کیا معتکفین پہلی منزل سے جماعت کے لیے گراؤنڈ فلور پر آسکتے ہیں؟

Darul Ifta

کیا معتکفین پہلی منزل سے جماعت کے لیے گراؤنڈ فلور پر آسکتے ہیں؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد تین منزلہ ہے گراؤنڈ فلور پر امامت ہوتی ہے۔ معتکفین پہلی منزل میں اعتکاف میں بیٹھے ہوئے ہو جہاں وضو خانہ اور بیت الخلاء بنا ہوا ہو، کیا پہلی منزل کےمعتکفین جماعت کی نماز کے لیے گراؤنڈ فلور میں آسکتے ہیں یا نہیں؟
(وضاحت:مستفتی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پہلی منزل اور گراؤنڈ فلور کے درمیان دو سیڑھیاں ہیں ایک مسجد کے اندر کی طرف ہے، اعتکاف والے حضرات اسی اندرونی سیڑھی کو استعمال کرتے ہیں جبکہ دوسری باہر والی سیڑھی ہے اسے استعمال نہیں کرتے)۔

جواب

صورت مسئولہ میں پہلی منزل کےمعتکفین جماعت کے لیے گراونڈ فلور پر آسکتے ہیں، بشرطیکہ آنے جانے کا راستہ مسجد کی حدود کے اندر ہو۔
وفي المحيط البرهاني:
’’قال محمد رحمه الله: وتكره المجامعة والبول فوق المسجد؛ لأن لسطح المسجد حكم المسجد، وهذا لما عرف أن حكم المسجد ثابت في الهواء والعرضة جميعا، ولهذا قلنا: من قام علىى سطح المسجد مقتديًا بإمام في المسجد، وهو خلف الإمام يجوز، والمعتكف إذا صعد سطح المسجد لا ينتقض اعتكافه، ولا يحل للجنب والحائض والنفساء صعود سطع المسجد، فعلم أن لسطح المسجد حكم المسجد، ثم لا تجوز المجامعة والبول في المسجد، فكذا فوقه‘‘.(كتاب الإستحسان والكراهية:٨/٥، إدارة القرآن والمجلس العلمي).
وفي البحر:
’’(قَوْلُهُ: وَالْوَطْءُ فَوْقَهُ وَالْبَوْلُ وَالتَّخَلِّي) أَيْ:وَكُرِهَ الْوَطْءُ فَوْقَ الْمَسْجِدِ وَكَذَا الْبَوْلُ وَالتَّغَوُّطُ لِأَنَّ سَطْحَ الْمَسْجِدِ لَهُ حُكْمُ الْمَسْجِدِ حَتَّى يَصِحَّ الِاقْتِدَاءُ مِنْهُ بِمَنْ تَحْتَهُ وَلَا يَبْطُلُ الِاعْتِكَافُ بِالصُّعُودِ إلَيْهِ‘‘.( كتاب الصلاة،فَصْلٌ لَمَّا فَرَغَ مِنْ بَيَانِ الْكَرَاهَةِ فِي الصَّلَاةِ شَرَعَ فِي بَيَانِهَا خَارِجَهَا مِمَّا هُوَ مِنْ تَوَابِعِهَا، ٢/ ٣٦ - ٢٧:دار الكتاب الإسلامي).فقط.واللہ اعلم بالصواب
172/320
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

footer