زندگی بدلنے والی نماز

idara letterhead universal2c

زندگی بدلنے والی نماز

مولانا محمد سلمان قاسمی محبوب نگری

ہمارے شیخ واستاد حضرت اقدس مولانا عبد الخالق صاحب مدراسی دوران درس بار بار ہمیں تاکید و تلقین کرتے تھے کہ چھٹی نماز کے بغیر کوئی آدمی بڑا نہیں بن سکتا، یعنی روز و شب میں ہر مسلمان پر پانچ نمازیں تو فرض ہیں، اس کے علاوہ ایک نماز ہے جو نزولِ شریعت کے آغاز میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور امت پر بھی فرض تھی، مراد اس سے تہجد کی نماز ہے۔ سورہ مزمل کی آیات ہیں: ﴿یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ، قُمِ اللَّیْلَ إِلَّا قَلِیلًا، نِصْفَہُ أَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیلًا، أَوْ زِدْ عَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیلًا﴾ ترجمہ: اے چادر اوڑھنے والے! رات کو قیام کرو مگر تھوڑا سا حصہ، آدھی رات یا اس میں سے تھوڑا سا حصہ کم کر دو، یا اس پر زیادہ کر دو اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔

حضرت مفتی شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لفظ مزمل اور مدثر خود اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ یہ آیات بالکل ابتدائے اسلام اور نزول قرآن کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی ہیں، جب کہ اس وقت پانچ نمازیں امت پر فرض نہیں ہوئی تھیں، کیوں کہ پانچ نمازوں کی فرضیت تو شب معراج میں ہوئی ہے۔

امام بغوی رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وغیرہ کی احادیث کی بنا پر یہ فرمایا ہے کہ اس آیت کی رو سے قیام اللیل یعنی رات کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام امت پر فرض تھی اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب پانچ نمازیں فرض نہیں تھیں۔

اس آیت میں قیام اللیل یعنی تہجد کی نماز کو صرف فرض ہی نہیں کیا گیا، بلکہ اس میں کم از کم ایک چوتھائی رات سے مشغول رہنا بھی فرض قرار دیا گیا ہے؛ کیوں کہ ان آیات میں اصل حکم یہ تھا کہ تمام رات، باستثنائے قلیل، نماز میں مشغول رہیں اور استثنا ئے قلیل کا بیان اور تفصیل آگے آرہی ہے۔

امام بغوی رحمہ اللہ روایات حدیث کی بنا پر فرماتے ہیں کہ اس حکم کی تعمیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رات کے اکثر حصہ کو نماز تہجد میں صرف فرماتے تھے، یہاں تک کہ ان کے قدم ورم کر گئے اور یہ حکم خاصا بھاری معلوم ہوا۔ سال بھر کے بعد اسی سورت کا آخری حصہ ﴿فَاقْرَءُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ نازل ہوا، جس نے اس طویل قیام کی پابندی منسوخ کر دی اور اختیار دے دیا کہ جتنی دیر کسی کے لیے آسان ہوسکے اتنا وقت خرچ کرنا نماز تہجد میں کافی ہے۔ یہ مضمون ابوداؤد، نسائی میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے منقول ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب پانچ نمازوں کی فرضیت شب معراج میں نازل ہوئی تو نماز تہجد کی فرضیت منسوخ ہوگئی، البتہ سنت پھر بھی رہی اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اس پر مداومت فرمائی، اسی طرح اکثر صحابہ کرام بڑی پابندی سے نماز تہجد ادا کرتے تھے۔ (تفسیر مظہری)

نماز تہجد کی اہمیت کے باب میں آیت مذکورہ شافی و کافی بیان ہے، اب اس کی افادیت کو آگے کی آیات میں دیکھیں کہ اللہ پاک فرما رہے ہیں ﴿إِنَّا سَنُلْقِی عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیلًا﴾ ترجمہ: ہم ڈالنے والے ہیں تجھ پر ایک بات وزن دار۔

حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس آیت میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ نماز تہجد کا حکم اس لیے دیا گیا کہ انسان مشقت اٹھانے کا خوگر بنے، یہ یعنی تہجد کی نماز رات کو نیند کے غلبہ اور نفس کی راحت کے خلاف ایک جہاد ہے؛ اس کے ذریعہ احکام کا ثقیل بوجھ برداشت کرنا آسان ہو جائے گا، جو قرآن میں نازل ہونے والے ہیں۔ (معارف القرآن)

معلوم یہ ہوا کہ انسان کو اللہ پاک کے حکموں کی تعمیل اور قرآن میں مذکور احکام پر بلامشقت عمل کرنا آسان ہو جائے گا، جب کہ وہ تہجد کی نماز کا اہتمام کرنے والا ہو، علما نے ایک حکمت یہ بھی بیان کی ہے کہ جس طرح زمین کو ہم وار کرنے کے بعد بیج ڈالنا بار آور ہو گا، اسی طرح تہجد کے ذریعہ دل کی زمین بھی ہم وار ہوگی، پھر جب احکام شرع کے بیج اس میں ڈالے جائیں گے تو وہ انشاء اللہ ضرور نفع بخش و ثمر آور ثابت ہوں گے۔

اسی برکت کے پیش نظر حضور علیہ السلام اور حضرات صحابہ بڑے اہتمام کے ساتھ تہجد پڑھا کرتے تھے اور رات کے اوقات میں نرم و نازک خواب گاہوں پر سوتے پڑے رہنے کے بجائے یادِ الٰہی میں مصلوں پر اور بارگاہِ حضور میں سجدہ ریز ہو کر گزارنے کو پسند کرتے تھے۔ خود قرآن پاک نے اس کی شہادت دی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِیَ لَہُم مِّن قُرَّةِ أَعْیُنٍ﴾ (السجدہ: 16، 17)

”ان کے پہلو (رات کے وقت) اپنے بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈر اور امید (کے ملے جلے جذبات) کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے وہ اس میں سے (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔ چناں چہ کسی متنفس (انسان) کو کچھ پتہ نہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان اُن کے اعمال کے بدلے میں چھپا کر رکھا گیا ہے“۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے: ﴿کَانُوا قَلِیلًا مِنَ الَّیْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ، وَبِالْأَسْحَارِہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ﴾ (الذاریات: 17، 18) ”وہ رات کے وقت کم سوتے تھے اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے“۔

اور ایک جگہ اللہ کے نیک بندوں کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا: ﴿وَالَّذِینَ یَبِیتُونَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَقِیَامًا﴾ (الفرقان: 64) ترجمہ: ”اور (رحمان کے بندے وہ ہیں) جو راتیں اس طرح گزارتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے آگے (کبھی) سجدے میں ہوتے ہیں اور (کبھی) قیام میں“۔

ساتھ ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی امت کو طرح طرح سے قیام اللیل اور نماز تہجد کی ترغیب دی ہے، چناں چہ حضرت عبد اللہ بن سلام کی روایت ہے، فرماتے ہیں: ”جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑنے لگے اور کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں، میں بھی لوگوں کے ساتھ آیا، تاکہ دیکھوں (کہ واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں یا نہیں؟) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھ کر کہا کہ: یہ چہرہ جھوٹے شخص کا نہیں ہوسکتا۔ وہاں جو سب سے پہلا ارشاد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا، وہ یہ تھا کہ لوگو! آپس میں سلام کا رواج ڈالو اور (غرباء کو) کھانا کھلاؤ اور صلہ رحمی کرو اور رات کے وقت جب سب لوگ سوتے ہوں (تہجد کی) نماز پڑھا کرو، تو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“۔ (سنن ابن ماجہ وجامع ترمذی)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایسے بالا خانے ہیں (جو آبگینوں کے بنے ہوئے محسوس ہوتے ہیں) کہ ان کے اندر کی سب چیزیں باہر سے نظر آتی ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کن لوگوں کے لیے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اچھی طرح بات کریں، (غرباء کو) کھانا کھلائیں، ہمیشہ روزے رکھیں اور ایسے وقت میں رات کو تہجد پڑھیں جب لوگ سو رہے ہوں۔ (ترمذی، ابن ابی شیبہ)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والا روزہ محرم کا ہے اور فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات (کے وقت تہجد) کی ہے“۔ (مسلم، مشکوٰة)

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم رات کے قیام کو لازم پکڑو، کیوں کہ یہ تم سے پہلے صالحین اور نیک لوگوں کا طریقہ ہے اور رات کا قیام اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب کا ذریعہ ہے اور گناہوں کے لیے کفارہ ہے اور گناہوں سے روکنے اور حسد سے دُور کرنے والی چیز ہے۔ (قیام اللیل)

احادیث بالا سے پتہ چلا کہ تہجد کی نماز عند اللہ کتنا محبوب عمل ہے اور کس قدر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو اور امت کو اس کی ترغیب دی ہے اور اس نماز کو انبیائے سابقین کا طریقہ اور تقرب الٰہی کا بہترین وسیلہ، بلکہ گناہوں سے حفاظت کا ذریعہ اور دخول جنت کا سبب بتایا گیا ہے، ایک اور روایت میں وارد ہے کہ رات کا وقت اللہ کا قرب حاصل کرنے کا سب سے بہترین وقت ہے۔ حضرت عمرو بن عبسہ کی حدیث ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”اللہ جل شانہ بندے کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخر درمیانے حصے میں ہوتے ہیں، اگر تم میں توفیق ہو کہ تم اس گھڑی میں ان لوگوں میں سے ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں تو تم ایسا کر لو“۔ (ترمذی)

علامہ مناوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رات کے درمیان لوگوں کی غفلت کی حالت میں اور ان کی نیند میں استغراق کی حالت میں تہجد ادا کرنا نزول رحمت اور حصول انوار کا موقع ہے، یہ ایسا وقت ہوتا ہے کہ بے نیاز مولیٰ آسمان دنیا پر نزول فرما کر پوچھتے ہیں کہ ہے کوئی مانگنے والا کہ اس کو نوازا جائے؟ ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟ ہے کوئی بخشش چاہنے والا کہ اس کی مغفرت کی جائے؟ (صحیح مسلم)

اسی وجہ سے حضرات سلف صالحین اور صوفیاء ومشائخ، بلکہ دن رات تفسیر و حدیث اور فقہ و فتاویٰ کی خدمات میں مصروف اہل علم بھی تہجد کا بڑا اہتمام کیا کرتے تھے

حضرت سعید بن مسیب کے بارے میں ان کے بیٹے کی شہادت ہے کہ انہوں نے پچاس سال تک عشا کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی اور مسلسل روزے رکھے۔ سبحان اللہ! گویا ساری رات یادِ الٰہی میں گزارتے تھے۔ 

حضرت مسروق رحمہ اللہ کی اہلیہ محترمہ فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم! جب حضرت مسروق رات کی عبادت کر کے صبح کو فارغ ہوتے تھے آپ کی پنڈلیاں طول قیام کی وجہ سے سوجی ہوئی ہوتی تھیں، میں ان کے پیچھے ان پر ترس کھاتے ہوئے روتی رہتی تھی، جب رات لمبی ہو جاتی تھی اور آپ تھک جاتے تھے تو بیٹھ کر نماز ادا فرماتے تھے، نماز کو چھوڑتے نہیں تھے۔ 

محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس عبد الرحمن بن اسود تشریف لائے، جب کہ آپ کے ایک پاؤں میں تکلیف تھی، پھر بھی آپ نے ساری رات صبح تک کھڑے ہو کر نماز پڑھی، ایک پاؤں کو اٹھا رکھا تھا اور دوسرے پاؤں پر کھڑے رہے اور ہمارے ساتھ عشاء اور صبح کی نماز ایک ہی وضو سے ادا کی۔

حضرت جنید بغدادی رحمة اللہ علیہ (متوفی: 792ھ) کو وفات کے بعد کسی نے خواب میں دیکھا تو سوال کیا: حق تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ آپ نے کہا: فَنِیَتِ الْحَقَائِقُ وَالْإِشَارَاتُ، وَنَفِدَتِ الرُّمُوْزُ وَالْعِبَارَاتُ، وَمَا نَفَعَنَا اِلاَّ رُکَیْعَاتٌ فِی جَوْفِ اللَّیْلِ یعنی سارے علوم وحقائق وغیرہ فنا ہو گئے، یہاں کچھ کام نہ آئے، اگر کچھ کام آئیں تو صرف وہ چھوٹی چھوٹی رکعتیں کام آئیں جو میں آدھی رات کو پڑھا کرتا تھا، یعنی تہجد“۔ (الافاضات، ج: 2، ص:286)

آیات واحادیث اور احوالِ سلف سے نمازِ تہجد کی فضیلت، اہمیت، افادیت اور عند اللہ اس کی مقبولیت کا اندازہ کرنے کے بعد اب انسان عقل کو بنیاد بنا کر بھی سوچے کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ ساری مخلوق، حتیٰ کہ چرند پرند بھی محوِ خواب ہوں، اشجار و احجار، دریا و صحرا سبھی پر سکوت وخاموشی طاری ہو اور حضرتِ انسان جس کی خلقت کا بنیادی مقصد خدا کی قربت ہے وہ بھی میٹھی نیند کی چسکیاں لے رہا ہو، گویا سارے عالم پر غفلت کی ایک دبیز چادر پڑی ہوئی ہو اور خلاقِ عالم، غنی عن العالمین، مولیٰ سماءِ دنیا پر جلوہ فرما ہوکر ”ہل من سائل فأعطیہ؟ ہل من داعٍ فأستجیب لہ؟ ہل من تائب فأتوب علیہ؟ ہل من مستغفر فأغفر لہ؟“ کی صدا لگا رہے ہوں کہ ہے کوئی اپنی چاہتوں کا طلب گار؟ ہے کوئی توبہ وتوجہ کا خواستگار؟ ہے کوئی طالب مغفرت کہ میں اس کی امنگوں کو پورا کروں؟ اس کی مطلوب ومرغوب اشیاء سے اس کو بہرہ ور کروں؟ اس کی طرف نظرِ رحمت فرما کر اس کے گناہوں کی بخشش کروں؟ اب ایسے وقت میں ایک بندہ نیاز مند بے نیاز مولیٰ کی اس پکار کی آہٹ پا کر، غفلت کی موٹی چادر کو چاک کرتے ہوئے، اٹھتا ہے اور اطراف و اکناف کے ماحول سے بے پروا ہو کر اپنے محبوب کی محبت اور اس کی یاد میں کھڑا ہوتا ہے تو تھوڑا تصور کریں کہ ایک غلام اور آقا، دونوں ایک دوسرے کے ہم راز و دم ساز ہیں اور بندہ پوری توجہ و انہماک کے ساتھ اپنے مولیٰ کے آگے سرِ تسلیم خم کیے ہوئے آہ و بکا کر رہا ہے، اس کی رضا وخوش نودی کا سوال کر رہا ہے، اس کی جنت کی مانگ کرتے ہوئے اس کی جہنم سے پناہ مانگ رہا ہے، اپنے سارے دکھڑے اس کو بتا بتا کر پریشانیوں سے نجات چاہ رہا ہے، وہ ساری معصیتیں، جو پردہٴ راز میں تھیں ان میں سے ایک ایک کو یاد کر کے اپنے آقا سے ان کی مغفرت کی بھیک چاہتا ہے، غرض عبدیت وعاجزی، جس کو اللہ پاک سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں، اس کا کمال اظہار ہورہا ہو تو ذات ذوالمنن باری تعالیٰ کی غیرت سے یہ ممکن ہے کہ اس بندے کو دھتکار دے؟ اس کو نا مراد لوٹا دے؟ نہیں! بلکہ اللہ پاک بڑے غیور ہیں، رؤوف و رحیم ہیں، وہ ضرور ایسے بندوں کو، جو تنہائیوں میں اس سے ملاقات کے رسیا ہوں ،ایسی شان قبولیت سے نوازتے ہیں کہ ساری دنیا ان بندوں کی اسیری کو سرمایہ افتخار سمجھنے لگے، ان کی کچھ دیر کی رفاقت و صحبت با فیض کو ہفت اقلیم کی دولت سے برتر گردانے اور شاہان عالم ان کے در کی حاضری، بلکہ چاکری کو بھی اپنے لیے باعث سعادت تصور کریں، یہی وہ بندے ہیں جن کے جذبات و خیالات کی اللہ پاک کے یہاں بھی بڑی قدر ہے، حدیث رسول ”لو أقسم علی اللہ لأبرہ“ کے مطابق یہ کچھ کہہ دیں تو باری تعالیٰ ان کے کہے کی لاج رکھنے کی خاطر نقشہ کائنات میں تغیر افتاد کر دے، نظام عالم میں تبدیلی واقع کر دے، ان کی ایذا رسانی پر ”آذنتہ بالحرب“ کی تہدید شدید نازل ہو، وہ ﴿لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُونَ﴾ کی شان کے ساتھ جیتے ہیں اور ﴿الَّذِینَ تَتَوَفَّاہُمُ الْمَلَائِکَةُ طَیِّبِینَ یَقُولُونَ سَلامٌ عَلَیْکُمْ﴾ کے مطابق موت کے وقت فرشتے اللہ کی جانب سے پیغام سلام لے کر ان کے پاس حاضر ہوتے ہیں۔

یہ سب مقام نفلی عبادتوں سے، بالخصوص نیم شبانہ عبادات اور آہ سحر گاہی سے حاصل ہوتا ہے، دنیا میں جتنے بھی اولیا و اتقیا، صلحا وصوفیا، بلکہ جتنے بھی کبار علما وفقہا گزرے ہیں سبھی کی زندگی کا ما بہ الاشتراک عمل نماز تہجد اور قیام لیل ہے، ہر ایک کی تاریخ کے تاب ناک بننے اور صفحات عالم پر دیرپا نقوش چھوڑ جانے اور ان کے فیضان علم ومعرفت کے عام وتام ہونے اور دوام پانے میں رات کی بیداری اور بارگاہ ایزدی میں تضرع وابتہال کا بہت بڑا دخل ہے اور یہی نماز ان کی انقلابیت اور عالم گیریت کا بڑا ذریعہ ہے، ان کو جو شان محبوبیت اور مقام قبولیت حاصل ہوا وہ بھی اسی کے طفیل ہے، اس کو علامہ اقبال نے اپنے الفاظ میں کہا:
عطار ہو رومی ہو رازی ہو غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی

لہٰذا اگر ہم اللہ کا قرب چاہتے ہوں، اس بے ثبات دنیا میں سکون وچین کی زندگی کے خواہش مند ہوں، اپنی آخرت بنانا اور جنت میں اونچے درجات پانا چاہتے ہوں، اسی طرح عوام میں مقبولیت اور خدمات دین میں وسعت کے طلب گار ہوں، فی الجملہ یہ کہ اگر ہم اپنی زندگی کو مکمل طور پر بدلنا چاہتے ہوں، آخرت کی طرف زندگی کا رخ موڑنا چاہتے ہوں، بہت زیادہ ضروری اور نہایت ہی مفید عمل یہ ہے کہ ہم تہجد کا التزام و اہتمام کریں، کوشش کرنے والوں کے لیے بہت آسان ہے، انسان کی ساری طبعی کاہلی اس کے پختہ ارادوں کے آگے تودہٴ خاک ہے۔

”جو ہو عزم سفر پیدا تو ٹوٹ جاتی ہیں زنجیریں“

کامل عزم سے سب کچھ ممکن ہے، جب بندہ ٹھان لیتا ہے کہ مجھے کرنا ہی ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے لیے آسانیاں پیدا کردیتے ہیں، تہجد کی عادت ڈالنے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ ہر مرد وعورت رمضان المبارک میں سحری کو اٹھتے ہی ہیں، اِسی وقت نماز تہجد ادا کرلیں۔

اللہ پاک ہم سب کو خلوص عمل کی توفیق بخشے اور اپنا تہجد گزار بندہ بنائے۔ آمین!

تعمیر حیات سے متعلق