
جیسا کہ سب کومعلوم ہے کہ آج کل میڈیا اور ٹی وی چینلوں پر یہودی لابی، ان کے وفاداروں اور نمک خواروں کا قبضہ ہے، وہ اسلام اور احکام اسلام کومسخ کرکے پیش کرتے ہیں، وہ مسلمانوں کو تشدد پسند، دہشت گرد اوراسلام کو ناقابل عمل دین ومذہب باور کراتے ہیں، اسی طرح وہ روز مرہ مسائل اور عقائد ونظریات پرجو مکالمے دکھاتے ہیں، اس میں بھی باطل اور باطل پرستوں کے عقائد و نظریات کو حق و صواب اوراہلِ حق کے موقف کو اس طرح بے وزن کرکے پیش کرتے ہیں کہ سیدھا سادا قاری حق و سچ اور باطل وجھوٹ میں امتیاز نہیں کرپاتا، وہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگتا ہے، بلکہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ اوراہلِ حق سے وابستہ افراد بھی اپنے عقائد ونظریات کے سلسلہ میں شکوک وشبہات کا شکارہوجاتے ہیں اور یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ہمیں جو کچھ بتلایا اور پڑھایا گیا تھا، شاید حقائق اس سے مختلف ہیں، ایسی پریشان کن صورت حال سے بے چین ہوکر، دین کا درد رکھنے والے مسلمانوں کی خواہش اور شدید تقاضا ہے کہ اہلِ حق علماء کو ان ٹی وی پروگراموں میںآ نا چاہیے اور اس فتنہ کامقابلہ اس میدان میں اترکر کرنا چاہیے اور عوام کواصل حقائق سے آگاہ کرنا چاہیے اور ٹی وی، سی ڈیز اور کیبل چینلز کے جواز کا فتویٰ دے دینا چاہیے، چناں چہ ایسے ہی ملی درد رکھنے والے بعض علماء سے بھی سنا گیا ہے کہ اب تو ٹی وی، سی ڈیز اور کیبل چینلز کی اس دلدل اور کیچڑ میں گھس کر اس میں غرق ہونے والے مسلمانوں کو نکالنا چاہیے، اگراس سے تغافل برتا گیا تو وہ دن دور نہیں جب اسلام اور اسلامی اقدار کا تشخص نابود ہوجائے۔
ان ہم دردانِ قوم ووطن اور دین وملت کا اصرار ہے کہ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کوئی ایسا اسلامی چینل کھولا جائے جس کو دیکھ کر مسلمان اپنا دین، مذہب اورایمان وعقیدہ محفوظ رکھ سکیں اوراس کے ذریعے مادر پدر آزاد اور لادین ٹی وی چینلوں کے زہر اگلتے پروگراموں سے نئی نسل کو محفوظ کیا جاسکے اور دین ومذہب، ایمان وعقیدہ اور علم وعمل کو قرآن وسنت کی کسوٹی پر رکھ کر دنیا بھر کی مسلم امت کی راہ نمائی کی جاسکے۔
دیکھا جائے تو ان ”مخلصین“ کی فکر و سوچ اخلاص پر مبنی ہے اور ان کا جذبہ صادق ہے اور بادی النظر میں ایسا کرنے کی ضرورت بھی ہے، اس لیے کہ ٹی وی اور سی ڈیز کے مادر پدر آزاد پروگرام، لچر وواہیات ڈرامے، ننگی فلمیں اور حیاسوز مناظر اتنا نقصان نہیں پہنچا رہے، جتنا یہ نام نہاد دینی پروگرام مسلمانوں کے عقائد ونظریات کو برباد کررہے ہیں، اس لیے کہ کوئی شخص فلم کو نیکی اورثواب سمجھ کر نہیں دیکھتا اور نہ ہی اس کے کرداروں کو حق وصواب جان کر اپناتا ہے، بلکہ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی ان کو قبیح، بُرا اور گناہ سمجھ کر دیکھتا ہے، جب کہ اس کے برعکس ان نام نہاد پروگراموں کو دینی اور مذہبی پروگرام سمجھ کر دیکھا جاتا ہے اور ان کی روشنی میں ہی ناظرین اپنی زندگی کے خطوط متعین کرتے ہیں، اس لیے اگر یہ کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ ٹی وی چینلوں کے نام نہاد دینی پروگرام نئی نسل کے لیے ننگی اور بلیوپرنٹ فلموں سے بھی زیادہ نقصان دہ ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس کا سدباب کیونکر اور کیسے ہو؟ اس سلسلہ میں دو قسم کی آرا پائی جاتی ہیں، ایک طبقہ کاخیال ہے کہ ٹی وی چینل میں ثقہ علماء کو آنا چاہیے اور ٹی وی کے میدان میں اتر کر دشمنانِ دین سے دو بدو مقابلہ کرنا چاہیے یا پھر اپنا الگ ٹی وی چینل قائم کرکے اس کا توڑ کرنا چاہیے، جیسا کہ سطور بالا میں عرض کیا جاچکا ہے۔
مگر علمائے امت کی ایک قابل اعتماد جماعت کو اس سے نہ صرف اختلاف ہے بلکہ شدید ترین اختلاف ہے، ان کا موقف ہے اور بالکل بجا موقف ہے کہ:
1- ان السیئة لا تدفع بالسیئة گناہ کا ازالہ گناہ سے نہیں کیاجاسکتا۔ لہٰذا ٹی وی پر آکر ٹی وی کی خباثتوں کا سدباب کرنا، ایساہی غلط ہے جیسے پیشاب کی غلاظت کو پیشاب سے دھونا یا پیشاب کی ناپاکی کو پیشاب سے پاک کرنا، جیسے یہ غلط ہے ایسے وہ بھی غلط ہے۔
2- ٹی وی اور سی ڈیز کا کوئی پروگرام تصویر کے بغیر نہیں ہوتا اور تصویر بنانا یا بنوانا مطلقاً ناجائز اور حرام ہے، اس پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے، تصویر خواہ پرانے اور دقیانوسی زمانے کے لوگوں کے ہاتھ کی بنائی ہوئی ہو یا جدید سائنسی اور ترقی یافتہ دور کی، اس کی حرمت پر پوری امت کا اجماع ہے۔
3- تصویر سازی پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بدترین عذاب کی وعید ارشاد فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ: قیامت کے دن تصویر بنانے والوں سے کہا جائے گا کہ دنیا میں تم نے جان دار کی تصویر بناکر میری ہمسری اوربرابری کی کوشش کی تھی، لہٰذا آج اس تصویر میں روح پھونک کر اوراس کو زندہ کرکے دکھلاؤ۔
ظاہرہے یہ انسانی اختیار میں نہیں ہوگا تواس کی پاداش میں ان کو سخت ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اس وضاحت کے بعد کیا کوئی عقل مند انسان اس کی جرأت کرسکتا ہے کہ جان بوجھ کر عذابِ الٰہی کو گلے لگائے؟
4- چوں کہ ٹی وی اور ڈی وی ڈی کی وضع اور ساخت ہی لہو ولعب کے لیے ہے،اس لیے ان کو دینی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف غلط ہے، بلکہ دین کی توہین و بے حرمتی کے مترادف ہے۔ اس لیے کہ اگر شریعت مطہرہ نے شراب کے مخصوص برتن مثلاً حنتم، دباء، نقیر، مزفت کو پاک کرکے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی؛ بلکہ ان کو توڑنے کا صرف اس لیے حکم فرمایا کہ وہ شراب کی علامت اور ایک حرام مشروب کے لیے مخصوص وموضوع تھے، جیسا کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس کی آمد پر بطور خاص ان برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا، جیسا کہ ارشاد ہے:
”ونہاہم عن اربع: عن الحنتم والدباء والنقیر والمزفت“ (بخاری، ص:13)
”یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو شراب کے لیے مخصوص وموضوع چار قسم کے برتنوں: حنتم، دباء، نقیر اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا تھا۔“
اگر شریعت مطہرہ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حرام وناپاک مشروب کے لیے مخصوص برتنوں یا شراب کی علامت شمار ہونے والے ظروف کو استعمال کرنے یا ان سے نفع اٹھانے کی اجازت نہیں دی، تو ٹی وی، ڈی وی ڈی یا اس طرح کی دوسری چیزیں جو لہو ولعب کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال ہی نہیں ہوتیں، ان سے نفع اٹھانے کی کیونکر اجازت ہوگی؟ یا ان کے ذریعہ دعوت و تبلیغ کی اجازت کیونکر دی جاسکتی ہے؟
5- اسی طرح یہ منطق بھی ناقابلِ فہم ہے کہ دوسروں کو گناہ اور گم راہی سے بچانے کے لیے خود اسی گناہ اور گم راہی کی راہ کو اختیار کرلیا جائے، جس سے دوسروں کو منع کیا جارہا تھا، کیا کوئی معمولی عقل وفہم کا انسان یہ گوارا کرسکتا ہے کہ ایک گناہ کو دور کرنے کے لیے دوسرے گناہ کا ارتکاب کیا جائے؟ جب کوئی شخص دوسرے کی زندگی بچانے کے لیے اپنی دنیاوی زندگی داؤ پر نہیں لگاسکتا تو محض اس امکان پر کہ شاید دوسرا راہِ راست پر آجائے، کیا اپنی آخرت کی دائمی زندگی برباد کی جاسکتی ہے؟ یا اس کو داؤ پر لگایا جاسکتا ہے؟ یا کوئی اس کے لیے تیار ہوگا؟ اگرکوئی عقل مند ایسا کرے تو شرعاً، اخلاقاً اس کی گنجائش ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے اوریقینا نفی میں ہے تو علماء کو اس خودکشی کا درس کیوں دیا جاتا ہے؟ اوراگر جواب اثبات میں ہے تو کیا آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک کی چودہ صدیوں سے اس کی کوئی ایک آدھ مثال پیش کی جاسکتی ہے کہ کسی نے دوسرے کی ہدایت کی خواہش پر خود گم راہی اختیار کرلی ہو؟ اگر ایک لمحہ کے لیے اس کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو کیا شریعت اس کی اجازت دیتی ہے یا انسان اس کا مکلف ہے؟ نہیں، نہیں، ہرگز نہیں۔
6- اگر علمائے کرام اور مقتدیانِ ملت ٹی وی پر آناشروع کردیں تو سوال یہ ہے کہ پھر عوام کواس آلہ لہوولعب کی تباہ کاریوں سے کیسے بچایاجاسکے گا؟ بلکہ اس وقت تو معاملہ اور بھی مشکل اور سنگین ہوجائے گا، جب علمائے کرام خود ٹی وی کی اسکرین پر تشریف فرماہوں گے اور دوسروں کو اس کے دیکھنے اوراستعمال کرنے سے منع فرمارہے ہوں گے، کیا اس وقت ان کا روکنا ممکن ہوگا یا ان کی تلقین موثر ہوگی؟
اسی طرح دنیا بھر میں امت مسلمہ کی ایک قابل قدرجماعت آج تک اس کے استعمال کو ناجائز اور نئی نسل کے لیے مہلک و سم قاتل سمجھتی آئی ہے، کیا اس اجازت یا نرمی سے وہ متاثر نہیں ہوگی؟ کیا ان گھروں میں جدید تہذیب یا بے دینی کے داخلہ کے ذمہ دار وہ علماء نہیں ہوں گے جو ٹی وی کے جواز کے لیے کوشاں ہیں؟
7- بالفرض اگر علمائے کرام عوام کو اس سے روکنا بھی چاہیں، تو کیا عوام کو یہ کہنے کا حق نہیں ہوگا کہ جس طرح آپ دینی پروگراموں کے لیے ٹی وی پر تشریف لاتے ہیں اوریہ جائز ہے تو اگر ہم نے محض دینی پروگرام دیکھنے کی غرض سے ٹی وی خریدا ہے اور اس غرض سے ٹی وی دیکھتے ہیں، تو یہ کیونکر ناجائز ہے؟ بتلایاجائے اس کا کیا جواب ہوگا؟
اگر بالفرض علمائے کرام جائز پروگرام دیکھنے کے لیے ٹی وی کو جائز قرار دے دیں اور ٹی وی گھروں میں گھس جائے تو پھر اس کی کیا ضمانت ہے کہ اس پر لچر،واہیات، فحش اورایمان سوز پروگرام نہیں دیکھے جائیں گے؟ یا اس پر دنیاجہاں کی ننگی فلمیں نہیں دیکھی جائیں گی؟ کیا اس سے گناہ اور بدکاری کی راہ نہ کھل جائے گی؟ کیا گھر میں ٹی وی آجانے کے بعد جائز وناجائز کی تحقیق ثانوی درجہ میں نہیں چلی جائے گی؟
8- اگر علمائے کرام ٹی وی پروگراموں میں آنا شروع کردیں اور ٹی وی مباحثوں میں شریک بھی ہونا شروع کردیں تواس کی کیا ضمانت ہے کہ یہود وہنود کی اولاد، علماء کے افکار و ارشادات کو ہوبہو ٹی وی میں نقل بھی کردیں؟
جب کہ صورت حال یہ ہے کہ بارہاایساہوا ہے کہ جب کسی عالم دین نے حقائق کا اظہار کرنا شروع کیا تو نہ صرف اس کو بولنے کا موقع نہیں دیاگیا؛ بلکہ اس کی جوبات ٹی وی اور بین الاقوامی قوتوں کے ذوق ومزاج کے خلاف تھی، اسے سنسر کردیاگیا۔ چناں چہ طالبان حکومت کے موقع پر حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید اسی قسم کے ایک مکالمہ میں شریک ہوئے، تو انھوں نے خود بتلایا کہ مذاکرے کا میزبان پہلے تو مجھے بولنے نہیں دے رہا تھا، جب میں نے بولنا شروع کیا تواس نے بارہا میری بات کاٹنے کی کوشش کی، لیکن جب میں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا تو اگرچہ اس نے مداخلت تو بند کردی، لیکن میرے انٹرویو کے وہ حصے جو حکومت اور بین الاقوامی قوتوں کے ذوق ومزاج کے خلاف تھے، حذف کردیے گئے، چناں چہ حضرت مفتی صاحب مرحوم نے خود فرمایا کہ: ”میں نے سوچا تھا کہ شاید اس طرح عوام کے سامنے حقائق آجائیں گے․․․ اور اسی لیے میں شریک بھی ہواتھا․․․ مگر بعد میں اندازہ ہوا کہ میری سوچ صحیح نہیں تھی اورایسے پروگراموں میں شریک ہونا درست نہیں؛ کیوں کہ ان مذاکروں کا مقصد حقائق کی نشان دہی نہیں؛ بلکہ حقائق کومسخ کرنا ہوتا ہے۔“
9- دنیا جانتی ہے کہ ٹی وی اور سی ڈیز کا مقصد اصلاح نہیں، بگاڑ ہے، بلکہ دیکھاجائے تو ٹی وی اورڈی وی ڈی کا مقصد مغربی تہذیب وتمدن اور لادین کلچر کا فروغ ہے، ظاہر ہے جس پروگرام میں دین وشریعت اوراسلامی تہذیب وتمدن کی صحیح صحیح نشان دہی کی جائے گی، اسے یہودی لابی اور ان کے ایجنٹ کیونکر برداشت کرسکیں گے؟
10- اگر بالفرض مسلمان اپنا ٹی وی چینل ایجاد کرلیں تو سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جان داروں کی تصویر کے ہوتے ہوئے وہ کیونکر جائز ہوجائے گا؟ اور تصویر کے بارہ میں حکم شرعی پہلے آچکاہے۔
چلو اگر ایک منٹ کے لیے تصویر کوبرداشت بھی کرلیاجائے تو کیا عام ناظرین ایسے ٹی وی چینل کو دیکھنا پسند کریں گے؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو بتلایا جائے کہ محراب و منبر کی آواز پر کان کیوں نہیں دھرے جاتے؟ حالاں کہ محراب ومنبر سے بھی یہی بات کہی جاتی ہے، آپ ہی بتلائیے کہ جو بات محراب و منبر سے کہنے پر نہیں سنی جاتی وہ ٹی وی سے کیوں سنی جائے گی؟ دراصل لوگ ٹی وی دیکھتے ہی صرف اس لیے ہیں کہ ٹی وی اسکرین پر ”اور بہت کچھ“ دیکھنے کو ملتا ہے جومحراب و منبر سے نہیں دیکھاجاسکتا، لہٰذا ایساٹی وی جس میں عوام کی مطلوبہ رنگینی نہیں ہوگی اس کو کوئی بھی نہیں دیکھے گا۔
عوام کی اس رنگین مزاجی پر میراثی کا وہ لطیفہ بالکل فٹ بیٹھتا ہے، جس میں اس نے اہلِ جنت وجہنم کی نشان دہی کرتے ہوئے اپنے سامعین کو مخاطب کرکے کہا:
”ارے سنتے ہو! ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ میں مرگیا ہوں،مجھے دفن کردیاگیا، میرا حساب و کتاب ہوا تو فرشتوں نے کہا: تیرے گناہ اورنیکیاں برابر ہیں، جہاں چاہے، تجھے بھیج دیتے ہیں، میں نے مولویوں سے سن رکھا تھا کہ جنت بہت اچھی جگہ ہے،اس لیے میں نے کہا: مجھے جنت بھیج دو، جب مجھے جنت لے جایا گیا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا، وہاں کوئی رونق تھی نہ راگ و رنگ تھا اورنہ تفریح طبع کا دوسرا سامان، پس مسجد کے میاں جی، چند داڑھیوں والے جن کے ہاتھ میں لوٹے اورمصلّے تھے یا پھر علاقے کے غریب غربا اور بس۔
میں نے فرشتوں سے کہا: اس سے کوئی اچھی جگہ بھی ہے؟ انھوں نے کہا اس سے اچھی جگہ تو کوئی نہیں، البتہ اگر چاہوتو تمہیں جہنم دکھاسکتے ہیں، میں نے کہا ضرور! چناں چہ جب مجھے جہنم لے جایا گیا تو کیا دیکھتا ہوں: اپنے گاؤں کے چودھری صاحب، ملک صاحب، خان صاحب علاقہ کے سارے نامی گرامی لوگ موجود تھے، وہاں کچھ گلو کارائیں گانا گارہی تھیں اورکچھ اداکارائیں ناچ بھی رہی تھیں، محفل جمی ہوئی تھی، چلم بھری تھی اور سارے روشن خیال اور ترقی پسند دوست و احباب جمع تھے، وہاں جاکر تو مزہ ہی آگیا۔“
اگرچہ یہ ایک لطیفہ ہے، لیکن اگر غور کیا جائے تو عوام آج کل اس رنگینی کی تلاش میں ہیں، چاہے اس کے لیے ان کو جہنم ہی کیوں نہ جانا پڑے اور ان کو سادگی اور خالص دین و شریعت کے پروگرام ناقابل قبول ہیں، چاہے اس کے عوض جنت ہی کیوں نہ ملتی ہو۔
چلو اس کو بھی مان لیاجائے کہ لوگ ”خالص دینی اور شرعی ٹی وی“ کو دیکھیں گے تو سوال یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ اور بین الاقوامی لابیاں اس چینل کو چلنے بھی دیں گی؟ نہیں، ہرگز نہیں، چناں چہ ”الجزیرہ“ ٹی وی کی نشریات کاجام کیا جانا سب کے سامنے ہے، اس کے علاوہ کیا وہ ٹی وی چینل پوری دنیا کے ٹی وی قوانین کی مخالفت مول لے کر اپنا کام جاری رکھ سکے گا؟ نہیں، نہیں، ہرگز نہیں، چناں چہ اس کے لیے افغانستان کی طالبان حکومت بطور مثال کافی ہے کہ امریکا بہادر اور اس کے اتحادیوں نے اس کی اینٹ سے اینٹ صرف اور صرف اس لیے بجائی ہے کہ وہ بین الاقوامی کافرانہ نظام کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں تھی، ٹھیک اسی طرح ایسے ٹی وی چینل کا بھی حشر ہوگا۔
11- رہی یہ بات کہ اربابِ کفر والحاد نے اگر ٹی وی کو اسلام کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا ہے تو کیوں نہ ہم بھی اس کو اشاعت اسلام کے لیے استعمال کریں؟ بنظر ظاہر یہ جذبہ نیک ہے، مگر اس میں مشکل وہی پیش آتی ہے کہ اشاعت اسلام کے لیے کسی ناجائز اور حرام ذریعہ کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
اگر اشاعت اسلام کے لیے ناجائز ذرائع کے اپنانے کی اجازت ہوتی تو چوروں کی اصلاح کے لیے چوروں اور زانیوں کی اصلاح کے لیے زانیوں کے گروہ میں شامل ہونا بلکہ کافروں کی اصلاح کے لیے کافروں کے گروہ میں شامل ہونا بھی جائز ہوتا، مگر دنیا جانتی ہے کہ دنیا کاکوئی مہذب قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔
اس کے علاوہ اگر بالفرض اشاعت اسلام کے لیے کسی منکر، ناجائز اورحرام کو اپنانے کی اجازت بھی دے دی جائے تو کیاآئندہ کے لیے نہی عن المنکر کا دروازہ بند نہیں ہوجائے گا؟ اس لیے کہ ہر مجرم اپنے جرم کی یہی تاویل اور جواز پیش کرے گا کہ میں نے یہ سب کچھ اسلام کی اشاعت کے لیے کیا ہے، چناں چہ جہاں کہیں کوئی چور، ڈاکو، زانی، شرابی یا قاتل رنگے ہاتھوں پکڑا جائے گا، وہ یہ کہہ کر چھوٹ جائے گا کہ میں چور، زانی، ڈاکو، شرابی اور قاتل نہیں ہوں، بلکہ میں نے تو ان لوگوں کی اصلاح کے لیے یہ شکل اختیار کررکھی ہے، بتلایاجائے اس سے سارا معاشرہ جرائم اور گناہوں کی آماج گاہ نہیں بن جائے گا؟
12- اشاعت اسلام کے لیے ہم اس کے تو مکلف ہیں کہ جتنے حلال وجائز اسباب و ذرائع مہیا ہوں ان کو ممکنہ حد تک استعمال کریں اور کفر وباطل کی راہ روکنے کی کوشش کریں، لیکن اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ ہم خواہ مخواہ نت نئے انداز اور جائز وناجائز حربے استعمال کرنے کی سعی وکوشش میں ہلکان ہوا کریں۔
اگر اس کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اجازت دیتے اور وہ تمام اسباب و ذرائع جو کفر و شرک کی اشاعت میں استعمال ہوتے ہیں، ان کی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اجازت ہوتی، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔
چناں چہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو اغوائے انسانی کے لیے اولاد آدم کے قلوب میں وساوس ڈالنے، دور بیٹھ کر ان پر تسلط حاصل کرنے کا اختیار دیا ہے، مگر نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار نہیں دیا گیا، اسی طرح حدیث نبوی کے مطابق: شیطان انسان کے بدن میں ایسے دوڑتا ہے جیسے خون دوڑتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانی خون میں دوڑنے کی اجازت تھی؟ نہیں، ہرگز نہیں۔
ایسے ہی شیطان انسانی قلوب واذہان کی اسکرین پر اپنے وساوس کے ذریعے گناہوں اور بدکاریوں کی ننگی اور بلیو پرنٹ فلم دکھاکر ان کوگناہوں اور بدکاریوں پر آمادہ کرتا ہے، جب کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانی قلوب و اذہان پر تسلط نہیں دیاگیا، بلکہ فرمایا گیا: ﴿ان انت الا نذیر﴾ (فاطر:23) ”آپ تو صرف ڈرسنانے والے ہیں“ اسی طرح دوسری جگہ فرمایا: ﴿لست علیہم بمصیطر﴾ (غاشیہ:22) ”یعنی آپ ان کے نگراں نہیں ہیں کہ نہ مانیں تو آپ سے پوچھ ہوگی“۔
اگر اس کی اجازت یا ضرورت ہوتی جس قدر شیطان کو کفر وشرک کی اشاعت کے لیے یہ قوت و استعداد دی گئی تھی،اس سے زیادہ ضروری تھا کہا آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اشاعت اسلام کے لیے ان چیزوں سے نوازا جاتا، مگر جب اللہ تعالیٰ نے اس کی ضرورت نہیں سمجھی تو کیا نعوذ باللہ! ہم اللہ تعالیٰ سے زیادہ اشاعت اسلام کے خواہاں اور انسانوں کی ہدایت وراہ نمائی کے لیے فکرمند ہیں؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں، تو ہمیں شرعی حدود سے نکل کر اشاعت اسلام کے لیے زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔
13- اسی طرح ٹی وی کے جواز اور ضرورت کے لیے یہ استدلال بھی کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا کہ اگر ہم نے ٹی وی پر آکر مسلمانوں کی راہ نمائی نہ کی تو لادین قوتیں اس کو دین کے بگاڑنے کے لیے استعمال کریں گی اوراسلام کا حلیہ بگڑجائے گا اوراسلام اپنی اصلی حالت میں باقی نہیں رہے گا۔
اس لیے کہ سنت اللہ یہی چلی آئی ہے کہ بے شک اسلام کو ڈھانے اور مٹانے کی کوششیں تو ضرور ہوں گی اور ہوتی بھی آئی ہیں، مگر اسلام ختم ہوجائے یااس میں تحریف ہوجائے یا اس کا حلیہ بگڑ جائے یا اسلام اپنی اصلی حالت میں نہ رہے، ایسا ناممکن ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ”مسلمانوں میں ایک جماعت ایسی رہے گی جو اسلام کو اصلی حالت پر برقرار رکھنے میں محنت و کوشش کرتی رہے گی اوراہل ہوا و بدعت کی اڑائی دھول کو صاف کرتی رہے گی اور ان پر کسی مخالفت گر کی مخالفت کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔“
چناں چہ سوا چودہ سو سال ہوگئے ہیں، الحمدللہ! آج بھی اسلام اسی طرح تروتازہ ہے۔ حتی کہ شیطان کے انسانی قلوب پر تسلط حاصل ہونے کے باوجود اگر آج تک اسلام محفوظ ہے تو آئندہ بھی انشاء اللہ محفوظ ہی رہے گا اور آئندہ بھی اس کو تحریف سے بچایاجائے گا۔
14- ٹی وی اور ویڈیو فلم سے تبلیغ کا کام لینا یوں بھی ناقابل فہم ہے کہ ٹی وی دیکھنے والے کسی نیک جذبے اوراصلاح کی غرض سے یہ پروگرام نہیں دیکھتے، بلکہ تفریح طبع کے لیے یہ پروگرام دیکھے جاتے ہیں، اس لیے کہ دنیا جانتی ہے کہ ٹی وی پر آنے والے لوگ قابل اعتماد اور ثقہ نہیں، بلکہ بازاری اور شہرت کے خواہاں ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج تک نہیں سناگیا کہ کسی نے ٹی وی کی ”برکت“ سے اسلام قبول کیا ہو، اس سلسلہ میں حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدرحمہ اللہ کا ایک جواب پڑھیے اور سردھنیے!
”یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ویڈیو فلم اور ٹی وی سے تبلیغ اسلام کا کام لیاجاتا ہے، ہمارے یہاں ٹی وی پر دینی پروگرام بھی آتے ہیں، لیکن کیا میں بڑے ادب سے پوچھ سکتا ہوں کہ ان دینی پروگراموں کو دیکھ کر کتنے غیرمسلم دائرئہ اسلام میں داخل ہوگئے؟ کتنے بے نمازیوں نے نماز شروع کردی؟ کتنے گناہ گاروں نے گناہوں سے توبہ کرلی؟ لہٰذا یہ محض دھوکا ہے، فواحش کا یہ آلہ جو سرتاپا نجس العین ہے اور ملعون ہے اور جس کے بنانے والے دنیا وآخرت میں ملعون ہیں، وہ تبلیغ اسلام میں کیا کام دے گا؟ بلکہ ٹی وی کے یہ دینی پروگرام گم راہی پھیلانے کا ایک مستقل ذریعہ ہیں، شیعہ، مرزائی، ملحد، کمیونسٹ اور ناپختہ علم لوگ ان دینی پروگراموں کے لیے ٹی وی پر جاتے ہیں اور اناپ شناپ جو ان کے منھ میں آتا ہے کہتے ہیں، کوئی ان پر پابندی لگانے والا نہیں اور کوئی صحیح وغلط کے درمیان تمیز کرنے والا نہیں، اب فرمایا جائے کہ یہ اسلام کی تبلیغ واشاعت ہورہی ہے یا اسلام کے حسین چہرے کو مسخ کیا جارہا ہے؟؟ رہا یہ سوال کہ فلاں یہ کہتے ہیں اوریہ کرتے ہیں، یہ ہمارے لیے جواز کی دلیل نہیں۔“ (آپ کے مسائل اور ان کا حل،ج:7،ص:398)
15- علماء کو ٹی وی پر آنے کے مشورہ کو اس زاویہ سے بھی دیکھنا چاہیے کہ خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسروں کی اصلاح کی فکر میں ٹی وی پر آنے والے حضرات خود ہی بے وزن ہوجائیں، اس لیے عین ممکن ہے کہ یہ بھی ایک شیطانی چال ہو کہ جو حضرات ٹی وی پر آنا شروع کریں گے کم از کم وہ متفق علیہ تو نہیں رہیں گے، خصوصاً جو حضرات ٹی وی کی حرمت کے قائل ہیں، ان کے ہاں ایسے حضرات کے کسی قول، فعل اور عمل بلکہ فتویٰ کا کوئی اعتبار نہیں رہے گا، گویا دوسروں کی اصلاح ہو یا نہ ہو، کم از کم یہ تو متنازعہ بن جائیں اور کیوں کہ ہادیانِ قوم ووطن کا متنازعہ بن جانا، شیطان اوراس کے پجاریوں کے لیے بہت بڑی فتح ہے۔ اس لیے کہ باطل پرستوں کی کبھی یہ خواہش نہیں رہی کہ مسلمان، کافر یا مشرک بن جائے، بلکہ ان کی خواہش اور کوشش یہ رہی ہے کہ مسلمان، مسلمان نہ رہے، یا کم از کم قابل اعتماد نہ رہے، اگرایسا ہو تو سوچنا چاہیے کہ ٹی وی پر آنے والے اوراس کے جواز کے قائل علماء جب ٹی وی پر آئیں گے تو وہ اپنے موقف کی حقانیت وصداقت اور مخالفین کی تغلیط فرمائیں گے، ٹھیک اسی طرح جو حضرات مخالف ہوں گے، وہ بھی اپنے موقف کو دلائل و شواہد سے مبرہن کریں گے اور اپنے مخالفین کے موقف کی تغلیط کریں گے جو ان کا فطری اورمنطقی حق ہے یوں اختلافات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا اور اہل حق کے آپس میں دست و گریبان ہوتے ہی اسلام دشمنوں کا مقصد پوراہوجائے گا، کیوں کہ وہ دراصل مسلم امہ اور علماء کے اتفاق و اتحاد سے ہی سب سے زیادہ خائف اور الرجک ہیں۔
16- ٹی وی پر وعظ و بیان اور تقریر ومکالمہ کی ضرورت پر زور دینے والوں کو اس اندازسے بھی سوچنا چاہیے کہ جس اسٹیج اور جس جگہ پر عصیان وطغیان پر مبنی حیا سوز اورایمان کش فلمیں، لچر واہیات پروگرام اور گانے گائے جاتے ہوں اور وہاں ”خدا کے لیے“ جیسی خالص کافرانہ اور ملحدانہ فلمیں اور ڈرامے دکھائے جاتے ہوں، وہاں اللہ کا پاک، پاکیزہ کلام، احادیث مبارکہ اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی لیکچروں کا سنانا اور دکھانا جائز بھی ہوگا؟ کہیں یہ قرآن و سنت اور دین و شریعت کی توہین و تنقیص یا سوء ادبی تو نہیں ہوگی؟
کیوں کہ سیّد ابراہیم الدسوقی رحمة اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ:
”اپنے منھ کو تلاوت قرآن مجید کے لیے پاک و صاف رکھا کرو، کیوں کہ جو شخص منھ کو حرام بات یا حرام کھانے سے آلودہ کرکے بغیر توبہ کے قرآن مجید پڑھنے لگے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی قرآن کو ناپاکی پر رکھے، ایسے آدمی کا جو حکم ہونا چاہیے وہ سب کو معلوم ہے، بعض اولیاء اپنے مشاہدے میں اس کو باطنی گندگیوں سے زیادہ پلید دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔“ (معارف بہلوی ص:41،ج:4)
نیز اس پر بھی غور فرمایاجائے کہ گندی اورناپاک جگہ اور غلاظت خانہ یا باتھ روم میں اللہ کا ذکر کرنا اگر ممنوع ہے تو ٹی وی ایسے غلاظت کدہ میں کیا اس کی اجازت ہوگی؟
واللّٰہ یقول الحق وہو یہدی السبیل وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین!