موجودہ دور میں فلاح امت کا راستہ

idara letterhead universal2c

موجودہ دور میں فلاح امت کا راستہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبیدالله خالد

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امت پر بے حد شفیق اور روٴوف و رحیم تھے، اہل ایمان کے نفع اور فلاح وبہبود پر حریص ہونے کے باوجود آپ علیہ السلام کو یہ خوف دامن گیر نہیں تھا کہ میری امت معاشی اعتبار سے پس ماندہ ہوجائے گی اور اس کو فقر وفاقہ سے دوچار ہونا پڑے گا بلکہ آپ علیہ السلام کو یہ فکر در پیش تھی کہ امت مسلمہ دنیا کی محبت اور عیش وعشرت میں مبتلا ہو کر دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دینے لگے۔
موجودہ زمانے میں ملتِ اسلامیہ کو درپیش مسائل اور اس پر آنے والی لگا تار آزمائشیں اور پے در پے فتنے ہرباشعور مسلمان کے لیے سوہان روح اور باعث تشویش ہیں۔آسمانی وزمینی آفات ہوں، کفار کی یلغار ہو یا حوادث وامراض کی نت نئی صورتیں، مادی ترقی کے باوجود یہ تمام چیزیں کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھ رہی ہیں اور ان مصائب میں ایک بہت بڑی آفت اور بے حد نقصان دہ چیز مسلمانوں کی باہمی ایذاء رسانی اور آپس کا مخاصمانہ رویہ ہے ۔
قضیہٴ سوڈان ہو، مسئلہٴ فلسطین یا اسلامی ممالک کے باہمی تعلقات وروابط، مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ رویہ نہایت قابل افسوس اور تشویش ناک ہے ، آپس کے اتحاد کی شدید ضرورت کے اس دور میں باہمی فسادات اور لڑائیاں اور مسلمان ہی کا مسلمان پر ظلم وستم جہاں شماتتِ اعداء اور جگ ہنسائی کا سبب ہے وہیں امت کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی وجہ بھی ہے۔ غور کیا جائے تو ان تمام خرابیوں کی وجہ وہی ہے جو آج سے چودہ سو سال قبل سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما دی تھی کہ خدا کی قسم مجھے تم پر فقر کا خوف نہیں ہے لیکن میں تم پر جس بات سے ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم پر دنیا کی نعمتیں کشادہ کر دی جائیں جیسے تم سے پہلوں کے لیے کشادہ کردی گئی تھیں ،پھر پچھلی قوموں کی طرح تم دنیا کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگو، اور جیسے دنیا کی حرص نے انہیں غفلت اور لہو ولعب میں مبتلا کردیا تھا تم کو بھی غفلت اور لہو ولعب میں مبتلا کر دے ۔ (صحیح بخاری )
مخبر صادق سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک آج ہم کھلی آنکھوں سے پورا ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں، ایک طرف مسلمان افریقی ملک سوڈان میں مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی اور عوام پر ظلم وتشدد اور نسل کُشی کا سلسلہ جاری ہے، یہ حالات ویسے بھی نہایت افسوس ناک اور دل خراش ہیں، لیکن اس غم اور تکلیف میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہاں مقتول بھی مسلمان ہے تو قاتل بھی اسلام ہی کا دعویدار ہے، جہاں مظلوم اللہ کو پکارتا ہے وہیں ظالم بھی کلمہ گو ہے،مقامی حکومت ، حزب اختلاف اور دیگرکئی مسلم ممالک کے حکمران، سونے اور دیگر معدنیاتی ذخائر کے حصول کی خاطر خانہ جنگی کی آگ کو ہوا دے رہے ہیں اور کشت خون کے الاوٴ کو قصداً بجھنے نہیں دیتے اور اپنے خسیس مقاصد کی خاطر مسلمانوں کے خون کو فسادات کا ایندھن بنا رہے ہیں، مسلمان عوام بھیڑ بکریوں کے گلّے کی مانند اپنے جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کے لیے نقل مکانیوں کے ایک سلسلے میں مبتلا ہیں۔
دوسری طرف برّ صغیر کے مسلم ممالک کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے جارہے ہیں، باہمی منافرت وبیزاری اور بغض وعداوت کے جذبات روز افزوں ہیں، مصالحتی کوششیں بے سود ہیں اور مذاکراتی اجلاس بے نتیجہ ختم ہو رہے ہیں، کفار بڑی کامیابی سے اپنے اصول ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ پر عمل کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کر رہے ہیں، کیوں کہ امت مسلمہ کے ٹکڑیوں اورچھوٹے چھوٹے خطوں اور ریاستوں میں تقسیم ہونے کے بعد کفار ان پر من چاہی حکومتیں قائم کرسکتے ہیں ،لیکن اب بھی موقع ہے، آئندہ کی مثبت پالیسی سازی سے ماضی کی تلخیوں کا ازالہ ممکن ہے اور فریقین کے لیے باعث خیر وبرکت اور رضائے الہٰی کے مستحق بننے کا ذریعہ بھی ہے، لہٰذا یہ وقت ہے کہ آئندہ باہمی عداوت اور ایذا رسانی سے توبہ کی جائے، آپس کے اختلاف کے حل کے لیے سنجیدہ اور کامیاب مذاکرات کیے جائیں اور اتفاق واتحاد اور امت کے اجتماعی مفاد کو مستقبل کے لائحہٴ عمل کا مرکزی نکتہ قرار دیا جائے، اس میں مسلمانوں کی دنیوی فلاح وعزت بھی ہے اور عند اللہ سرخ روئی اور آخرت کی کامیابی بھی ۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائیں اور امت مسلمہ کی دست گیری فرمائیں۔ آمین!

سنگ میل سے متعلق