دینی تعلیم کی اہمیت

idara letterhead universal2c

دینی تعلیم کی اہمیت

ضبط و تحریر: ابو عکاشہ مفتی ثناء اللہ خان ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبید اللہ خالد صاحب مدظلہ العالی ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے، تاکہ ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہوسکیں۔ (ادارہ)

الحمد للّٰہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونوٴمن بہ ونتوکل علیہ، ونعوذ باللّٰہ من شرور أنفسنا ومن سیئات أعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلا ھادی لہ ونشھد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا وداعیا إلی اللہ بإذنہ وسراجا منیرا․

أما بعد! فقد قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ․ وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العلماء ورثة الانبیاء․ أو کما قال علیہ الصلاة والسلام․

میرے محترم بزرگو، بھائیو اور دوستو! اسلامی تاریخ کو عام طور پر مسلمان سنجیدگی سے نہیں پڑھتے اور بڑے افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اسی وجہ سے مسلمان تاریخ سے عام طور پر ناواقف ہیں۔

جب کہ یہ واقعی حقیقت ہے کہ ہم مسلمان ہیں، خدانخواستہ خدانخواستہ اگر کوئی ہمیں کافر کہے تو ہم لڑنے مرنے پر تیار ہوجائیں کہ تمہیں جرأت کیسے ہوئی ہمیں کافر کہنے کی؟!

حقیقت تو یہی ہے کہ ہم مسلمان ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک دوسری بہت افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہم اسلام سے واقف نہیں، ہماری ترجیح بھی اسلام نہیں، میں ایک عمومی بات عرض کر رہا ہوں کہ پورے عالم اسلام کا اگر جائزہ لیں اور ہر ہر فرد کا اگر تفقد کیا جائے توآج ان کی ترجیح اسلام نہیں ہے، اس لیے کہ ہم اسلام سے واقف ہی نہیں اور ہمیں اللہ تعالی کے احکامات، آپ کے فرامین، ان کی اہمیت اور حیثیت کا اندازہ نہیں اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی اہمیت کا اندازہ نہیں، یہی بنیادی سبب اور وجہ ہے کہ اسلام ہماری ترجیح نہیں۔

ہم ایک اسلامی ملک میں رہتے ہیں اور ساری دنیا کو یہ معلوم ہے اپنوں کو بھی اور غیر وں کو بھی کہ یہ ملک اسلام کے نام پر، اسلام کے لیے حاصل کیا گیا ہے۔

لیکن آپ تلاش کریں اسلام، حکومتی اعتبار سے، سرکاری حوالوں سے، تو آپ دور بین سے نہیں، خورد بین سے بھی اگر تلاش کریں گے تو آپ کو کوئی آثار نظر نہیں آئیں گے۔

یہاں سمندر کے کنارے جو بندرگاہ ہے، اس کا نام کیماڑی ہے، کیماڑی سے لے کر طور خم تک اور کشمیر سے لے کر تافتان اور ایران کے بارڈر تک، پورے ملک میں حکومتی وزارت تعلیم کے تحت اسکول، کالجز، یونی ورسٹیاں موجود ہیں، اربوں، کھربوں کا اس پر بحٹ خرچ ہوتا ہے اور اگر پاکستان کی عمر ستتر 77 سال قرار دی جائے اور اس 77 سال کے تعلیم پر بجٹ کو جمع کیا جائے تو کتنا ہوگا؟

لیکن کیا کوئی سرکاری اسکول ایسا ہے کیماڑی سے طور خم تک کشمیر سے تافتان تک کہ جہاں قرآن پڑھایا جاتا ہو؟ جہاں حدیث پڑھائی جاتی ہو؟ جہاں بچے بچی کو اسلامی شناخت سکھائی جاتی ہو؟ تو یہ ہمارا حال ہے، اس ملک کا جس کو حاصل ہی اسلام کے نام پر کیا گیا، تو عمومی صورت حال بہت افسوس ناک، وحشت ناک اور خطرناک ہے، آج اگر کوئی چھوٹے سے منصب والا آدمی کسی کی تعریف کردے،مثلاً ہم سندھ میں رہتے ہیں، سندھ کا وزیر اعلی کسی کی تعریف کردے، سندھ کا گورنر تعریف کردے۔ وفاقی وزیر یا وزیر اعظم تعریف کردے، تو جس کی تعریف کی جاتی ہے اس کے پاوٴں زمین پر نہیں لگتے، اچھلتا پھرتا ہے، گورنر صاحب نے، وزیر اعلی نے، وزیر اعظم نے میرے بارے میں یہ کہا، صدر صاحب نے میرے بارے میں یہ کہا، سپہ سالار نے میرے بارے میں یہ کہا، فلاں تاریخ، فلاں دن، فلاں جگہ۔ اس کو اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے، دنیا جہاں کو دکھاتا ہے۔ اس سے بڑے بڑے فائدے حاصل کرتا ہے کہ میں معمولی آدمی نہیں ہوں، میرے بارے میں فلاں نے یہ کہا تھا، صبح شام کے واقعات ہیں۔

لیکن آپ مجھے بتایئے کہ بحیثیت مسلمان، بحیثیت کلمہ گو، بحیثیت اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرنے، بحیثیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت کا اقرار کرنے کے، ہم مسلمان! اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی تعریف کریں تو اس کو اس کے قابل سمجھا جاتا ہے؟ میں نے حدیث آپ کے سامنے پڑھی اور یہ ارشاد ہے مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ جن کی ہر خبر سو فیصد سچی، جن کا مقام بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر، اگر کوئی ساری زندگی لا إلہ الا اللہ کا اقرار کرے اور محمد رسول اللہ کا اقرار واعتراف نہ کرے تو مسلمان ہی نہیں ہوگا، کتنا بڑا مقام ہے، یہ وزیر اعلی، یہ گورنر، یہ وزیر اعظم یہ صدر، ان کی اللہ کے سامنے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا حیثیت ہے؟ یہ تو وہی ہگنے اور موتنے والے لوگ، تھوڑی دیر پانی نہ ملے تو پریشان، تھوڑی دیر کھانا نہ ملے تو پریشان، تھوڑی دیر بجلی بند ہوجائے تو پریشان، لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان، ”خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ“․ تم میں بہترین آدمی وہ ہے جو قرآن کو سیکھے اور سکھائے، وہ کیا ہے؟ اب اس ساری گفتگو کے بعد آپ اپنے اردگرد نظر ڈالیں کہ قرآن سیکھنے والے، سکھانے والے کا ہمارے دل ودماغ میں کیا مرتبہ ہے؟ ہم اس کو کیا حیثیت دیتے ہیں؟ ہم اس کو کیا سمجھتے ہیں؟ بہت افسوس ناک صورت حال ہے۔

یہی صورت حال اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہے کہ اللہ کے فرامین، اللہ تعالی کے نازل کردہ قرآن، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، ان سب کی آج مسلمان کے دل میں بھی حیثیت نہیں اور عملاً صبح شام کے واقعات ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اصحابی کالنجوم“ میرے جو صحابہ ہیں وہ ستاروں کی طرح ہیں، ”بایھم اقتدیتم اھتدیتم“، تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کر لو گے تمہیں ہدایت مل جائے گی، تم ہدایت یافتہ ہوجاوٴگے۔

اس کے بالمقابل آج ہم کیا سمجھتے ہیں فلم اسٹار، فلمی ستارہ، آج فلمی ستاروں کی حیثیت ہے، ان کو اخبارات، ٹیلی ویژن، ریڈیو، ابلاغیات، چرچے، ان کی پیروی، ان کی نقل، ان کے بال کیسے ہیں؟ ویسے بال رکھیں گے، ان کا لباس کیا ہے؟ ویسے کپڑے پہنیں گے۔ وہ چلتے کیسے ہیں؟ ویسے چلیں گے۔

اللہ کے رسول نے فرمایا: ”اصحابی کالنجوم“ اورطاغوت نے اس کے مقابل کہا نہیں، صحابہ ستارے نہیں، یہ فلم والے ستارے ہیں، کھیل والے ستارے ہیں۔

اور آج مسلمان اندھوں، باوٴلوں کی طرح ان کے پیچھے چل رہا ہے، ان کی اتباع کر رہا ہے۔ تو بھائی! پھر بتائیے کہ ایسی صورت میں اللہ تعالی راضی ہوں گے یا ناراض ہوں گے؟

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہوں گے یا ناراض ہوں گے؟ چناں چہ ہمیں بہت سنجیدہ ہونا چاہیے، سوچنا چاہیے، اسلام پر آج مسلمان اپنے اظہار میں بھی شرمندہ ہے، وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے میں شرمندہ ہے، وہ اس پر عمل نہیں کرنا چاہتا۔

روزانہ، ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں مسلمان، آپ مجھے بتائیے کہ صبح جب دفتر جانے کی تیاری کرتے ہیں یا دکان جانے کی تیاری کرتے ہیں یا ملازمت پر جانے کی تیاری کرتے ہیں یا جب کسی تقریب میں جانے کی تیاری کرتے ہیں یا جب رشتہ داروں کے پاس جانے کی تیاری کرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اختیار نہیں کرتے، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے کو عیب سمجھتے ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وضع مبارک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس مبارک۔

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین اور خوب صورت چہرہ اس دنیا میں آہی نہیں سکتا، خدانخواستہ خدانخواستہ اس کے خلاف اگر کوئی بات کرے، تو ہم لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، لیکن خود عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور نہ صرف یہ کہ عمل کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ ہم اپنی اولاد کو بھی اس پر لانے کے لیے تیار نہیں، ہم اس کو دقیانوسی، نعوذ باللہ بے کار سمجھتے ہیں۔

ہاں! وہ لوگ جو اللہ کے کھلے دشمن ہیں، وہ لوگ جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کھلے دشمن ہیں، وہ لوگ جو اللہ کے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بد زبانی کرتے ہیں، کفر یہ عقائد کو ظاہر کرنے میں کوئی تکلف نہیں کرتے، ہم ان کے طریقوں پر عمل کرنے کو پسند کرتے ہیں، میرے دوستو! یہ اتنی تکلیف دہ چیز ہے مسلمانوں کے لیے کہ ہم اور آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے، چناں چہ اس کا نتیجہ کیا ہے؟ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم بہت تیزی کے ساتھ پستی کے اندر جا رہے ہیں، ہم نے قرآن کی تعلیم کو کبھی اہمیت نہیں دی، آج ہماری عمومی ترجیح نہیں ہے کہ ہمار بچہ یا بچی قرآن پڑھے اور اگر ہم نے بچے، بچی کو پڑھنے کے لیے داخل کر بھی دیا تو اس میں اہتمام نہیں کرتے، جس طرح ہم اپنے بچے، بچی کو اسکول، کالج بھیجنے کا اہتمام کرتے ہیں، کیا اس طرح کا اہتمام بچے یا بچی کو قرآن پڑھنے کے لیے بھیجنے کا کرتے ہیں؟ میں عمومی بات کر رہا ہوں، عمومی صورت حال اس کے خلاف ہے اور یہی وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے آج پورا عالم اسلام تباہی میں ہے۔ ورنہ آپ سوچیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہے، آپ کو خبر ملی کہ روم مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے آگیا ہے، تبوک تک پہنچ گیا ہے، تبوک مدینہ منورہ سے آج کل کے حساب سے ساڑھے سات سو کلومیٹر دور ہے، سڑک کے راستے سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اعلان فرمایا، حالاں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ مبارکہ جہاد اور قتال کے حوالے سے، اپنے غزوات کے حوالے سے یہ تھی کہ آپ اس میں اظہار نہیں فرماتے تھے، آپ کو جانا ہوتا مغرب کی جانب، آپ حالات معلوم کرتے مشرق کی جانب کے، آپ کو جانا ہوتا جنوب کی جانب آپ حالات معلوم کرتے شمال کی جانب کے، تاکہ آپ کا راز دشمن تک نہ پہنچ پائے، لیکن تبوک میں آپ نے ایسا نہیں کیا، بلکہ اعلان فرمایا، ساری تفصیل ہے اس کی، میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ روم اس زمانے کی سپر پاور تھی،فوجیں، اسلحہ، ہر طرح کا انتظام ان کے پاس، لیکن جب آپ تبوک پہنچے تو پتہ چلا کہ رومی سارے بھاگ گئے، جنگ ہوئی ہی نہیں، صرف آپ کا اور آپ کے صحابہ کا رعب اتنا تھا اور مسلمانوں کی مادی صورت حال کیا تھی کہ چندہ کیا، اسلحہ نہیں ہے، سواریاں نہیں ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین کامل تھا، مسلمان شرمندہ شرمندہ نہیں تھے، ان کا تعلق اللہ سے جڑا ہوا تھا، اس کا نتیجہ کیا تھا؟ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ پورے عالم پر، پوری دنیا پر ان کا دبدبہ تھا۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا زمانہ ہے، حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا زمانہ، حضرت عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ کا زمانہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ، اس کے بعد کے ادوار اور اگر اسلام کی عمر اگر آپ 1446 سال لگائیں، جب کہ اس میں مکہ مکرمہ کے تیرہ سال شامل نہیں، اس لیے کہ تقویم اسلامی ہجرت سے شروع ہوتی ہے، تو اس پورے زمانے کے اندر اگر صرف آپ دو سو سے تین سو سال نکال لیں، تو ایک ہزار سے زائد سال، پوری دنیا میں اسلام کے غلبے کا زمانہ ہے، اسلام نے، مسلمانوں نے پوری دنیا پر حکومتیں کیں اور وہ غلبہ صرف اس لیے رہا کہ ان کا تعلق اللہ سے جڑا ہوا تھا، ان کا تعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جڑا ہوا تھا، وہ اسلام کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ سمجھتے تھے، وہ ایمان کو زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ سمجھتے تھے۔

میرے دوستو! آج جو صورت حال ہے وہ میں نے آپ کے سامنے عرض کردی، کوشش کریں جہاں تک ہم سے ممکن ہے اسلام کا تذکرہ کریں اپنے گھروں کے اندر، اپنے بچوں کو دینی تعلیم دیں، ہمارے اکابر، علماء، بزرگوں کا بہت بڑا احسان ہے ہم پر، امت پر کہ انہوں نے مشکل ترین حالات میں، ہماری حکومتیں جب سے بنی ہیں وہ ایک گھنٹے کے لیے بھی ان مساجد، مدارس، علماء، اہل دین کو پسند نہیں کرتے، رکاوٹیں، مشکلات، لیکن الحمد للہ یہ حضرات اس پورے ملک میں چاہے سندھ ہو، پنجاب ہو، خیبر پختونخواہ ہو، بلوچستان ہو، کشمیر ہو، گلگت بلتستان ہو، ہر جگہ مدرسے قائم ہیں، قرآن کی تعلیم وتعلم کا انتظام کیا۔

آج جو کچھ یہ تھوڑی سی شکلیں نظر آتی ہیں اس ملک کے اندر اور اس ملک سے باہر، وہ ان مدرسوں کی برکت سے ہیں۔ آج دنیا ہتھیلی پر آگئی ہے، ساری دنیا کے حالات معلوم کیے جاسکتے ہیں، آپ مراکش کے حالات دیکھیں، آپ الجزائرکے حالات دیکھیں، آپ تیونس کے دیکھیں، آپ سوریا کے دیکھیں، آپ مصر کے دیکھیں، آپ سعودی عرب کے دیکھیں، آپ بحرین، قطر، کویت، عمان کے دیکھیں، ملائشیا، انڈونیشیا کے دیکھیں۔

تو بھائی! ان مدارس سے محبت کریں، ان مدارس میں آنے والے طلباء سے محبت کریں، اپنے بچوں کو دینی تعلیم دیں، یہی ہر جگہ آخرت میں کام آئے گی، یہ دوسری چیزیں کام نہیں آئیں گی۔

ہم ان طلباء کو، جو مہمانان رسول ہیں، محبت سے دیکھیں، یہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر، قرآن وحدیث کے علوم سیکھنے کے لیے آئے ہیں، یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء کے وارث ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ آپ نے فرمایا: ”العلماء ورثة الانبیاء“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا، ”العلماء ورثتی“، تمام علماء میرے وارث ہیں، نہیں، ”العلماء ورثة الأنبیاء“، علماء میرے وارث ہیں اور تمام انبیاء کے وارث ہیں، اس لیے ان کو محبت سے دیکھنا، ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا، ان کو دیکھ کر یہ خواہش کرنا کہ میں بھی اپنے بچے کو حافظ قرآن بناوٴں گا، میں بھی اپنے بچے کو عالم دین بناوٴں گا، میرے دوستو! یہ ہمارے اسلام، یہ ہمارے دین کا تقاضا ہے۔

اور اس کا مقصد یہ نہیں کہ آپ دنیا کو چھوڑ دیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دین پر عمل کیا تو ان کی دنیا زیادہ ہوگئی یا کم ہوگئی؟ زیادہ ہوگئی، وہ جو صرف مدینہ منورہ میں تھے وہ سارے حجاز کے حاکم بن گئے، وہ جو صرف حجاز کے حاکم تھے پوری دنیا میں ان کے جھنڈے لہرانے لگے، دین پر عمل کرنے کی وجہ سے۔

چناں چہ یہ خیال شیطانی خیال ہے،طا غوتی خیال ہے کہ ہم اگر دین پر عمل کریں گے تو دنیا میں ناکام ہوجائیں گے، ایسا ہر گز نہیں، تاریخ ہمیں بتاتی ہے، چودہ سو سال کی تاریخ ہمارے سامنے ہے، اس کا غالب حصہ ایسا ہے کہ مسلمان نے دین پر عمل کیا تو اللہ تعالی نے ان کو غلبہ عطا فرمایا، فتح عطا فرمائی، اللہ تعالی نے انہیں حکم رانی عطا فرمائی، اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیاوی نعمتوں سے مالا مال کیا اور آخر کے اندر جب مسلمانوں نے دین سے اپنا ناتا کم زور کیا، اسلام سے ناتا توڑا، تو آخری تین سو سال ہی آپ کے سامنے ہیں کہ ہر طرف ذلت ہے، ہرطرف رسوائی ہے، ہر طرف پریشانی ہے اور وجہ وہی ہے کہ جب مرکز اسلام سے اپنا تعلق توڑ لیں گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا ناتا کم زور کرلیں گے تو پھر اس دنیا کے اندر عزت نہیں مل سکتی، عزت تب ملے گی جب دین سے ناتا جوڑیں گے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ناتا جوڑیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مجالس خیر سے متعلق