بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اصلاح باطن کی فکر کیجیے!

اصلاح باطن کی فکر کیجیے!

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله خان ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب زید مجدہ نے محترم جناب شاہ عبدالله فیروز میمن صاحب دامت برکاتہم کی درخواست پر ان کی قائم کردہ خانقاہ”غرفة السالکین“ میں اصلاح باطن کی اہمیت کے موضوع پر بیان فرمایا۔افادہ کی غرض سے ” الفاروق“ کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلا ھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد: فأعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم․

﴿فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَرَہ،وَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَرَہُ ﴾․ (سورة الزلزال، آیة:8-7)

وقال رسول الله صلی الله علیہ وسلم:”بدأ الإسلام غریباً وسیعود کما بدأ، فطوبی للغرباء․“ (الجامع الصحیح لمسلم، باب بیان أن الإسلام بدأ غریبا وسیعود غریبا، رقم:145)

صدق الله مولانا العظیم وصدق رسولہ النبي الکریم․

آج حضرت والا کی خدمت میں یہ حاضری میری سعادتوں میں ایک بڑی سعادت ہے اور میر ے لیے بہت ہی خوشی کا موقع ہے، اگرچہ کہ آج ظہر سے عصر کے درمیان ہی یہاں آنے کی ترتیب بنی اور خیال تو مستقل رہتا ہے، بار بار آتا ہے کہ حاضری دی جائے، لیکن غفلت بھی کہہ لیجیے، سستی بھی کہہ لیجیے، نفس اور شیطان کا اغوا بھی کہہ لیجیے کہ موقع نہیں ملتا، اپنے بزرگوں سے ایک بات سنی ہے کہ نیکی کا خیال الله تعالیٰ کا مہمان ہوتا ہے اور الله والے فرماتے ہیں کہ فوراً اس کی مہمانی کر دو ور نہ وہ چلا جائے گا۔

مہمان آتا ہے تو کیا کرتے ہیں؟ مہمانی کرتے ہیں تو الله والے کہتے ہیں کہ نیکی کا خیال الله کا بھیجا ہوا مہمان ہے، اس کی فوراً ضیافت کرو ، مہمانی کرو اور اگر اس کی ضیافت اورمہمانی نہیں کی تو وہ چلا جائے گا تو میں نے سوچا کہ مہمان آگیا ہے فوراً ضیافت کر دینی چاہیے اور فوراً حاضری دے دینی چاہیے، آج حالاں کہ مغرب کی نماز کے بعد ہمارے ہاں جامعہ کے اساتذہ کا ایک مشورہ تھا، پہلے سے مقرر تھااور اس کے بعد والے دنوں میں بھی اسی طرح کے کچھ مسائل تھے،لہٰذا میں نے فوراً حضرت سے حامی بھرلی اور دفتر میں اطلاع کر دی کہ مشورہ مؤخر کر دیں میں حاضر ہو گیا،الله رب العزت نے یہ توفیق عنایت فرما دی۔

بہرحال یہاں آمد کا مقصد صرف یہ ہے کہ حضرت والا کی زیارت ہو، حضرت کے متعلقین کی زیارت ہو، یہاں پر جو الله کا نام لیا جاتا ہے اور الله کی معرفت کے لیے جو سعی اور کوشش ہوتی ہے اس میں آکر اس سے جتنا بھی الله تعالیٰ موقع عنایت فرما دیں فیض حاصل کیا جائے۔

آپ حضرات نے یقینا سنا ہو گا کہ امت مسلمہ کیاعمر ہے، ہم جو تاریخ لکھتے ہیں وہ 1444ھ لکھتے ہیں، تو1444ھ تو متعین ہے، اس سے تھوڑی سی زیادہ، اس میں مختلف احوال امت پر آئے ہیں، ایک حال ایسا بھی آیا ہے کہ الله کا نام سیکھنے کے لیے بہت بڑی بڑی مسافتیں طے کی جاتی تھیں، لوگ سفر کرتے تھے اور وہ زمانہ موٹروں اور گاڑیوں کا نہیں تھا، پیدل سفر کرتے تھے، جن کے پاس کچھ گنجائش ہوتی تھی وہ چوپائیوں پر سفر کرتے تھے اور طویل طویل سفر کرکے الله والوں کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور الله والوں کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے یہ درخواست کرتے تھے کہ الله کا نام سکھا دیں، وہاں کوئی سال بھر رہتا تھا، کوئی دو سال رہتا تھا، کوئی پانچ سال رہتا تھا، کوئی دس سال رہتا تھا اور الله والے آنے والوں کو جو نوعیتیں ہوتی تھیں اس اعتبار سے ان کی خدمت کرتے تھے اور ان کی خدمت سے مراد ان کو الله کا نام سکھانے کے لیے جو چیز الله تعالیٰ ان کے دل میں ڈالتے تھے تو اس اعتبار سے وہ ان کی راہ نمائی کرتے تھے، مثلاً کسی کے بارے میں ان کو یہ محسوس ہوا کہ اس کے اندر کبر ہے تو اب ظاہر ہے کہ کبر تو بہت خوف ناک چیز ہے، وہ جب تک ختم نہیں ہو گا تو الله کا نام کیسے آئے گا ، اب کبر کو ختم کرنے کے لیے انہوں نے اس آنے والے کے ذمے خدمت لگا دی کہ خانقاہ میں جو پانی گرم ہوتا ہے اس کی لکڑیاں اکٹھی کرنا تمہارا کام ہے، اب وہ جنگل جارہا ہے، لکڑیاں اکٹھی کر رہا ہے ، ان کو لا رہا ہے اور لکڑیاں جلا رہا ہے، کسی کے ذمے یہ کام لگا دیا کہ آپ کو بیت الخلاؤں کی صفائی کرنی ہے اور چوں کہ آنے والے مخلص ہوتے تھے، وہ خوب اچھی طرح سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے فائدے کے لیے ہے، وہ ان خدمتوں کو انجام دیتے تھے او راس کے نتیجے میں ان کے رذائل ختم ہوتے رہتے تھے۔

اورالله تعالیٰ ان کے دلوں میں اپنی معرفت پیدا فرما دیتے تھے، الله تعالیٰ ان کے دلوں میں اپنا تقرب پیدا فرما دیتے تھے، یہ جو خانقاہ ہے ،یہ اصل میں کار گاہ ہے اور یہ اصل میں انسانوں کو بنانے کی ایک فیکٹری ہے، کارخانہ ہے، آپ نے تو کپڑے کے کارخانے دیکھے ہوں گے، پلاسٹک کے کارخانے دیکھے ہوں گے، لوہے کے کارخانے دیکھے ہوں گے او ربہت سی چیزوں کے کارخانے آج دنیا میں ہیں، لیکن ایسا کارخانہ جہاں انسان بنایا جائے، یہ ان جگہوں پر ہوتا ہے، انسان کو انسان بنانا یہ بہت بڑی محنت ہے اور یہ انبیائے کرام علیہم السلام کی محنت ہے اور بطور خاص آپ صلی الله علیہ وسلمکی محنت ہے، آپ امام الانبیاء ہیں، آپ سید الرسل ہیں، آپ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر کا مصداق ہیں، آپ نے جو انسانوں پر محنت فرمائی، اس کی کوئی نظیر نہ پہلے اس دنیا میں ہوئی اور نہ قیامت تک آسکتی ہے، اس کارخانے میں کون بنا؟ اس میں حضرت صدیق اکبر رضی الله عنہ بنے، اس کارخانے میں فاروق اعظم رضی الله عنہبنے، اس میں حضرت عثمان ذوالنورین رضی الله عنہ بنے ہیں، اس میں حضرت علی المرتضیٰ رضی الله عنہبنے ہیں، اس میں صحابہ کرام کی بڑی جماعت بنی ہے اور یہ یاد رکھیں میں اس کا اہل نہیں ہوں اور یہ بات کہتے ہوئے مجھے ڈر بھی لگتا ہے، لیکن بات اہم ہے اور ہم حضرت والد صاحب نوّرالله مرقدہ سے بار بار سنتے تھے، وہ اساتذہ کی مجالس میں یہ بات فرمایا کرتے تھے کہ سنجیدہ ہو جاؤ، ہم سنجیدہ نہیں ہیں، مدرسے میں پڑھ رہے ہیں پڑھتے پڑھتے دس سال ہو گئے، سنجیدگی نہیں، ہم خانقاہ میں ہیں، برسوں گزر گئے سنجیدہ نہیں ہیں، یہاں رہنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا روزانہ ہم اپنا احتساب کر رہے ہیں؟ کیا روزانہ ہم اپنا جائزہ لے رہے ہیں؟

آپ صلی الله علیہ وسلم کی جو خانقاہ تھی، وہاں جو افراد تیار ہو رہے تھے، سبحان الله۔ حضرت عثمان ذوالنورین رضی الله عنہ کو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنا سفیر بنا کر مکہ بھیجا، صلح حدیبیہ کے موقع پر، پہلے آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت فاروق اعظم سے کہا تھا کہ اے عمر! تم جاؤ، تو حضرت فاروق اعظم نے عرض کیا اے الله کے رسول! آپ جانتے ہیں مکہ والوں کو مجھ سے کتنا بغض ہے کتنا عناد ہے او راس کے علاوہ میرے وہاں کوئی عزیزو رشتہ دار بھی نہیں ہیں، میری رائے ہے کہ آپ عثمان کوبھیجیں، اس لیے کہ حضرت عثمان کا وہاں کے بڑوں سے احترام کا تعلق بھی ہے اور وہاں ان کے عزیز واقارب بھی ہیں، تو ان کا جانا مفید ہو گا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت فاروق اعظم کی اس رائے کو پسند فرمایا، فرمایا ٹھیک ہے۔

اور یہ بھی یاد رکھیں کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ ذوالنورین ہیں، کیوں کہ اس کائنات میں حضرت عثمان و احد آدمی ہیں جن کے عقد میں ایک نبی کی دو بیٹیاں آئی ہیں، اس کائنات میں کوئی ان کی مثال اورنظیر نہیں، اس لیے ان کو ذوالنورین کہتے ہیں۔

اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عثمان کی دوسری بیوی کے انتقال پر جو آپ صلی الله علیہ وسلم کی صاحب زادی تھیں، فرمایا:کہ اگر میری تیسری بیٹی ہوتی تو اسے بھی عثمان کے عقد میں دے دیتا.”عن عصمة قال: لما ماتت بنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم التی تحت عثمان قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: زوجوا عثمان، لو کان لي ثالثة لزوجتہ، وما زوجتہ إلا بالوحي من الله عزوجل․“

یعنی جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی صاحب زادی کا انتقال ہو گیا، جو حضرت عثمان کے نکاح میں تھیں تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ آپ لوگ عثمان کا نکاح کر دیں، اگر میری کوئی تیسری بیٹی ہوتی، تو میں اس کا نکاح بھی عثمان ہی سے کر دیتا اور میں نے اپنی بیٹیوں کا نکاح عثمان سے وحی کے ذریعہ ملے ہوئے الله تعالیٰ کے حکم ہی سے کیا تھا۔ (المعجم الکبیر للطبراني، رقم الحدیث:490)

اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی الله عنہ سے فرمایا:”لو أن عندي عشراً لزوجتکھن واحدة بعد واحدة، فإني عنک راض․“

اگر میری دس بیٹیاں ہوتیں تو میں ان میں سے ایک کے بعد ایک کا (سب کا) تم سے نکاح کردیتا، کیوں کہ میں تم سے بہت راضی اورخوش ہوں۔(المعجم الأوسط للطبراني، رقم الحدیث:6116)

تو حضرت عثمان تشریف لے گئے، وہاں ابان بن سعید مکہ کے سردار تھے، ان کے ہاں رات کو قیام کیا، انہوں نے حضرت عثمان کو اپنے امان اوراپنی پناہ میں لیا، صبح کو حضرت عثمان رضی الله عنہ ملاقات کے لیے، مذاکرات کے لیے جب جانے لگے تو ان کی ازار نصف ساق آدھی پنڈلی تک تھی، ابان بن سعید نے کہا کہ اے عثمان! مکہ والے یہ اونچی شلوار اونچی ازار پسند نہیں کرتے، تم سفیر ہو اور تم مذاکرات کے لیے جارہے ہو اورجنگ سامنے نظر آرہی ہے تم آپنی ازار ذرا نیچے کر لو، تاکہ ان لوگوں کو برا نہ لگے، حضرت عثمان رضی الله عنہ نے فرمایا کہ یہ گردن توکٹ سکتی ہے، لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم کی سنت کو میں ترک نہیں کرسکتا۔(سیرت ابن ہشام: 3/329) یہ ہے خانقاہ، آج تو ہم معمولی معمولی بہانوں سے بیوی کو اچھا نہیں لگے گا، دوستوں کو اچھا نہیں لگے گا، معاشرے کو اچھا نہیں لگے گا، ہم داڑھی کیوں نہیں رکھتے، کیا وجہ ہے؟ اسی لیے نہیں رکھتے۔ سب جانتے ہیں کہ داڑھی نہ صرف رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی سنت ہے، بلکہ واجب کے درجے میں ہے۔ لیکن داڑھی نہیں رکھتے، اس لیے کہ بیوی کو اچھا نہیں لگے گا، بچوں کو اچھا نہیں لگے گا، معاشرے کو اچھا نہیں لگے گا۔ دنیا کو اچھا نہیں لگے گا، یہ نہیں سوچا کہ الله کو اور الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کو ہم روزانہ، ہر ہر لمحے کتنی اذیت پہنچارہے ہیں، تکلیف پہنچا رہے ہیں، تو ہم سنجیدہ نہیں ہیں، ہمارے والد صاحب نوّرالله مرقدہ فرماتے تھے، سنجیدہ ہو جاؤ، ہم یہاں کیوں ہیں؟ کیا مقصد ہے؟ کیا ہم روزانہ اپنی اصلاح کے حوالے سے ترقی کر رہے ہیں، کبھی گردن جھکا کر یہ جائزہ لیا ہے اپنا کہ میرا حال کیا تھا او راب کیا ہے؟ میں آگے بڑھ رہا ہوں یا میں پیچھے کی طرف جارہا ہوں؟!

یہ تو الله رب العزت ستارہیں، الله نے ستاری فرمائی ہوئی ہے، میں نے ٹوپی پہنی ہوئی ہے، میں نے داڑھی رکھی ہوئی ہے، میں نے کرتا پہنا ہوا ہے، میں نے شلوار پہنی ہوئی ہے ، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی بڑا الله والا ہے۔ پتہ نہیں اندر کتنا بڑا بھیڑیا موجو دہے، اندر کا حال بندہ خود جانتا ہے، لوگ تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ چوں کہ ہماری فلاں اور فلاں سے نسبت ہے تو ہم ایسے ہیں اور ویسے ہیں، میرے دوستو! سنجیدگی اختیار کیجیے اور اس کی کوشش کیجیے کہ جو اندرونی بیماریاں ہیں، جو باطنی بیماریاں ہیں اور جو خوف ناک ہیں، آپ ہمیشہ یاد رکھیں کہ آدمی دو چیزوں کا مرکب ہے، ایک جسم ہے اور ایک آدمی کی روح ہے، آپ مجھے بتائیے کہ بغیر روح کے آدمی آدمی ہے؟ نہیں، فون آتا ہے بیٹے کے پاس کہ جلد گھر پہنچیں، ابا جان کی طبیعت خراب ہے، وہ بے چارہ بھاگتا دوڑتا گھر پہنچتا ہے ، دروازے پر پہنچتا ہے، لوگ جمع ہیں اور کوئی اس کے کان میں کہتا ہے کہ آپ کے ابو کا انتقال ہو گیا ہے، وہ بے چارہ روتا دھوتا اند رجاتا ہے، دیکھتا ہے ابا جان چارپائی پر لیٹے ہوئے ہیں تو وہ لوگوں سے کہتا ہے کہ ان کا انتقال کہاں ہوا ؟وہ تولیٹے ہوئے ہیں، سر بھی ہے، آنکھیں بھی ہیں، چہرہ بھی ہے، سینہ بھی ہے، ٹانگیں بھی ہیں، سب کچھ ہے تو کوئی عقل مند آدمی اس کے کان میں کہتا ہے کہ بیٹا! آپ کے ابا جان کی روح پرواز کر گئی، یہ تو تھوڑی دیر بعد گلنا سڑنا شروع ہو جائے گا تو جسم کی کوئی حیثیت نہیں ،جسم تو اس روح کے اوپر سواری کر رہا ہے، اصل سواری تو روح ہے۔

آج ہم سب جو کچھ کر رہے ہیں، جسم کے لیے کر رہے ہیں اور اتنا زیادہ کر رہے ہیں، اختصاص ہے، اسپیشلائزیشن ہے، ایک ایک چیز، کسی نے کہا کہ مولانا! آپ کے ہاتھ میں جوناخن ہیں ان میں کچھ نشان مجھے نظر آرہے ہیں، آپ کو اس کے اسپیشلسٹ کو دکھانا چاہیے، میں نے کہا اس کے بھی اسپیشلسٹ ہیں؟ کہا ہاں! اس کے بھی اسپیشلسٹ ہیں۔

کسی نے داڑھی کے بال دیکھے، کہا آپ کی داڑھی کے بالوں کی شاخیں ہو رہی ہیں ، آپ اس کے اسپیشلسٹ کو دکھائیں ، اس کے بھی اسپیشلسٹ ہیں، یہ جسم ہے، اتنی محنت ہے، اس وقت دنیا میں جو یہ ساری بھاگ دوڑ ہے، یہ ساری جسم کے لیے ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ یہ جسم تو مر جائے گا، ختم ہو جائے گا۔

دنیا کے تمام مذاہب اس پر متفق ہیں، کوئی ایسا نہیں جو اختلاف کرے کہ مرنا نہیں ہے #
کرلے جو کرنا ہے آخرت موت ہے

موت آئے گی اور یہ جسم ختم ہو جائے گا ،چاہے کیسا ہی طاقت ور جسم ہو، چاہے کیساہی صحت مند جسم ہو اور چاہے کیسا ہی کم زور جسم ہو، جو بھی ہو، بچے کا ہو ،جوان کا ہو، بوڑھے کا ہو، مرد کا ہو، عورت کا ہو، جس کا بھی ہو مرے گا اور ساری محنت اس جسم پر ہے، لیکن جو اصل چیز ہے روح۔

یسئلونک عن الروح قل الروح من أمر ربي

یہ جو روح ہے یہ الله کا امر ہے، یہ روح اس سے نکل گئی ختم اورجیسے جسم کی بیماریاں ہیں، بخا رہے، نزلہ ہے، کھانسی ہے، ملیریا ہے، دل کی بیماریاں، جگر کی بیماریاں اور نامعلوم کیا کیا بیماریاں اور ابھی میں نے عرض کیا کہ اختصاص ہے، ہر چیز کا، آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں او رکہیں مجھے بخار ہے وہ کہے گا، معاف کیجیے گا میں بخار کا ڈاکٹر نہیں ہوں، میں تو دل کا ڈاکٹر ہوں، کسی بخار والے کے پاس جائیں۔

لیکن میرے دوستو! روح کی جو بیماریاں ہیں، ہم نہ روح سے واقف ہیں اور نہ روح کی بیماریوں سے واقف ہیں، بہت بڑا المیہ ہے، روح کی بیماریاں، ریا ہے، عجب ہے، سمعہ ہے ،تکبر ہے، حسد ہے، بدنظری ہے، بخل ہے، یہ سب روح کی بیماریاں ہیں، لیکن یہ ساری باتیں جو روح والی ہیں یہ ساری اجنبی بن گئی ہیں، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ،حالاں کہ سب سے اہم یہ ہیں ،الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے، صحابہ کرام رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین پر اس کی محنت کی، اس کا نتیجہ کیا نکلا کہ جو اصل تھی، حقیقت تھی، وہ حقیقت شناس بن گئے۔

ہم یہاں اسی لیے جمع ہیں، ہم سیکھ نہیں رہے، ہم سیکھیں، الله کا قرب حاصل کریں، الله سے مناجات کریں اور مناجات کسے کہتے ہیں؟ مناجات سرگوشی کو کہتے ہیں، چپکے چپکے آہستہ آہستہ الله تعالیٰ سے سرگوشی کرنا، اے الله! میں آپ کا بننا چاہتا ہوں، اپنا بنا دیں، اپنا قرب عطا فرما دیں۔ اس سے کیا ہوتا ہے؟ الله تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے او رجب الله تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے تو پھر الله تعالیٰ کے انعامات، ساری کائنات، یہ بنائی ہی الله نے آپ کے لیے ہے، یہ سب کچھ آپ کے لیے ہے ۔

میرے دوستو! ہم یہاں رہ کر اسے سیکھیں ،الله کی مدد آئے گی، الله کی مدد انفرادی بھی آتی ہے، اجتماعی بھی آتی ہے، آج ہمارے مدارس پورے خطے میں پھیلے ہوئے ہیں،کوئی سوچ سکتا ہے آج؟ ایک آدمی جو چار بچوں کی کفالت کر رہا ہے، وہ پاگل ہو گیا ہے، چیخ رہا ہے مہنگائی، مہنگائی اور واقعہ یہی ہے ،لیکن ایک ایک ہمارے ادارے میں دو دو ہزار ڈھائی ڈھائی ہزار دو وقت، تین تین وقت کھانا کھا رہے ہیں، ان کے بجلی کے بل، ان کے گیس کے بل، ان کے اساتذہ کی تنخواہیں، ان کے اوپر اخراجات، چار آدمیوں کا کنبہ پالنا آج عذاب بنا ہوا ہے، اور یہ سب کچھ الله تعالیٰ پوراکررہے ہیں۔

میں تو ساتھیوں سے کہتا ہوں کہ ایک تو ہوتا ہے علم الیقین اور ایک اس سے اوپر ہوتا ہے عین الیقین، ہم تو یہاں جامعہ فاروقیہ میں عین الیقین دیکھ رہے ہیں، کون کر رہا ہے؟

آپ کو معلوم ہے جامعہ فاروقیہ کہاں ہے؟ لوگ کہتے ہیں شاہ فیصل ٹاؤن میں، میں کہتا ہوں ناتھ خان گوٹھ میں ہے۔
یہ دارالعلوم کراچی، یہ جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن، یہ پورے ملک میں پھیلے مدارس یہ کون چلا رہا ہے؟ یہ صرف اور صرف الله چلا رہا ہے، میں طلباء سے کہتا ہوں ایک منٹ میں ساٹھ سیکنڈ ہوتے ہیں، ہم ایک منٹ تو بہت دور کی بات ہے، ایک سیکنڈ کا بھی ذمہ نہیں لے سکتے، ممکن نہیں ہے ،یہ خالص اور صرف الله تعالیٰ کی مدد ہے، یہ آج کی بات ہے، دو سو سال، چار سو سال پہلے کی بات نہیں ہے۔

اور طلبا، اساتذہ اور آپ حضرات جس اطمینان قلب کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اس چار دیواری کے باہر اس کا تصور نہیں ہے، آگ لگی ہوئی ہے، شیطان ناچ رہا ہے، گھر گھر آگ لگی ہوئی ہے، گھر گھر تباہی ہے، اور الحمدلله ثم الحمدلله یہ الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کا فیضان ہے، یہ ان کی مدد اور نصرت ہے، ا لله تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَرَہ،وَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَرَہُ﴾ جو آدمی ذرے کے وزن کے برابر عمل کرے، ذرہ، بعض حضرات نے فرمایا کہ رائی کے دانے کے چالیس حصے کیے جائیں، چالیسواں حصہ ذرہ ہے، بعض فرماتے ہیں ، آپ نے بھی دیکھا ہوگا پہلے زمانے میں گھروں کی چھتیں ہوتی تھیں ٹین کی، ہم لوگ مکتب میں پڑھتے تھے، گھڑی وغیرہ ہوتی نہیں تھی، ٹین کی چھت میں سوراخ ہوتا تھا، اس سوراخ سے دھوپ آتی تھی، تو ہمیں پتہ ہوتا تھا کہ یہ نشان فلاں جگہ پہنچے گا تو چھٹی ہو جائے گی، تو وہ جو سوراخ ہوتا تھا اس میں سے جو دھوپ آتی تھی باریک سی لکیر دھوپ کی آتی ہے، وہ جو دھوپ کی لکیر ہوتی ہے اس میں کچھ ذرات اڑ رہے ہوتے ہیں، تو بعض علماء کہتے ہیں کہ ذرہ اسے کہتے ہیں، وہ اتنا بے وزن ہوتا ہے کہ اس کے اندر اڑ رہا ہوتا ہے تو جو کوئی ذرے کے وزن کے برابر بھی خیر کرے، اس کا انجام بھی وہ دیکھے گا، یعنی اس کا فائدہ اس دنیا میں بھی ملے گا اور آخرت میں بھی اور اسی طرح اس ذرے کے وزن کے برابر اگر کوئی بدی کرے گا، سیئہ کرے گا تو یہ نہ سمجھے کہ اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا، نہیں اس کا اثر ہوتا ہے دل جو اس جسم کا بادشاہ ہے، جیسے ہی سیئہ او رگناہ ہوا ،خواہ وہ آنکھ سے ہوا، خواہ وہ زبان سے ہوا، خواہ وہ ہاتھ سے ہوا ،جیسے بھی ہوا، جیسے ہی سیئہ ہوا فوراً دل پر ایک سیا ہ نکتہ لگ جاتا ہے اورمسلسل سیئات ہو رہے ہیں تو قلب کالا ہورہاہے اور ایک وقت آتا ہے جب پورا قلب کالا اور سیاہ ہو جاتا ہے اور پھربے حس ہو جاتا ہے،جیسا آج کل صورت حال ہے کہ مسجد کے برابر سے گزر رہے ہیں، الله اکبر الله اکبر اذان ہور ہی ہے، کان بند، حس ختم ہو گئی، گناہوں کی کثرت کی وجہ سے وہ حس ختم ہو گئی۔ او ربھائی! آخری بات یاد رکھیں ،کبھی بھی مایوس نہ ہوں، گناہ تو انسان ہی سے ہوں گے، لیکن الله تعالیٰ بڑے رحیم ہیں، بڑے کریم ہیں، بڑے رحمن ہیں، بڑے غفار ہیں، بڑے حنان ہیں، بڑے ودود ہیں، اس کی مہربانی اتنی عجیب ہے کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔

عرش پر الله نے لکھا ہے وسعت رحمتي علی غضبي
میری رحمت نے میرے غضب کو ڈھانپ رکھا ہے۔

عن أبي ھریرة رضي الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: لما قضی الله الخلق کتب في کتابہ فھو عندہ فوق العرش: إن رحمتي غلبت غضبي․(الجامع الصحیح للبخاري، کتاب بدء الخلق، رقم الحدیث:3194)

چناں چہ اس دنیا میں جرائم ہوتے ہیں، حکومتیں ہوتی ہیں، عدالتیں ہوتی ہیں، کسی نے قتل کیا، جرم ثابت ہو گیا، چودہ سال قید بامشقت ہوگئی، قید گزار لی، جب قید گزار لی تو جرم صاف ہو گیا، جرم کی سزا مل گئی، اب وہ جیل سے باہر آگیا، لیکن یہ جو قاتل ہے، جس نے 14 سال کی بامشقت سزا گزا رلی ہے، تھانے میں اس کی فائل رکھی ہوتی ہے، جب علاقے میں کوئی قتل ہو گا، فوراً وہ ساری فائلیں نکالی جاتی ہیں، سب کو بلاؤ ،وہ فائل ختم نہیں ہوتی۔
لیکن الله تعالیٰ کا نظام دیکھیں! وہ کیسے رحمن ہیں، رحیم ہیں، اگر آپ کی آنکھوں سے دو آنسو ندامت اور شرمندگی کے نکل گئے اور آپ نے کہا کہ اے الله! میں توبہ کرتا ہوں، تمام گناہ ایسے معاف جیسے آپ ابھی ماں کے پیٹ سے نکل کر آئے ہیں، آپ کی کوئی فائل نہیں ہے۔ الله کے ہاں سب معاف ۔

میرے دوستو! اپنے گناہوں کا اعتراف کریں۔ پیدائش سے لے کر آج تک جتنے گناہ کیے ہیں، چاہے وہ الله تعالیٰ کے حقوق سے متعلق ہوں، چاہے وہ الله تعالیٰ کی مخلوق سے متعلق ہوں، اے الله! میں سب کا اعتراف کرتا ہوں، اے الله! یہ جو مجھ سے گناہ ہوئے میری غفلت سے ہوئے، اے الله !مجھے معاف فرما، اے الله! میں ضعیف ہوں، کم زور ہوں، اے الله! میری توبہ قبول فرما، تمام گناہ معاف۔ تو بھائی! آپ ایسے کارخانے اور ایسی جگہ میں ہیں۔ جی ہاں! دن رات یہی کرنا ہے، دن رات اسی حوالے سے آگے بڑھنا اورترقی کرنا ہے، اگر ہم سنجیدہ ہو کر اس وقت کو قیمتی بنا لیں گے تو میرے دوستو! الله تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو جائے گی، الله تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جائے گا، الله تعالیٰ مجھے بھی اور آپ سب کو بھی اس کی توفیق عنایت فرمائیں۔