وضوء میں پاوٴں دھونے پر اہل سنت کے دلائل

idara letterhead universal2c

وضوء میں پاوٴں دھونے پر اہل سنت کے دلائل

 شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم الله خان

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاةِ فاغْسِلُواْ وُجُوہَکُمْ وَأَیْْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ وَإِن کُنتُمْ جُنُباً فَاطَّہَّرُواْ وَإِن کُنتُم مَّرْضَی أَوْ عَلَی سَفَرٍ أَوْ جَاء أَحَدٌ مَّنکُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاء فَلَمْ تَجِدُواْ مَاء فَتَیَمَّمُواْ صَعِیْداً طَیِّباً فَامْسَحُواْ بِوُجُوہِکُمْ وَأَیْْدِیْکُم مِّنْہُ مَا یُرِیْدُ اللّہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْْکُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَکِن یُرِیْدُ لِیُطَہَّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ(6) وَاذْکُرُواْ نِعْمَةَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُم بِہِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُواْ اللّہَ إِنَّ اللّہَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ(7) یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ لِلّہِ شُہَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی وَاتَّقُواْ اللّہَ إِنَّ اللّہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ(8) وَعَدَ اللّہُ الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ لَہُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِیْمٌ(9) وَالَّذِیْنَ کَفَرُواْ وَکَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا أُوْلَئِکَ أَصْحَابُ الْجَحِیْمِ(10) یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اذْکُرُواْ نِعْمَتَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ ہَمَّ قَوْمٌ أَن یَبْسُطُواْ إِلَیْْکُمْ أَیْْدِیَہُمْ فَکَفَّ أَیْْدِیَہُمْ عَنکُمْ وَاتَّقُواْ اللّہَ وَعَلَی اللّہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ(11)

اے ایمان والو! جب تم اٹھو نماز کو تو دھو لو اپنے منھ اور ہاتھ کہنیوں تک اور مَل لو اپنے سر کو اور پاوٴں ٹخنوں تک اور اگر تم کو جنابت ہو تو خوب طرح پاک ہو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں یا تم میں کوئی آیا ہے جائے ضرور سے یا پاس گئے ہو عورتوں کے، پھر نہ پاوٴ تم پانی تو قصد کرو مٹی پاک کا اور مَل لو اپنے منھ اور ہاتھ اس سے، اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر تنگی کرے، لیکن چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور پورا کرے اپنا احسان تم پر، تاکہ تم احسان مانو۔ اور یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر اور عہد اس کا جو تم سے ٹھہرایا تھا جب تم نے کہا تھا ہم نے سنا اور مانا اور ڈرتے رہو اللہ سے، اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات، اے ایمان والو! کھڑے ہوجایا کرو اللہ کے واسطے گواہی دینے کو انصاف کی اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہر گز نہ چھوڑو، عدل کرو، یہی بات زیادہ نزدیک ہے تقوی سے اور ڈرتے رہو اللہ سے، اللہ کو خوب خبر ہے جو تم کرتے ہو، وعدہ کیا اللہ نے ایمان والوں سے اور جو نیک عمل کرتے ہیں کہ ان کے واسطے بخشش اور بڑا ثواب ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور جھٹلائیں ہماری آیتیں، وہ ہیں دوزخ والے، اے ایمان والو! یاد رکھو احسان اللہ کا اپنے اوپر، جب قصد کیا لوگوں نے کہ تم پر ہاتھ چلاویں، پھر روک دیے تم سے ان کے ہاتھ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور اللہ ہی پر چاہیے بھروسہ ایمان والوں کو۔

شان نزول آیت وضو

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم مدینہ میں آرہے تھے، مقام بیداء میں میرا ہار گر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو بٹھا دیا اور اونٹنی سے اتر گئے، میری گود میں سر رکھ کر سوگئے، حضرت ابو بکر تشریف لائے اور زور سے گھونسے مارتے ہوئے کہنے لگے تم نے اپنے ہار کی وجہ سے سب کو ٹھہرا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام میں خلل آنے کا خدشہ مجھے موت لگ رہا تھا، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے، صبح ہوچکی تھی، پانی تلاش کیا گیا، مگر پانی نہیں ملا، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاةِ﴾ (المائدة) حضرت اسید بن حضیر نے کہا: اے آل ابوبکر اللہ تعالی نے لوگوں کے لیے تم میں برکت رکھی ہے، تمہارا وجود ان کے لیے محض برکت ہے۔ (صحیح البخاري، رقم الحدیث: 4608)

آیت وضو سے پہلے نمازیں بغیر وضو کے پڑھی جاتی تھیں؟

﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاةِ﴾

اس آیت کریمہ میں وضو کے فرائض بیان کیے گئے۔ وضو کے چار فرائض ہیں۔ 1- چہرہ دھونا، 2- دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔ 3- چوتھائی حصہ سر کا مسح کرنا۔ 4- دونوں پاوٴں ٹخنوں سمیت دھونا۔

اس آیت کریمہ میں وضو اور تیمم دونوں کا تذکرہ ہے اور تیمم کا تذکرہ سورت النساء میں بھی ہے، اس لیے اہل علم میں اختلاف ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہار گم ہونے پر تیمم کی اجازت پر سورت النساء کی آیت کریمہ نازل ہوئی تھی یا سورت مائدہ کی آیتِ تیمم؟ ما قبل مذکور شان نزول میں صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے ہار گم ہونے پر تیمم کے متعلق سورہ مائدہ کی آیت نازل ہوئی تھی۔ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی شرح میں صراحت کی ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بنی المصطلق میں پیش آیا تھا۔ جس کا دوسرا نام غزوہ مریسیع بھی ہے۔ (فتح الباري، ذیل حدیث: 334)

اور مورخین کے نزدیک یہ واقعہ چھے ہجری کا ہے یا پانچ ہجری کا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نماز تو مکہ مکرمہ میں فرض ہوئی تھی اور آیت وضو چھے یا پانچ ہجری میں نازل ہوئی ہے، کیا اس سے قبل بلا وضو نماز پڑھی جاتی تھی؟

اس کا جواب یہ ہے نماز ہمیشہ وضو سے پڑھی جاتی رہی، آیت وضو سے پہلے سنت مبارکہ سے وضو کا طریقہ سب کو معلوم تھا۔ آپ علیہ السلام اور ما قبل انبیاء علیہم السلام میں وضو کی مشروعیت رہی ہے، چناں چہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور ایک ایک مرتبہ وضو کے اعضا کو دھویا، پھر فرمایا: یہ وضو کا ایسا طریقہ ہے جس کے بغیر اللہ تعالی نماز کو قبول نہیں فرماتا، پھر آپ نے پانی منگوایا اور دو دو مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا، پھر فرمایا: جس نے اس طرح وضو کیا اس کے لیے دگنا اجر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کے بعد پانی منگوایا اور اس سے اعضائے وضو کو تین تین بار دھویا اور فرمایا: یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کا وضو ہے۔ (سنن دار قطنی، رقم الحدیث: 257، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث: 420)

اس حدیث مبارکہ میں وضو کا پہلا طریقہ بتا کر واضح کیا گیا کہ اس طرح کے وضو کے بغیر اللہ تعالی کوئی نماز قبول نہیں فرماتا۔ اس لیے صحابہ کرام کو فرضیتِ نماز کے ساتھ سنت کے ذریعے وضو کی تعلیم دی گئی تھی۔ بعد میں آیت وضو نے اس وضو کو موٴکّد کردیا ہے۔

چناں چہ علامہ حصکفی فرماتے ہیں۔
”آیت وضو اجماعاً مدنی ہے اور تمام اہل سیر کا اجماع ہے کہ وضو اور غسل مکہ مکرمہ میں نماز کے ساتھ فرض ہوگئے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بغیر وضو کے نماز نہیں پڑھی، بلکہ ہم سے پہلی کی تمام شریعتوں میں بھی وضو فرض تھا، کیوں کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے“۔ اور فقہ کا اصول ہے جب اللہ تعالی اور اس کا رسول کوئی قصہ بغیر انکار کے بیان فرمادیں تو وہ ہماری بھی شریعت کا حصہ بن جاتا ہے اور اس آیت کے نزول کا فائدہ یہ ہوا جو حکم پہلے سے ثابت شدہ تھا وہ مزید پختہ اور ثابت ہوگیا۔ (الدر المختار مع رد المحتار: 1/61، 62)

غسلِ رِجلین میں اہل سنت کا موقف

وضو میں پیروں کو دھونے کا حکم ہے یا مسح کرنے کا؟ اس میں اہل سنت اور اہل تشیع میں اختلاف ہے۔ اہل سنت کے نزدیک وضو میں پیروں کو دھونے کا حکم ہے اور اگر پیر نہ دھوئے گئے، محض اس پر مسح کیا گیا تو اس سے وضو نہیں ہوگا اور نہ ہی ایسے وضو سے نماز ادا ہوگی۔ دلائل درج ذیل ہیں۔

1- قرآن کریم

آیت کریمہ میں ”أرجلَکم“ نحوی ترکیب میں منصوب ہے اور اس کا عطف وجوھکم وأیدیکم پر ہورہا ہے۔ اور وہ بھی منصوب ہیں اور فاغسلوا کا مفعول بہ بن رہے ہیں۔ لہٰذا دھونے کا حکم جس طرح چہرے اور ہاتھوں کا ہے اسی طرح دھونے کا حکم پیروں کے لیے بھی ثابت ہورہا ہے۔

2- احادیث مبارکہ

احادیث مبارکہ سے پیروں کو دھونے کا حکم دو طریقے سے ثابت ہوتا ہے۔ ایک ایسی احادیث سے جن میں آپ علیہ السلام نے عملا وضو کرتے ہوئے پیروں کو دھویا اور اسے اپنے وضو کا طریقہ بتلایا۔ دوسرا ان احادیث سے پیر دھونے کا حکم ثابت ہوتا ہے جن میں آپ علیہ السلام نے وضو میں پاوٴں کے خشک رہنے پر وعید بیان فرمائی۔

قسم اول کی احادیث

1- حضرت عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ (ایک طویل روایت میں) بیان فرماتے ہیں… میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! مجھے وضو کے متعلق بتلائیے! آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم میں سے جو شخص بھی ثواب کی نیت کی سے وضو کرتا ہے، کلی کرتا ہے، ناک میں پانی ڈالتا ہے، ناک صاف کرتا ہے، اللہ تعالی اس کے چہرے منھ اور نتھنوں کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، پھر جب وہ اللہ تعالی کے حکم کے مطابق چہرہ دھوتا ہے تو داڑھی کے اطراف سے اس کے چہرے کے گناہ پانی سے جھڑ جاتے ہیں اور جب وہ ٹخنوں سمیت پاوٴں دھوتا ہے تو پوروں سے لے کر ٹا نگوں تک اس کے گناہ پانی سے جھڑ جاتے ہیں الخ۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 832، السنن الکبری للبیھقي: رقم الحدیث: 4178)

2- حضرت ابو امامہ سے روایت سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص نماز کے ارادے سے وضو شروع کرتا ہے اور اپنی ہتھیلیوں کو دھوتا ہے، پہلے قطرے کے ساتھ اس کی ہتھیلیوں کے تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں، ناک میں پانی ڈالتا ہے اور ناک جھاڑتا ہے تو اس کی زبان اور ہونٹوں کے تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں اور جب اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کے تمام گناہ پہلے قطرے کے ساتھ اس کے کان اور آنکھ سے نکل جاتے ہیں اور جب اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک اور پاوٴں کو ٹخنوں تک دھوتا ہے تو وہ ہر گناہ سے محفوظ ہوچکا ہوتا ہے اور اس حالت میں ہوجاتا ہے جس میں اس کی ماں نے اسے جنا تھا․․․․ ۔ (مسند احمد بن حنبل، رقم الحدیث: 22321)

3- دوسری روایت میں حضرت ابو امامہ بیان فرماتے ہیں: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: جس نے مکمل وضو کیا، اپنے ہاتھوں اور چہرے کو دھویا، سر اور کانوں کا مسح کیا، پھر فرض نماز ادا کی، اس کے اس دن کے وہ تمام گناہ معاف کردے جاتے ہیں جو اس کے پاوٴں نے چل کر، ہاتھوں نے پکڑ کر، کانوں نے سن کر یا آنکھوں نے دیکھ کر کیے اور اس کے دل نے برے ارادے کیے․․․․۔ (مسند احمد بن حنبل، رقم الحدیث: 22326)

4- سنن دار قطنی کی حدیث ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے ․․․․ پھر آپ علیہ السلام نے تھوڑی دیر کے بعد پانی منگوایا اور اس سے اعضائے وضو کو تین تین بار دھویا اور فرمایا یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کا وضو ہے۔ (سنن دار قطني، رقم الحدیث: 257)

دیگر احادیث سے واضح ہوا کہ پاوٴں کو دھونا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

5- حضرت مستورد بن شداد فرماتے ہیں: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، ”إذا توضأ یدلک أصابع رجلیہ بخنصرہ“۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے پیروں کی انگلیوں کا خلال کرتے۔ (سنن أبي داود)

قسم ثانی کی احادیث

1- حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ ایک سفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے، عین عصر کے وقت آپ علیہ السلام ہم سے آملے۔ ہم وضو کرنے اور اپنے پاوٴں پر مسح کرنے لگے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے دو یا تین مرتبہ فرمایا: ویلٌ للأعقاب من النار“ خشک ایڑھیوں کے لیے ”ویلٌ“ ہلاکت ہے۔ (صحیح البخاري، رقم الحدیث: 163، صحیح مسلم، رقم الحدیث: 241)

2- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا، اس نے اپنی ایڑھیاں نہیں دھوئی تھیں تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: خشک ایڑھیوں کے لیے ہلاکت ہے۔ (صحیح البخاري، رقم الحدیث: 165)

صحیح مسلم کے الفاظ میں ویل للعراقیب من النار ہے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 242)

3- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے بھائی عبد الرحمن سے فرمایا: وضو اچھی طرح کیا کرو، کیوں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: خشک ایڑھیوں کے لیے ہلاکت ہے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 240)

3- اجماع امت

1- عبد الملک بن ابو سلیمان نے تابعی امام عطا بن ابو رباح رحمة اللہ علیہ سے پوچھا، ہل علمت احداً من اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یمسح قدمیہ؟ کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کو جانتے ہیں جو پاوٴں پر مسح کرتے ہوں؟ تو انہوں نے فرمایا: لا، واللّٰہ! ما أعلمہ“ اللہ کی قسم میں کسی ایسے صحابی کو نہیں جانتا۔ (الطہور لأبي عبید القاسم بن سلام: ص 335، شرح معانی الاٰثار للطحاوی: 1/34)

2- امام حکم بن عتیبہ تابعی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: مضتِ السنة من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والمسلمین یعنی بغسل القدمین۔ (مصنف ابن أبي شیبہ: 1/18) وضو میں پاوٴں دھونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی متواتر سنت ہے۔

3- امام ابن منذر رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں۔
وقد أجمع عوامّ اہل العلم علی أن الذي یجب علی من لّا خُفَّ علیہ غسل القدمین إلی الکعبین، وقد ثبتت الاخبار بذلک عن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم وعن أصحابہ․ (الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف: 1/413)

عام اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ جس شخص نے موزے نہ پہن رکھے ہوں اس پر ٹخنوں تک پاوٴں کو دھونا فرض ہے۔ اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور صحابہ کرام کے آثار ثابت ہیں۔

4- ابن العربی مالکی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
ہذہ سنة اتفق المسلمون علیہا، وروی الأئمة الاحادیث الصحاح فیھا․ (عارضة الأحوذي: 1/58)

5-امام نووی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:
وأجمع العلماء علی وجوب غسل الوجہ والیدین والرجلین، واستیعاب جمیعھما بالغسل، وانفردت الرافضة عن العلماء، فقالوا: الواجب في الرجلین المسح، وہذا خطأ منہم․ (شرح صحیح مسلم: 3/107)

وضو میں چہرے، دونوں ہاتھوں اور دونوں پاوٴں کو مکمل دھونا واجب ہے، اس پر علمائے کرام کا اجماع ہے، لیکن رافضی اس مسئلے میں اہل علم سے جدا ہوگئے۔ ان کا کہنا ہے وضو میں پاوٴں پر مسح واجب ہے: یہ ان کی خطا ہے۔

6- ابن کثیر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ہذہ الاٰیة الکریمة دالة علی وجوب غسل الرجلین مع ما ثبت بالتواتر من فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی وفق ما دلّت ہذہ الآیة الکریمة، وہم مخالفون لذلک کلہ، ولیس لہم دلیل صحیح في نفس الأمر․ (تفسیر ابن کثیر، المائدة: ذیل آیت: 6)

یہ آیت کریمہ وضو میں پاوٴں دھونے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، پھر تواتر کے ساتھ اس آیت کریمہ کے موافق آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی ثابت ہوگیا۔ رافضی ان سب دلائل کی مخالفت کرتے ہیں، حالاں کہ ان کے پاس حقیقت میں کوئی بھی صحیح دلیل نہیں ہے۔ (جاری ہے)

کتاب ہدایت سے متعلق