کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گاڑی ڈرائیور ہے، وہ عرب کے مختلف ممالک سے لوگوں کو حج اور عمرہ کے لیے حرم مقدس لے کر جاتا ہے، وہ ہفتے میں یا دو ہفتوں میں یا اس سے کم و بیش زمانے میں حرم میں قافلوں کو لے کر جاتا ہے، آیا یہ ڈرائیور ہر مرتبہ جب میقات سے باہر آکر دوبارہ قافلہ لے کر جاتا ہو، تو اس کو ایک دفعہ عمرہ کرنا کافی ہے یا ہر بار جب میقات سے باہر آکر دوسرا قافلہ حرم میں لے جاتا ہو، تو دوبارہ اور سہ بارہ عمرہ ادا کرنالازم ہوگا؟
اگر وہ میقات سے دو، تین مرتبہ بغیر احرام باندھے حدود حرم میں داخل ہو اور عمرہ نہ کرے تو اس سے مذکورہ ڈرائیور کے ذمہ جبیرہ لازم ہو گا؟
واضح رہے کہ اس بات میں تو اہل علم کا اتفاق ہے کہ آفاقی جب حرم میں داخل ہونے کی نیت سے میقات سے گزرے گا تو اس پر احرام باندھنا ضروری ہے، بغیر احرام کے گزرنا جائز نہیں ہے، اور بغیر احرام کے گزرنے کی وجہ سے دم لازم آئے گا۔
جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن کا حرم میں آنا جانا کثرت سے ہے اور ان کے لیے ہر مرتبہ احرام باندھ کر عمرہ کرنا ممکن نہیں جیسے ڈرائیور وغیرہ، تو ایسے لوگوں کے لیے علماء نے امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب پر عمل کرنے کی گنجائش دی ہے، لہذا ایسے لوگوں کے لیے میقات سے بغیر احرام کے گزرنے کی گنجائش ہے اور ان پر دم بھی لازم نہیں ہوگا۔لما في مصنف لإبن أبي شيبة:’’عَنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لاَ يَدْخُلُ مَكَّةَ أَحَدٌ بِغَيْرِ إحْرَامٍ، إِِلاَّ الْحَطَّابُونَ وَالعَمَّالونَ وَأَصْحَابُ مَنَافِعِهَا‘‘.(كتاب الحج،من كره أن يدخل بغير إحرام: 227/8، المجلس العلمي)وفي أوجز المسالك:’’وقال إسماعيل القاضي: كره الأكثر دخولها بلا إحرام،ورخصوا للحطابين ومن أشبههم‘‘.(كتاب الحج، جامع الحج: 630/8، دار القلم دمشق)وفي المبسوط للسرخسي:’’قال وبلغنا عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: من وقتنا له وقتا فهو له وقت ولمن مر به من غير أهله ممن أراد الحج والعمرة... ثم أخذ الشافعي رحمه الله تعالى بظاهر هذا الحديث فقال إنما يجب الإحرام عند الميقات على من أراد دخول مكة للحج أو العمرة وأما من أراد دخولها لقتال فليس عليه الإحرام عنده قولا واحدا لأن النبي صلى الله عليه وسلم دخلها يوم الفتح بغير إحرام وإن أراد دخولها للتجارة أو طلب غريم له فله فيه قولان: في أحد قوليه: لا يلزمه الإحرام لأن الإحرام غير مقصود لعينه بل لأداء النسك به وهذا الرجل غير قاصد أداء النسك فكان الحرم في حقه كسائر البقاع فكان له أن يدخلها بغير إحرام. فأما عندنا ليس لأحد ينتهي إلى الميقات إذا أراد دخول مكة أن يجاوزها إلا بإحرام سواء كان من قصده الحج أو القتال أو التجارة لحديث بن شريح الخزاعي رضي الله تعالى عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته يوم الفتح: (إن مكة حرام حرمها الله تعالى يوم خلق السماوات والأرض لم تحل لأحد قبلي ولا لأحد بعدي وإنما أحلت لي ساعة من نهار ثم هي حرام إلى يوم القيامة). فقد ترخص للقتال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: [إنما أحلت لي ساعة] فلا تحل لأحد بعده فيتبين بهذا الحديث خصوصية النبي صلى الله عليه وسلم بدخول مكة للقتال بغير إحرام وإنما تظهر الخصوصية إذا لم يكن لغيره أن يصنع كصنيعه‘‘.(کتاب المناسک، باب المیقات: 182/2، رشیدية).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 191/149