بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مبصر کے قلم سے

مبصر کے قلم سے

ادارہ

تبصرہ کے لیے کتاب کے دو نسخے ارسال کرنا ضروری ہے۔ صرف ایک کتاب کی ترسیل پر ادارہ تبصرے سے قاصر ہے۔ تبصرے کے لیے کتابیں صرف مدیر الفاروق یا ناظم شعبہ الفاروق کو بھیجی جائیں (ادارہ)

خصوصی اشاعت ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک
بیاد: شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق صاحب شہید
مرتبین: مولانا راشد الحق سمیع، مولانا عبدالقیوم حقانی
صفحات: جلد اول:581، جلد دوم:574
جلد سوم:589، جلد چہارم:536 سائز:20×30=8
ناشر: مؤتمر المصنفین، جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، خیبر پختونخواہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق صاحب شہید رحمة الله علیہ کو الله تعالیٰ نے بے پناہ صفات وخصوصیات سے نوازا تھا او رانہوں نے اپنے والد گرامی شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق صاحب رحمة الله علیہ کی جانشینی کا صحیح حق ادا کیا ، ان کے قائم کردہ ادارے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی تعلیمی وتعمیری ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس کے اہتمام وانصرام کو خوب طریقے سے نبھایا، ملک وملت کی تعمیر وترقی میں بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لیا اور مسلمانان عالم کے دکھوں کی اشک شوئی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونے دیا، اور جہاں تک ممکن ہو سکا انہوں نے امت مسلمہ پر ہونے والے ظلم وبربریت کے خلاف آواز اٹھائی، ان کی آواز توانا ہوا کرتی تھی اور اپنا ایک اثر رکھتی تھی۔

جہادافغانستان میں جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک اور مولانا سمیع الحق شہید رحمة الله علیہ کے کردار کو کبھی بھلایا نہیں جاسکے گا، وہ افغان مجاہدین کے سرپرست ومربی تھے اور ببانگ دہل ان کی حمایت او ران کے حق میں آواز بلند کیا کرتے تھے، بظاہر اسی جرم کی پاداش میں بالآخر شہید کر دیے گئے۔ زیر نظر کتاب میں ان کی سیرت وسوانح، خدمات وکارنامے او ران کی وفات پر اہل علم ودانش اور اہل قلم کے تأثرات جمع کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک کی خصوصی اشاعت ہے اور چار جلدوں پر مشتمل ہے، کتاب کے مندرجات کو پندرہ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، جلد اول میں چار ابواب ہیں، پہلا باب نقوش حیات کے عنوان سے، دوسرا باب سیرت وکردار، اوصاف وکمالات کے عنوان سے، تیسرا باب علمی جامعیت، فضل وکمال اور تقدس وعظمت کے عنوان سے اور چوتھا باب اہل قلم وارباب صحافت کی نظر میں کے عنوان سے ہے، دوسری جلد میں پانچواں ،چھٹا اور ساتواں باب ہے، پانچواں باب اہل علم ودانش کی نظر میں، چھٹا باب قومی، ملی، سماجی، سیاسی وپارلیمانی خدمات او رساتواں باب سفر آخرت کے عنوان سے ہے، تیسری جلد میں آٹھواں، نواں اور دسواں باب ہے، آٹھواں باب جہاد افغانستان، تحریک طالبان اور حضرت شہید کا مجاہدانہ کردار، نواں باب تصنیفی، تالیفی اورادبی خدمات اور دسواں باب ملاقاتیں، مشاہدات اور تأثرات کے عنوان سے ہے ۔

چوتھی جلد میں پانچ باب ہیں، گیارہواں باب زعمائے ملک وملت کے تأثرات، مکتوبات، خطبات او رپیغامات، بارہواں باب خانوادہ حقانی کی نظر میں، تیرہواں باب مولانا سمیع الحق شہید کے جواہر پارے، چودہواں باب عربی مضامین وتأثرات اور پندرہواں باب منظوم تأثرات کے عنوان سے ہے۔

اس خاص نمبر کی ترتیب وتدوین کا کام ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک کے مدیر اعلیٰ مولانا راشد الحق سمیع اور ماہنامہ القاسم نوشہرہ کے مدیر اعلیٰ مولانا عبدالقیوم حقانی نے انجام دیا ہے۔ اس کی جامعیت واہمیت کا اندازہ ابواب کے عنوانات سے لگایا جاسکتا ہے۔ حضرت مولانا سمیع الحق شہید  جامع شخصیت کے مالک تھے، زیر نظر خاص نمبر میں ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ ماہنامہ الحق کا یہ خاص نمبر بڑی وقیع او رقابل قدر علمی کاوش ہے ، ادارہ اس پرسپاس وشکریے کا مستحق ہے۔ الله تعالیٰ اس کاوش کو مقبول ونافع او رامت کی بہتر راہ نمائی کا ذریعہ بنائے۔

کتاب کا کاغذ اعلی، جلد بندی مضبوط اور طباعت واشاعت خوب صورت ومعیاری ہے۔

رخت ِسفر
تالیف: محمد حذیفہ رفیق
صفحات:212 سائز:23×36=16
ناشر: زمزم پبلشرز، شاہ زیب سینٹر، نزد مقدس مسجد، اردو بازار کراچی۔

اس کتاب میں اسلامی تاریخ کے بعض عمدہ ، دلچسپ اور سبق آموز واقعات کو ادبی زبان واسلوب اور سلیس انداز تحریر میں پیش کیا گیا ہے، تاکہ ان واقعات کو پڑھ مسلمان نوجوان اور بچے اپنی تاریخ سے بھی واقف ہوں اور ساتھ ساتھ ان میں اعلیٰ اخلاق، عمدہ صفات اور ایمانی اقدار بھی پیدا ہو سکیں اور یہی اس کتاب کی تالیف کا اصل مقصد ہے۔ کتاب میں بعض شہروں اورمقامات کو سمجھانے کے لیے جغرافیائی نقشے بھی دیے گئے ہیں، اس سے قاری کو جغرافیائی معلومات بھی حاصل ہوں گی اور جغرافیے سے مناسبت بھی پیدا ہوگی۔ الغرض یہ کتاب مسلمان بچوں اور نوجوانوں کی اسلامی واخلاقی تربیت کے حوالے سے بہت مفید ہے، کتاب کا عنوان اس شعر سے ماخوذ ہے کہ:
        نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پرسوز
        یہی ہے رخت سفر میرِ کارواں کے لیے

کتاب کا کاغذ اعلیٰ، ٹائٹل دیدہ زیب اور طباعت واشاعت خوب صورت ومعیاری ہے۔