
ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہل سنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)
ذبح شرعی کی تعریف
شریعت مطہرہ میں ذبح کے احکام دو طرح کے ہیں:
1۔ ذبح کرنے والے سے متعلق
پہلی شرط: ذبح کرنے والے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ عاقل ، بالغ، مسلمان یا وہ کتابی (یہودی، نصرانی) ہو جو واقعی آسمانی کتاب پر ایمان رکھتا ہو، وہ دہریہ اور زنادقہ، جو صرف قومی نسبت، یہودیت ومسیحیت کی طرف کرتے ہیں ان کا ذبیحہ حلال نہیں ہو۔ اگر بچہ ذبح کرنے والا سمجھ دار ہے، ذبح کی حقیقت سے واقف ہے تو اس کا ذبیحہ بھی درست ہے۔ نیز ذابح مُحرِمْ نہ ہو اور حرم سے باہر ہو۔
دوسری شرط: ذبح کرنے والا ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لے۔ ذبح کے وقت اللہ کانام لینے کے ثبوت پر کئی آیات ہیں:۔
1 ﴿فکُلُوا مِمَّا ذُکِر اسمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ﴾(الانعام:118) (سو تم کھاوٴ اس جانور میں سے جس پر نام لیا گیا ہے اللہ)۔
2 ﴿وَلاَ تَأْکُلُواْ مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ﴾(الانعام: 121) (اور اس میں سے نہ کھاوٴ جس پر نام نہیں لیا گیا اللہ کا)۔
3 ﴿وَمَا لَکُمْ أَلاَّ تَأْکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ﴾(الانعام:119) (اور کیا سبب کہ تم نہیں کھاتے اس جانور میں سے کہ جس پر نام لیا گیا ہے اللہ کا) ۔
4 ﴿وَلِکُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَکاً لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ عَلَی مَا رَزَقَہُم مِّن بَہِیْمَةِ الْأَنْعَامِ﴾(ج:34) (اور ہر امت کے واسطے ہم نے مقرر کر دی ہے قربانی کہ یاد کریں اللہ کے نام ذبح پر چوپایوں کے جو ان کو اللہ نے دے)۔
2۔ مذبوحہ جانوروں کے متعلق
پہلی شرط: جس جانور کو ذبح کیا جارہا ہے وہ شرعًا حلال بھی ہو اور زندہ بھی ہو۔
دوسری شرط: اسے جبڑے اور نرخرے کے درمیان ذبح کر کے اس کی رگیں کاٹی جائیں، کیوں کہ جبڑے اور نرخرے کے درمیانی مقام میں رگیں جمع ہوتی ہیں۔ (قال سعید بن جبیر عن ابن عباس: الذکاة في الحلق واللبة․ صحیح البخاری، کتاب الذبائح والصید، باب النحر والذبح) ذبح شرعی میں چار رگیں یا تین رگیں کٹنا ضروری ہیں،
1-حلقوم، خون کی نالی، 2- مری، کھانے پینے کی نالی، 3- ودجان: گردن کے دونوں طرف سے خون بہنے کی دو نالیاں۔
یہ تمام تر تفصیل ذبح اختیاری سے متعلق ہے۔ ذبح اضطراری میں اللہ کا نام لے کر آلہ جارحہ سے جانور کو زخمی کر کے مار دینا ہی ذبح کہلا تا ہے۔
غیر اللہ کے لیے جانور ذبح کرنے کی چند صورتیں
﴿وما أہل بہ لغیر اللّٰہ․․․․﴾ اس آیت کریمہ میں واضح کیا گیا ہے کہ جس جانور کو اللہ کے علاوہ کسی کے لیے نام زد کردیا گیا ہو وہ حرام ہے۔ ذیل میں چند صورتیں بیان کر کے ان کا حکم بیان کیا جاتا ہے۔
1۔ ایصال ثواب کے طور پر جانور کسی کے نام موسوم کرنا
کسی زندہ یا فوت شدہ مسلمان کے ایصال ثواب کے لیے جانور ذبح کرنا جائز ہے اور اس جانور کو ان کے نام موسوم کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں، کیوں کہ یہ نسبت محض تعارف کے لیے ہوتی ہے۔ اس میں تعظیم مقصود نہیں ہوتی۔ جیسے فلاں کی قربانی، فلاں کے نام پر صدقہ۔ ذبح کے وقت اللہ تعالی کا نام لیا جاتا ہے اور نسبت شخصی برائے تعارف ہوتی ہے، برائے تعظیم نہیں ہوتی، اس کے حلال ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
2۔ جانور ذبح کرتے وقت اس پر غیر اللہ کا نام لینا
اگر جانور ذبح کرتے وقت اس پر اللہ تعالی کا نام لینے کی بجائے کسی بزرگ، ولی، جن، بت کا نام لیا گیا تو تو وہ ذبیحہ حرام کہلائے گا، اسی طرح اگر اللہ کے نام کے ساتھ کسی بزرگ یہاں تک کہ اللہ کے رسول کا نام لیاگیا تو تب بھی وہ ذبیحہ حرام کہلائے گا۔ علامہ کاسانی لکھتے ہیں: اگر کوئی بندہ ذبح کرتے وقت کہے (بسم اللہ واسم فلاں) یا (بسم اللہ ومحمد رسول اللہ) یعنی میں ذبح کرتا ہوں اللہ کے نام اور فلاں کے نام یا اللہ کے نام کے ساتھ اور محمد رسول اللہ کے نام کے ساتھ تو یہ ذبیحہ حرام ہوگا۔ (بدائع الصنائع: 5/48، الہدایة للمرغیناني: 2/435)
3۔ غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جانور ذبح کرنا
اللہ تعالی کے علاوہ کسی کا تقرب اور اس کی خوش نودی، اس کی تعظیم کی خاطر جانور ذبح کرنا بھی حرام ہے۔ اور وہ ذبیحہ بھی حرام ہے۔
اس کی دو صورتیں ہیں، 1۔ غیر اللہ کی تعظیم کے لیے جانور کو ذبح کیا جائے اور بوقت ذبح اسی غیر اللہ کا نام لیا جائے۔
2۔ ذبح غیر اللہ کی تعظیم اور اس کی خوش نودی کے لیے ہو، مگر بوقت ذبح اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
دونوں صورتوں میں جانور حرام اور اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے۔ دونوں صورتیں ﴿مَا أُھِلَ بِہِ لِغَیْرِ اللّٰہِ﴾ میں داخل ہیں۔ (ذبح لقدوم الأمیر ونحوہ کواحدٍ من العلماء یحرم؛ لأنہ اہل بہ لغیر اللہ ولو ذکر اسم اللہ․ (الدر المختار للحصکفی: 2/320، فتاوی عبد الحی لکھنوی: 2/306، روضة الطالبین وعمدة المفتین للنووی: 2/474)
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔
”اگر یہ نیت ہو کہ غیر اللہ کا تقرب حاصل ہو، اگرچہ ذبح کے وقت اللہ تعالی کا نام لے کر ذبح کریں، تب بھی وہ ذبیحہ حرام ہوگا“۔ (فتاوی عزیزیہ: 471)
مزاروں پر نذر کیے گئے جانوروں کا حکم
نذر کہتے ہیں کوئی مکلف شخص اپنے اوپر نیکی کا کوئی ایسا کام لازم کر لے جو اس پر لازم نہیں تھا۔ جس طرح قرآن کریم میں حضرت مریم [ کے نذر ماننے کا واقعہ ہے۔ ﴿إنی نذرت للرحمٰن صومًا﴾(مریم:26) (میں نے مانا ہے رحمن کا روزہ) شامی میں ہے: والنذر للمخلوق لایجوز، لأنہ عبادة، والعبادة لاتکون للمخلوق․ (حاشیة ابن عابدین: 2/439) مخلوق کے لیے نذر ماننا جائز نہیں ہے، کیوں کہ نذر عبادت ہے اور مخلوق کے لیے عبادت کرنا جائز نہیں ہے۔
اور یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ عبادت معبود کی تعظیم اور تقرب کے لیے کی جاتی ہے، جب کوئی شخص اللہ کو چھوڑ کر کسی بندے، بزرگ، صاحب مزار کے نام پر جانور کی نذر مانتا ہے تو اس میں بزرگ کی تعظیم، تقرب اور خوش نودی کا عنصر داخل ہوجاتا ہے اور وہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اس نذر سے فائدہ پہنچے گا اور نقصان دور ہوگا۔ اس لیے بزرگوں کے نام پر اور ان کے مزاروں پر نذر کیے گئے جانور کا ذبیحہ حرام ہے، اگر چہ ذبح کرتے وقت اس پر اللہ تعالی کا نام لیا جاتا ہے۔ ایسے ذبیحہ کی حرمت کئی وجوہ سے ثابت ہے:
1۔ پہلی وجہ
یہ ذبح بزرگ، صاحب مزار کی تعظیم اور اس کی روح کو خوش کرنے اور اس سے فائدے کی امید، دفع ضرر کی نیت کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ اس نذر کی وجہ سے بزرگ ہماری بگڑی بنا دیں گے، دنیاوی نقصان سے بچائیں گے۔
اور ”فلاں بزرگ کی نذر ہے“ یہ الفاظ اس فکر و نیت کوواضح کردیتے ہیں۔ حضرت علی ابن ابی طالبؓ سے روایت ہے: ”لعن اللّٰہ من ذبح لغیر اللّٰہ“(صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1978) حضور u نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کے لیے کچھ ذبح کرتا ہے اس پر اللہ تعالی کی لعنت ہو“۔
1۔ فقہ حنفی کی کتاب در مختار میں ہے:واعلم أن النذر الذي یقع لِأموات من اکثر العوام وما یوٴخذ من الدراہم والشمع والزیت ونحوہا إلی ضرائح الأولیاء الکرام تقربا الیہم فہو بالاجماع باطل وحرام․ (الدر مع الرد، قبیل باب الاعتکاف: 2/128)
”جاننا چاہیے اکثر عوام کی طرف سے مُردوں کے نام کی جو نذر ومنت مانی جاتی ہے اور اولیائے کرام کی قبروں پر روپے، پیسے، موم بتیاں اور تیل وغیرہ بزرگوں کا قرب حاصل کرنے کے لیے جو لیا جاتا ہے وہ بالاتفاق باطل اور حرام ہے“
2۔ بحر الرائق کے مصنف ابن نجیم مصری حنفیؒ کی ایک طویل عبارت ہے، جس کا صرف ترجمہ پیش کیا جارہا ہے، وہ لکھتے ہیں:
”پس وہ نذر جو عوام الناس مانتی پھرتی ہے کہ خدانخواستہ کوئی انسان غائب ہوگیا یا کوئی بیمار ہوگیا یا کوئی ایسی خاص ضرورت پڑگئی جس کے حل کے لیے بعض بزرگوں کے مزار پر آکر ان کے غلاف کو سر پر رکھ کر کہتا ہے: اے میرے فلاں پیر، اگر میری کھوئی ہوئی چیز واپس مل جائے یا میرا مریض صحت باب ہوجائے یا میرا فلاں کام ہوگیا تو اتنا سونا یا چاندی یا پانی یا چراغ یا تیل قبر پر پیش کروں گا۔ پس یہ منّت بالاتفاق باطل ہے، اس لیے کہ اس نے مخلوق کی نذر مانی ہے۔ حالاں کہ نذر عبادت ہے اور عبادت مخلوق کے لیے کرنا جائز نہیں ہے۔ اور اس کے باطل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے جس کی نذر مان رہا ہے وہ میت ہے اور میت مالک نہیں بن سکتی۔ اور اس کے باطل ہونے میں یہ بات بھی ہے کہ منّت ماننے والا منّت ماننے سے یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ بزرگ اس کی حاجت روائی کرے گا، یہ عقیدہ رکھنا کفر ہے“۔(البحر الرائق: 2/320)
3۔ علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے سورہٴ حج کی آیت نمبر 73 ﴿إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ﴾ کی اشاری تفسیر کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں:
اشارة إلی ذم الغالین في اولیاء اللہ تعالی حیث یستغیثون بھم في الشدة غافلین عن اللہ تعالی وینذرون لہم النذور والعقلاء منہم یقولون: إنہم وسائلنا إلی اللہ تعالی وإنما ننذر للہ عزوجل ونجعل ثوابہ للولی، ولا یخفی انہم فی دعواہم الأولی أشبہ الناس بعبدة الأصنام القائلین ﴿ما نعبدہم إلا لیقربونا إلی اللہ زلفی﴾․ (الزمر: 3)
ودعواہم الثانیة لا بأس بہا لو لم یطلبوا منہم بذلک شفاء مریضہم أو رد غائبہم أو نحو ذلک، والظاہر من حالہم الطلب، ویرشد إلی ذلک أنہ لو قیل انذروا للہ تعالی واجعلوا ثوابہ لوالدیکم فإنہم أحوج من اولئک الأولیاء لم یفعلوا، ورأیت کثیرا منہم یسجد علی اعتاب حجر قبور الأولیاء؛ ومنہم من یثبت التصرف لہم جمیعا في قبورہم لکنہم متفاوتون فیہ حسب تفاوت مراتبہم، والعلماء منہم یحصرون التصرف في القبور في اربعة أو خمسة وإذا طولبوا بالدلیل قالوا: ثبت ذلک بالکشف قاتلہم اللہ تعالی ما اجہلہم واکثر افترائہم، ومنہم من یزعم أنہم یخرجون من القبور ویتشکلون بأشکال مختلفة وعلمائہم یقولون: إنما تظہر ارواحہم متشکلة وتطوف حیث شاء ت، وربما تشکلت بصورة اسد أو غزال أو نحوہ، وکل ذلک باطل لا أصل لہ في الکتب والسنة وکلام سلف الأمة، وقد أفسد ہولاء علی الناس دینہم وصاروا ضحکة لأھل الأدیان المنسوخة من الیھود والنصاری، وکذا لأہل النحل والدہریة․ (روح المعاني، الحج، ذیل آیت: 73)
اہل بدعت کے ایک شبہ کا جواب
اہل بدعت نے بزرگوں کے نام پر نذر ونیاز کو جواز بخشنے کے لیے ایک تاویل گھڑ لی ہے کہ نذر کی دو قسمیں ہیں: 1۔ نذر عرفی، جس سے ایصال ثواب مراد ہوتا ہے۔ 2۔ نذر شرعی، جو عبادت ہے اور اللہ تعالی کے لیے خاص ہے۔ اہل بدعت کی یہ تاویل درست نہیں ہے۔
1۔ اوّلاً: عوام الناس نذر عرفی اور شرعی کی تقسیم سے نا واقف ہوتے ہیں۔
ثانیًا: اسے صدقہ برائے ایصال ثواب کیوں نہیں کہتے؟ نذر کے الفاظ پر اصرار کیوں ہے؟
ثالثا: نذر عرفی اور شرعی کی یہ تقسیم صحابہ کرام اور سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے۔ اگر خود ساختہ تقسیم سے یہ جائز ہوسکتا ہے تو پھر سجدہ جیسی دیگر اصطلاحات کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے:
1۔ سجدہ ورکوع عرفی جو برائے تعظیم ہوتا ہے۔ 2۔ سجدہ ورکوع شرعی جو بغرض عبادت ہوتا ہے۔ کیا اس خود ساختہ تاویل سے یہ قبیح عمل جائز ٹھہرے گا؟
آیت اکمالِ دین واتمامِ نعمت اہل سنت کی نظرمیں
﴿الْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن دِیْنِکُمْ فَلاَ تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِ الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْناً﴾
آیت تکمیل دین دس ہجری نو ذو الحجہ یوم عرفہ بروز جمعہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ تکمیل دین کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں تئیس سال سے جو احکام شرعیہ بہ تدریج نازل ہو رہے تھے آج ان کی تکمیل کردی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اصولی عقائد توحید ورسالت اور معاد، اصولی احکام اوامر اور مناہی، نیز اصول اجتہاد کو بیان کر کے امت مسلمہ پر اپنی نعمت دین کا اتمام کردیا ہے۔ چناں چہ اس آیت کے بعد ترغیب وترہیب کے مضمون پر مبنی چند آیات تو نازل ہوئیں، مگر حلال وحرام کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا ۔ (تفسیر کبیر للرازی، المائدة: ذیل آیت: 3) آیت تکمیل دین کے بعد آپ اکیاسی دن زندہ رہ کر وصال فرما گئے۔ (تفسیر ابی السعود، المائدة، ذیل آیت: 3) اس آیت کریمہ میں واضح طور پر فرمادیا گیا دین محمدی کامل ہے، اس میں کوئی نقص نہیں ہے۔ اب کوئی نبی نہیں آئے گا، کسی پر وحی نازل نہیں ہوگی، کسی کو امور قطعیہ میں ردّ و بدل کا حق نہیں ہوگا۔ قرب قیامت میں حضرت عیسی علیہ السلام بھی امتی بن کر تشریف لائیں گے اور دین اسلام کے احکامات پر عمل پیرا ہوں گے۔
شیعہ مفسرین آیت تکمیل دین کے متعلق بلا دلیل یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ آیت غدیر خم کے مقام پر نازل ہوئی تھی اور تکمیل دین مراد حضرت علی t کی ولایت کا اعلان سے غدیر خم کے مقام پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولایت کا اعلان کر کے دین کو مکمل کردیا ہے۔
یہ دعوی اس لیے درست نہیں ہے کہ آیت تکمیل دین نو ذو الحجہ مقام عرفہ میں نازل ہوئی، خود حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے (تفسیر الطبری، المائدة، ذیل آیت: 3)
حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے ایک بار فرمایا تھا کہ یہ آیت کسی اور مذہب میں نازل ہوتی تو وہ اس دن کو عید کا دن بنا لیتے۔ اس کے جواب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس دن یہ آیت اور جس مقام پر یہ آیت نازل ہوئی تھی میں وہاں موجود تھا، یہ جمعہ کے دن اور عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی اور الحمد للہ یہ دونوں دن ہمارے عید کے دن ہی ہیں۔ (تفسیر طبری، المائدة، ذیل آیت: 3)
اور غدیر خم کا واقعہ اٹھارہ ذو الحجہ کو پیش آیا۔ روافض نے چار غیر مستند روایات سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ آیت اٹھارہ ذو الحجہ کو نازل ہوئی تھی، مگر خلاف تواتر اور صحیح سند نہ ہونے کی وجہ سے قابل استدلال نہیں، علامہ آلوسی نے اس پر مفصل کلام کیا ہے۔ (جاری ہے)