کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ:
ہم نے بعض علماء سے سنا ہے کہ بیرون ملک سے رقم بھیجنے کے بعض طریقے شرعاً درست نہیں ہوتے، مثلا: اگر کوئی شخص سعودی عرب میں کسی ہنڈی/بینک یا نمائندے کو 500ریال دیتا ہے، اور وہ نمائندہ دو دن بعد پاکستان میں کسی شخص کو 40,000روپے ادا کرتا ہے، تو بعض علماء کے مطابق یہ معاملہ شرعاً درست نہیں ،بلکہ اس میں ’’ربا(سود)‘‘ کا عنصر شامل ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہےکہ ریال اور روپے دونوں اموال ربویہ میں شامل ہیں، اور جب ان کا تبادلہ کیا جائے تو شریعت کا اصول ہےکہ ’’یداً بید‘‘ یعنی مجلس ہی میں قبضہ ضروری ہے، لیکن اس معاملہ میں ایک فریق(ریال دینے والا) فوراً رقم دیتا ہے،جب کہ دوسرا فریق (روپے وصول کرنے والا) دو دن بعد رقم وصول کرتا ہے، لہذا تاخیر کی وجہ سے یہ معاملہ سود کے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے، سوال یہ ہے کہ :
۱…کیا واقعی یہ طریقہ کار شرعاً ناجائز اور سود کے زمرے میں آتا ہے؟
۲…اگر یہ درست نہیں ہےتو بیرون ملک سے رقم بھیجنے کا شرعی اور جائز طریقہ کیا ہوسکتا ہے؟
صورت مسئولہ میں سعودی ریال اور پاکستانی روپے الگ الگ جنس ہیں،اور ان کی بیع نہیں ہورہی ،بلکہ صرف سعودیہ سےپاکستان بھیجنا مقصود ہے، اس لئے یداً بید کا معاملہ ضروری نہیں ،نیز مذکورہ طریقوں سے بیرون ممالک سے پاکستان رقم بھیجنا درست ہے۔لما في الشامية:’’(ويملك) المستقرض (القرض بنفس القبض عندهما) أي: الامام ومحمد، خلافا للثاني فله رد المثل ولو قائما‘‘.’’قوله: (فله رد المثل) أي: لو استقرض كر بر مثلا وقبضه فله حبسه ورد مثله، وإن طلب المقرض رد العين، لأنه خرج عن ملك المقرض‘‘.(كتاب البيوع، فصل في القرض: 410/7، رشيدية)وفي تكملة فتح الملهم:’’وأما العملة الأجنبية من الأوراق فهي جنس آخر،فيجوز بالتفاضل، فيجوز بيع ثلاث ربيات باكستانية بريال واحد سعودي‘‘.(كتاب المساقاة والمزارعة،حكم الأوراق النقدية:590/1، دار العلوم)وفي فقه البيوع:’’ربما يقع تسليم النقود عن طريق التحويل المصرفي... وحقيقته فقها: أن بنك (أ) مدين لزيد بمبلغ رصيده، وأمره بتحويل المبلغ أمر بدفع دينه الذي على البنك إلى وكيل عمرو،و بنك (ب) وكيل لعمرو حكما في قبض المبلغ؛ فقبضه نيابة عن عمرو قبض من عمرو حكما‘‘.(تطبيقات معاصرة لأداء الثمن عن طريق الحوالة، التحويل المصرفي: 428/1، معارف القرآن كراتشي).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:193/53