والدہ سے بدتمیزی کرنے اور اسے گھر سے نکالنے والے کی سزا

Darul Ifta mix

والدہ سے بدتمیزی کرنے اور اسے گھر سے نکالنے والے کی سزا

سوال

والدہ کے اوپر ہاتھ اٹھانے والے اور والدہ کو گھر سے نکالنے والے اور ان سے بدتمیزی کرنے والے کے بارے میں کیا رائے ہے؟ اور اس کی سزا کیا ہے؟

جواب

 قرآن کریم نے جگہ جگہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے حتی کہ اولاد کو والدین کے سامنے ”اُف“ تک کہنے سے منع فرمایا ہے چہ جائے کہ اولاد ان پر ہاتھ اٹھائے یا انہیں گھر سے بے دخل کر دیں۔

والدہ، والد کو ستانے اور تنگ کرنے والی اولاد کے بارے میں قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ایسی اولاد آخرت میں تو خسارے میں ہی رہے گی، مگر دنیا میں بھی الله جل شانہ ایسی اولاد کو ذلیل ورسوا فرماتے ہیں تاوقتیکہ وہ صدقِ دل سے توبہ نہ کریں ۔

والدہ کا درجہ چوں کہ باپ سے بڑھ کر ہے اس لیے والدہ کو ستانے والے کی سزا بھی سخت ہو گی ، شریعتِ مطہرہ نے ایسی اولاد کی کوئی متعین سزا اور حد مقرر نہیں فرمائی ہے، البتہ ان پر لازم ہے کہ وہ فورا صدق دل سے توبہ واستغفار کرنے کے ساتھ والدہ ماجدہ سے بھی معافی مانگیں اور آئندہ کے لیے ایسی حرکات کے بجائے والدہ کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھیں، ورنہ دنیا وآخرت میں سخت عذاب کا خطرہ ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی