گیارہویں منانا بدعت ہے

Darul Ifta mix

گیارہویں منانا بدعت ہے

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ نذر و نیاز کے طور پر کھانا پکاتے  ہیں،اور کھاتے ہیں،اور دوسروں کو کھلاتے ہیں،گیارہویں شریف مناتے ہیں،مزاروں پر جاکر دعا مانگتے ہیں،قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں،آیا نذر و نیاز ماننا اور اس کا کھانا کھانا،اور گیارہویں شریف منانا درست ہے؟

جواب

مروّجہ گیارہویں بدعت ہے،زمانہ سلف صالحین میں اس کا وجود نہیں تھا،بلکہ مسلمانوں نے یہ رسم اہل ہنود سے لی ہے،چنانچہ مشہور مؤرّخ علامہ بیرونی  لکھتے ہیں  کہ اہل ہنود کے نزدیک جو حقوق میت کے وارث پر عائد ہوتے ہیں،وہ یہ ہیں،کہ ضیافت کرنا اور یوم وفات سے گیارہویں اور پندرہویں روز کھانا کھلانا ،اسی طرح اختتام سال پر کھانا کھلانا ضروری ہے۔ (المنہاج: ص :۲۴۰) (کذا فی خیرالفتاوٰی:۱/۵۵۶)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 17/231