بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ہمارا مقصد زندگی

ہمارا مقصد زندگی

محترم رانا اعجاز حسین

دورجدید کی حیرت انگیز ایجادات کے منفی استعمال کے باعث بہت سے مسلمان فسق وفجور میں اتنے مبتلا ہوچکے کہ ان کے پاس عبادت وذکر الٰہی کی فرصت بھی نہ رہی اور اس سنگین صورت حال کی وجہ سے آج ہمارے معاشرے میں رزق کی تنگی اور معاشی بد حالی عروج پر ر ہے اور ہر دوسرا تیسرا شخص اخراجات پورے نہ ہونے کا شکوہ کرتا نظر آتا ہے۔ حدیث قدسی ہے خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، اے آدم کے بیٹے! تو میری عبادت کے لیے اپنے آپ کو فارغ کر لے، میں تیرے کو مال داری سے بھر دوں گا اور تری محتاجی کو دور کردوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے دل کو دنیا کے دھندوں سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کو دور نہ کروں گا۔“(مسند احمد ، الترمذی) اسی طرح صحیح ابن ماجہ میں حدیث قدسی ہے، فرمان الٰہی ہے”ابن آدم ! تو میری عبادت کے لیے یک سو ہو جا، تو میں تیرا سینہ بے نیازی سے بھردوں گا اور تیری محتاجی دور کردوں گا ، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا۔“

درج بالا حدیث قدسی آنکھیں کھولنے اور بصیرت حاصل کرنے کے لیے کافی ہے ۔ اس کے ذریعہ ہمیں یہ نصیحت ملتی ہے کہ عبادت اور اعمال صالحہ کو دنیا پر ترجیح دیتے ہوئے خود کو عبادت ، جو مقصد تخلیق ہے، اس کے لیے فارغ کرنا چاہیے۔ جو ایسا نہیں کرے گا اس کا نقصان بھی یہاں پر بتادیا گیا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو دنیا میں مزید الجھا کے، بے پناہ مشغول کردے گا اور مال کی برکت سلب کر کے محتاجی کے ایسے احساس میں مبتلا کردے گا کہ دولت ہوتے ہوئے ہمیشہ دولت کی کمی اور بھو ک محسوس ہوگی۔ اسی چیز کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں اس طرح بیان فرمایا:”جس شخص کی نیت اور اس کا مقصد آخرت کی طلب ہو تو اللہ تعالیٰ غنی ومال داری سے اس کے دل کو بھردے گا اور اس کے پرا گندہ حال کو درست کر دے گا اور اس کے پاس دنیا ذلیل ہو کر آئے گی اور جس کی نیت وسعی عمل دنیا طلب کرنا ہوگا تو اللہ تعالیٰ فقر ومحتاجی کو اس کے سامنے کر دے گا، اس کے حال کو پرا گندہ کردے گا اور دنیا سے اس کو اسی قدر ملے گا جس قدر اس کے لیے پہلے سے مقدر ہوچکی ہے۔“(سنن الترمذی، مسند احمد)

قرآن مجید فرقان حمید کی سورة المنافقون آیت 9میں حکم الٰہی ہے :”اے ایمان والو!تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کریں وہ بڑے ہی زیاں کا ر لوگ ہیں“۔ اس سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ہر کسی کو ہر حال میں وقت نکالنا ہوگا، خواہ وہ کتنا بھی مصروف اور منہمک آدمی کیوں نہ ہو۔ ایسا کرنے سے رب کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے اور زندگی کا مقصد پورا ہوتا ہے۔ دنیا کی مختصر زندگی دراصل آخرت کی تیاری کا ایک موقع ہے اور جو دنیاوی مشغولیت کو ہی ترجیح دیتا ہے، اپنی مصروفیات میں سے عبادت کے لیے خود کو فارغ نہیں کرتا ہے، ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے نا فرمان ہیں۔ انہیں اس نافرمانی کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی ملے گی۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ رب کی بندگی کے علاوہ کسی کو فرصت کے اوقات نصیب ہوں تو ان کو غنیمت جان کر فائدہ اٹھانا چاہیے، کیوں کہ انسان کی زندگی سے وقت ختم ہوتیہی وہ دنیا سے اٹھ جاتا ہے اور ایسی دنیا کی طرف کوچ کرجاتا ہے جہاں سے پھر لوٹ کر نہیں آنا۔ یاد رکھیں کہ جوانی، صحت ، مال داری، فرصت اور زندگی کی بڑی اہمیت ہے۔ چناں چہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مال داری کو محتاجی سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے“۔

بلاشبہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جن وانس کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، باقی دنیا کی تمام چیزیں اس لیے بنائی ہیں کہ بندہ عبادت کے کام میں ان سے مدد حاصل کرے۔ انسانی زندگی کا اصل مقصد صحت بنانا، مال جمع کرنا اور لہو ولعب نہیں۔ اس لیے ہر بندے کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ عبادت الٰہی میں گزارے، اس کی ساری فکر اور پوری سعی اسی مقصد کے لیے ہونی چاہیے ، جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس فکر وسعی کی برکت سے اس کے تمام معاملات درست اور سارے امور قابل اطمینان رہیں گے۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ عبادت تو اللہ تعالیٰ کے لیے ہو اور باقی معاملات میں وہ آزاد ہے، بلکہ اصل یہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ وہ سوتا اس لیے ہے، تاکہ عبادت میں راحت محسوس کرے، وہ کھاتا اس لیے ہے کہ عبادت کے لیے قوت حاصل کرے، وہ کماتا اس لیے ہے کہ اپنی اور اللہ کے بندوں کی ضرورتوں اور حاجتوں کو پورا کرے۔ لہٰذا یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بندہ مال کمانے میں اس قدر لگ جائے کہ عبودیت کے اصل مظاہر جیسے نماز ، روزہ وغیرہ میں کوتاہی ہونے لگے، سونے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کرے کہ عبادت کا وقت فوت ہوجائے، کھانے کا اس قدر رسیاہو جائے کہ فرائض کو چھوڑدے، ایسا ہو تو بندے نے اپنی زندگی کے اصل مقصد کو کھو دیا اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے صحیح راستہ سے بھٹک گیا، نتیجتاً وہ کبھی بھی کام یاب نہ ہوگا۔ کاش! آج کا مسلمان درج بالا فرمان الٰہی کو سمجھتا اوراپنے مقصد زندگی کو پہچانتا اور دنیا کی حقیقت کو جان لیتا تو اس کے تمام مسائل حل ہوجاتے ، اس کے یہاں بے اطمینانی دور اور محتاجی ختم ہوجاتی اور وہ دنیا میں پر امن وپر سکون زندگی بسر کرتا ۔