بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بہترین انسان

بہترین انسان

عبید اللہ خالد

دین اسلام نے جس طرح ظاہری اعمال حسنہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور معاصی ومنکرات سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے ،اسی طرح باطنی اعمال یعنی اخلاق حسنہ اور فضائل کو اختیار کرنے اور رذائل سے بچنے کی تلقین بھی فرمائی ہے۔اسلام اعلیٰ انسانی قدروں اور حسن کردار کی نہ صرف حمایت کرتا ہے، بلکہ اس کی ترغیب اور حکم دیتا ہے۔

حضرت عبدالله بن عمرو رضی الله عنہما سے مروی ایک روایت میں ہے کہ (ایک دن) رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون بہتر آدمی ہے ؟ توآپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”ہر وہ شخص جو مخموم دل اور زبان کا سچا ہو۔“ (یہ سن کر) صحابہ کرام رضی الله عنہم نے عرض کیا کہ زبان کے سچے کو تو ہم جانتے ہیں ( کہ زبان کا سچا اس شخص کو کہتے ہیں جو کبھی جھوٹ نہ بولے) لیکن ”مخموم دل“ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مخموم دل سے مراد وہ شخص ہے جس کا دل پاک وصاف ہو، پرہیز گار ہو، اس میں کوئی گناہ نہ ہو، اس نے کوئی ظلم نہ کیا ہو، حد سے تجاوز نہ کیا ہو اور اس میں کدورت وکینہ اور حسد کا مادہ نہ ہو۔“ (سنن ابن ماجہ ، سنن بیہقی)

”مخموم دل“ کو ”سلیم القلب“ سے بھی تعبیرکیا جاتا ہے کہ جس کا دل غیر الله کے غبار سے صاف ستھرا ہو اور برے اخلاق واحوال اور فاسد افکار وخیالات سے پاک ہو۔ قرآن مجید میں ایسے شخص کی تعریف میں الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ :﴿إِلَّا مَنْ أَتَی اللَّہَ بِقَلْبٍ سَلِیمٍ﴾․ یعنی” ہاں جو شخص الله کے پاس سلامتی والا دل لے کر آئے گا(اس کو نجات ملے گی)“۔

حضرت عبدالله بن عمرو رضی الله عنہما سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”(لوگو!) چار چیزیں ایسی ہیں کہ اگر تم میں پائی جائیں تو دنیا کے فوت ہونے نہ ہونے کا تمہیں کوئی غم نہیں ہونا چاہیے، ایک تو امانت کی حفاظت کرنا ( یعنی حقوق کی حفاظت وادائیگی کرنا، خواہ ان حقوق کا تعلق پروردگار سے ہو، یا بندوں سے اور یا اپنے نفس سے ) دوسری سچی بات کہنا، تیسری اخلاق کا اچھا ہونا اور چوتھی کھانے میں احتیاط وپرہیز گاری اختیار کرنا ( یعنی حرام وناجائز کھانے سے پرہیز کرنا اور زیادہ کھانے سے اجتناب کرکے بقدر حاجت وضرورت پر اکتفا کرنا)۔“ (مسند احمد، سنن بیہقی)

حضرت لقمان علیہ السلام کو الله تعالیٰ نے بے پناہ علم وحکمت ، عقل ودانش اور دانائی سے نوازا تھا۔ ان کے پیغمبر ہونے میں اگرچہ علمائے اسلام کا اختلاف ہے، لیکن اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ ایک عظیم انسان، دانش ور، حکیم ، الله تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور ولی تھے۔ ان کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے تقریباً ایک ہزار پیغمبروں کی صحبت اختیار کی تھی او ران کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا تھا، ان کے علم دانش اور حکمت ودانائی کا غالباً بڑا راز یہی ہے کہ انہوں نے اتنے زیادہ پیغمبروں سے کسب فیض کیا اور ان کی صحبت اختیار فرمائی، الله تعالیٰ نے ان کو اپنا مقرب او رمقبول بندہ بنایا، یہاں تک کہ حکمت ودانائی سے لبریز ان کے فرمودات کو قرآن مجید کا حصہ بنایا۔

حضرت لقمان علیہ السلام سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ جس مرتبہ یعنی فضیلت کے جس مقام پر ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں اس تک آپ کو کس نے پہنچایا؟ حضرت لقمان علیہ السلام نے فرمایا:”سچ بولنے نے( کہ میں نے سچائی کا دامن کبھی نہیں چھوڑا، خواہ میں نے خود کوئی بات کی ہو یا کسی کی کوئی بات نقل کی ہو، ہمیشہ سچ بولنے پر عامل رہا) ادائیگی امانت نے ( یعنی خواہ کوئی مالی معاملہ ہو یا فعلی، میں نے ہمیشہ دیانت داری کو ملحوظ رکھا ہے) اور جو چیزیں میرے لیے بے فائدہ اورغیر ضروری ہیں ان کو ترک کر دینے سے ۔“ (مؤطا مام مالک)

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لقمان علیہ السلام کے حکمت ودانائی اور عقل ودانش کے اعلیٰ مقام او رعظیم مرتبے پرفائز ہونے کا سبب ان کی راست گوئی اور نیک کرداری ہے۔

الله تعالیٰ ہمیں بھی باکردار اورنیک سیرت بنائے، اوصاف حمیدہ اور خصال حسنہ سے مزین فرمائے ، معاصی، منکرات، سیئات، بے فائدہ اور لایعنی امور سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ وما توفیقي إلا بالله، علیہ توکلت وإلیہ أنیب․