میراث کے مسائل نہ ماننے والے کا حکم

میراث کے مسائل نہ ماننے والے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میراث کی تقسیم میں اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ میں شریعت کے فیصلے کو نہیں مانتا، اس لیے کہ یہ مسائل قرآن و حدیث میں تو موجود نہیں ہے بلکہ مفتیان کرام کے بتائے ہوئے ہیں اور مفتیان کرام سے بھی بہت بڑی غلطیاں ہوتی ہیں اس لیے میں ان کو نہیں مانتا، اس کے بارے شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کا جہل اور لا علمی کی بنیاد پر میراث کے مسائل کو بلا دلیل (یعنی قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں تو موجود نہیں، بلکہ مفتیان کرام کے بتائے ہوئے ہیں، اور ان سے بھی بہت بڑی غلطیاں ہوتی ہیں، کے طور پر) رد کرنا اور نہ ماننا سخت گناہ ہے، لہذا ایسے کلمات کہنے سے اجتناب ضروری ہے، اور اپنے کیے ہوئے افعال پر رب کے حضور سچی توبہ کرنا لازم ہے۔
لما في الفتاوى الهندية:
’’إذا جاء أحد الخصمين إلى صاحبه بفتوى الأئمة فقال صاحبه: ليس كما أفتوه، أو قال: لا نعمل بهذا كان عليه التعزير كذا في الذخيرة‘‘ .(كتاب السير، مطلب في موجبات الكفر، 568/3، رشيدية).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 189/12