قرض کے بدلے میں رہن کی چیز سے نفع اٹھانے کا حکم

Darul Ifta mix

قرض کے بدلے میں رہن کی چیز سے نفع اٹھانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے دوسرے شخص سے چار لاکھ روپے قرض لیے اور اپنا مکان اسے رہنے کے لیے دیا کہ جب رقم لوٹاؤں گا تو مکان بھی لے لوں گا، یہ معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر ناجائز ہے تواس کی درست صورت کوئی بن سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ معاملہ جائز نہیں ہے، کیوں کہ قرض دینے والا قرض کے بدلے میں نفع حاصل کر رہا ہے (اگرچہ قرض لینے والے کی رضا مندی سے ہے) اور قرض کے بدلے نفع حاصل کرنا حرام ہے۔

اس معاملے کی درست صورت یہ ہو سکتی ہے کہ قرض دینے والے کو مکان بازاری اجرت کے مطابق کرایہ پر دے دیں اور اس مکان میں سکونت کی مدت ، ادائیگی قرض کے ساتھ مشروط نہ کریں الغرض! مکان والے معاملے کا کوئی اثر نفع کی صورت میں قرض والے معاملے پر مرتب نہ ہو۔فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی