
اسلام سے پہلے لوگ طرح طرح کے توہمات کا شکار تھے، تیروں اور پرندوں کے ذریعے فال نکالتے اور خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر کسی چیز کو حلال قرار دیتے اور کسی کو حرام، زمانہ جاہلیت میں جب لوگ کام کاج کے لیے نکلتے تو وہ طیر یعنی کسی پرندے پر اعتماد کرتے، بیٹھے ہوئے پرندے کو اڑاتے، اگر وہ پرندہ دائیں طرف اڑتا تو نیک شگون سمجھتے اور کام پر چلے جاتے اور بائیں طرف اڑتا تو اسے بد شگونی سمجھ کر کام سے رک جاتے، دائیں طرف جانے والے پرندے کو ”مساغ“ اور بائیں طرف جانے والے کو ”بارح“ کہا کرتے، ماہِ صفر سے متعلق بھی وہ لوگ مختلف قسم کے باطل خیالات واوہام کا شکارتھے، اس مہینے کو منحوس خیال کرتے اور سمجھتے تھے کہ اس میں آفات اور حوادث ومصائب کا نزول ہوتا ہے، اسلام نے آکر ایسی توہم پرستی پر مبنی سوچ اور نظریات کا قلع قمع کردیا اور نبیu نے اس طرز فکر کی بالکلیہ نفی فرما دی، چناں چہ رسول اللہ e نے ارشاد فرما دیا: لاَ عَدْوٰی وَلاَ طِیَرَةَ وَلاَ ھَامَةَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ نَوْءَ وَلاَ غَوْلَ وَلاَ یُوْرَدُ مُمَرَّضٌ عَلَی المُصَحَّحِ․ ترجمہ: امراض میں بالذات تعدیہ نہیں اور نہ بد شگونی کی کوئی حقیقت ہے، نہ الّو کی نحوست ہے نہ ماہ صفر میں کوئی نحوست ہے …الخ (صحیح مسلم)
ہمارے زمانے میں بھی بسا اوقات یہ محسوس ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کی شرکیہ صداوٴں اور توہم پرستی پر مبنی باطل آوازوں کی باز گشت آج بھی سنائی دے رہی ہے، چناں چہ ماہ صفر سے متعلق بہت سے توہمات اور رسوم ہمارے معاشرے میں بھی رائج ہیں، مثلا صفر کے مہینے کو شادی بیاہ، نئے کاروبار کی ابتداء اور سفر وغیرہ کے آغاز کے لیے نامبارک قرار دیا جاتا ہے، اس مہینے کی تیرہ تاریخ یا ابتدائی تیرہ ایام کو پُر خطر اور منحوس قرار دیا جاتا ہے۔ پھر اس مزعومہ نحوست سے بچنے کے لیے صفر کی مختلف تاریخوں میں کھانا وغیرہ پکا کر تقسیم کیا جاتا ہے اور اس ماہ کے آخری بدھ کو اس مہینے کے گزر جانے کی خوشی منائی جاتی ہے حالاں کہ یہ طرزِ فکر ایک مسلمان کے ایمان کے لیے نہایت مضر ہے۔ اس توہم پرستی کی وجہ سے بسا اوقات نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ انسان درست یقین سے محروم ہو کر ساری زندگی شکوک وشبہات اور توہم پرستی کے صحراوٴں میں بھٹکتا رہتا ہے اور دینی فرائض کی ادائیگی بھی فوری دنیاوی نفع ونقصان اور اغراضِ خسیسہ کو پیش نظر رکھ کر کرتا ہے، صدقہ وزکوة کی ادائیگی ہے تو فقط دنیوی خسارے اور نقصان سے بچنے کے لیے، نماز ہے تو چند عارضی دنیوی فوائد کے حصول کی خاطر، روزہ ہے تو جسمانی صحت وغیرہ کے حصول کے لیے، حج ہے تو شہرت و ناموری اور کاروبار کے لیے، صلہ رحمی ہے تو بدلے اور ریاء وسُمعہ کی نیت سے اورجہاں یہ فوری فوائد اور اغراض حاصل نہ ہوں وہاں عمل ہی کو چھوڑ بیٹھتا ہے۔ تب اس کا عزم وسوسے سے زیادہ کمزور اور زندگی کے مقاصد کی تکمیل جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتی ہے، نیز اس غلط یقین کی وجہ سے بسا اوقات بہت سے دنیاوی اور اخروی مصائب انسان کا مقدر بن جاتے ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں لوگ جب اس طرح کا اعتقاد کرنے لگتے ہیں تو ان کے ظن اور اعتقاد کے مطابق بسا اوقات واقعات بھی پیش آجاتے ہیں، جیسے کثرت سے زمانہ جاہلیت میں پیش آتے تھے، یہ در حقیقت ان کے باطل ظن کی سزا ہوتی ہے (فتح الباری)۔ اسلام جو روشن اور با برکت شریعت لے کر آیا ہے اس میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ فاعل حقیقی اور مختار کل اللہ تعالی ہی کو تسلیم کیا جائے، شرک وبدعات اور اوہام ورسوم کی پُر ظلمت بے یقینی سے نکل کر انسان کے قدم توحید باری تعالیٰ وسنت نبوی پر عمل کی مضبوط چٹان پر جمے ہوئے ہوں اور تیقظ اور بیدار مغزی سے دنیوی واخروی مقاصد کے لیے بہتر سے بہتر اسباب اختیار کیے جائیں چناں چہ وہم پر مبنی خیالات ذہن میں آنے پر فوراً درست یقین کی طرف پھیرا گیا ہے، امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی روایت نقل کی ہے کہ اگر کسی کے دل میں بد شگونی پیدا ہو تو وہ یہ دعا پڑھے: اللّٰھُمَّ لاَ طَیْرَ إِلَّا طَیْرُکَ وَلاَ خَیْرَ إِلاَّ خَیْرُکَ․
گویا در حقیقت انسان کی زندگی میں برکت یا نحوست اس کے اپنے اعمال کی بناء پر آتی ہے۔ ایک انسان کی زندگی کا جو وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں گزر جائے وہ نہایت مبارک ہے اور جو گھڑیاں اپنے رب کی نافرمانی اور غفلت میں گزر جائیں وہ نا مبارک ہیں اللہ تعالی ہر مسلمان کو اپنی ذات عالی پر محکم یقین کے ساتھ مسنون زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین!