بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور معاشرے کی ترقی

اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور معاشرے کی ترقی

مولانا عبدالمتین

﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ فِیکُمْ رَسُولَ اللَّہِ لَوْ یُطِیعُکُمْ فِی کَثِیرٍ مِّنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَٰکِنَّ اللَّہَ حَبَّبَ إِلَیْکُمُ الْإِیمَانَ وَزَیَّنَہُ فِی قُلُوبِکُمْ وَکَرَّہَ إِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ أُولَٰئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُونَ ،فَضْلًا مِّنَ اللَّہِ وَنِعْمَةً وَاللَّہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ﴾․ (حجرات:7-8)
مذکورہ آیات کا عنوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع ہے۔

آیات مبارکہ میں آپ علیہ السلام سے اپنی رائے کا اظہار کرنے والوں کو اس بات کی تلقین کی جارہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ السلام کو تم اگرچہ بہت سے معاملات میں مشورہ دیتے ہو جوکہ مناسب بات ہے اور بعض اوقات نبی علیہ السلام خود بھی آپ سے مشاورت کرتے رہتے ہیں، لیکن یہاں یہ فرمادیا کہ یہ سلسلہ مشاورت تک محدود رہے، اس سے آگے اس بات کی اجازت نہیں کہ آپ علیہ السلام سے اپنی رائے پر اصرار کیا جائے۔

رسول اللہ علیہ السلام اور آسمانی تعلقات
اس اصرار نہ کرنے کی وجہ آیت میں ہی ذکر فرمادی کہ
﴿أَنَّ فِیکُمْ رَسُولَ اللَّہِ﴾ یعنی تمہارے بیچ اللہ کے رسول موجود ہیں اور یہاں آپ علیہ السلام کا مقام و منصب ”اللہ کا رسول“ہونا بیان فرمایا، جس سے اشارہ فرمادیا کہ اللہ کے رسول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا تعلق براہِ راست رب العالمین اور آسمانی دنیا سے رہتا ہے اور وہاں سے مسلسل ان پر وحی کا نازل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ راہ نمائی کا مرکز نہایت مستند اور شفاف ہے، جس میں کسی غلطی اور خطا کا امکان بھی غلط ہے۔

جب کہ تمہاری رائے اپنی جگہ بہت مبارک اور نیک نیتی کے جذبات سے کتنی ہی معمور کیوں نہ ہو، لیکن اس میں خطا کا امکان بہرحال ہوتا ہے اور اگر ایسی کسی رائے پر عمل کیا بھی جائے تو اس کا خمیازہ تمہیں خودبھگتنا پڑے گا۔
لہٰذا بہتر یہ ہے کہ تمہارے بیچ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک شخصیت موجود ہے تم ان پر مکمل اعتماد کرو اور سر تسلیم خم کی مانند مکمل پیروی کرو ۔ اس رویے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ تم کسی بھی غلط فیصلے اورغلط نتیجے سے محفوظ رہو گے اور وحی کی رہنمائی ایک چراغ کی مانند تمہارے راستے روشن کرتی جائے گی۔

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور فہم دین
ایک اہم اصول یہ معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کی کامل اتباع ہمیں فہم دین کے حوالے سے بہت سی غلط فیصلوں سے بچا سکتی ہے، خاص کر موجودہ زمانے میں ایسی بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، مثلاً کوئی شخص دین کو فقط قرآن کے متن سے سمجھنا شروع کرتا ہے اور کوئی حدیث کی صحت و سند پر سارا دارومدار رکھتا ہے وغیرہ۔ جب کہ فہم دین کا اہم دارومدار ذاتِ رسالت ہے اور اسی بات کو سورہ حشر میں اللہ رب العزت دوٹوک انداز میں بیان فرماتے ہیں: ﴿مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا﴾․ (سورة الحشر، آیت:7)

ترجمہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں جو حکم دیں اسے لے لو اورجس سے روکیں اس سے رک جاو“۔

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ واحد منہج ہے جو بیک وقت قرآن، حدیث اورذات نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی جملہ خصوصیات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ سیرت قرآن وحدیث کا ایک منھ بولتا ثبوت ہے، جسے سورة احزاب میں یوں بیان فرمایا:﴿لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رسول الله أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ترجمہ:یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک شخصیت تمہارے لیے ایک ایک بہترین نمونے کی حیثیت رکھتی ہے۔

قرآن کریم میں اطاعت رسول کی اہمیت کو مختلف پیرایوں میں بیان کیا گیا ہے :
﴿وَأَطِیعُوا اللَّہَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ﴾ (تغابن، آیت:12)
ترجمہ :اطاعت کرو اللہ کی اور اللہ کے رسول کی ۔

﴿مَّن یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّہَ ﴾ (نساء، آیت:80)
ترجمہ:جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

﴿قُلْ إِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّہَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمُ اللَّہُ﴾ (سورہ العمران، آیت:31) ترجمہ:” کہہ دو کہ اگر تم الله سے محبت کرنا چاہتیہو تو میری اتباع کرو اللہ تم کو اپنا محبوب بنالیں گے۔

اسوہٴ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے کا آسان طریقہ
آپ علیہ السلام کی سیرت دین پر عمل کرنے کے لیے اور آپ کے ایک سچے اُمتی کے لیے راہ نما خطوط کی حیثیت رکھتی ہے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا سب سے آسان طریقہ آپ کی مبارک سنتوں پر چلنا ہے، اس حوالے سے ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمہ الله کی معروف کتاب ”اسوہ ٴرسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم“ایک بہترین کتاب ہے، جس میں آپ علیہ السلام کی مبارک زندگی سے عقائد،عبادات،اخلاقیات،معاشرت اور معاملات جیسے اہم موضوعات کو ذکر کیا گیا ہے۔

دین جذبات کا نہیں، اتباع کا نام ہے
مذکورہ آیات سے ایک اہم راہ نمائی یہ بھی ملتی ہے کہ دین اصل میں ہے کیا ؟ اپنی مرضی چلانا ؟ یا کسی ایک کی مرضی میں راضی ہوجانا ؟

علمائے امت فرماتے ہیں کہ دین درحقیقت حال کے امر کو جاننے کا نام ہے۔ دین اپنی ذاتی خواہش ارادے یا جذبے کے پورا کرنے کا نام نہیں, بلکہ دین سراسر اتباع کا نام ہے ۔ اس طرح کہ اس وقت آپ سے کس روّیے اور عمل کا مطالبہ کیا جارہا ہے، قطع نظر اس سے کہ آپ کا دل کیا چاہ رہا ہے یا آپ کے جذبات ،عزائم اور ارادے کیا ہیں۔

مشہور حدیث ہے، آپ علیہ السلام کی خدمت میں ایک صحابی جہاد میں شرکت کے جذبات سے معمور ہوکر آتا ہے اور آپ والدین کی خبر گیری کے بعد فرماتے ہیں ففیہما جاہد(ابو داود) تم اپنے والدین کی خدمت میں لگے رہو، وہی تمہارا جہاد ہے۔

سیدنا اویس قرنی  آپ علیہ السلام کی زیارت کے لیے تڑپ اٹھے، لیکن اجازت نہ پاسکے، فقط والدہ کی خدمت کی وجہ سے اور اس سنہرے دور، جسے آپ صلی الله علیہ وسلم نے”خیر القرون قرني“ فرمایا ہے،میں رہنے کے باوجود صحابیت کا شرف نہیں پاسکے۔

اتباع نبی کی بہترین مثال
آپ علیہ السلام کی خدمت میں تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اکٹھے تشریف لاتے ہیں اور عبادت و ریاضت کے بھرپورجذبات کا اظہار کرتے ہوئے باری باری کہتے ہیں:
میں ساری زندگی رات کو عبادت میں گزاروں گا، آرام نہیں کروں گا۔ میں ساری زندگی روزے رکھوں گا، کبھی بے روزہ نہیں رہوں گا۔ میں ساری زندگی شادی نہیں کروں گا اور اہل و عیال کے مشاغل کے بجائے عبادات میں مصروف رہوں گا۔

ان تینوں عزیمت کے راہی صحابہ کے جملوں سے زہد ، استغنا ، شوق عبادت اور دین کی تڑپ چھلک رہی ہے، لیکن اس پورے منظر نامے میں فقط جذبات کا ذکر ہے، اب شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے وہ آپ علیہ السلام نے اپنے بلیغ انداز میں یوں ذکر فرمایا کہ :
میں تم میں سب سے زیادہ افضل اور اللہ کے زیادہ قریب ہوں، لیکن میں:
روزے (نفل) رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ رات میں عبادت بھی کرتا ہوں اور آرام بھی۔ میں نکاح بھی کرتا ہوں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بلیغ جواب سے مسئلہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا کہ اصل دارومدار شریعت کا حکم ہے، آپ سب کے جذبات بہت قابل قدر ہیں، لیکن شریعت کا حکم بہرحال اعتدال کی دعوت دیتا ہے، جس پر میں سید الانبیاء ، خاتم النبیین اور رحمت العالمین ہو نے کے باوجود عمل پیرا ہوں ۔

فقہائے امت فرماتے ہیں کہ کوئی شخص مغرب کی تین کی بجائے چار رکعت پڑھ لے، یہ سوچ کر کہ قیام و قراء ت، تکبیر و تسبیح اور سجدوں میں اضافے کی وجہ سے مجھے زیادہ ثواب ملے گا تو شریعت اپنا فیصلہ نماز کے فاسد ہونے کی صورت میں سنائے گی اور اس پورے عمل کو فقط ایک جذباتیت کا عنوان دے کر نماز کا لوٹانا ضروری ہوجائے گا ۔
اسی طرح کوئی شخص سفر میں ظہر کی قصر کے بجائے مکمل چار رکعت پڑھے گا تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔

سیالکوٹ واقعہ
اس تناظر میں موجودہ دور میں پیش آنے والے سیالکوٹ واقعہ کو دیکھا جائے جس میں بالفرض سری لنکن منیجر ایک مجرم تصور کربھی لیا جائے تو اس کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ سفاکیت اور ظلم و جبر کے سلوک کو شریعت قرار نہیں دیا جاسکتا، کیوں کہ شریعت ایسے موقع پر قانون کی طرف متوجہ کرتی ہے، جو کہ پاکستان میں پہلے سے آئین کا حصہ ہے۔معلوم ہوا کہ یہ ان ظالموں اور جاہلوں کا ذاتی فعل ہے، جسے توڑ مروڑ کر دین، شریعت یا عشق رسول کا نام دیا جارہا ہے۔ جوکہ درحقیقت ان خوش نما عنوانات کی آڑ میں اپنی جہالت، بے دینی اور رسولِ معظم کی شریعت کا مذاق اڑانے والی بات ہے۔ معاذاللہ․

معاشرے کی ترقی اسوہٴ صحابہ کی روشنی میں
﴿لَٰکِنَّ اللَّہَ حَبَّبَ إِلَیْکُمُ الْإِیمَانَ وَزَیَّنَہُ فِی قُلُوبِکُمْ وَکَرَّہَ إِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ أُولَٰئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُونَ، فَضْلًا مِّنَ اللَّہِ وَنِعْمَةً وَاللَّہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ﴾․ (حجرات:8-7)

ترجمہ: لیکن اللہ نے ایمان کو تمہارے لیے محبوب بنادیا اور پھر تمہارے دلوں میں اس ایمان کو سجادیا اور کفر اور چھوٹے بڑے گناہوں کی نفرت تمہارے دلوں میں ڈال دی۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں ۔یہ اللہ کا فضل اور نعمت ہے اور اللہ سب جاننے والا بھرپور حکمت والا ہے۔

مذکورہ آیت مبارکہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی ایمانی شان، ان کا مقام اور ان پر اللہ کے خصوصی فضل و انعام کا ذکر کیا جارہا ہے۔

اللہ نے تم پر یہ فضل فرمایا کہ تمہیں اپنے رسول علیہ السلام کی مبارک صحبت نصیب فرمادی اور اس صحبت کے نتیجے میں تمہیں کتنے ہی فوائد نصیب ہوئے، جن کا اندازہ صحابہ کرام کی ماضی کے حالات سے بخوبی ہوتا ہے، جس میں وہ عقیدہ و عمل سے کوسوں دور اپنی جہالت میں گھرے ہوئے تھے۔

آپ علیہ السلام کی مبارک صحبت کی برکت سے ان میں ایمانی صفات بھرپور منتقل ہوئیں اور ایمان اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ ان کے سینوں میں اس طرح رچ بس گیا کہ ان کے لیے سب سے محبوب متاع ہی ایمان ٹھہرا اور اس ایمان کی دولت کے مقابلے میں دنیا کی تمام آسائشیں ان کے سامنے ہیچ ثابت ہوئیں۔

﴿وَ زَیَّنَہ فِیْ قُلُوْبِکُمْ﴾․
یعنی ایسا نہیں کہ فقط زبانی کلامی ایمان، بلکہ ایمان اقرار باللسان، تصدیق بالقلب اور عمل بالارکان کے تمام ضروری مراحل سے گزر کر ایک زیور کی شکل میں ان کے دلوں میں سجادیا گیا ۔

﴿وَ کَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ﴾․
کوئی خوبی اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک اس کی حفاظت کا انتظام نہ ہوجائے، لہٰذا صحابہ کرام کو ایمان تو نصیب ہوا ،لیکن ساتھ ساتھ اس ایمان کے تمام اضداد کی نفرت بھی اللہ نے ان کے دلوں میں بٹھادی، گویا کہ مال و دولت سے بھی نوازا اور چور ڈاکوؤں سے حفاظت کا بھی انتظام فرمادیا، لہٰذا اس آیت میں ایمانی دولت کے لیے چور ڈاکو کی حیثیت رکھنے والے اعمال یعنی : کفر جو کہ ایمان کی ضد ہے، فسوق جو کہ کبیرہ گناہ ہیں،عصیان جو کہ صغیرہ گناہ ہیں۔

ان سب مکروہ اور چھوٹے بڑے تمام ناپسندید اعمال سے بھرپور حفاظت کا انتظام اس طرح فرمایا کہ ان برائیوں کی نفرت ان کے دل میں بیٹھ گئی، جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ شریعت ان کی طبیعت بن گئی۔

چوں کہ شیطان مومن کی ایمانی دولت پر یکبارگی کفر کا ڈاکہ نہیں ڈال سکتا، کیوں کہ وہ جانتا ہے ایمان اتنی معمولی دولت نہیں کہ اسے فوری کفر کے ذریعے مٹایا جاسکے، بلکہ وہ فسق (کبیرہ) اورعصیان (صغیرہ) کے چھوٹے بڑے لٹیروں کے ذریعے مخبری اور سرنگ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

گویا صحابہ کرام کے دلوں میں صغیرہ، کبیرہ اور کفر جیسے بڑے گناہوں کی نفرت بھی اللہ رب العزت نے ان کے دلوں میں بٹھا دی، جس کے سبب وہ ایمان کی ترقیوں میں مصروف رہے اور پوری دنیا کو ان کا ایمانی مقام نظر آیا، جس کی بہت بڑی مثال قیصر و کسریٰ کی فتوحات ہیں ۔

معاشرے کا قیمتی فرد بننے کا طریقہ
﴿اُولٰٓیکَ ہُمُ الرّٰشِدُوْنَ ﴾․
یہی وہ لوگ ہیں جو راہِ ہدایت پر ہیں۔

آیت مبارکہ میں ہدایت یافتہ ہونے کی وجہ یہی ذکر فرمائی کہ معاشرہ ایسے لوگوں سے آباد رہے جو اپنے ایمان کو بنانے اور خود کو چھوٹے بڑے گناہوں سے بچانے کی کوشش کریں۔لہٰذا معاشرے میں ہدایت کا نور چمکانے کا فارمولا یہ دو نکات ہوئے: ایمان کی محبت اور ترقیکفر اور گناہوں کی نفرت

جب تک چیزوں پر محنت ہوگی تو چیزوں کی ہی ترقی ہوگی، چیزوں پر محنت کرنے سے معاشرے کے افراد ترقی نہیں کریں گے، بلکہ وہ برابر زوال پذیر رہیں گے اور اس وقت تک ان کی ترقی نہیں ہوگی جب تک وہ اس دو نکاتی فارمولے پر عمل نہ کریں جن پر صحابہ عمل پیرا تھے۔