، 1370ء میں بیلجئیم سے، 1380ء میں چیکو سلواکیہ سے، 1394ء میں دوبارہ فرانس سے اور1442ء میں ہالینڈ سے نکالاگیا، صدیوں سے ان کے ساتھ یہی ہوتا رہاہے۔ بالآخر 14 مئی 1941ء میں مسیحی اقوام کی سرپرستی سے اسرائیل نامی مملکت وجود میں آئی، یہ مملکت بھی خود مختار نہیں ہے اور نہ ہی اپنے پاؤں پر کھڑی ہے، بلکہ مسیحی ممالک کے سہارے قائم ہے، یہود کی اس سے بڑی ذلت کیاہو سکتی ہے کہ جس قوم کے وہ جانی دشمن تھے آج اپنی بقا کے لیے ان کے سہارے کے محتاج رہتے ہیں۔(جاری)