مسجد کی اشیاء کو جلسہ جلوسوں میں استعمال کرنا

Darul Ifta mix

مسجد کی اشیاء کو جلسہ جلوسوں میں استعمال کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفیتان کرام ان مسائل کے بارے میں کہ زید ایک بڑی جامع مسجد کا امام وخطیب ہے او رمسجدکے تمام انتظامات واختیارات زید کے ہاتھ میں ہیں ، ایک دن عمرومسجد میں آیا اور زید کو بغیر بتائے مسجد کے اسپیکر کے ایمپلیفائر (Amplifire) لے کر چلا گیا ( بعد میں وجہ یہ بتائی کہ ہماری مذہبی تنظیم حرمت رسول صلی الله علیہ وسلم کے متعلق ریلی نکال رہی ہے، اس لیے ایمپلیفائر سے اسپیکر منسلک کرکے حرمت رسول صلی الله علیہ وسلم کے نعرے لگا ئیں گے، باجود اس کے کہ جمعہ کا دن تھا اور وعظ وبیان بھی بہت سخت متاثر ہوا کیا عمرو کے لیے ایسا کرنا جائز تھا؟
نیز کیا امام کو اختیار ہے کہ مسجد کی کوئی چیز مسجد کے باہر کے کاموں میں استعمال کرنے کی اجازت دے دے؟

جواب

مسجد کی اشیاء موقوفہ، اس کے مائک، اسپیکر یا ان کے ایمپلیفائر کو مسجد کے کاموں میں ہی استعمال کرنا چاہیے ، جلسے جلوسوں کے لیے مساجد کی موقوفہ اشیاء استعمال کرنا درست نہیں اور نہ عمرو کا مذکورہ فعل جائز ہے اور نہ ہی مسجد کے امام اور متولی کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ مسجد کی موقوفہ اشیاء کو مسجد کے علاوہ باہر کے کاموں میں استعمال کرنے کی اجازت دیں۔ فقط

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی