معتکف کا وضو خانہ جاکر اپنی بھولی ہوئی چیزیں لانے کا حکم

معتکف کا وضو خانہ جاکر اپنی بھولی ہوئی چیزیں لانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اعتکاف میں ہو اور وضو کرنے کے لئے وضو خانہ جاتا ہے اور وہ اپنی مسواک یا ٹوپی بھول کے آجائے اور پھر دوبارہ صرف مسواک یا ٹوپی لینے کے لئے جائے تو اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ معتکف کا بغیر کسی عذر شرعی کے مسجد کے وضو خانہ، یا بیت الخلاء جانے سے اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں معتکف کا وضو خانے جاکر اپنی چیزیں (ٹوپی، مسواک) لانا یہ عذر شرعی نہیں ہے، اس سے معتکف کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
لما في التنوير مع الدر:
’’(وحرم عليه) (الخروج إلا لحاجة الإنسان) طبيعية كبول وغائط وغسل.... (فلو خرج) ولو ناسيا (ساعة) زمانية لا رملية كما مر (بلا عذر فسد)‘‘.(كتاب الصوم، باب الإعتكاف، 500/3، رشيدية)
وفي التاتارخانية:
’’ولا يخرج المعتكف من معتكفه ليلا ولا نهارا إلابعذر، وإن خرج من غير عذرساعة فسد إعتكافه....ومن الأعذار الخروج للغائط والبول وللأداء الجمعة‘‘.(كتاب الصوم، باب الإعتكاف، 444/3، مكتبة فاروقية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:191/221