بہنوں کو شرعی حصہ نہ دینے والے کے حج و عمرہ کا حکم

بہنوں کو شرعی حصہ نہ دینے والے کے حج و عمرہ کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وہ شخص جس نے بہن کو حق نہیں دیا ہے اورحج و عمرہ کرتا ہے، تو کیا اس کا حج و عمرہ قبول ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں حج و عمرہ کی قبولیت و عدم قبولیت کا تعلق حج و عمرہ کے افعال کی صحت، اخلاص ِ نیت اور ان میں خرچ کی ہوئی رقم پر ہے، لہذااگر افعالِ حج و عمرہ صحیح طریقے پر ادا کیے ہیں، نیت میں اخلاص ہے اور خرچ کردہ رقم حلال ہے، تو مقبول شمار ہوگا، ورنہ نہیں۔
لمافي الشامية:
’’إن الحج نفسه الذي هو زيارة مكان مخصوص الخ ليس حراما، بل الحرام هو إنفاق المال الحرام، ولا تلازم بينهما، كما أن الصلاة في الأرض المغصوبة تقع فرضا وإنما الحرام شغل المكان المغصوب لا من حيث كون الفعل صلاة، لأن الفرض لا يمكن اتصافه بالحرمة ،وهنا كذلك فإن الحج في نفسه مأمور به ،وإنما يحرم من حيث الإنفاق، وكأنه أطلق عليه الحرمة، لأن للمال دخلا فيه فإن الحج عبادة مركبة من عمل البدن والمال كما قدمناه ولذا قال في البحر :ويجتهد في تحصيل نفقة حلال فإنه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث مع أنه يسقط عنه معها ولا تنافي بين سقوطه وعدم قبوله، فلا يثاب لعدم القبول ولا يعاقب عقاب تارك الحج. اهــ‘‘.(كتاب الحج، مطلب فيمن حج بمال حرام، 519/3، رشيدية).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 189/14