میلاد النبی کی حقیقت اور ذکرِ میلاد کی حقیقی غرض وغایت

idara letterhead universal2c

میلاد النبی کی حقیقت اور ذکرِ میلاد کی حقیقی غرض وغایت

حکیم الاسلام قاری محمد طیب قاسمی

 
500ء میلادِ مسیح کے دور میں دنیا ہر چہار طرف سے تاریکیوں میں گھر چکی تھی، عالم کا ہر ایک خطہ گم راہی کے بھونچالوں سے لرز رہا تھا اور کائنات کے اُفق پر ہر قسم کے بغی و فساد کی اندھیری گھٹائیں ہجوم کر آئی تھیں۔ بندے اپنے خدا کے عہد وپیمان کو یکسر بھلا بیٹھے تھے اور خدا نے بندوں کو غضب آلود نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ فمقت عربہم وعجمھم۔ عرب کا خطہ جو وسطِ عالم ہے اور اس کی تین جانبیں سمندروں سے اور ایک جانب خشکی سے ہم کنار ہے، اس وقت کی ساری گم راہیوں کا مرکز بنا ہوا تھا اور اسی مرکز سے پھیلتی ہوئی یہ ضلالتیں دنیا کی ہر سمت میں مختلف اندازوں سے منتشر ہورہی تھیں۔ حجاز کی تین سمتیں سمندروں سے گھری ہوئی تھیں، مشرق میں بحر ہند، شمال وجنوب میں خلیج فارس اور بحیرہ روم اور جانب غرب مصر وافریقہ کا براعظم تھا۔ اور یہ ساری ہی سمتیں مختلف قسم کی گم راہیوں سے سیاہ ہورہی تھیں۔
 
سواحلِ ہند پر ہمالیہ کے باشندے تینتیس کروڑ دیوتاؤں کی پوجا میں مصروف تھے اور شرک وکفر اس سرزمین کے ایک ایک کونہ سے اُبل رہا تھا۔ ایک خدا کے بندے کروڑوں من گھڑت خداؤں کے سامنے جبین نیاز جھکا رہے تھے، خلیج فارس پر ایرانیوں کی جہانبانی میں شرک وماسویٰ پرستی کسی تاویل وتوریہ سے نہیں، بلکہ کھلے بندوں کی جارہی تھی، فارسیوں نے صاف لفظوں میں اعلان کر دیا تھا کہ عالم کے نظام خیر وشر کے لیے ایک کارساز کافی نہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ہی خدا نیکی بھی پیدا کرے اور وہی بدی بھی؟ پس خدائے واحد کی مسند عظمت انھوں نے انتہائی تمرد وطغیانی کے ساتھ اہرمن ویزداں میں بے دھڑک تقسیم کردی تھی۔بحر روم کے سواحل پر جو مغربی دولتوں کی حکم رانیوں کا محور تھا، مسیحی امت مذہب کے نام سے تین خداؤں کی بندگی پر اوندھی ہو رہی تھی، اس نے مذہب کی عمارت اس انوکھے اصول پر اٹھائی تھی کہ بڑا خدا تو وہی ایک ہے، جو سب کا خدا ہے، لیکن مسیح اور روح القدس بھی اس کے خدائی کا روبار میں اس کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ پھر عجیب تریہ کہ یہ تینوں حقیقتًا ایک اور ایک حقیقتًا یہی تین ہیں، ان نافرمان بندوں نے خدا کو اس کے بندوں میں اور بندوں کو ان کے خدا میں جا ملایا اور خالق ومخلوق کے فرق کو اٹھا دیا تھا۔
 
یہ طوفان تھے جو روم ومصر اور ہندوستان کے سمندروں میں اٹھ رہے تھے، اِدھر کی دنیا تو ان سے متلاطم ہورہی تھی۔ سمندروں اور ان کے طوفانوں کو چھوڑ کر بڑی دنیا کی اس سے بھی زیادہ زبوں حالت تھی۔ مصر وسوڈان کے براعظم میں ان طوفانوں کے بجائے زہریلی ہوائیں گردوغبار اڑا رہی تھیں، جنھوں نے بصیرت کی آنکھوں کو پٹ کر دیا تھا، یہاں نہ ثنویت تھی نہ وثنیت، نہ توحید تھی نہ تثلیث، نہ مذہب تھا نہ دین، بلکہ یہ فراعنہٴ مصر کی یادگاریں بے حیائی اور دہریت، لا مذہبی اور سوفسطائیت میں پڑی ہوئی دم تو ڑ رہی تھیں۔ بد اخلاقی وکج روی کا دور دورہ تھا، شبہات وشہوات کا عفریت مہیب ان کے دماغوں اور قلوب پر مسلط ہو چکا تھا، جس نے تدبر وتفکر کے قویٰ کو معطل کر دیا تھا۔
 
پھر ان چہار سمت سے گھری ہوئی وہ بستی (جس میں خدا کا گھر تھا اور ماضی میں توحید وہدایت کا پہلا گھر تھا اور جو مستقبل میں ہدایتوں کے آبِ حیات کا سرچشمہ بننے والا تھا) یہ بستی ان چہارگانہ سمتوں سے بھی زیادہ ضلالت و گم راہی کی تاریکیوں میں چھپ رہی تھی۔ کیوں کہ زمین کے مختلف حصے تو خاص خاص قسم کی گم راہیوں میں مبتلا تھے، ہر جگہ کے کفر و شرک کی ایک ایسی خاص صورت تھی، جس کا دوسری جگہ وجود نہ تھا، ہندوستان میں دیوتا پرستی تھی تو یہاں اہرمن ویزداں کے پجاری نہ تھے، روم میں تثلیث تھی، لیکن ثنویت کا پتہ نہ تھا اور جہاں ثنویت تھی وہاں تثلیث کی حکم رانی نہ تھی۔
 
لیکن یہ ارضِ مقدس، جو ہمیشہ رسالات الہی کا مرکز رہتی آئی تھی، آج کفر وتمرد کی ہر نوع سے ہم کنار تھی، وہاں اگر ﴿نَحْنُ اَبْنَاءُ اللّٰہِ وَاَحِبَّآءُ ہ﴾ کے دعوے دار یہود بھی تھے تو ﴿قَالُوا اتّخَذَ اللہُ وَلَدًا﴾ کی شرک زاصدا لگانے والے نصاری بھی تھے اور اگر ﴿إِنْ ہِیَ إِلا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوتُ وَنَحْیٰی وَمَا یُہْلِکُنَا إِلا الدہرُ﴾ کے صدا باز دہریے موجود تھے تو خدا کے مقابلہ میں لات وعزیٰ کے پجاری بھی وہیں ڈیرہ جمائے ہوئے تھے، جن کی عام صدا یہ تھی کہ ﴿مَا نَعْبُدُ ہُمْ إِلا لِیُقَرِّبُونَا إِلَی اللہِ زُلْفَی﴾ اور اگر ایک طرف یہ بد مذہب فرقے کار فرما تھے تو دوسری طرف بے مذہب عیاشی اور فسق و فجور کا بھی دور دورہ تھا۔ زنا، شراب، جوا، سود، ڈکیتی ظلم وستم اور بے باکانہ قتل وغارت کا طوفان بھی اسی مکہ کی قوم میں اُبل رہا تھا۔
 
غرض اس مختصر خطہ میں، جس کو ایک طرف سے دریائے ہند نے اور دوسری طرف سے خلیج فارس نے، تیسری طرف سے بحر روم نے اور ایک طرف سے مصر وسوڈان وغیرہ کے براعظم نے گھیر رکھا تھا، ہند کی بت پرستی، روم کی تثلیث، فارس کی ثنویت، مصر کی بے حیائی وفجور، سارے ہی خبث وخبائث موجود تھے۔ جو جو گم راہی سارے عالم میں منتشر تھی خدا کی حکمت نے اس کی ہر نوع کو مکہ کی سرزمین میں لا کر جمع کر دیا تھا۔ دنیا کے بحر وبر کا محیط اور اس کا یہ مرکز ظلمت وتاریکی کے انتہائی مراحل طے کر چکا تھا، عالم کی روحانیت کے آفاق پر شبِ تار چھا چکی تھی اور پھر شبِ تار میں اوپر سے تیرہٴ وتاراَ بر بھی چھا گیا تھا۔ تمام چھوٹے اور بڑے ستارے نگاہوں سے اوجھل ہوچکے تھے اور روشنی کا نام تک نہ رہا تھا۔
 
اس وقت خدائے حکیم کی رحمت وغیرت جوش میں آئی اور اس نے چاہا کہ اس شب دیجور کی تاریکیوں کے جھرمٹ میں سے ایک آفتاب عالم تاب چمکائے، جو عالم گیر روشنی لے کر ظاہر ہو اور ان ظلمات سے عالم کو پاک کر دے تو اس کی حکیمانہ سازگاری نے ام القریٰ کے جگر سے ایک آفتابِ درخشاں چمکایا، تا کہ اس کا نور اولاً مکہ میں چمک کر ہر قسم کی تاریکیوں کا (جو وہاں پہلے سے جمع ہو چکی تھیں) مقابلہ کر کے ان کو دفع کر دے اور پھر اس کی روشنی اس ناف زمین سے ہر چہار سمت برابر پہنچ کر ایک طرف ہندوستان کو منور کرے تو دوسری طرف مصر کو چمکائے، ایک طرف اگر قیاصرہٴ روم کی حکم رانیوں کے نقشے بدل دے تو دوسری طرف اکا سرہٴ فارس کی کج کلاہی کوسیدھا کر دے اور اس طرح مکہ اور بیرونِ مکہ اس سے یکساں منتفع ہو۔ اور زمین کی ناف سے جب یہ پاک روح اُبھرے تو زمین کے ایک ایک گوشہ کی رگ وپے میں سما جائے۔
 
پس اس پانچ سو سالہ طویل زمانہ (زمانہٴ فترت) کی تاریکیوں میں پو پھٹ کر صبح صادق نمایاں ہوئی، یعنی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت جسمانی سے دنیا کے نحوست کدہ کو میمون ومسعود بنایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پہلا ظہور تھا، جس کے روشن آثار سے بابصر دنیا کو امید پڑگئی کہ آفتاب درخشاں عنقریب افق کے پردوں سے چہرہ نکالنے والا ہے، کیوں کہ صبح صادق طلوع آفتاب کی تمہید اور اس کے آثار قریبہ میں سے ہوتی ہے، چناں چہ چالیس سال کی صبح صادق کے بعد اچانک فاران کی چوٹیوں سے وہ کرنیں نمودار ہوئیں جن کی نمود دنیا کے لیے ظلمت رُبائی کا پیام تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا اور فرض تبلیغ شروع فرمادیا، یہی وہ مقصود تھا جس کے مبادی اور وسائل دلادتِ با سعادت کی شکل میں نمایاں کیے گئے تھے۔
 
پس حقیقی ولادتِ نبوی یا میلاد با سعادت یہی روحانی ولادت تھی، جس کے لیے چالیس سال قبل جسمانی ولادت کو ایک مقدمہ اور تمہید کی حیثیت سے دنیا کے سامنے لایا گیا تھا اور یہی وہ نشأة روحانیہ تھی جس میں بڑھنے والی قوموں اور امنڈنے والے افراد کے لیے ہر طرح کے اسوے اور کامل نمونے ودیعت کیے گئے تھے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ظہور ثانی اور یہ ولادت معنوی درحقیقت اسلام کا ظہور تھا۔
 
ذاتِ اقدس کا عالم بعثت ونبوت میں ظاہر ہونا شریعت اسلامیہ کا بُروز تھا۔ پس ولادت جسمانی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور من حیث الانسانیت ہوا تھا اور چالیس سال کے بعد اس ولادت روحانی میں آپ کا ظہور من حیث النبوت یا من حیث الشریعت ہوا۔ یعنی وہ ولادت جسمانی ایک تمہید تھی اور یہ ولادتِ روحانی حقیقی مقصود تھا، جو تمہید کے بعد ظاہر کر دیا گیا، جس سے شریعت اسلامیہ کے عہد کا آغاز ہوتا ہے۔
 
ولادت جسمانی کا راز
 
یہاں پہنچ کر دلوں میں یہ چیز خطور کر سکتی ہے کہ افضل البشر اور افضل الرسل کی شریعت کا ظہور مقصود ہے۔ خاتم المرسلین کا شرعی وجود عالم کے سامنے پیش کرنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت روحانی دکھلانی ہے تو اس کے لیے بجائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام انسانوں کی طرح پیدا کیا جائے اور اس جسمانی میلاد کے چالیس برس بعد اس میلاد معنوی وشرعی کا ظہور ہو، جو مقصود تھی، کیوں ایسا نہ ہوا کہ آپ کو جبرئیل ومیکائیل کی طرح ملکوتی رنگ میں پیدا کر کے پردہ دنیا پر اتار دیا جاتا یا کم از کم آدم علیہ السلام کی طرح بلا ماں باپ کے توسط کے پیدا کر کے مکہ کی چھت پر نازل کر دیا جاتا یا اس سے بھی کم کہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرح بلا باپ کے بطن مادر سے ظاہر کر دیا جاتا، تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ اعلیٰ شخصیت و حیثیت جو تمام نوع بشر اور تمام مرسلین پر فوقیت رکھتی ہے اور بھی زیادہ فوقیت کے ساتھ نمایاں ہو جاتی۔
 
خلاصہ سوال یہ ہے کہ یہ میلاد جسمانی تو بظا ہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ حیثیت اور شان افضلیت کے خلاف ہے، پھر اسے درمیان میں کیوں لیا گیا؟ لیکن میں گزارش کروں گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سارے عالموں سے افضل وبرتر ہونا ہی اس کا باعث ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میلا د جسمانی کا پابند کیا جائے، کیوں کہ ادیان وشرائع کی تاریخ شاہد ہے کہ داعیانِ مذہب یا مقدسین اقوام میں سے جن جن انسانوں کے ساتھ الوہیت کا زعم باندھا گیا، وہ محض اس لیے کہ اُدھر تو وہ لوگ خدا کی کسی امتیازی صفت کے مظہرِ اَتم اور نمونہ تھے اور اِدھر ان کا وجود کسی غیر معمولی اور خارق عادت طریقہ پر دنیا میں ظاہر ہوا، جس سے ان کی خدائی کی رجسٹری ہوگئی۔
 
حضرت عیسی علیہ السلام بے باپ کے پیدا ہوئے، خدا نے انھیں اپنا کلمہ اور روح بتلایا، ادھر احیاءِ موتٰی کی صفت کا ان میں ظہور ہوا تو ان کی قوم نے انھیں بے تکلف خدائی کی مسند دے دی۔ آدم علیہ السلام بلا ماں باپ کے پیدا ہوئے تو ہنود کی تقریباً تمام اقوام مہادیو جی میں (جن کو وہ سب سے پہلا انسان بتلاتے ہیں) کتنے ہی خدائی اوصاف کا اقرار کر رہی ہیں۔ یہود نے حضرت عزیر علیہ السلام کو ان کی اعجازی شان کی بنا پر خدا کا جز بتلایا۔
 
بہت سی قوموں نے بظاہر حضرت حوا کی خارق عادت پیدائش دیکھ کر عورت کی جنس کو قابل پرستش بتلایا، حتی کہ اس کی شرم گاہ تک کو مسجودِ انسان بنالیا۔
 
بہر حال تتبع اور تلاشِ بسیار کے بعد کسی انسان کو خدا کہے جانے کی علت آخر کار اس کا کسی غیر عادی طریق پر پیدا ہونا اور پھر کسی امتیازی صفت الہیہ سے متصف ہونا نکلتی ہے۔
 
پس جب کہ بعض صفات کمال کے ظہور سے کامل انسانوں پر خدائی کا دھوکہ لگنے کا کامل احتمال تھا تو جناب محمد رسول اللہ علیہ وسلم جواللہ کی تمام صفات کمال کے مظہر اَتم تھے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود کسی خارقِ عادت طریقہ پر نمایاں کیا جاتا اور میلادِ جسمانی کے طریقہ پر نہ ہوتا تو ممکن ہی نہیں، بلکہ تقریباً ضروری الوقوع تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے زیادہ الوہیت کا شبہ کیا جاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے تکلف اور بلا توریہ خدا پکارنے لگتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ مسجود ومعبودِ خلائق تسلیم کیے جاتے، کیوں کہ ادھر تو اعلیٰ کمالات میں قوم ان سچے دعاوی کو دیکھتی کہ:
 
اول ما خلق نوری، کنت نبیا وآدم بین الماء والطین․
 
ترجمہ: سب سے پہلی مخلوق میرا نور ہے، میں اس وقت سے نبی ہوں جب کہ آدم کا پانی اور مٹی سے خمیر کیا جا رہا تھا۔
اور
انا سید ولد آدم، ولا فخر.
 
ترجمہ: میں تمام بنی آدم کا سردار ہوں اور فخر کی کوئی بات نہیں۔ بلکہ تحدیثِ نعمت ہے۔
 
اور ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود غیر معمولی طریقہ پر ہوتا تو یقیناً وجود اقدس کی طرف تعبد کی پیشانیاں جُھکنے لگتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبدِ کامل سمجھے جانے کے بجائے معبود کامل تصور کر لیے جاتے۔
 
پس خدائے حکیم نے اُدھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کمالات کا آئینہ اور صفاتِ کمال کا مظہر بنایا اور اِدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اسی طریق پر مقرر کی جو عام انسانوں کے لیے تکوین الٰہی میں طے پا چکی تھی۔ تاکہ الوہیت کا شبہ کسی درجہ میں بھی پیدا نہ ہو سکے۔ یہی نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بشریت کے تمام عوارض کو عام بشروں کی طرح طاری کیا گیا، بیمار آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تھے، سحر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مؤثر ہوگیا، اشرار وفُجّار نے اونٹ کے اوجھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دبا دیا، احد میں سر مبارک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زخمی ہوا، دندانِ مبارک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شہید کر دیا گیا، گھر سے بے گھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا گیا، ماریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑیں، بائیکاٹ کر کے ایک چھوٹے سے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بند رکھا گیا، یہ سب کچھ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت نمایاں رہے اور کسی درجہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر خدائی کا شبہ نہ کیا جاسکے، ورنہ ایک طرف تو یہ خوارق کہ اشارہ فرمائیں تو چاند کے دوٹکڑے ہو جائیں، انگشتانِ مبارک پانی کے طشت میں ڈال دیں تو چشمے بہہ پڑیں، بدر میں کنکریاں اٹھا کر پھینک ماریں تو کفار کے سر پھٹ جائیں، شجر وحجر کو اشارہ فرما ئیں تو وہ دوڑ کر چاکری کرنے لگیں، زمین سے اٹھیں تو براق پر پل بھر میں عرش وکرسی کی منزلیں طے کر آئیں، کسی کے سینہ پر ہاتھ مار دیں تو اس سے ایمان ویقین اُبل پڑے۔ اور ادھر یہ عجز کہ دشمن، بیماری، سحر اور مکاروں کا مکر وفریب مؤثر ہو جائے؟ محض اس لیے کہ یہ اعجازی شانیں کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدائی کا تخیل دلوں میں نہ بٹھا دیں، بلکہ اس عجز بشری کو دیکھ کر دنیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت اور عبدیت کا کلمہ پڑھے اور ان خارقِ عادت افعال کو فعلِ نبوی نہیں، بلکہ فعلِ خدائے واحد یقین کرے، اس لیے جہاں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور کسی نرالے اور اوپرے طریقہ سے نہیں کرایا گیا، وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال واحوال کو بھی عام اسباب کا پابند رکھ کرکسی غیر معمولی اور خارقِ عادت انداز میں نمایاں نہیں کیا گیا۔
 
ہاں یہ ممکن تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر معمولی کمالات ہی کو دیکھ کر کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معبودیت کا قائل ہو جائے تو اس کی پیش بندی خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمادی کہ اپنے ہر ہر قول وعمل سے اپنی عبدیت، عاجزی اور خاکساری کا ثبوت دینا شروع فرما دیا، وہ کلمہ توحید جس کے ذریعہ سے ایک انسان اسلام کے قصرِ عظیم میں داخل ہوتا ہے، اس میں اپنے خدا کی معبودیتِ کا ملہ اور اپنی عبدیتِ کاملہ کا اقرار کرایا۔
 
أَشْہَدُ أَنْ لا إِلٰہَ إِلا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ.
 
ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس بات کی کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔
 
بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ کو ”یا سید“ کہہ کر خطاب کیا تو فرمایا:
 
السید ہو اللّٰہ، انی عبد اللّٰہ ورسولہ․
 
ترجمہ: سید تو اللہ ہے، میں اللہ کا رسول اور اس کا بندہ ہوں۔
 
کہیں امت کو خطاب فرمایا:
لا تطرونی کما اطرت النصاری المسیح ابن مریم.
 
ترجمہ: میری تعریف میں ایسا مبالغہ نہ کرو جیسا کہ نصاریٰ نے مسیح ابن مریم کی تعریف میں کیا تھا۔
 
کہیں اپنی ایسی تفضیل سے بچایا جس سے دوسرے انبیا کی تنقیص لازم آئے۔ ارشاد ہے: لا تقولوا انا خیر من یونس بن متی ترجمہ: مت کہو تم کہ میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔
 
کہیں فرمایا:
لا تجعلوا قبری وثنا یعبد
 
ترجمہ: میری قبر کو عبادت گاہ نہ بنانا کہ اس کی پوجا ہوا کرے۔
 
کہیں بنی اسرائیل کے متعلق غضب ناک لہجہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
 
لعن اللہ الیہود والنصاری، اتخذوا قبور انبیائہم مساجد․
 
ترجمہ: اللہ یہودو نصاری پر لعنت کرے کہ انھوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔
 
کہیں کھانے پر بیٹھے ہیں تو اپنی شان بندگی میں یہ فرماتے ہیں:
 
آکل کما یأکل العبد.
 
ترجمہ: میں تو اس طرح کھاتا ہوں جیسے غلام کھایا کرتے ہیں۔
 
فتح مکہ کے سال جب کہ شہر مکہ میں پر شوکت داخلہ ہوتا ہے تو اونٹنی پر سوار ہوکر داخل ہوتے ہیں،مگر اتنے جھک کر کہ سر مبارک اونٹنی کی گردن کے قریب آ لگتا ہے۔
 
پھر ادھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقوال واعمال سے خود اپنی شانِ عبودیت کو اتنا نمایاں ترکیا، ادھر حق تعالی نے بھی اپنے کلام میں دو ہی پیغمبروں کو خصوصیت سے تعبیر کے ساتھ عبد کا خطاب دیا ہے۔ایک مسیح ابن مریم علیہ السلام کو، دوسرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو، کیوں کہ ایک کو خدا کہا جا چکا اور ایک پر غیر معمولی کمالات کی بنا پر خدا کہے جانے کا اندیشہ تھا۔ چناں چہ مسیح علیہ السلام سے تو گہوارہ میں اقرار کرایا گیا:
 
﴿إِنِّی عَبْدُ اللّٰہِ آتَانِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلَنِی نَبِیَّا﴾․
 
اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا:
 
﴿لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوہُ کَادُوا یَکُونُونَ عَلَیْہِ لِبَدًا﴾․
 
یعنی آپ کی عبدیت عبدیت عیسوی سے بھی بڑھائی گئی۔ کیوں کہ انھیں تو اپنی عبدیت کا خود اقرار ہے اور یہاں حضور کی عبدیت کی حق تعالی خود شہادت دے رہے ہیں۔
 
ذکر معراج کے وقت جب تشکر وامتنان کا موقع تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر محبت وپیار سے بھرا ہوا خطاب حبیب، خلیل، صفی، وصی وغیرہ دیا جاتا تو بجائے خود موزوں تھا، مگر سب پر عبدیت کے خطاب کو مقدم رکھا گیا۔ فرمایا گیا:
 
سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلًا… الآیة
 
ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو رات کے وقت۔
 
تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت وبندگی ”اپنے بندے کو رات کے وقت“ کی شانِ خداوندی سے بھی نمایاں ہو جائے، پھر مقام عبدیت کو تمام مقامات سے اعلیٰ ظاہر کیا گیا، جس سے آیات واحادیث بھری پڑی ہیں، پس پیدائش کا وہی عام اور معتاد ڈھنگ تو اس لیے اختیار کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے میلادِ جسمانی کو دیکھ کر کسی کو الوہیت کا شبہ نہ ہونے پائے، لیکن کمالات اور غیر معمولی حالات یا خوارقِ عادات دیکھ کر چوں کہ یہ شبہ پھر بھی ہوسکتا تھا تو اس کا استیصال ان قولی و فعلی تعلیمات سے کرادیا گیا اور بتلایا گیا کہ با وجود ان انتہائی کمالات اور صفات الہیہ کے مظہر َاتم ہونے کے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبد ہی ہیں اور عبدیت میں بھی ایسے کامل جیسے معبودیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معبود کامل ہے۔
بہر حال یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ میلادِ جسمانی کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور کرا کر آپ کی عبدیت اور مخلوقیت کاملہ پر مہر کی گئی ہے تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے تکلف دعویٰ فرماسکیں، کہ:
 
﴿إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یُوحَی إِلَی إِنَّمَا الہُکُمُ الہُ وَاحِدٌ﴾․
 
ترجمہ: میں تو تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہوں، وحی نازل کی جاتی ہے مجھ پر، بے شک تمہارا خدا، خدائے واحد ہے۔
 
میری حیرت کی اس وقت کوئی انتہا نہیں رہتی جب میں دیکھتا ہوں کہ میلا دِ نبوی جو عبدیتِ کاملہ کی ایک کھلی دلیل تھی یا ذکرِ میلاد جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر عبدیت کا واقعی مرادف تھا، قوم نے آج اسی ذکر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی الوہیت کے اثبات کا ذریعہ بنالیا اور بعض مجلسِ ذکر میلاد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایسی صفات ثابت کرنی شروع کر دیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبودیت سے نکال کر معبودیت کے رنگ میں نمایاں کر دیں۔ تعجب ہے کہ جو چیز عبودیت پر ایک واضح دلالت تھی آج اس چیز کو اظہار معبودیت کا ذریعہ بنایا جارہا ہے۔ پھر جب کہ اس قوم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اوصاف معبودیت ثابت کرنے کا ارادہ کیا تو انھیں لا محالہ ذکر میلاد میں اپنی طرف سے ایسے قیود اور شروط بھی اضافہ کرنے پڑے جن سے وہ اپنے مقصد میں کام یاب ہو جائیں، کیوں کہ نفسِ ذکرِ میلاد بلا کسی اختراعی قید و شرط کے کسی طرح بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معبودیت کی دلیل نہیں بن سکتا تھا، بلکہ صرف عبدیت کی۔
 
رہا مطلقاً ذکر میلاد جو اُن قیود و شروط سے مبرا ہو، اجر وثواب سے خالی ہی نہیں بلکہ ایک زبر دست فضیلت ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کا ذکر تو بہت بڑی چیز ہے۔ ہمارے نزدیک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین مبارک اور خاک پاکا ذکر بھی بڑے بڑے اجور وثواب کے ذخیرے اپنے اندر رکھتا ہے۔
 
الحاصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم میں دو ظہور ہوئے ہیں، ایک من حیث الانسانیت، اس ظہور کو میلادِ جسمانی کہا جاتا ہے، ایک من حیث الرسالت، اس ظہور کو ہم نے میلادِ معنوی یا شرعی سے تعبیر کیا ہے جو میلادِ جسمانی کی غایت وغرض ہے، اور میلادِ جسمانی کی وجہ واضح کر چکے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخلوقیت، عبدیت اور بشریت کا اثبات تھا، ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس عبدیت ومعبودیت کے درمیان ایک نقطہٴ اشتباہ بن جاتی، جس سے توحید کے بجائے شرک کی جڑیں اور زیادہ مضبوط ہو جانے کا احتمال ہوتا۔
 
میلا دروحانی کاراز
 
رہا میلادِ معنوی، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت، سو اس کا راز ہر شخص جانتا ہے کہ عالم کی تہذیب واصلاح اور ربطِ خالق با مخلوق کی درستگی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اس کے بغیر ناممکن تھا کہ دنیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرے اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات بلا چوں و چرا تسلیم کی جاسکے۔ پس کہا جاسکتا ہے کہ میلادِ ثانوی یعنی میلادِ معنوی (بعثت) ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مطاعیت و مخدومیت کا پیام لائی، نہ کہ میلادِ جسمانی اور اس لیے اسی میلادِ ثانیہ کا ذکر کرنا گویا احکامِ نبوی کا ذکر کرنا ہے، اتباع سنت نبوی کا ذکر کرنا ہے، اپنی اطاعت وانقیاد کا ذکر کرنا ہے اور بالفاظِ دیگر شریعت اسلامیہ کی طرف علماً وعملاً جھک جانا ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخدومیت کا ذکر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مطاعیت کو تسلیم کرنا ہے۔ اور کوئی شبہ نہیں کہ یہ چیز میلادِ جسمانی کے ذکر میں حاصل نہیں ہو سکتی، کیوں کہ میلادِ جسمانی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور انسانی حیثیت سے ہوا ہے اور کوئی نبی اپنی انسانی اور ذاتی حیثیت سے مطاع نہیں ہوتا، بلکہ صرف نبوت ورسالت کی حیثیت سے واحب الاطاعت ہوتا ہے، محض ذاتی حیثیت سے جس کی اطاعت فرض ہے وہ صرف حق تعالیٰ ہے، اسی لیے جب انسانوں کو قرآن نے دین کی اطاعت پر برانگیختہ کیا تو تین اطاعتیں ضروری قرار دیں، مگر تین حیثیتوں سے۔ فرمایا:
 
﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللّٰہَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُولِی الْأَمْرِ مِنْکُمْ﴾․
 
”اے مسلمانو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور اپنے اولوالامر لوگوں کی اطاعت کرو۔“
 
بتلایا کہ جو ذات اقدس ذاتی حیثیت سے مطاع مطلق ہے وہ اللہ ہے، اس لیے اَطِیعُوا کے بعد حق تعالیٰ کا اسم ذات (اللہ) ذکر فرمایا ہے، تا کہ اس کا بالذات مطاع ہونا واضح ہو جائے۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کا اسم ذات یعنی (محمد) نہیں ذکر کیا گیا اور واطیعوا محمدا نہیں کہا گیا، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالذات مطاع نہیں تھے، بلکہ کہا گیا واطیعوا الرسول رسول کی اطاعت کرو۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت وصف رسالت کے اعتبار سے واجب ہے، نہ کہ انسان ہونے کی حیثیت سے۔ اگر یہ وصفِ رسالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ودیعت نہ کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی واجب نہ کی جاتی، جیسا کہ قبل از بعثت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب نہ تھی بلکہ بعد از بعثت بھی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ذاتی رائے ارشاد فرما ئیں تو وہ بھی قانونِ شرعی کی رو سے واجب الاطاعت نہیں، جس کا فرق احادیث میں خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے واضح فرمادیا ہے۔
 
اسی طرح آگے اولوالامر (خواہ وہ علماءِ ربانی ہوں یا حکامِ عادل) کی اطاعت بھی ذاتی حیثیت سے واجب نہیں کی گئی، بلکہ وصف اولوالامری کی حیثیت سے، یعنی تبلیغ رسالت اور اوامر الٰہی کی نشر واشاعت کی حیثیت سے وہ واجب الاطاعت ہیں، اگر وہ اوامر الٰہی کی تبلیغ نہ کریں، محض ذاتی طور سے کچھ کہیں تو امت پر ہرگز واجب نہیں کہ ان کی ذات کے سامنے گردنِ اطاعت جھکائے۔
 
بہر حال آیتِ کریمہ نے بتلایا کہ اللہ کے سوا کوئی ہستی مطاع بالذات نہیں، بلکہ بالوصف ہے۔ رسول وصف رسالت کے سبب سے، علماء وصف تبلیغ رسالت کے سبب سے اور حکام وصف تنفیذ احکام رسالت کے سبب سے مطاع عالم بنتے ہیں، اس لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول ہونے کی حیثیت سے واجب الاتباع ہیں، نہ کہ انسان ہونے کی حیثیت سے (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ اسی لیے اس جگہ اطیعوا کو دو جگہ لا گیا، یعنی اطیعوا اللہ والرسول نہ کہا گیا، تا کہ یہ تکرار لفظ دلالت کرے کہ وجہ اطاعت دونوں جگہ جدا جدا ہے، یہی وجہ ہے کہ بعثت سے پہلے اگر کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے منھ موڑ تا تو اس پر کفر وفسق عائد نہیں ہو سکتا تھا، لیکن بعثت کے بعد جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منصبِ نبوت اور فرض تبلیغ سپرد کر دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے منھ موڑنا صریح کفر اور ابدی عذاب قرار دیا گیا۔ کیوں کہ تبلیغ کا حکم وصف رسالت کے بعد ہوتا ہے اور وصف رسالت ہی کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مطاع ہیں اور ظاہر ہے کہ اس وصف رسالت کا ظہور اسی نشاة ثانیہ یعنی میلاد معنوی یا میلاد بعثت سے ہوتا ہے۔ پس یہ میلادِ ثانویہ ہی وہ وصف ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخدوم ومطاع اور محبوب عالم ثابت کرتی ہے۔
 
پس اس میلاد کا ذکر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آوردہ احکام کا ذکر قرار دیا جاسکتا ہے، کیوں کہ یہ میلا د ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطاع اور صاحبِ احکام بناتی ہے، لیکن محض میلاد جسمانی کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کا ذکر نہیں ہوسکتا، کیوں کہ میلادِ جسمانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایک انسان ثابت کرتی ہے اور انسانی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم واجب الاطاعت ہی نہیں، بلکہ صاحب احکام بھی نہیں، تو گویا محض ذکر میلادِ جسمانی پر قناعت کر لینا اگرچہ ثواب سے خالی نہ ہو، لیکن بلاشبہ ذکر احکام سنن نبوی اور ذکر اتباع نبوی سے جان چرانا ہے اور ذکر میلا دثانی یا ذکر بعثت یقیناً ذکر احکام ہے اور ذکر احکام اتباع احکام پر خواہ مخواہ برا نگیختہ کرتا ہے۔ پس یہ ذکر میلا د روحانی ذکر تعلیم ہے، ذکر تزکیہ نفس ہے، ذکر شمائل ہے، ذکرِ سنن ہے، ذکر موعظت ہے، ذکر عمل ہے، جس سے عالم کی اصلاح اور شائستگی وابستہ ہے۔
 
حاصل یہ نکلا کہ ذکر میلاد جسمانی ایک صورت ہے اور یہ ذکر میلاد معنوی ایک روح اور حقیقت ہے اور محض صورت پر قناعت کر لینا اگر چہ ثواب سے خالی نہ ہو، لیکن ایک ایسا عمل ہے جس کے اندر کوئی شرعی روح نہیں۔ پس وہ چیز جس نے ام القری (مکہ مکرمہ) کو دنیا کے ساری قریوں (بستیوں) پر فضیلت دی، جس نے ام القریٰ کی صدائے با ہنگام سے ہمالیہ کی چوٹیوں کو، بحر روم کے متموج کناروں کو، فارس کے پر فضا میدانوں کو اور مصر کی بری فضا کو گونجا دیا، وہ یہی میلا د روحانی تھی، نہ کہ جسمانی، پھر اس میلاد ثانوی ہی نے سلاطین دنیا کے درباروں میں زلزلے ڈالے، فرامین نبوت کو شاہی مسندوں پر شوکت کے ساتھ پہنچا دیا، مذاہب کے حلقوں میں ہل چل ڈالی اور اخلاق وملکات میں ایک زبردست انقلاب پیدا کر دیا۔ یقیناً اس سارے انقلاب میں میلا د جسمانی کا کوئی حصہ نہ تھا، یہ صحیح ہے کہ میلاد جسمانی کے دور میں قصر کسریٰ کے کنگرے گرے، رہبانیت کے زاویے اور احبار کے علمی حلقے تو حش انقلاب سے لرزنے لگے، مجوس کے آتش کدے ٹھنڈے پڑ گئے، میلا د جسمانی سے قبل ارہاصات اور بعد میں غیر معمولی واقعات پیش آئے، لیکن سچ پوچھو تو یہ سارے اضطرابات، ساری بے چینیاں اسی آئندہ انقلاب کی پیش بندیاں تھیں، جو اس نشأةِ ثانیہ اور میلا دِ معنوی سے ظہور پذیر ہونے والا تھا۔
 
یہی وجہ ہے کہ میلاد جسمانی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس سال تک پہنچ گئی، لیکن اس چالیس سالہ دور میں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مخالف تھا، نہ ایذا رسانیوں کے سامان کیے گئے، نہ زہر دلوایا گیا، نہ سحر کرایا گیا، نہ راستوں میں کانٹے بچھائے گئے، نہ طائف کے کتے پیچھے لگائے گئے، نہ پتھر برسائے گئے، بلکہ اس چالیس سالہ دور میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم محبوب خلائق اور محمد الامین تھے۔ ماجر بنا علیک کذبا کے مصداق تھے، کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل آنا نہیں چاہتا تھا، ہر شخص اپنے مزعومہ خیالات واوہام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے آزاد اور بے فکر تھا، لیکن جبل ابی قبیس کی چوٹیوں سے پہلی ہی صدائے تبلیغ اٹھی اور میلادِ معنوی کی پہلی ہی گھڑی سر پر آئی تھی کہ مخالفت وعداوت کی آگ بھڑک اٹھی، جو دوست تھے وہ دشمن ہوگئے اور جو اپنے تھے وہ بیگانے بن گئے۔
 
پس عالم میں جس چیز نے انقلاب پیدا کیا اور جس چیز نے مخلوقات کے مزعومات باطلہ پر ایک کاری ضرب لگائی وہ یہی میلاد ثانوی تھی، بناء ً علیہ اس کا ذکر کرنا ان تمام اسووں کا ذکر کرنا ہے جو شریعت اسلامیہ کے مقاصد ہیں اور ذکر میلاد جسمانی پر اور وہ بھی خود ساختہ صورت میں قناعت کر لینا ان تمام اسووں کو فراموش کر دینے کے مرادف ہے جن کا شریعت نے ارادہ کیا ہے۔ پس میلاد اول براہ راست شریعت ونبوت کے مقاصد میں نہیں اور دوسری میلاد براہ راست شرعی، ایک عظیم الشان مقصد ہے، جس کے لیے یہ سارے عالم کا خیمہ بایں آب وتاب کھڑا کیا گیا ہے۔
 
میں سمجھتا ہوں کہ ذکر میلادِ جسمانی پر قناعت کر لینے والے اور ذکر میلادِ روحانی یعنی ذکر عبادات و سنن اور ذکر معاملات و دیانات وغیرہ سے گریز کرنے والے کام چوری کی تہمت سے متہم ہیں، کیوں کہ پہلے ذکر کے ساتھ کوئی عملی اسوہ وابستہ نہیں، وہاں اگر ذکر ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جمالِ بدنی اور حسی کمالات کا ہے، لیکن وہ نمونہٴ عمل نہیں کہ ہم بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہٴ مبارک جیسا چہرہ بنا لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے حسن وجمال جیسا حسن وجمال بنالیں کہ یہ ہمارے قبضہٴ قدرت ہی کی چیز نہیں، اس لیے ایسے ذکر پر اصرار کرنے والے جس میں کوئی عملی نمونہ اور اسوہ نہ ہو در حقیقت کام چوری کے مرتکب ہیں کہ خالی ذکرِ میلاد کی مجلس آرائی کر کے اور اوپر سے از خود واجب کردہ شیرینی سے کام ودہن کا کام بنا کر کھڑے ہوجائیں، آگے کرنا دھرنا کچھ نہیں۔
 
چناں چہ یہ ذکر بایں روشِ مروّجہ چوں کہ نفس کے جذبات وخواہشات کے عین مطابق ہے، اس لیے عوام اس کی طرف زیادہ جھکتے ہیں اور خاص مقاصد والے خواص بھی، لیکن ذکر میلادِ روحانی جو درحقیقت حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے شرعی اعمال نماز، روزہ، حج، جہاد، تنظیم ملت، خلافت، سیاست، تربیت، تزکیہ، تعلیم، زہد، قناعت، تواضع للہ، سخاوت، شجاعت، تہجد، قیام لیل، فصل قضایا، تحمل مصائب، تبلیغ دین، اصلاحِ اقوام وملل وغیرہ کا ذکر ہے، اپنے اندر نمونہٴ عمل اور اسوہٴ حسنہ رکھتا ہے، جس سے ذکر کرنے والوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی یہ اعمال بقدر ہمت وطاقت انجام دیں اور انہی کو زندگی کا حاصل اور نقد سمجھیں اور ظاہر ہے کہ یہ کام محفل آرائی، روشنی اور شیرینی سے زیادہ مشکل ہے، اس لیے نہ عوام اس ذکر کی طرف راغب ہوتے ہیں، نہ اصطلاحی خواص، بلکہ اسے ذکر ہی نہیں سمجھتے۔
 
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ امت کا وہ سعی وعمل کا جذبہ جس کو قرآن نے ان میں پیدا کیا تھا اور حدیث نے اس کے طریقے تلقین کیے تھے، جس سے یہ امت طوفان کی طرح عالم میں بڑھی اور پھیلی، اس قسم کی رسوم میں گم ہو کر رہ گیا ہے اور امت بے عملی اور اس کے بعد بدعملی کا شکار ہوکر رہ گئی۔
 
مجھے اس سے انکار نہیں کہ ان رسوم کے پابند حضرات میں بہت سے مخلص، نیک نیت اور نیک نہاد بھی ہیں، جو ان اعمال کو حقیقتًا نیک نیتی اور غلبہ محبت سے انجام دیتے ہیں، اس لیے ان کی اندرونی محبت نبوی کی قدر ان کے اخلاص کی عظمت بھی ہم دلوں میں محسوس کرتے ہیں، لیکن ان حضرات کو اس پر بھی دھیان رکھنا چاہیے کہ خالی محبت وعظمت اگر کافی ہوتی تو شرائع کی ضرورت نہ پڑتی، ہر انسان میں فطرةً اللہ اور نیک بندوں کی محبت وعظمت موجود ہے، لیکن اظہار محبت وعظمت کے طریقوں میں وہ آزاد نہیں چھوڑے گئے، بلکہ شریعتوں نے آکر اظہار وتعمیل کے ڈھنگ بتلائے، شرائع کا نزول ہی فی الحقیقت جذبات کے عملی پروگرام دینے کے لیے ہوا ہے، جذبات پیدا کرنے کے لیے نہیں ہوا ہے، وہ تو فطرةً ہر انسان میں پیدا شدہ موجود ہیں۔
 
مثلاً محبت کسی قانون سے پیدا نہیں کی جاتی، بلکہ پیدا شدہ محبت کا قانونی مصرف قانون کی رو سے بتلایا جاتا ہے، اس لیے ان حضرات کو جہاں حق تعالیٰ نے محبت وعظمت کے جذبات سے نوازا ہے وہاں ان کو اپنے ارادہ واختیار کی حد تک اس قانون اور قانونی پروگرام (یعنی شرعی طریقوں اور نبوی سنتوں) کو بھی تو اپنا نا چاہیے، جو اس محبت وعظمت کے اظہار کے لیے آسمان سے وضع کر کے بھیجا گیا ہے، تا کہ جہاں ان بندوں کی محبت وعظمت کا اظہار ہو وہاں ان کی متابعت اور فرماں برداری کا بھی اظہار ہو، جو محبت کی اصلی غرض وغایت اور اس سے مقصود ہے۔
 
حاصل یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق میں جو امت پر عائد ہوتے ہیں تین حقوق بنیادی ہیں، محبت، عظمت اور متابعت۔ اگر انسان عاشق رسول ہے، مگر عظمت نہیں رکھتا تو وہ یقیناً اتلاف حقوق کا مرتکب ہے۔ عظمت وبڑائی رکھتا ہے، مگر محبت نہیں رکھتا تو وہ بھی حق تلف ہے اور اگر محبت و عظمت رکھتا ہے، مگر متابعت نہیں رکھتا تو وہ بھی حق تلف ہے۔ ادائے حقوق کی صورت اس کے سواد وسری نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت وعظمت اور متابعت سے بیک وقت اس کا قلب وقالب منور ہو اور اس کی صورت یہی ہو سکتی ہے کہ ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں وہ محض ذکر ولادت جسمانی پر قناعت کر کے نہ بیٹھ جائے، بلکہ ذکر ولادتِ روحانی اس سے زیادہ کرے، تا کہ طریقہ نبوت کا عملی پروگرام اس کے سامنے ہمہ وقت گھومتا رہے، اس کا مطلب ذکر میلاد جسمانی کرے تو اپنی طرف سے اختراعی قیود کو لازم نہ کرے، سادگی سے ذکر ولادت کیا جائے، یعنی صحیح اور مستند روایتیں پڑھ کر سنادی جائیں، جیسے ”نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب“(یہ ایک کتاب کا نام ہے جس میں حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات مبارکہ پر مشتمل احادیث جمع فرما ئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پاک کو ذکر کیا ہے(محمد عمران قاسمی بگیا نوی)) یا ایسے ہی اور مستند احادیث پر مشتمل رسالے جو اس بارہ میں کافی ہیں، سنے اور سنائے جائیں، موضوع روایتوں اور من گھڑت رسموں سے بچا جائے اور اس ذکر پاک کو رسم و رواج کی صورت نہ دی جائے کہ رسومِ شادی وغمی کی طرح جب اس کی مقررہ تاریخ آئی جو لوگوں نے طے کر رکھی ہے تو رواجی طور پر وہ جمع ہو گئے اور انھوں نے چند بندھی جڑی رسمیں ادا کر لیں اور بزعم خود سمجھ لیا کہ وہ حق محبت ادا کر چکے، بلکہ ان رسموں کی قید سے آزاد ہو کر حقیقی جذباتِ محبت وخلوص ہمہ وقت دل میں بھڑکائے رکھنے کی سعی کی جائے جو اتباع سنت اور پیروی رسول کے بغیر ممکن نہیں۔
 
حق تعالیٰ ہم سب کو اس میلادِ ثانوی کی طرف بڑھنے اور اس سے متخلق ہونے کی توفیق دے۔ واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم․ ہذا غایة ماسنح لی فی الباب والی اللہ المرجع والماب
(محمد طیب غفر لہ مہتم دار العلوم دیوبند)

مقالات و مضامین سے متعلق