بارات لے جانے اورمہندی لگانےکی رسم

بارات لے جانے اورمہندی لگانےکی رسم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ بارات لے جانے کی کیا حیثیت ہے؟ پھر وہاں جاکر دولہا اور اس کے عزیز واقارب کے ہاتھوں میں مہندی لگائی جاتی ہے، جس جس کے ہاتھوں پر مہندی لگائی جاتی ہے تو وہ مہند ی لگانے والے کو روپے دیتا ہے اور ہر ایک زیادہ دینے کی کوشش کرتا ہے جو بالکل نہ دے یا کم دے تو اس کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، پھر دولہن کو لانے کے بعد بعض علاقوں میں لڑکی کو ایک دو دن کے لیے شوہر کے پاس نہیں جانے دیا جاتا، بعض میں اس کے برعکس ہے۔

جواب

بارات روانہ کرنے، پھر مہندی لگانے اور روپے پیسے دینے سے مقصودِ اصلی فقط ناموری وتفاخر ہے، جو جاہلانہ اور غیر پسندیدہ اعمال ہیں،اس طرح کی فضول رسموں سے اجتناب بے حد ضروری ہے،اسی طرح جب رخصتی ہو گئی تو لڑکا اور لڑکی، میاں بیوی بن گئے،توفضول رسموں کو درمیان میں حائل کرکے لڑکے کو بیوی کے پاس نہ جانے دینا ،غور کیا جائے تو بے برکتی اور سنت نبویہ سے دوری کا باعث ہے، حدیث شریف میں ہے کہ جس وقت حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی رخصتی ہو رہی تھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا اے انس جاؤ ابوبکر وعثمان وطلحہ وزبیر اور ایک جماعت انصار رضی اﷲ عنہم کو بلا لاؤ، جب یہ سب حاضر ہو گئے تو آپ نے ایک خطبہ پڑھ کر نکاح کر دیا، پھر آپ نے ایک طبق میں چھوارے لے کر حاضرین میں تقسیم کیے، پھر حضور علیہ السلام نے حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہم کو حضرت ام ایمن کے ہمراہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے گھر بھیج دیا، یہ تھی دونوں جہان کے سردار کی شہزادی کی رخصتی اور شادی، جس میں نہ بارات روانہ کرنے کا ذکر ہے، نہ مہندی لگانے کا، نہ روپیہ تقسیم کرنے کا اور نہ ہی ناچنے اور دیگر خرافات کا ،بس یہی مسنون شادی ہے، نہ دین کے لحاظ سے رسومات بد پر مشتمل ہے اور نہ ہی دنیا کے اعتبار سے فضول خرچی پر ،تو آپ کی سنت پر چلنے میں دینی فائدہ بھی ہے اور دنیاوی بھی، اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنی شادی سنت کے مطابق کیاکرے، کم از کم دین دار لوگ اپنے اپنے گھروں میں اگر اس طرح مسنون شادی کا ماحول بنا لیں تو ان شاء اﷲ تعالیٰ پورے علاقے کا ماحول بدل سکتا ہے، حق تعالیٰ ہم سب کو جنابِ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی مبارک سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی