بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

امام زہری وامام طبری تصویر کا دوسرا رخ

امام زہری وامام طبری تصویر کا دوسرا رخ
کتاب کا مطالعہ اور تجزیہ

مولانا عبدالماجد رفیق
استاد ورفیق تخصص فی الحدیث جامعہ فاروقیہ کراچی

تیرہویں صدی ہجری میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے او رمغربی سام راج کے ظہور کے ساتھ ہی فتنہ انکار حدیث نے سر اٹھایا، جو اصل میں فرنگی اور یورپین اسلام مخالف نام نہادمحققین کی جانب سے اسلام کی بیخ کنی کی خاطر اچھالے جانے والے اعتراضات کی ترجمانی تھی۔

دین دشمن متعصب فرنگی دانش وروں کی اندھی تقلید کرنے اوراسلام کی بیخ کنی کے لیے ان نام نہاد انگریز محققین کی جانب سے اچھالے جانے والے اعتراضات کی ترجمانی کرنے میں مصری مفکرین، دانش ور، ادباء اور ڈاکٹر پیش پیش رہے ہیں۔

ایک طرف مصر کے مشہور مفکر اور ادیب شیخ محمد عبدہ نے اصلاح نظام کے لیے ”صرف قرآن“ کا نعرہ لگایا، جیسا کہ موصوف فرماتے ہیں:”یقینا مسلمانوں کا اس دور میں قرآن کریم کے علاوہ کوئی امام نہیں ہے، صحیح اسلام وہی ہے جس پر قرن اول کے لوگ فتنوں کے ظہور سے قبل تھے۔“ وہ مزید فرماتے ہیں:” اس امت کا قیام وانصرام ممکن ہی نہیں ہے جب تک کہ یہ کتابیں ان کے درمیان موجود رہیں گی، قرآن کے علاوہ جو کچھ ہے وہ علم وعمل اور قرآن کے درمیان صرف حجاب ہے۔“

تو دوسری طرف ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، بلکہ ان سے بھی دو قدم آگے بڑھتے ہوئے ڈاکٹر توفیق صدقی نے مصر کے مشہور رسالہ ”المنار“ میں ”إسلام ھو القرآن وحدہ“ کے عنوان سے ایک تفصیلی مضمون لکھ کر صرف قرآن کے نعرے کو پورے زور وشور کے ساتھ آگے بڑھایا۔ اس مضمون میں موصوف نے قرآنی آیات سے احادیث نبویہ کے بے کار اورمعطل ہونے پر غلط استدلال کیا اور اپنے زعم میں اس نظریہ پر ٹھوس دلائل فراہم کرکے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا۔
پھر مصر کے معروف محقق وادیب علامہ احمد امین مصری نے انکار حدیث کے نامبارک سلسلہ میں اپنی رسوائے زمانہ کتاب ”فجر الاسلام“ شائع کی، جس میں موصوف نے دانش ور انِ فرنگ کے آلہ کار او رایجنٹ کی حیثیت سے ان کی بیہودہ بکواسات کو علم وادب کے عنوان سے خوش کن پیرائے میں پیش کرنے کی مذموم کوشش کی۔ اور بعض راویان حدیث کی فنی کم زوریوں کو اس درجے اچھالا کہ پورے ذخیرہٴ حدیث کو ہی نہ صرف مشکوک، بلکہ من گھڑت داستانوں اور دیومالائی قصوں اور کہانیوں کے مثل قراردے ڈالا۔ ”وا،لضیعة الحیاء وقلةِ العقل وإلی الله المشتکی!“

اس کے بعد انکار حدیث کا جھنڈا محمد أبوریہ نامی بدنصیب شخص نے اپنے ہاتھ میں لیا او ر”ظلمات بعضھا فوق بعض“ کی مصداق اپنی کتاب ”أضواء علی السنة المحمدیة“ لکھ کر سنت کے شیدائی مسلمانوں او راہل ِ علم کو چیلنج دیا، حالاں کہ أبوریہ نے کوئی نیا نظریہ یا نئے دلائل پیش نہیں کیے، بلکہ اپنے سے پہلے والے نام نہاد مفکرین ، ادباء، دانش وروں اور روشن خیال محققین کی روشن خیالیوں اور دلائل کو یکجا کرکے اس تالیف مذموم میں جمع کر دیا تھا۔

یہ أبوریہ نامی شخص اپنے پیش رو ڈاکٹر توفیق صدقی، احمد امین مصری اور ابراہیم ادھم وغیرہ کے افکار ونظریات کی تقلید کرتا ہے او رپھر اپنے تئیں اجتہاد کا بھی دعوی کرتا ہے او راپنے آپ کو اس زمانے کا مجتہد ِ اعظم سمجھتا ہے۔
پاک وہند میں فتنہ انکار حدیث انگریزوں کی مرہون ِ منت ہے، انگریزوں نے جب یہ محسوس کیا کہ مسلمانوں میں جب تک جہادی روح بیدار رہے گی، تب تک برصغیر کے مسلمانوں پر قابو نہیں پایا جاسکتا، تو خاص طور پر جہاد کی احادیث پر تنقید کے نشتر چلانے کے لیے کچھ ایسے لوگ تیار کیے گئے جنہوں نے اپنی لچر تاویلات سے جہاد کے منسوخ ہونے کا پروپیگنڈا شروع کیا او رجہاد سے متعلق احادیث کو ناقابل اعتبار قرار دے ڈالا، مولوی چراغ علی او رمرزا قادیانی اسی گندے بیج کی پیدا وار ہیں۔ نیز مسلمانوں کی شکست اوراحساس محرومی نے بعض لوگوں کو یہ راہ سجھائی کہ اب باعزت طور پر زندگی گزارنے کے لیے کچھ وفاداری کا ثبوت دینا چاہیے، چناں چہ سر سید احمد خان، عبدالله چکڑالوی، مولوی احمد الدین امر تسری وغیرہ جیسے دین فروشوں نے احادیث ِ جہاد کے ساتھ ساتھ ایسی بہت سی احادیث کا انکار کیا جو فرنگی تہذیب وتمدن ،انگریزی بود وباش اور افکار وخیالات کے متصادم تھیں یا ان کی عقل وفراست سے بالاتر تھیں، اسی مقصد کے لیے معجزات، جنت، دوزخ، وزن اعمال او رفرشتوں کی احادیث کا انکار کیا گیا، پردے کا انکار اورتجارتی سود کو حلال کیا گیا۔ ان منکرین میں مولوی عبدالله چکڑالوی نے اس نظریہ انکار کو سب سے زیادہ منظم طریقے سے پیش کیا، اسی لیے اسے فرقہ اہل ِ قرآن کا بانی کہا جاتا ہے، اس کا مقصد احادیث کا کلیةً انکار کرنا تھا !!

جناب تمنا عمادی صاحب بھی منکرین حدیث کے اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں دیگر کئی کتابوں کے علاوہ، انہوں نے”امام زہری وامام طبری۔ تصویر کا دوسرا رخ“ نامی کتاب بھی تالیف کی تھی، جو ان کے انکار ِحدیث کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

اس پوری کتاب میں عالم ِ اسلام کی دو مشہور اور قد آور علمی شخصیات امام زہری اور امام طبری کو غالی شیعہ اور کٹر رافضی ثابت کرنے کی نہ صرف انتہا درجے کی کوشش کی گئی ہے ، بلکہ ایڑی چوٹی کا پورا زور لگایا ہے کہ یہ دونوں حضرات جھوٹے، روایات کو گھڑنے والے اور عالم اسلام کے بڑے دشمنوں میں سے ہیں۔

حالاں کہ ائمہٴ رجال وحدیث میں سے کسی ایک نے بھی امام زہری کو رافضی تو درکنار شیعہ تک نہیں کہا ہے، حالاں کہ صحیح بخاری میں بیسیوں روایات ایسی ہیں، جن کوائمہٴ رجال نے شیعہ ( تفضیلی شیعہ جو حضرت علی رضی الله عنہ کو حضرت عثمان رضی الله عنہ سے افضل سمجھتے ہیں او رکسی صحابی رسول کو بُرا نہیں کہتے) کہا ہے، اس بات کا جناب تمنا عمادی صاحب کو بھی اعتراف ہے، لیکن موصوف کی امام زہری کے شیعہ اور رافضی ہونے کی بھونڈی دلیل یہ ہے کہ امام زہری بہت بڑے تقیہ باز تھے ، اسی تقیہ سے کام لیتے ہوئے ساری زندگی اپنے شیعہ او رباطل عقائد کو ائمہ جرح وتعدیل اور سنی علماء سے چھپائے رکھا۔

امام زہری کو دنیا سے رخصت ہوئے تیرہ سو سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ امام زہری کے تقیہ پر اس طویل عرصے میں کوئی بھی جرح وتعدیل کا امام، محدث اور مؤرخ مطلع نہیں ہو سکا، سوائے ” تمنا عمادی صاحب کے “!! مطلب یہ ہے کہ تیرہ سو سال کے عرصے میں یہ قلعی صرف علامہ موصوف پر ہی کھلی ہے! اور یہ بھید تیرہ سو سال کے بعد صرف علامہ تمنا عمادی پر ہی آشکارہ ہوا ہے، جیسا کہ موصوف تمنا عمادی حکیم نیاز کے مضمون سے خامہ فرسائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”کیا زہری شیعہ تھے؟ لیکن جو شیعہ کہتے ہیں ان کا قول بھی کچھ بے حقیقت اور بے وزن معلوم نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ زہری امام رابع امام سجاد زین العابدین کے تلمیذ خاص اور محب وعاشق ہیں۔ روزی سے مجبور ہو کر عبدالملک کے دربار میں چلے گئے، لیکن ساری عمر وہاں کا اثر نہیں لیا۔

مخالف ماحول میں نباہنے او راپنا حال پوشیدہ رکھنے میں کامل دست رس رکھتے تھے۔ مخالف حالات کو برداشت کرنے کا زبردست ملکہ تھا۔ ساری عمر بنو مروان کے دربار میں رہے۔ لیکن آخر تک ظاہر نہ ہونے دیا کہ تمہارے مخالف گروہ سے تعلق رکھتا ہوں ، وہ حالات سے مجبور تھے او رانہیں ایسا ہی کرنا چاہیے تھا۔

زہری سرکاری اتالیق اور درباری عالم ہونے کی حیثیت سے مروانی دور کے طبقہ امراء میں سے تھے۔ خدام او ردربان رکھتے تھے۔ عوام سے الگ رہتے تھے، مصنوعی او رچمک دار ثقاہت ووجاہت کا خول ان کی اصل شخصیت پر چڑھا رہتا تھا۔ اس لیے کسی شخص کے لیے ان کے صحیح خیالات تک رسائی حاصل کرنا آسان کام نہیں تھا۔ علاوہ ازیں مخالف دربار میں رہ کر انہوں نے اپنے اندر ضبط وکتمان کا ایک راسخ ملکہ پیدا کر لیا تھا۔“ (امام زہری، وامام طبری۔ تصویر کا دوسرا رخ، ص:231-229، طبع، الرحمن پبلشنگ ٹرسٹ)

لگتا ہے تمنا عمادی صاحب کو مدوّنِ حدیث امام زہری سے خصوصی بغض ہے کہ موصوف امام زہری کی کسی بھی خوبی اور خصوصیت کو تسلیم کرتے نظر نہیں آتے، یہاں تک موصوف انہیں مدوّنِ حدیث بھی ماننے کو تیار نہیں ہیں! جیسا کہ تمنا عمادی صاحب”ایک غلط ادعاء“ کے عنوان کے تحت رقم طراز ہیں:

”بعض متاخرین نے اپنی کتابوں میں لکھ دیا ہے کہ ابن شہاب زہری نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے حکم سے حدیثیں جمع کرنا شروع کی تھیں۔ یعنی حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بذات خود ان کوجمع احادیث کا حکم دیا تھا۔ یہ بالکل غلط او رایک دعوی بلادلیل ہے۔ یہ ممکن ہے کہ جب لوگ ان کو جمع احادیث سے منع کرتے ہوں گے تو یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے حکم جمع حدیث جو انہوں نے أبوبکر بن حزم کو دیا تھا، کو سند جواز میں پیش کرتے ہوں گے۔ والله اعلم بالصواب۔ بہرحال یہ لکھنا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے حکم سے زہری نے حدیثیں جمع کرنا شروع کی تھیں۔ ہر گز صحیح نہیں۔“ (حوالہ بالا، ص:111-110)

موصوف کی یہ بات بالکل ہی غلط ہے، اس لیے کہ امام زہری کا مدوّن حدیث ہونا اظہر من الشمس ہے، جیسا کہ حافظ المغرب علامہ ابن عبدالبر رحمة الله علیہ اپنی معرکة الآراء کتاب ” جامع بیان العلم وفضلہ“ میں امام زہری کے مدوّن حدیث ہونے سے متعلق امام دار الہجرة امام مالک بن انس رحمہ الله کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جس شخص نے علم ( یعنی علم حدیث ) کو مدوّن کیا وہ ابن شہاب زہری ہیں۔

اسی طرح حافظ ابن عبدالبر رحمہ الله مذکورہ کتاب میں خودامام زہری کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ الله نے سنن، یعنی احادیث نبویہ کو جمع کرنے کا حکم دیا، پس ہم نے سنن کے متعدد مجموعے جمع کیے، یہاں تک کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ الله نے اپنی سلطنت کے ہر علاقے کی طرف ایک مجموعے کو بھیجا۔ (جامع بیان العلم وفضلہ، ص:107، طبع، دارالکتب العلمیة)

مؤلف کتاب جناب تمنا عمادی صاحب نے مشہور مفسر امام ابن جریر طبری کو بھی کٹر رافضی قرار دیا ہے۔ جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ ابن جریر طبری دو ہیں، ایک سنی ہے اور دوسرا کٹر غالی رافضی ہے، دونوں کا نام، والد کا نام، نسبت او رکنیت ایک ہی ہے، بلکہ دونوں کا زمانہ بھی ایک ہے، بس فرق یہ ہے کہ سنی ابن جریر کے دادا کانام یزید ہے، پورا نام: محمد بن جریر بن یزید طبری ہے اور رافضی کے دادا کا نام رستم ہے، ان کا پورا نام: محمد بن جریر بن رستم طبری ہے، ان دونوں کے نام، والد، نسبت او رکنیت میں اشتراک کی وجہ سے بعض حضرات کو وہم ہوا ہے او رانہوں نے مشہور مفسرابن جریر طبری کو بھی رافضی لکھ دیا، علامہ ذہبی نے ”میزان الاعتدال“ میں اور حافظ ابن حجر نے ”لسان المیزان“ میں واضح طو رپر اس وہم کی نشان دہی فرمائی ہے۔

امام ذہبی رحمہ الله نے علامہ سلیمانی حافظ احمد بن علی کے بارے میں کہا ہے کہ انہوں نے بڑا ظلم یہ کر دیا کہ ابن جریر بن یزید کے متعلق لکھ دیا کہ ”کان یضع للروافض“ یعنی یہ رافضیوں کی حمایت میں حدیثیں گھڑا کرتے تھے، اتنا لکھ کر امام ذہبی رحمة الله علیہ لکھتے ہیں کہ ابن جریر تو کبار ائمہ اسلام میں سے تھے، سلیمانی نے محض ان پر اتہام کیا ہے اور بڑا غضب کیا ہے۔

پھر امام ذہبی یہ لکھتے ہیں کہ شاید علامہ سلیمانی نے ایسا جملہ دوسرے ابن جریر یعنی ابن رستم کے متعلق کہا ہو۔ (میزان الاعتدال:4/419، رقم الترجمة:7306، طبع، دارالفکر العربی)

حافظ ابن حجر رحمة ا لله علیہ علامہ ذہبی رحمة الله علیہ کی مذکورہ بالا پوری عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ اگر میں قسم کھالوں کہ علامہ سلیمانی نے جو الزام ابن جریر پر لگایا ہے، اس سے ان کی مراد وہی ابن جریر بن رستم رافضی ہے ( ابن جریر بن یزید مفسر نہیں) تو میں اپنی قسم میں حانث نہیں اور سچارہوں گا۔

پھرحافظ ابن حجر رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ ہمارے شیخ الشیوخ ابوحبان کو بھی علامہ سلیمانی کے قول نے دھوکہ دیا ہے اور انہوں نے اپنی تفسیر کے اوائل میں لفظ صراط پر گفت گو کرتے ہوئے لکھا ہے :”قال أبو جعفر الطبري، وھو إمام من أئمة الإمامیة، الصراط بالصاد، لغة قریش الخ“ یعنی ابو جعفر طبری، جو فرقہ امامیہ کے ایک امام ہیں، ان کا قول ہے کہ صراط صاد سے قریش کی لغت ہے۔

پھر لکھتے ہیں کہ ابن جریر طبری کو اشتراک نے نقصان پہنچایا، نام کا اشتراک، کنیت کا اشتراک، باپ کے نام کا اشتراک او رپھر معاصرت اوران سب پر کثرت تصانیف۔

پھرحافظ ابن حجر رحمة الله علیہ لکھتے ہیں:”وأنّما نبذ بالتشیع لأنہ صحح حدیث غدیر خم“ یعنی ابن جریر مفسر پر جو شیعیت کا الزام لگا، وہ صرف اس لیے کہ انہوں نے غدیر خم والی حدیث ( من کنت مولاہ فعلي مولاہ) کو صحیح قرار دیا ہے۔

اس کے بعد حافظ ابن حجررحمة الله علیہ نے ابن جریر کے سنی ہونے کے ثبوت میں ایک واقعہ تحریر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ ابن عساکر، محمد بن علی بن سہل بن الامام کے طریق سے روایت کرتے ہیں کہ ابن الامام نے کہا کہ حضرت علی رضی الله عنہ کا ذکر ہو رہا تھا تو میں نے ابوجعفر طبری کو کہتے ہوا سناکہ جو شخص یہ کہے کہ أبوبکر وعمر رضی الله عنہما ہدایت کے امام نہ تھے، وہ کیا ہے؟ ابن الأعلم نے کہا کہ وہ بدعتی ہے،، تو ابن الأعلم کی بات پر نکیر کرتے ہوئے ابو جعفر طبری نے کہا کہ بدعتی ہے، بدعتی ہے اسے قتل کیا جائے گا، جس نے کہا کہ ابوبکر وعمر رضی الله عنہما ہدایت کے امام نہ تھے، وہ قتل کیا جائے گا، قتل کیا جائے گا۔ (لسان المیزان:7/26، رقم الترجمة: 6579، طبع، دارالبشائر، بیروت)

جب کہ موصوف تمنا عمادی صاحب کا اصرار یہ ہے کہ ابن جریر بن یزید اورابن جریر بن رستم دونوں ایک ہیں اور دونوں سے مراد ایک ہی شخص ہے، جو کہ غالی رافضی ہے۔

الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ الله تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور احقاقِ حق اور ابطال باطل کا فریضہ تا حیات اخلاص کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عنایت فرمائے اور فتنہ انکار ِ حدیث، بلکہ تمام فتنوں سے امت ِ مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔آمین!