وعدہ نکاح کی مجلس میں ایجاب وقبول سے نکاح منعقد ہونے کا حکم

وعدہ نکاح کی مجلس میں ایجاب وقبول سے نکاح منعقد ہونے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے بکاخیل میں شادی بیاہ کے سلسلے میں یہ رواج ہے کہ لڑکی کے منگنی کے سلسلے میں جب فریقین جمع ہو جاتے ہیں تو باقاعدہ ایجاب وقبول کیا جاتا ہے اور ہمارے علاقے میں مہر کا ایک مخصوص مقدار ہے وہ بھی ذکر کیا جاتا ہے اگرچہ عموماً درمیان میں نہ کوئی نکاح خواں ہوتا ہے اور نہ ہی خطبہ نکاح، اور ہمارے ہاں عوام وخواص میں یہ مشہور ہے کہ یہ وعدہ نکاح  ہے نکاح نہیں، اور رخصتی کے بعد باقاعدہ نکاح پڑھایا جاتا ہے اور مہر مقرر کیا جاتا ہے کبھی تو وہی مہر مقرر کیا جاتا ہے اور کبھی دوسرا، اب دریافت طلب امور یہ ہیں کہ
۱…کیا یہ واقعی وعدہ نکاح ہے یا اس ایجاب اور قبول کے ساتھ نکاح منعقد ہوا؟
۲…اگر وعدہ نکاح ہے، تو کس چیز کے اضافے کے ساتھ نکاح شمارہوگا؟

جواب

(۱،۲) صورت مسئولہ میں چونکہ آپ کے یہاں عوام وخواص سب میں مشہور یہی ہے کہ یہ منگنی اور وعدہ نکاح کی مجلس ہے، نکاح کی نہیں، اس لئے جو ایجاب و قبول ہوتا ہے یا مہر مقرر کیا جاتا ہے اس کی حیثیت وعدے کی ہے، اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، البتہ اگر اسی مجلس میں نکاح خواہ موجود ہو، خطبہ بھی ہو، اور الفاظ نکاح کے ساتھ ایجاب وقبول ہو تو اس سے بھی نکاح منعقد ہوجاتا ہے، جیسا کہ کفایت المفتی میں ہے۔(ج:6، ص:483، ط:ادارۃ الفاروق کراچی)
لما في التنوير مع الدر:
’’(وينعقد) ملتبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر‘‘.(كتاب النكاح، 78/4،رشيدية)
وفيه أيضا:
’’وشرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب‘‘.(كتاب النكاح، 99/4،رشيدية).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:192/28،29