بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ویلنٹائن ڈے کی تاریخی و شرعی حیثیت

ویلنٹائن ڈے کی تاریخی و شرعی حیثیت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ویلنٹائن ڈے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اور ویلنٹائن منانے والوں کے لیے از روئے شرع کیا حکم ہے؟

جواب

ویلنٹائن ڈے کی ابتداء سے متعلق بہت سی باتیں مشہور ہیں ، انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا کے مطابق اس دن کا تعلق قدیم بُت پرستوں (رومیوں) کے ایک دیوتا کے مشرکانہ تہوار سے ہے ، یہ تہوار ہر سال فروری کے وسط میں منایا جاتا تھا، اس تہوار میں کنواری لڑکیاں محبت کے خطوط لکھ کر ایک بہت بڑے گلدان میں ڈال دیتی تھیں، اس کے بعد محبت کی اس لاٹری میں سے روم کے نوجوان لڑکے ان لڑکیوں کا انتخاب کرتے جن کے نام کا خط لاٹری میں اُن کے ہاتھ آیا ہوتا، پھر وہ نوجوان لڑکے لڑکیاں شادی سے پہلے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ملاقاتیں کرتے، ویسبٹرز فیملی انسائیکلوپیڈیا کے مطابق عیسائیت کے مذہبی رہنماؤں نے اس مشہور بت پرستانہ رسم کو ختم کرنے کے بجائے اسے عیسائی لبادہ اوڑھانے کے لیے ایک پادری ”سینٹ ویلنٹائن” کے تہوار میں بدل دیا،”سینٹ ویلنٹائن” وہ پادری ہے جسے ”شاہ کلاڈیس” نے اس جرم میں قتل کروادیا تھا کہ وہ ایسے فوجیوں کی خفیہ طور پر شادیاں کروایا کرتا تھا، جنہیں شادیوں کی اجازت نہ تھی، سزا کے دوران قید کے زمانہ میں ویلنٹائن جیلر کی اندھی بیٹی پر عاشق ہو گیا، سزا پر عمل درآمد سے پہلے اپنی محبوبہ کو آخری خط لکھا، جس کے آخر میں دستخط کے طو ر پر ”فرام یور ویلنٹائن” تحریر کیا، یہ طریقہ وقت گزنے کے ساتھ ساتھ رواج پا گیا،بعض لوگ اس دن کو رومیوں کے محبت کے دیوتا ”کیوپڈ” سے متعلق سمجھتے ہیں ، اس کے بارے میں عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ لوگوں کے دلوں میں تیر مارکر انہیں عشق میں مبتلا کرتا ہے ، اُن کا یہ بھی خیال ہے کہ اس کی ماں ( محبت کی دیوی ”Venus”) کاپسندیدہ پھول گلاب ہے۔

پاکستان میں بھی اس بیماری نے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،14 فروری کو سرخ کپڑے پہننا، ویلنٹائن کارڈ، دل، سرخ گلاب اور چاکلیٹس کے تحائف بھیجنا عام بات ہوتی جارہی ہے، پاکستانی میڈیا، کیبل، ڈش اور انٹرنیٹ اس کے فروغ میں ملوث ہے، کالج اور یونی ورسٹیاں حتی کہ بعض اسکول بھی اس موقع پر مخلوط پارٹیوں کا انتظام کرواتے ہیں،عشق ومحبت کی اس دوڑ میں اپنے مذہب، تہذیب او راخلاقیات کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے۔

اسلام دین ِ فطرت ہے، محبت انسانی فطرت کا تقاضا ہے ، اسی لیے اسلام نے محبت کرنے سے روکا نہیں ، البتہ اس کی حدود وقیود بتائی ہیں اور اس کے طریقے بتائے ہیں، محبت اﷲ او راس کے رسول سے ہو، او راُن کے ارشادات کے تحت والد، والدہ،بھائیوں، بہنوں، بیوی ، اولاد اور نیک لوگوں سے ہو ، اسلامی تعلیمات کے ہوتے ہوئے غیروں کی نقل کرنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا، ویلنٹائن ڈے کا تعلق مشرکانہ اور بت پرستانہ عقیدہ کے ساتھ ہونے کے علاوہ فحاشی ، عریانی او رجنس وموسیقی کے ساتھ ہے، جس کے ناجائز ہونے میں کوئی تردد نہیں، لہٰذا ویلنٹائن ڈے منانا اور اس پر تحائف وغیرہ بھجوانا، مخصوص کپڑے پہننا جائزنہیں، ”ویلنٹائن ڈے” منانے والے اﷲ کی ناراضگی کو مول رہے ہیں اور بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 80/384