کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ:
۱… میں نے زیدسے 100آر-ایم-بی(RMB)چائنیز کرنسی لیے، اور اسے 1000روپے پاکستانی دے دیے، پھر میں نے وہ آر-ایم-بی حامد کو 1100 روپے میں بیچ دیئے،اس طرح سے مجھے 100روپے کا منافع ہو گیا، پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح سے لین دین جائز ہے؟
۲…میں نے زید سے 100 آر-ایم-بی کے بدلے 1000 روپے دینے کا سودا کیا، پھر میں نے حامد کو وہ 100 آر-ایم-بی 1100 روپے میں میں بیچنے کا سودا کیا،پھر حامد کا اکاؤنٹ نمبر لے کے زید کو دیا تا کہ وہ 100 آر-ایم-بی اس کے اکاؤنٹ میں منتقل کرے اورزید کا اکاؤنٹ نمبر حامد کو دا تا کہ اس میں وہ 1100 روپے منتقل کردے، زائد سو روپے میں نے زید سے خود اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرا لیے، مطلب یہ کہ میں نے درمیان میں رہ کر دونوں کا معاملہ کروایا اور 100 روپے لے لیے، آیا یہ درست ہے یا نہیں ؟
۱…صورتِ مسئولہ میں پاکستانی ہزار روپے کے بدلے خریدے گئے 100 آر-ایم-بی کو گیارہ سو میں بیچ کر نفع کمانا درست ہے، بشرطیکہ دونوں کرنسیوں میں سے کسی ایک پر مجلس عقد میں قبضہ پایا جائے، اور آگے بیچنے سے پہلے آر-ایم-بی پر قبضہ پایا جائے۔
۲…واضح رہے کہ مختلف ممالک کی کرنسیوں کے درمیان باہم تبادلے کے وقت مجلس عقد میں دونوں کرنسیوں میں سے کسی ایک پر قبضہ ضروری ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ پہلے عقد میں نہ تو آپ نے سو(100) آر-ایم-بی پر قبضہ کیا، اور نہ ہی زید نے ہزار (1000) پاکستانی روپیوں پر قبضہ کیا، تو پہلا معاملہ ہی درست نہ ہوا، لہذا ان سو(100)آر-ایم-بی کو آگے بیچ کر نفع کمانا بھی درست نہ ہوا۔لما في التنزيل العزيز:[يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ].(النساء:59)وفي بدائع الصنائع:’’ولو لم يوجد القبض إلا من أحد الجانبين دون الآخر فافترقا مضى العقد على الصحة لأن المقبوض صار عينا بالقبض فكان افتراقا عن عين بدين وإنه جائز إذا لم يتضمن ربا النساء ولم يتضمن ههنا لانعدام القدر المتفق والجنس... ولو قبض أحد البدلين في المجلس فافترقا قبل قبض الآخر ذكر الكرخي أنه لا يبطل العقد لأن اشتراط القبض من الجانبين من خصائص الصرف وهذا ليس بصرف فيكتفي فيه بالقبض من أحد الجانبين لأن به يخرج عن كونه افتراقا عن دين بدين‘‘.(كتاب البيوع، أحكام الفلوس: 4 /487،488، دار الكتب العلمية بيروت)وفي الأصل:عن ابن عمر أنه قال:’’نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن بيع الدين بالدين‘‘.(كتاب البيوع، باب زيادة العطاء والدين بالدين وغيره: 51/3، دار ابن حزم)وفي فقه البيوع:’’فالحاصل: أنه إن بيعت الفلوس بجنسها يشترط التقابض، لا لكونه صرفا، بل لوجود علتي الربا، وهو الجنس، أما إذا بيعت بخلاف جنسها جاز بقبض أحد البدلين في المجلس، ولم يجز دون ذلك‘‘.(هل الأثمان الاصطلاحية يجري فيها الصرف: 685/2، مكتبة معارف القران،كراتشي).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:193/43