ٹارگٹ کِلنگ میں مرنے والوں کی شہادت کا حکم

Darul Ifta mix

ٹارگٹ کِلنگ میں مرنے والوں کی شہادت کا حکم

سوال

 آج کل جو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے اس میں مارے جانے والے بے گناہ لوگ شہید کے حکم میں آئیں گے یا نہیں؟ ۔

جواب 

جو شخص ظلماً قتل کیا جائے، وہ شہید ہے ، البتہ یہ بات واضح رہے کہ شہید کی دو قسمیں ہیں: حقیقی۔ معنوی، حقیقی شہید وہ ہے جو دشمن کے مقابلے میں میدانِ جنگ میں شہید ہو یا ڈاکووں یا کسی مسلمان کے ہاتھوں ظلماً قتل کیا گیا ہو ، اس قتل پر ابتداءً قصاص واجب ہوتا ہو ، اسی طرح اسے کہیں اور منتقل کرنے کا موقع بھی نہ ملا ہو تو ایسا شخص حقیقی شہید ہے اور اسے بغیر کفن اور غسل کے دفنایا جائے گا، البتہ اگر کوئی شخص ظلماً تو قتل کیا جائے لیکن اس کی موت اس جگہ سے منتقلی کے بعد واقع ہوئی ہو ، اسی طرح اس قتل پر ابتداءً قصاص نہیں بلکہ دیت واجب ہو تو ایسا شخص بھی شہید ہے لیکن اسے حقیقی نہیں بلکہ معنوی شہید کہا جائے گا، روزِ قیامت میں یہ شخص بھی شہیدوں کی فہرست میں شمار ہو گا ، لیکن دنیا میں اس کے ساتھ عام لوگوں والا معاملہ کیا جائے گا اور اسے کفن اور غسل دینے کے بعد دفنایا جائے گا۔
مذکورہ تفصیل سے یہ بات تو واضح ہو گئی کہ ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والے بے گناہ شہری بہرحال شہید ہیں، البتہ ان پر حقیقی یامعنوی شہادت کا اطلاق ان کی حالت دیکھنے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی