بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اذان کی مشروعیت اور مؤذن کی فضیلت

اذان کی مشروعیت اور مؤذن کی فضیلت

محترم رضوان الله پشاوری

دین اسلام میں جس طرح نماز کو اہمیت حاصل ہے تو بالکل اسی طرح اذان بھی ہے جو کہ اسلام کے اہم ستون نماز کی طرف بلاوے کاذریعہ ہے ،ابن عمیر بن انس اپنے ایک انصاری چچا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مسئلہ درپیش آیا کہ لوگوں کو نماز کے لیے کیسے جمع کیا جائے ؟ کسی نے کہا کہ نماز کا وقت ہونے پر جھنڈا نصب کر دیا جائے ،جب وہ اسے دیکھیں گے تو ایک دوسرے کو بتا دیں گے ، لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ طریقہ پسند نہ آیا۔زیاد کہتے ہیں کہ یہودیوں والے بگل کاذکر ہوا، چناں چہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی پسند نہ آیااور فرمایا یہ تو یہودیوں کا طریقہ ہے ۔پھر ناقوس کا ذکر ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو عیسائیوں کا طریقہ ہے ۔چناں چہ عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ وہاں سے نکلے تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی معاملہ کی فکر کھائے جارہی تھی اور وہ اسی سوچ میں غرق تھے ، چناں چہ انہیں خواب میں اذان دکھائی گئی،جب وہ صبح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہیں اپنا خواب بیان کرتے ہوئے کہنے لگے:میں اپنی نیند اور بیداری کے درمیان والی حالت میں تھا کہ ایک شخص آیا اور مجھے اذان سکھائی ۔اس سے قبل حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی یہ خواب دیکھ چکے تھے، لیکن انہوں نے اسے بیس روز تک چھپائے رکھا اور بیان نہ کیا، پھر انہوں نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپناخواب بیان کیا، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے:تمہیں خواب بیان کرنے سے کس چیز نے منع کیا تھا؟ توانہوں نے جواب دیا عبد اللہ بن زید مجھ سے سبقت لے گئے تو میں نے بیان کرنے سے شرم محسوس کی، چناں چہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بلال اٹھو اور دیکھو! تمہیں عبداللہ بن زید کیاکہتے ہیں، تم بھی اسی طرح کرو، چناں چہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے اذان کہی۔(سنن ابو داود)سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اذان اور پہلی صف کی کیا فضیلت ہے تو پھر ان (لوگوں)کے لیے قرعہ اندازی کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہے تو یقیناوہ قرعہ اندازی (بھی)کریں اور اگر انہیں معلوم ہوجائے کہ عشاء اور فجر کی نماز کی کتنی فضیلت ہے تو ان دونوں نمازوں میں ضرور حاضر ہوں، اگرچہ انہیں گھسٹ کر آنا پڑے۔(متفق علیہ)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب اذان ہوتی ہے تو شیطان پیٹھ موڑ کے گوزمارتا ہوا بھاگ جاتا ہے، تاکہ اذان نہ سن سکے اور اذان کے بعد پھر لوٹ آتا ہے اورجب تکبیر(اقامت )کہی جاتی ہے تو پھر بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور تکبیر (اقامت) کے بعد پھر واپس آجاتا ہے اور آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور اس کو وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو نماز سے پہلے اس شخص کے خیال میں بھی نہ تھیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نمازی کو یاد ہی نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں۔ (بخاری)

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اذان سن کر یہ کہے:اے اللہ!اے اس دعوت کامل اور قائم کی جانے والی نماز کے رب!محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اس مقام محمود پر فائز کر جس کا تونے ان سے وعدہ کررکھا ہے ،تو قیامت کے دن میری شفاعت اس کے لیے حلال ہوجائے گی۔(بخاری)

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :قیامت کے دن موذنوں کی گردنیں سب سے درازہوں گی۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ جس جگہ تک موذن کی آواز پہنچتی ہے ، اس دائرہ کے اندر جن وانس یاجتنی چیزیں بھی ہوتی ہیں وہ سب کی سب قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کے اتنے گناہوں کو بخش دیتا ہے جو اس دائرہ کے اندر سما سکیں۔ (حجة اللہ البالغہ)سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے ہی دشمنوں پر حملہ کرتے تھے اور اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے،اگر(مخالفوں کے شہر سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کی آواز سنائی دیتی، تو ان پر حملہ نہ کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایک شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے سنا تو فرمایا کہ یہ مسلمان ہے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے: ”اشہد ان لا الٰہ الا الله، اشہد ان لا الٰہ الا الله“کہتے سنا تو ارشاد فرمایا کہ اے شخص! تو نے دوزخ سے نجات پائی۔ لوگوں نے دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا۔(صحیح بخاری)

ایک روایت میں ہے کہ: مؤذن کو شہید فی سبیل اللہ کی طرح ثواب ملتا ہے اور دفن کے بعد اس کا جسم کیڑوں کی غذا نہیں بنتا ۔(الترغیب والترہیب)یہی وجہ تھی کہ حضرات صحابہ کرام یہ تمنا فرماتے تھے کہ کاش! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور ان کے اہل خاندان کو اذان دینے پر مامور کیا ہوتا، تاکہ وہ بھی ان بشارتوں کے مستحق ہوسکیں(مجمع الزوائد) چناں چہ حضرت سعد بن وقاص فرمایا کرتے تھے :مجھے پابندی سے اذان دینے پر قدرت حاصل ہونا ، حج وعمرہ اور جہاد سے زیادہ پسند ہے،اسی طرح کا قول حضرت عبد اللہ بن مسعود سے بھی منقول ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ) اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ (آمین بجاہ سید المرسلین)