خلیفہ اول، مزاج شناس پیغمبر، حضرت سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اسلام کے لیے بے مثال ولازوال قربانیاں ہیں، آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غار ومزار کے ساتھی ہیں اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی ومخلص ساتھیوں میں سے ہیں، حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی سِیَر وفضائل بے شمار ہیں، جنہیں شمار کرنا اتنا آسان کام نہیں، ہم چند سطور میں حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کو بیان کر کے اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
سید ناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اسلام کے لیے بے شمار قربانیاں ہیں، جن کی بدولت آج دین اسلام ہم تک پہنچا، جس سے امت مسلمہ سیراب ہو رہی ہے۔
مشرکین مکہ کے مظالم جب حد سے بڑھ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کرنے کا حکم ملا تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رفاقت کے لیے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا، سفر ہجرت میں صرف ابو بکر رضی اللہ عنہ ہی نہیں، بلکہ ان کے گھرانے، حتیٰ کہ غلاموں تک کی وفاداریاں تاریخ اسلام کا حسین باب ہیں۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا ہوں یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، آپ رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہوں یا آپ کے غلام حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ، انہوں نے سفر ہجرت میں بے مثال قربانیاں پیش کیں، حتی کہ آپ کے صاحب زادے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (جو ابھی تک اسلام نہ لائے تھے) انہوں نے بھی اس راز کو فاش نہ کیا، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے تو راستہ میں روایات کے مطابق حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کندھے پر اٹھا یا، حتیٰ کہ غار ثور کے دھانے پر پہنچ گئے، حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کو اپنی جان کا کوئی غم نہ تھا، غم تھا تو نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کا غم تھا۔ اس لیے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ نے تھوڑی دیر باہر روکا اور خود غار کے اندر تشریف لے گئے اور اندر سے غار کو صاف کرنے لگے اور جو غار کے اندر سوراخ تھے، جہاں سے زہریلے جانوروں کے کاٹنے کا خطرہ تھا اپنی چادر مبارک پھاڑ پھاڑ کر ان سوراخوں کو بند کرنے لگے، سوائے ایک سوراخ کے باقی سوراخوں کو بند کر دیا۔ پھر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی، حضور اندر تشریف لے گئے، تین چار میل کا دشوار گزار سفر اور پہاڑی راستے، ذہنی اور جسمانی تھکانیں صاحب غار اور رفیق غار دونوں کو، مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آقا کے لیے زانو پھیلا دیے، سردار دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے زانو مبارک پر سر مبارک رکھ کر سو گئے، کتنی مبارک وہ گود جس میں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقدس رکھا، ادھر غار کا ایک سوراخ بند نہ ہو سکا، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا پاؤں مبارک رکھ دیا، زہریلے سانپ نے ڈس لیا، تکلیف کی شدت بڑھتی رہی اور آپ رضی اللہ عنہ ضبط کرتے رہے، مگر بے اختیار آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور رخ انور پر گرے، جس سے آنکھ مبارک کھل گئی، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پریشان دیکھ کر وجہ دریافت کی، آپ رضی اللہ عنہ نے آگاہ کیا، تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب مبارک، جہاں سانپ نے ڈسا تھا، لگا یا تو تمام تکلیف دور ہوگئی اور زہر کا اثر جاتا رہا۔ (سیرة حلبیہ، اردو، ص98 ج 3)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو غار میں اچانک پیاس لگنے لگی تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غار کے درمیان میں جاؤ اور پانی پی لو، چناں چہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ غار کے اس حصے کی طرف گئے تو وہ وہاں انہیں پانی ملا، جو شہد سے میٹھا، دودھ سے زیادہ سفید اور مشک سے زیادہ پاکیزہ خوش بو والا تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس سے پیا، اس کے بعد آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کو جو جنت کی نہروں کا نگران ہے حکم فرمایا ہے کہ اس غار کے درمیان میں جنت الفردوس سے ایک چشمہ پیدا کر دیں، تا کہ تم اس سے پانی پی سکو“۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، کیا اللہ تعالیٰ کے ہاں میرا اتنا بڑا مقام ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں! بالکل اس سے بھی زیادہ، قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے پیغام کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا کہ وہ شخص جو تم سے بغض اور دشمنی رکھتا ہے، جنت میں داخل نہیں ہوگا، خواہ اس کے اعمال ستر نبیوں کے برابر ہوں۔ (سیرة حلبیہ ص 107 ج 3) قریش مکہ تلاش کرتے کرتے جب غار کے دھانے پر پہنچ گئے، اگر وہ اپنے پاؤں کی طرف دیکھتے تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نظر آجاتے، مگر اللہ تعالیٰ نے حفاظت کے اسباب پیدا فرما ر کھے تھے
لہٰذا ان کو نظر نہ آئے، علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ بعض سیرت نگاروں نے روایت کیا ہے کہ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اگر ان لوگوں نے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا تو ان کی نگاہ ہم پر ضرور پڑے گی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ لوگ یہاں ہمارے پاس پہنچ بھی گئے تو ہم یہاں سے نکل کر کہیں چلے جائیں گے“ مگر غار کا صرف ایک ہی دھانہ کھلا ہوا تھا، اس لیے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ غار پر نظر ڈالی تو انہوں نے دیکھا کہ غار میں دوسری طرف بھی دھانہ کھلا ہوا ہے اور سمندر کا ساحل اس دھانے آلگا ہے، جہاں ایک کشتی بھی کنارے سے بندھی ہوئی کھڑی ہے، علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس لحاظ سے منکر نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت سے یہ بات بعید نہیں ہے، مگر یہ حدیث کسی مضبوط یا ضعیف سند کے ساتھ ذکر نہیں ہوئی۔ (سیرة حلبیہ ص 104 ج 3) یار غار، خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سید ناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی حیات مقدسہ وسیرت مطہرہ کا امتیازی وصف اور مخصوص جو ہر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے کامل توافق وتشابہ اور مکمل یک رنگی وہم آہنگی ہے، اخلاق نبوی سے اور سیرت مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے تخلق وتشبہ کی نعمت وسعادت سے جو بہرہٴ وافر آپ کو ملا ہے، وہ اور کسی کو نہ مل سکا اور اس اعتبار سے آپ یاران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری جماعت میں ماشاء اللہ ممتازومنفرد نظر آتے ہیں۔ اگر آپ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی، خصوصا زمانہ خلافت کو بہ نگاہِ تعلق دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انہوں نے وہ کام کبھی نہیں کیا جونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا اور جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وہ آپ نے بہر حال کیا اور ہر قیمت پر کر کے چھوڑا۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو عمر نے استیعاب میں حضرت اسید بن صفوان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ میں ایک حدیث حسن حضرت علی سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تعریف میں روایت کی ہے، پھر میں نے (کتاب) ”الریاض النضرة“ میں یہی حدیث پائی، جس کے الفاظ یہ ہیں: اسید بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تھا، وہ کہتے تھے کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انتقال فرمایا تو ان پر ایک چادر اوڑھادی گئی، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، اس حال میں کہ آپ کرم اللہ وجہہ اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھتے جاتے تھے، پھر فرمایا اے ابو بکر! اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست تھے۔ اور سیرت وعادت، راست روی ومہربانی اور فضل وبزرگی میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہ تھے“۔ (ازالة الخلفاء)
صحیح بخاری میں روایت ہے کہ (ہجرت فرما کر) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبا تشریف لائے، دوشنبہ کا دن تھا اور ربیع الاول کا مہینہ! انصار میں سے جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا وہ آکر پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سلام کرتا تھا۔ یہاں تک کہ سورج کی تپش حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے لگی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی چادر سے سایہ کر دیا۔ تب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا۔ (صحیح بخاری) تو جب تک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر اپنی چادر سے سایہ نہ کیا انصار مدینہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہی کو رسول اللہ سمجھتے رہے اور جو بھی آتا پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہدیہ سلام پیش کرتا تھا، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد سے اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ساری عمر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی مخالفت نہیں کی۔ طبرانی رحمہ اللہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حجة الوداع سے واپس تشریف لائے تو منبر پر چڑھے، خدا تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا: اے لوگو! بلاشبہ ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے کبھی مجھے رنجیدہ ومغموم نہیں کیا“۔ (تاریخ الخلفاء)
یعنی اخلاق وصفات تو بجائے خود، افکار واعمال میں بھی اس درجہ تشابہ وتوافق تھا کہ عُمر بھر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کبھی کوئی مخالفت نہیں کی۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کبھی کوئی ایسا فعل سرزد نہیں ہوا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشانی خاطر وتکدر طبع کا موجب ہوتا اور اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کا شائبہ بھی ہوتا؟ محدث خطیب رحمة اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور ابوبکر وعمر ایک ہی (پاک) مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں اور اسی ایک ہی مٹی میں دفن ہوں گے۔ (کتاب المحقق و المفترق) شرح مناسک میں علامہ نووی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: ”علماء نے لکھا ہے کہ آدمی جس جگہ دفن ہوتا ہے اسی جگہ کی مٹی سے ابتدا میں وہ پیدا کیا جاتا ہے تو گویا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک بھی اسی مٹی سے بنا ہے“۔ (فضائل حج ص 71 از حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ) اس حقیقت کے پیش نظر حضرات شیخین کی رفعت شان وعظمت مقام کی کوئی حد وانتہا نہیں رہی، کیوں کہ جس مقدس مٹی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود اقدس تیار کیا گیا ہے، اس خاک پاک سے حضرات شیخین کا خمیر اٹھایا گیا ہے۔ تو ان کی طینت اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طینت میں وحدت ویگانگت پیدا ہوگئی۔ اللہ! اپنی صناعی اور صفت تخلیق کا بہترین مظاہرہ کرنے کے لیے چشم قدرت نے جس مقدس جگہ کا انتخاب کیا اور دست قدرت نے جہاں سے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود پاک کے لیے پاک مٹی اٹھائی اس مبارک ومقدس مقام کا نام ہے روضہٴ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
اللہ تعالی ہمیں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!