بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آداب ِ تلاوت قرآنِ پاک…!

آداب ِ تلاوت قرآنِ پاک…!

محترم محمد سجاد سعدی

قرآن مجید الله تعالیٰ کی مقدس اور محترم کتاب ہے جو جن وانس کی ہدایت وراہ نمائی کے لیے نازل کی گئی ہے، اس کا پڑھنا باعث ِ اجروثواب ہے او راس پر عمل کرنا تقرب الی الله اور نجات اخروی کا ذریعہ ہے، یہ قرآن باعث ِ اجروثواب اسی وقت ہو گا کہ جب اس کی تلاوت آداب تلاوت کو ملحوظ رکھ کر کی جائے۔

آداب تلاوت میں سے ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم او رتلاوت خالصةً الله کی رضا کے لیے ہو، جس میں ریا کاری کا دخل نہ ہو ، تلاوت ِ قرآن مجید کی تلاوت پر مداومت، یعنی ہمیشگی کی جائے، تاکہ یہ بھولنے نہ پائے، تلاوت کیے ہوئے حصہ کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا واجب ہے، قرآن مجید طہارت کی حالت میں باوضو ہو کر پڑھا جائے، تلاوت شروع کرنے سے پہلے تعوذ اور بسم الله پڑھنا واجب ہے، دوران تلاوت الله کے عذاب سے ڈر کر رونا مستحب عمل ہے، اُونگھ آجانے پر تلاوت بند کر دینا مستحب ہے، عذاب والی آیات پر الله کی پناہ مانگنا او ررحمت والی آیات پر الله سے دعا کرنا مستحب ہے، سجدہ والی آیات کی تلاوت کرتے وقت سجدہٴ تلاوت کرنا مسنون طریقہ ہے۔

جب کوئی تلاوت کر رہا ہو تو کامل خاموشی او رغور سے سننا چاہیے او رجب خود تلاوت کریں تو دل میں خیال ہو کہ الله تعالیٰ سے ہم کلام ہیں، اس لیے نہایت ادب، سلیقے اور ترتیل سے ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید کی تلاوت کی جائے، تاکہ الله تعالیٰ تلاوت کرنے والے پر خوش ہوں۔

تلاوت قرآن الله کا خصوصی انعام
وحی کے سب سے پہلے کلمے ”اقرأ“ کے مخاطب حضرت ِ انسان ہیں نہ کہ فرشتے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی حیثیت واسطہ کی تھی، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی پوری تعلیم وتربیت الله تعالیٰ نے فرمائی، حضرت جبرائیل علیہ السلام کا قرآن پاک لانا او رپڑھ کر سنانا خو دان کے اختیار میں نہیں تھا۔ (علم الکلام، مولانا ادریس کاندھلوی)

حضرت جبرائیل علیہ السلام حکم خدا وندی کے خلاف کر ہی نہیں سکتے تھے، جب کہ انسان کو طاعت ومعصیت دونوں کا اختیار دیا گیا ہے، اسی وجہ سے تلاوت قرآن کا امر انسان کو ملا، کسی فرشتہ کو ایسا کوئی حکم نہیں دیا گیا، قرآن کا پڑھنا ایسی شرافت ہے کہ جس سے الله تعالیٰ نے انسان کو مشرف کیا ہے۔ چوں کہ یہ چیز فرشتوں کو نہیں ملی، اس لیے انسان اس نعمت خاصہ کی وجہ سے فرشتوں کے لیے قابل رشک ہے۔ (الاتقان)

یہی وجہ ہے کہ فرشتے ایسی مجالس کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں قرآن پاک کی تلاوت یا مذاکرہ ہو رہا ہو، بالآخر مومنین کی ایسی مجلسوں کو رحمت کے فرشتے ڈھانپ لیتے ہیں او رسماع قرآن کی برکت سے رحمت الہٰی اور سکینت سے وہ بھی مستفید ہوتے ہیں۔ (مسلم شریف)

امام بیہقی رحمہ الله نے یہ حدیث نقل کی ہے: نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی رات میں نماز ( تہجد ) کے لیے اٹھے تو مسواک کر لے ،اس لیے کہ تم میں سے کوئی جب نماز میں قرآن پڑھتا ہے تو ایک فرشتہ پڑھنے والے کے منھ پر اپنا منھ رکھ دیتا ہے اور جو چیز پڑھنے والے کے منھ سے نکلتی ہے تو وہ فرشتہ کے منھ میں داخل ہوتی ہے۔ (شعب الایمان)

قرآن الله کا غیرفانی کلام
بنی نوع انسان کی داستانیں قصہٴ پارینہ بن سکتی ہیں، تمام درختوں کے اوراق بوسیدہ ہوسکتے ہیں، شاخوں کے قلم ریزہ ریزہ ہوسکتے ہیں اور ہفت اقلیم کے سمندر کی روشنائی ختم ہوسکتی ہے، مگر کلام الہی کا چہرہٴ بسیط ہمیشہ تروتازہ اور نشیط رہے گا، اس کے شباب پر کبھی کہنگی یا کہولت نہیں آسکتی ، اس لیے کہ وہ عجائب ونوادر کالازوال سرچشمہ او رمعانی ومعارف کا بحرناپیدا کنار ہے۔

سہل بن عبدالله تستری رحمہ الله فرماتے ہیں:”اگر بندہ کو قرآن مجید کے ہر حرف کے بدلے ہزار فہم ودانش دے دی جائے تو تب بھی اُن معانی کی انتہا کو نہیں پہنچ سکتا جو الله تعالیٰ نے اپنی کتاب کی ایک آیت میں ودیعت کیے ہیں، اس لیے کہ قرآن الله کا کلام ہے او رکلام اس کی ذاتی صفت ہے، پس جس طرح ذات خدا وندی کی کوئی حدود وانتہا نہیں ہے تو اسی طرح معانی کلام کی بھی کوئی غایت نہیں، انسان بس اتنا ہی سمجھتا ہے کہ جتنا الله تعالیٰ نے اس پر منکشف فرمایا ہے لہٰذا اس کا کلام ”قدیم“ (یعنی غیر فانی) ہے۔“ ( البرہان للزرکشی)

قرآن پاک کی اسی ازلی وابدی حیثیت کو کسی زمانہ میں ہواپرست عقل مندوں نے پا مال کرنے کی کچھ ناپاک سعی کی تھی، جس سے عام اہل اسلام کے عقائد میں وسوسہ لاحق ہو گیا تھا، دنیا دار لوگوں کا ایمان ڈگمگا چکا تھا، الله تعالیٰ نے اس فتنہٴ عظیم کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے علمائے حق میں سے ایک جماعت کا انتخاب فرمایا، جس کے سرخیل امام احمد رحمہ الله نے اپنی پوری توانائی سے فتنہ کی سرکوبی فرمائی اور کلام کے غیر فانی یعنی ”قدیم“ ہونے کو دلائل وبراہین سے مستحکم وآشکارا کیا، یہاں تک کہفتنہ پرزوال آہی گیا او رکلام لازوال پورے آب وتاب کے ساتھ مخلوق کے درمیان محفوظ رہا۔ (تاریخ دعوت وعزیمت)

جس کو کلام مجید، قرآن مجید کہا جاتا ہے وہ مصحف ہے، یعنی کاغذ یا کسی اور چیز پرلکھاہوا یاچھپا ہوا قرآن۔ یہ یقینا مخلوق ہے ( کفایة المفتی) یعنی اس میں کوئی شک نہیں ہے کلام الہٰی پر دلالت کرنے والے نقوش جو کاغذ وغیرہ پر رقم ہوتے ہیں اسی کے مجموعہ کو مصحف کہا جاتا ہے، ان ہی نقوش ومکتوب کو ہم اپنی زبان سے ادا کرتے ہیں ، جس کو الفاظ کہتے ہیں او راپنے کانوں سے اس کی جو آواز سنتے ہیں اسے اصوات کہتے ہیں، چوں کہ یہ سب انسان کی ذات وصفات سے متعلق ہیں، اس لیے انسان کی طرح یہ چیزیں بھی حادث اور فانی ہیں۔

علامہ سیوطی رحمہ الله لکھتے ہیں کہ قرآن کے غیرفانی ہونے پر بعض علماء نے ایک لطیف استدلال یہ بھی کیا ہے کہ الله تعالیٰ نے ”انسان“ کا ذکر اٹھارہ جگہ کیا ہے او رسب جگہ اس کا مخلوق ہونا بیان کیا اور ”قرآن“ ذکر چوّن(54) جگہ فرمایا ہے، لیکن کسی ایک جگہ بھی اس کے مخلوق ہونے کا تذکرہ نہیں،بلکہ ایک مقام پر دونوں کو یکجا ذکر کیا تو ارشاد الہٰی”الرحمن علم القرآن خلق الانسان“ کی تعبیر نے دونوں کو ممتاز کر دیا ہے۔ سبحان الله (الاتقان)