بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

والدین کے حقوق

والدین کے حقوق

مولانا اشہد رشیدی

عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أصبح مطیعا في والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من الجنة، و إن کان واحدا فواحدا، و من أمسی عاصیا للہ في والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من النار، و إن کان واحدا فواحدا․ قال الرجل: و إن ظلماہ؟ قال: و إن ظلماہ، و إن ظلماہ و إن ظلماہ․ (رواہ البیھقي)

حضرت ابن عباس نقل کرتے ہیں، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص جس نے صبح کی اس حال میں کہ وہ والدین کے حقوق ادا کرنے میں الله کی اطاعت کرنے والا تھا تو اس کے لیے جنت کے دو دورازے کھول دیے جائیں گے اور اگر والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ حسن سلوک کیا ہے (ایک ہی اس کو زندہ ملا ہو) تو جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا اور وہ شخص جس نے صبح کی ہو الله کی نافرمانی کرتے ہوئے والدین کی حق تلفی کے ساتھ تو اس کے لیے جہنم کے دو دروازے کھول دیے جائیں گے، اگر کسی ایک کی حق تلفی کی ہے تو جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا، پوچھنے والے نے سوال کیا کہ اگرچہ والدین اولاد پر کتنا ہی ظلم کیوں نہ کریں؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا کہ وہ کتنا ہی ظلم اولاد پر کیوں نہ کریں ،پھر بھی ان کے حقوق کی ادائیگی فرض ہے۔

تشریح: آخرت کی کام یابی کو حاصل کرنے کے لیے حقوق الله کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی لازم اور ضروری ہے، آج کل حقوق العباد میں بڑی کوتاہی کی جارہی ہے ،حالاں کہ کل قیامت کے دن الله کے حقوق میں کی گئی کوتاہی معاف کی جاسکتی ہے، لیکن حقوق العباد کی پامالی کو کسی طرح معاف نہیں کیا جائے گا۔ حقوق العبادمیں سب سے اہم حق والدین کا ہے، جن کے ساتھ ہر موقع پر حسن سلوک کا حکم دیاگیا ہے، اس کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ متعدد آیات میں الله رب العزت نے انسانوں کو اپنی عبادت کے ساتھ ملا کر دوسرے نمبر پر والدین کے ساتھ اچھے برتاؤ کا حکم دیا ہے ،گویا الله کے نزدیک خدا وحدہ لاشریک کی پرستش اورعبادت کے بعد سب سے عظیم الشان نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے ماں باپ کے حقوق کو ادا کرنے میں لگ جائے۔ ارشاد باری ہے:﴿وَقَضَیٰ رَبُّکَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَاناً﴾․

اور آپ کا رب آپ کو یہ حکم دیتا ہے کہ ہر انسان الله کے سوا کسی کی پرستش نہ کرے اور والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔

والدین کے ساتھ حسن سلوک کیوں؟
فطرت سلیمہ اور عقل انسان کو اپنے محسن کے ساتھ خیر او ربھلائی کرنے پر ابھارتی ہے ،خواہ اس نے کتنا ہی چھوٹا احسان کیوں نہ کیا ہو، ایک انسان پر الله رب العزت کے بعد سب سے بڑا احسان والدین کا ہوتا ہے، جس کے بدلہ میں اسلام نے ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیاہے، کیوں کہ جو شخص انسان کے احسانات کو نہیں پہچان سکے گا او راس کی شکر گزاری نہیں کرپائے گا وہ اپنے رب کے احسانات کو کیوں کر پہچان پائے گا اوراس کی اطاعت کیسے کرسکے گا؟! جیسا کہ ارشاد نبوی صلی الله علیہ وسلم ہے:

”من لم یشکر الناس لم یشکر الله“:جو شخص انسانوں کا شکریہ نہ ادا کرسکے تو وہ الله کا شکر کیا ادا کرے گا محسن کے احسان کا بدلہ ادا کرنے کا جذبہ صرف انسانوں میں ہی نہیں، بلکہ جانوروں میں بھی ہوتا ہے، جس سے جانوروں کے پالنے والے افراد بخوبی واقف ہیں، الله رب العزت نے قرآن کریم میں اسی فطری جذبہ کا اظہار کرتے ہوئے ایک جگہ ارشاد فرمایا:
﴿ھل جزاء الإحسان إلاحسان﴾احسان کے بدلے میں احسان کرنا ہی چاہیے۔

پیدائش سے پہلے سے لے کر بلوغ کے مرحلے تک ہر موقع پر انسان والدین کے احسانات سے ان گنت فائدے اٹھاتا ہے، یہی وہ والدین ہیں جو اس کی ایک کراہ پر بیتاب ہو اٹھتے ہیں، اپنی نیند، آرام اور ہزاروں خواہشوں کو تج کرکے اولاد کی پرورش کرتے ہیں، اپنا پیٹ کاٹ کر ان کو پالتے ہیں اور ہر طرح کی مشقت ودشواریاں جھیل کر ان کو سکھ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، باپ کی شفقت او رماں کی محبت کی چھاؤں میں انسان پل بڑھ کر جوان ہوتا ہے اگر خدانخواستہ کوئی معصوم بچہ اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک سے محروم ہو جاتا ہے تو وہ جوان ، صحت مند اور پڑھا لکھا ہونے کے باوجود اپنی زندگی میں ایک ایسا خلا محسوس کرتا ہے جس کو دنیا کی کوئی چیز پر نہیں کر پاتی، کیوں کہ تقدیر الہٰی سے اس کو دنیا کی بیش بہا نعمتیں دست یاب ہو جانے کے باوجود والدین کی شفقتوں سے محرومی کا احساس اوربچپن کی تلخ یادیں آخر عمر تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ الله رب العزت نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے ان کے احسانات کو بھی ذکر فرمایا، گویا فطری طور پر انسان کے اندر احسان کا بدلہ چکانے کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ﴿وَوَصَّیْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ أُمُّہُ وَہْنًا عَلَیٰ وَہْنٍ وَفِصَالُہُ فِی عَامَیْنِ أَنِ اشْکُرْ لِی وَلِوَالِدَیْکَ إِلَیَّ الْمَصِیرُ ﴾․(سورہٴ لقمان:14) ترجمہ:” ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا، اس کی ماں نے اس کو ضعف اور کم زوری کے باوجود اپنے پیٹ میں اٹھائے رکھا اور دو سال اس کو اپنا خون جگر پلایا، میرا شکریہ ادا کرو او راپنے والدین کا اور میری طرف واپس لوٹ کر آنا ہے“۔

اس آیت کریمہ میں الله رب العزت نے خاص طو رپر ماں کے دو احسانات ذکرکیے،جن میں اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں ہے ۔ یہی وہ ماں ہے جو نو مہینے بچے کو پیٹ میں رکھتی ہے اس کو چلنے میں تکلیف، بیٹھنے میں تکلیف، سونے میں کھانے پینے میں تکلیف لیکن وہ بخوشی ان تمام تکالیف کو برداشت کرتی ہے او رپھر موت وزیست کے مرحلے سے گزر کر ایک جیتے جاگتے انسان کو جنم دیتی ہے، اس کی آزمائش کا دورا بھی ختم نہیں ہوا،بلکہ اب اس کی مشقتوں نے نیا روپ دھار لیا، اب وہ سوتی ہے تو بچہ کی نیند کے ساتھ، اٹھتی ہے تو بچہ کے لیے، کھاتی پیتی ہے تو بچہ کے ساتھ اور یہی نہیں بلکہ اپنا خون جگر پلا کر اس کی پرورش کرتی ہے، اس کا جذبہ تو صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کی ہر خواہش کو پورا کرے او راس کو ہر طرح کی تکلیف او رپریشانی سے بچائے، کیا ہے کوئی اس طرح کی بے لوث محبت کرنے والا ؟کیا والدین سے بڑھ کر کوئی مخلصانہ محبت کا اظہار سکتا ہے؟ کیا باپ سے زیادہ اپنی اولاد کی خیر خواہی کوئی اور کرسکتا ہے؟ کیا شفقت اور سختی ، محبت او رکڑی نگرانی، پیار اور بے راہ روی پرروک ٹوک کی ذمہ داری صحیح معنوں میں باپ کے علاوہ کوئی اور ادا کرسکتا ہے؟ یہ وہ احسانات ہیں جن کی وجہ سے ہر انسان کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہی چاہیے۔

والدین کے ساتھ نیکی او ربھلائی کا اجروثواب
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بہت سی روایات میں والدین کے ساتھ حسن سلوک پر ملنے والے اجروثواب کو ذکر فرمایا ہے۔ موت کی تیاری کرنے والے او رآخرت کی کام یابیاں حاصل کرنے کی جدوجہد کرنے والے حضرات کو خاص طور پر ان کی جانب توجہ دینی چاہیےدرج بالا روایت میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم مطیع اور فرماں بردار اولاد کی اخروی کام یابی کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے والدین کی اطاعت اور فرماں برداری کرتے ہوئے اپنے دن کا آغاز کیا اس کے استقبال کے لیے جنت کے دو دروازے کھول دیے جائیں گے وہ جس سے چاہے داخل ہو جائے۔ ایک ایمان والے کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ وہ جہنم سے بچ جائے اورجنت کا مستحق بن جائے ،تمام عبادات کا مقصود یہ ہے اور ہر طرح کے گناہ سے بچنے کا راز بھی یہی ہے ۔نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے اس فرمان کے بموجب والدین کی فرماں برداری وہ عظیم نیکی ہے جو انسان کو جنت کا مستحق بنا دیتی ہے او رجہنم سے آزادی کا پروانہ دلادیتی ہے ایک روایت میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم والدین کے اوپر محبت بھری نظر ڈالنے کا اجروثواب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”مامن ولد بارٍ ینظر إلی والدیہ نظرة رحمة إلا کتب الله لہ بکل نظرة حجة مبرورة، قالوا: وان نظر کل یوم مأة مرة؟ قال: نعم الله أکبر وأطیب“․(رواہ البیھقی)

جب کوئی فرماں بردار بیٹا اپنے والدین پر محبت بھری نظر ڈالتا ہے تو الله تعالیٰ ہر نظر کے بدلے میں اس کے لیے ایک مقبول حج کا ثواب نامہٴ اعمال میں لکھ دیتا ہے ( صحابہ کرام کو یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی، چناں چہ سوال کرتے ہوئے) کہنے لگے کہ اگرچہ وہ بچہ ایک دن میں سو مرتبہ محبت بھری نظر ڈالے، تب بھی اس کو ہر بار حج مبرور کا ثواب ملے گا؟آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیوں نہیں! الله رب العزت بہت بڑا ہے، اس کے خزانہ میں کوئی کمی نہیں، وہ اپنے وعدہ کے مطابق ہر بار اتنا ہی ثواب عطا کرے گا ،اس میں کسی طرح کی کوئی کوتاہی نہیں کی جائے گی۔

ایک صحابی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس شریک جہاد ہونے کی اجازت لینے کے لیے حاضر ہوئے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:

ھل لک من أم․ کیا تمہاری ماں ہیں؟ ان صحابی نے فرمایا کہ جی ہاں! یا رسول الله میر ی ماں حیات ہیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

فالزمھا فإن الجنة عند رجلیھا․ تم ان کے ساتھ لگے رہو، خدمت کرتے رہو، کیوں کہ ان کے قدموں میں جنت ہے۔ یعنی ماں کے ساتھ نہایت تواضع او رانکساری سے پیش آؤ، اپنی آواز کو اس کے سامنے پست رکھو، اپنے کندھوں کو اس کے سامنے جھکائے رکھو، اس کی اطاعت وفرماں برداری میں لگے رہو اور ہر طرح سے اپنے آپ کو اس کے سامنے جھکا دو تو جنت کے راستے پر گام زن ہوجاؤ گے، گویا جہاد پر آنے والے صحابی کو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے جنت تک پہنچنے کے لیے اس راستے کو اپنانے کی ترغیب دے کر تمام امت مسلمہ کے سامنے والدین کی فرماں برداری کی اہمیت کو اجاگرکر دیا۔

والدین کی نافرمانی کی نحوست اور وبال
جس طرح ماں باپ سے حسن سلوک کااجروثواب بہت بڑھا ہوا ہے، اسی طرح ان کی نافرمانی کا گناہ بھی بڑا زبردست ہے، چناں چہ درج بالا روایت میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم والدین کی نافرمانی کرنے والے شخص کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔

من أصبح عاصیا لله في والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من النار․ جو شخص الله سے حکم عدولی کرتے ہوئے والدین کے ساتھ بدسلوکی کرے ،اس کے لیے جہنم کے دو دروازے کھول دیے جائیں گے، گویا اس کی مغفرت کے دروازے بند ہو گئے، وہ جنت سے محروم ہو گیا او رجہنم کو اس کا مسکن اور ٹھکانہ بنا دیا گیا۔ آپ کے اس ارشاد کو سن کر ایک شخص نے یہ سوال کیا کہ یا رسول الله ! اگر والدین اپنی اولا دپر ظلم کر رہے ہوں تب بھی نافرمانی کرنے پر جہنم میں اس کو جھونک دیا جائے گا ؟آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگرچہ وہ کتنا ہی ظلم کیوں نہ کریں، تب بھی ان کے ساتھ کسی قیمت پر بد سلوکی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بوڑھے والدین کی خدمت اورفرماں برداری تو کیا کی جاتی ان کو اولڈ ہومز میں منتقل کر دیا جاتا ہے اورپھر مہینوں ان کی خبرگیری نہیں کی جاتی اور یہ وبا اب یورپ سے چل کرکے ایشیائی ممالک میں بھی بڑی تیری سے پھیلتی جارہی ہے ،جس کے نتیجہ میں آفات سماویہ نے ساری دنیا کو اپنے گھیرے میں لے لیا او ربربادیاں پھیلتی جارہی ہیں، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ایک روایت میں زلزلوں، آندھیوں اور دیگر آسمانی آفات کے اسباب کا تذکرہ کرتے ہوئے پندرہ برائیوں کو ذکر فرماتیہیں، جن کے پھیل جانے پر دنیا تباہی سے دو چار ہو گی، ان میں سے دو کا تعلق ماں اور باپ کی نافرمانیوں سے ہے۔ ارشاد نبوی ہے۔

برصدیقہ وجفا أباہ․ انسان اپنے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے، خندہ پیشانی سے پیش آئے اور باپ کے ساتھ بدسلوکی کرے تو سمجھ لو کہ اس عالم کو تباہی سے اب کوئی نہیں بچاسکتا ہےماں کی نافرمانی کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرماتے ہیں:

أطاع الرجل زوجتہ وعق أمہ: آدمی اپنی بیوی کی فرماں برداری کرنے لگے او راپنی ماں کی نافرمانی میں مصروف ہو جائے۔ گویا روئے زمین پر رونما ہونے والے گناہوں میں سے یہ ایسا گناہ ہے جس کے عام ہونے پر نظام عالم درہم برہم ہو جائے گا، پہاڑ اپنی جگہ کو چھوڑ دے گا، زمین پیروں تلے سے کھسکنے لگے گی، آبادیوں کی آبادی زندہ دفن ہو جائیں گی، آسمان سے اترنے والی آفتیں انسان کو آگھیریں گی اور فرار کے تمام راستے بند ہو جائیں گےیہ اس وقت ہو گا جب کہ والدین کی نافرمانی کا گناہ عام ہوجائے گا اوراگر عمومی طو رپر اس گناہ میں لوگ مبتلا نہ ہوں، لیکن انفرادی طورپر کچھ لوگ اس گناہ میں مبتلا ہوں تو انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ ان گناہوں میں سے ہے کہ جس کی سزا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی من جانب الله دے دی جاتی ہے او رانسان شدید ترین عذاب الہٰی میں گرفتار ہوتا ہے، اس کو کاروبار کی برکتوں ،آل اولاد کی خوشیوں اور ذہنی چین وسکون سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ چناں چہ ارشاد نبوی صلی الله علیہ وسلم ہے:”کل الذنوب یغفر الله ماشاء إلا عقوق الوالدین، فإنہ یعجل لصاحبہ في الحیاة قبل المماة․(رواہ البیہقی)

ترجمہ:”الله رب العزت گناہوں میں سے جس کو چاہے گا معاف کردے گا، سوائے والدین کی نافرمانی کے اور نافرمان شخص کو موت سے پہلے زندگی میں بھی گرفتار عذاب کیا جائے گا“۔

الله تعالیٰ ہم سب کو والدین کی فرماں برداری کی توفیق عطا فرمائے، ان کی حق تلفی کے گناہ سے ہماری حفاظت فرمائے اور دنیا وآخرت کی ناکامیوں اور محرومیوں سے ہمیں اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین ثم آمین!