بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اپنے داخلی بگاڑ پر بھی غور کیجیے!

اپنے داخلی بگاڑ پر بھی غور کیجیے!

مولانا شمس الحق ندوی

اس وقت پوری دنیا میں ظلم وزیادتی کا جو بازار گرم ہے، ہم اس کا تو بار بار ذکر کرتے ہیں او رخود اپنی مظلومیت کا بھی رونا روتے ہیں، لیکن خود ہمارے اپنے مسلم معاشرہ میں، گھر وخاندان میں بگاڑ وفساد نے پنجے گاڑ رکھے ہیں، اس کی طرف ہماری نظر نہیں جاتی۔ حالاں کہ اس وقت مسلمانوں میں ذلت ورسوائی کی جو شرم ناک صورت پائی جاتی ہے وہ ان کے اپنے داخلی بگاڑ ہی کا نتیجہ ہے۔

کیا مسلمانوں کو یہ تعلیم نہیں دی گئی ہے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے؟ کیا یہ نہیں بتایا گیا کہ جس نے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اوربڑوں کا احترام نہ کیا وہ ہم میں ( یعنی امت ِ مسلمہ ) سے نہیں؟ کیا ہم کو یہ نہیں بتایا گیا کہ رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ پڑوسیوں کے حقوق ایسے بتاگئے کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم کو خیال ہوا کہ کہیں یہ وراثت میں حصہ دار نہ قرار دے دیے جائیں۔ ماں باپ کے حقوق کا یہ عالم ہے کہ الله تعالیٰ خود فرماتا ہے:

”اے الله! تو ان کے ساتھ اپنے لطف وکرم کا ایسا معاملہ فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں ہم کو لاڈ پیار سے پالا“۔
بڑے بھائی کے بارے میں بتایا گیا کہ: بڑا بھائی باپ کا درجہ رکھتا ہے۔ خالہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ : وہ ماں کے برابر ہے۔ پھوپھا، پھوپھی، خُسر، خوش دامن کے کیسے حقوق بیان کیے گئے ہیں اور صلہ رحمی کی کتنی سخت تاکید ہے!!! آخر درجہ کی بات یہ ہے کہ الله تعالیٰ نے فرمایا کہ:
جو رشتوں کو توڑے گا، میں اس سے قطع تعلق کر لوں گا۔

حد یہ ہے کہ اچھے خاصے دین دار قطع رحمی کا شکار ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ گھر گھر میں لڑائی، باپ بیٹے میں اختلاف، بلکہ قتل تک کے واقعات پیش آجاتے ہیں۔ بھائی بھائی کا حق مار رہا ہے، رشتے ناطے توڑے جارہے ہیں۔

ہم یورپ کے گھریلو نظام کی تباہی، بد اخلاقی، بے مروتی، باپ بیٹے میں تاجر وگاہک جیسے تعلق، بہن بھائی کی محبت کیفقدان کابڑے زوروں سے ذکر کرتے ہیں، جن کا نہ کوئی دین وعقیدہ ہے، نہ ہی اخلاقیات اور نہ ہی چھوٹے بڑے کے ادب واحترام کی کوئی تعلیم۔ لیکن ہم جو کتاب ِ ربانی پڑھنے والے اور تعلیمات ِ رسول الله صلی ا لله علیہ وسلم کو دل سے ماننے والے ہیں، وہ کس بے راہ روی کے شکار ہیں؟

ایک بارسرکار ِ دو عالم حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم نے مجمع میں یہ ارشاد فرمایا کہ : جو رشتہ داری کا پاس ولحاظ نہ کرتا ہو، وہ ہمارے پاس نہ بیٹھے۔ یہ سن کر ایک شخص مجمع سے اٹھا اور اپنی خالہ کے گھر گیا، جس سے کچھ بگاڑ تھا، وہاں جاکر اس نے اپنی خالہ سے معذرت کی اور قصور معاف کرایا، پھر دربار ِ نبوت میں شریک ہو گیا۔ جب وہ واپس آگیا تو سرکار ِ دو عالم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس قوم پر خدا کی رحمت نازل نہیں ہوتی جس میں ایسا شخص موجود ہو جو اپنے رشتہ داروں سے بگاڑ رکھتا ہو۔ اب ہم غور کریں کہ اس وقت ہمارے مسلم معاشرہ کا کیا حال ہے؟

دو حقیقی بھائیوں کے گھر ملے ہوئے ہیں، ایک کے گھر میں تقریب ہے، دوسرا اس میں شریک نہیں۔ اتنا ہی نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ ہزاروں خاندان ہیں،جن میں زمین وجائیداد کے سلسلہ میں برسہا برس تک جھگڑوں اور مقدمہ بازیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

قطع تعلق تو ایک عام بات ہے، معمولی معمولی باتوں پرایسا قطع تعلق کر لیا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کی صورت دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ پھر خدا کی رحمت کیسے نازل ہو گی؟ اس وقت مسلمانوں میں کھلی ہوئی نحوست، ذلت ورسوائی، بدنامی وجگ ہنسائی کی جو افسوس ناک صورت حال ہے، کیا اس میں اس کے سوا کسی اور چیز کا دخل ہے؟

ہم غور کریں، دیکھیں کہ عزیزوں میں عزیز داری باقی ہے یا نہیں؟ ماں باپ کو اپنی اولاد سے اور اولاد کو اپنے ماں باپ سے وہ تعلق ہے جو ہونا چاہیے؟ اب عام صورت ِ حال یہ ہے کہ غیروں کے ساتھ بھولے سے اگر نیکی ہو جائے تو ممکن ہے، مگر عزیزوں کے ساتھ نیکی کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ غیروں سے ہنسنا بولنا ہوتا ہے، مگر عزیزوں سے ملنے ہی میں توہین محسو س ہوتی ہے۔ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے تو صلہ رحمی کی برکات کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ : ؤ صلہ رحمی سے محبت بڑھتی ہے۔ؤ مال بڑھتا ہے۔ ؤعمر بڑھتی ہے۔ ؤ روزی بڑھتی ہے۔ؤآدمی بُری موت نہیں مرتا۔ ؤاس کی مصیبتیں اور آفتیں ٹلتی رہتی ہیں۔ؤ ملک کی آبادی اور سرسبزی بڑھتی ہے۔ؤ گناہ معاف کیے جاتے ہیں۔ؤ نیکیاں قبول کی جاتی ہیں۔ؤ جنت میں جانے کا استحقاق حاصل ہوتا ہے۔