بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اللّٰہ کی تلوار ۔۔ حضرت خالد بن ولیدؓ

اللّٰہ کی تلوار ۔۔ حضرت خالد بن ولیدؓ

مفتی محمد عبدالله قاسمی

اسلام کی ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ ایثار وقربانی، عزم وہمت، حوصلہ وجواں مردی،شجاعت وبہادری کی روشن اور تاب ناک مثالوں سے بھری پڑی ہے، روز اول سے ہی فرزندان توحید نے جور وظلم کے خاتمہ اور طاغوتی طاقتوں کی سرکوبی کے لیے سرفروشانہ کوششیں کی ہیں اور بزم کفر کے علم برداروں کے لیے برق بے اماں ثابت ہوئے ہیں، اسلامی مجاہدین نے ہردور میں اپنی بے مثال قربانیوں اور جگرکاویوں کے ذریعہ مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک عدل وانصاف کا پرچم بلند کیا اور جبر وظلم میں پس رہی انسانیت کو سہارا دیا اور ایک ایسے پائیدار نظام کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا جس کے تحت معاشرے کے ہر فرد کو امن وسکون نصیب ہو اور ہر شہری کو آزادانہ طور پر اپنے اپنے مذہب وعقیدہ پر چلنے کی آزادی ہو۔

گلشن جہاد کا ایک گل سرسبد، اسلامی مجاہدین کے لیے باعث شرف وافتخار اللہ کی تلوار: سیدنا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں، آپ جرأت وبے باکی اور عزم وحوصلہ کے پیکر جمیل تھے، ہمت وجواں مردی اور فولادی ارادہ کی مجسم تصویر تھے، آپ تیغ زنی اور نیزہ بازی میں بے مثال تھے، سپہ گری اور فنون حرب و ضرب سے واقف تھے، سپہ سالاری اور قیادت میں کوئی آپ کا ثانی نہ تھا، دشمنوں کی ٹڈی دل فوج کو آپ اپنی دلیرانہ اور جرأت مندانہ تدبیر کے ذریعہ تتر بتر کردیتے تھے،اور اپنی اقدامی کاروائی سے شیطانی طاقتوں کی کمر توڑ دیتے تھے، یوں تو تاریخ اسلام کے اس بہادر ہیرو نے اپنے لازوال کارناموں کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور اپنی دانش مندانہ قیادت کے ذریعہ اسلامی فتوحات کی ایک نئی طرح ڈالی ہے، آپ کی معرکہ آرائیوں اور ہمہ گیر مہموں کا احاطہ کرنا ایک مشکل کام ہے، اس لیے اس مرد مجاہد کے چند سبق آموز واقعات سپرد قرطاس کیے جاتے ہیں، جن سے ان شاء اللہ ہماری خوابیدہ ہمتیں بیدار ہوں گی اور حوصلہ وجرأت مندی کے ولولہ انگیز جذبات انگڑائی لیں گے اور خوف وہراس کا ہر طرف چھایا ہوا بادل چھٹے گا۔

جنگ موتہ اور حضرت خالد بن ولید کی جنگی حکمت عملی
جنگ موتہ بیت المقدس کے قریب مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین لڑی جانے والی مشہور جنگ ہے، اس خون آشام معرکہ کا پس منظر یہ تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حارث بن عمیررضی اللہ عنہ کو دعوتی خط دے کر بصری کے حاکم کے پاس روانہ کیا، راستہ میں ایک اسلاموفوبیائی مریض شرحبیل بن عمرو غسانی …جو قیصر روم کی طرف سے بلقاء کا گورنر تھا اور اس کے دماغ میں اختیارات کا غرور اور اقتدار کا نشہ سمایا ہوا تھا…نے انہیں تنہا دیکھ کر گرفتار کرلیا اور انہیں نہایت بے دردی سے قتل کردیا، بزدل اور شکست خوردہ لوگوں کی ایسی ہی گھٹیا اور نیچ حرکتیں ہوا کرتی ہیں، مرد مجاہد کو تنہا اور اکیلادیکھ کر ان کے تعفن زدہ رگوں میں انتقام کا خون دوڑ جاتا ہے اور ایک نہتے مسلمان پر حملہ کرکے نام نہاد بہادری دکھاتے ہیں،سفیر کو قتل کردینا ایک بین الاقوامی جرم تھا، ہر ملک اور ہر مذہب میں اسے ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا، اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جوں ہی اس کی اطلاع پہنچی تو یہ بات آپ پر بڑی گراں گزری اورآپ نے اسے اسلامی اقدار و روایات پر حملہ سمجھ کر بغیر کسی لیت ولعل کے ان ظالم طاقتوں کی سرکوبی کے لیے تین ہزار کا لشکر ترتیب دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کا سپہ سالار حضرت زید بن حارثہ کو مقرر کیا اور فرمایا کہ اگر زید قتل کردیے جائیں تو جعفر اور جعفر قتل کردیے جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ سپہ سالار ہوں گے، اسلامی مجاہدین کا یہ چھوٹا اور معمولی سا لشکر سپر پاور طاقت سے ٹکرانے ؛ بلکہ یوں کہیے کہ اسے پاش پاش کرنے کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ ہوا، ادھر یہ تین ہزار کا مختصر لشکر تو ادھر طاغوتی طاقتوں کی دولاکھ ٹڈی دل فوج، نگاہ فلک حیران تھی کہ آخر یہ کیسے دیوانے ہیں جنہیں اپنے جانوں کی پرواہ نہیں؟ ان کے ہر بڑھتے قدم پر عقل ودانش مبہوت ہو کر رہ گئی کہ یہ مٹھی بھر اسلامی فوج سپر پاور طاقت کے خوف ناک پنجے سے کیسے صحیح سالم واپس آئے گی؟ نہ تعداد کی کثرت اور نہ جنگی ساز وسامان کی فراوانی، وطن سے ہزاروں کیلو میٹر دور جہاں نہ کھانے پینے کا انتظام نہ کسی قسم کی کمک ملنے کی امید، چشم فلک نے دیکھا کہ یہ مختصر سا گروہ دلوں میں شوق شہادت لیے ہوئے سپر پاور طاقت سے ہاتھ دو ہاتھ ہونے کے لیے تیز گامی کے ساتھ چلا جارہا ہے، میدان کار زار میں دونوں فریق صف آرا ہوتے ہیں اور دونوں فریق کے لوگ اپنی اپنی شجاعت وبہادری کے جوہر دکھاتے ہیں، چوں کہ رومی فوج تعداد میں زیادہ تھی اور جدید قسم کے ہتھیار سے لیس تھی،اس لیے تینوں سپر سالار یکے بعد دیگرے شجاعت وبہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے، بالآخر فوج کی کمان سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں آگئی اور آپ نے شکست خوردہ اسلامی لشکر کو حوصلہ دیا، ان کی ٹوٹی ہوئی ہمتوں کو مجتمع کیا، چنان چہ تازہ دم ہوکر اسلامی مجاہدین نے دشمنوں پر سخت حملہ کیا اور ان کی لاش کے لاش بچھادیے، دشمن فوج کی صفوں کی صفوں کو کاٹ کر رکھ دیا، بالآخر رات کی تاریکی چھا گئی اور دونوں فوجیں اپنے اپنے خیمہ میں چلی گئیں، اگلی صبح جب میدان کارزار سجا تو آپ نے جنگی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے صفوں کی ترتیب کو بدل دیا، میمنہ کو میسرہ ، میسرہ کو میمنہ کی طرف کردیا، مقدمہ کو ساقہ اور ساقہ کو مقدمہ کی طرف کردیا، ان کی اس جنگی حکمت عملی سے دشمن …جس کی صفوں میں پہلے ہی سے خوف وسراسیمگی پھیلی ہوئی تھی، مسلمانوں کے حوصلہ مندانہ مقابلہ سے وہ گزشتہ کل مرعوب ہوچکے تھے…نے یہ خیال کیا کہ مسلمانوں کو ایک نئی کمک پہنچ چکی ہے،پہلے ہی وہ مسلمانوں کی دلیری اور جواں مردی سے مرعوب اور خائف ہوچکے تھے، اسلامی لشکر کے سرفروشانہ حملوں سے ان کی ہمتیں ٹوٹ چکی تھیں؛ اس لیے اسلامی سپہ سالار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی اس جنگی حکمت عملی سے سراسیمہ اور پریشان ہوکر دشمنان اسلام نے راہ فرار اختیار کرنے ہی میں عافیت خیال کی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا میدان کار زار دشمنوں کی فوج سے خالی ہوگیا، اس اعصاب شکن اور خون ریز لڑائی میں صرف بارہ مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا، جب کہ مسلمانوں نے دشمن کے بیس ہزار فوجیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا، دشمنوں میں صف ماتم بچھ گئی، ہر طرف موت کا سناٹا چھا گیا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اتنی جرأت وبہادری سے لڑے کہ اس لڑائی میں ان کے ہاتھوں میں نو تلواریں ٹوٹ گئیں اور اخیر میں ایک چھوٹی سی یمنی تلوار ان کے ہاتھ میں رہ گئی، اسلامی مجاہدین کے فولادی ہاتھوں نے دشمنوں کا ایسا گلہ گھونٹ دیا کہ ان کی زندگی کا کیف ونشاط پھیکا پڑگیا اور ان کے رقص وسرود کی محفلیں اجڑ گئیں، ایک عربی شاعر کا شعر اس موقع پر بالکل صحیح اور درست بیٹھتا ہے:
ونحن قتلنا الأسد أسد خفیّة
فما شربوا بعد علی لذّة خمرا
ہم نے خفیہ کے شیروں (بہادروں)کو قتل کیا، تو وہ اس کے بعد مزے لے کر شراب نہیں پی سکے۔

اسلامی مجاہدین کا یہ کارواں جب مدینہ منورہ لوٹاتو مسلمانان مدینہ نے گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سپہ سالار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سیف من سیوف اللہ کا لقب عطا فرمایا۔

حاکم کو زندہ گرفتار کرکے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنا
غزوہ تبوک سے جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ واپس ہوئے، تو گو اس وقت کی سپر پاور طاقت روم کو مسلمانوں کے مقابلے پر آنے کی ہمت نہیں ہوئی؛ لیکن اس کی وجہ سے پورے عرب میں مسلمانوں کا رعب ودبدبہ قائم ہوگیا، اور رومیوں کی دہشت اور ان کا خوف بھی عام لوگوں کے دلوں سے جاتا رہا، اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضروری خیال کیا کہ سیاسی طور پر پورے عرب کو خارجی و بیرونی اثرات سے محفوظ کیا جائے اور قیصر روم… جس کے اقتدار کا مضبوط حلقہ عرب کی سرحدوں کو بھی جکڑے ہوئے تھا اور قبائل عرب کو عربوں کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا … کی بڑھتی ہوئی پیش قدمیوں پر روک لگائی جائے، اس مقصد کے لیے اسلامی سپہ سالار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ان کی شجاعت وبہادری کی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑی اور پرخطرمہم پر روانہ کیااور انہیں حکم دیا کہ دومة الجندل کے حاکم اکیدر بن مالک کو زندہ گرفتار کرکے لائیں، ایک حاکم کو زندہ گرفتار کرکے لانا بڑا کٹھن اور مشکل کام ہوتا ہے، کیوں کہ اس کے آگے پیچھے تربیت یافتہ مسلح سپاہیوں کا مضبوط پہرہ ہوتا ہے، جو جدید اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہتھیار سے لیس ہوتے ہیں، جو جان پر کھیل کر حاکم کی حفاظت کا جذبہ رکھتے ہیں، ایسے میں ایک حاکم کو زندہ پابہ سلاسل کرکے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کرنا ایک جوکھم بھرا اور صبر آزما عمل تھا، اس مہم جوئی کے لیے سپہ سالار کی کمال ہوشیاری ،فراست و دانائی، حاضر دماغی، حوصلہ وجواں مردی، جنگی حکمت عملی کی جو ضرورت ہوتی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے، چناں چہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو جوں ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ ملا آپ اپنے چند جان بازوں کے ساتھ اس مہم کی انجام دہی کے لیے نکل پڑے، اکیدر ایک مضبوط اور عالی شان قلعہ میں رہتاتھا، بزدل اور کم ہمت لوگ خود کو محفوظ حصاروں ہی میں قید رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں، دشمنوں کا خوف انہیں آزادانہ طور پر نقل وحرکت کرنے سے باز رکھتا ہے، چاندنی رات تھی، وہ قلعہ کے اندر کھلی فضا میں چاندنی رات کے دل لبھانے والے مناظر سے لطف اندوز ہورہا تھا، یکایک اس کی نگاہ قلعہ کے دروازہ پر کھڑی نیل گائے پر پڑتی ہے، وہ اس کے شکار کے لیے گھوڑے پر سوار ہوکر اپنے چند اہل خانہ کے ساتھ قلعہ سے باہر نکلتاہے، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی عقابی نگاہیں اس کا پیچھا کرتی ہیں اور جوں ہی موقع ملتا ہے اسلامی مجاہدین کا یہ چھوٹا سا گروہ انہیں گھیر لیتا ہے، اکیدر بن عبدالمالک کا بھائی مزاحمت کرتاہے اورخود سپردگی سے انکار کردیتا ہے، چناں چہ اس دشمن خدا کو بغیر کسی جھجک کے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، اکیدر بن عبدالمالک کو پابہ زنجیر کرکے یہ کارواں فاتحانہ شان و شوکت کے ساتھ مدینہ منورہ واپس ہوتا ہے، حاکم اکیدر بن عبدالمالک جوں ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا مرعوب اور خوف زدہ ہوکر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگا، آپ نے اسے ہاتھ کے اشارہ سے سجدہ کرنے سے منع فرمایا، پھر آپ نے جزیہ کی ادا کرنے کی شرط پر اسے اور اس کے اہل خانہ کو جان کی امان دے دی اور وہ تشکر آمیز جذبات سے معمور ہوکر اپنے قلعہ لوٹ گیا۔

حضرت خالدبن ولید کا انتقال
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو وہ رونے لگے اور فرمایا کہ اتنی اتنی (یعنی بہت زیادہ )جنگوں میں شریک ہوا ہوں اور میرے جسم میں بالشت بھر جگہ ایسی نہیں ہوگی جس میں تلوار یا نیزے یا تیر کا زخم نہ ہواور دیکھو اب میں اپنے بستر پر ایسے مر رہا ہوں جیسے کہ اونٹ مرا کرتا ہے، یعنی مجھے شہادت کی موت نصیب نہ ہوئی۔ اللہ کرے بزدلوں کی آنکھوں میں کبھی نیند نہ آئے۔