تعلیم نِسواں ۔۔۔ اور ہماری کوتاہیاں

تعلیم نِسواں ۔۔۔ اور ہماری کوتاہیاں

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی 

ہر چند کہ بعد ورود حدیث ”طلب العلم فریضة علی کل مسلم ومسلمة“ ترجمہ: (علم طلب کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے) ”وغیر ذالک من النصوص الموجبة لتحصیل العلم علی الرجال والنساء“ اس مبحث پر مستقل کلام کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی، بالخصوص جب کہ اس کے بہت قبل اس میں مجملاً اس سے تعارض بھی ہوچکا ہے، لیکن بعض واقعات وخصوصیات کے (کہ زیادہ ان میں ہندوستانی مستورات کے حالات ہیں جن کا مشاہدہ اکثر ہوتا رہتا ہے) اس باب میں مستقل اور کسی قدر مفصل گفتگو کیے جانے کو مقتضی ہونے کے سبب اس کا بقدر ضرورت مکرر ذکر کیا جاتا ہے۔

تعلیم نسواں کے متعلق لوگوں کی تین قسمیں

سو جاننا چاہیے کہ اس مقدمہ میں جہاں تک تتبع کیا گیا، تین خیال کے لوگ ہیں: ایک وہ کہ تعلیم نسواں کے نہ مخالف ہیں، نہ حامی، مگر تعلیم کا اہتمام نہیں۔

دوسرے وہ کہ اس کے مخالف ہیں۔

تیسرے وہ کہ اس کے حامی ہیں اور ان سب سے مختلف کوتاہیاں واقع ہوتی ہیں۔

پہلی قسم کے لوگوں کی غلطی اور ان کے شبہات کا جواب

چناں چہ اول طبقہ کی کوتاہی، جو سب کوتاہیوں سے اشد واعظم ہے، یہ ہے کہ سرے سے مستورات کو تعلیم دینے ہی کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی، نہ مردوں کے نزدیک اور نہ خود ان مستورات کے نزدیک اور دلیل ان لوگوں کی جو ان کے اشتباہ کا منشا ہوگیا ہے یہ ہے کہ کیا عورتوں کو کوئی نوکری کرنا رہ گیا ہے جو ان کے پڑھانے کا اہتمام کیا جاوے؟

معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے نہ تعلیم کی غرض سمجھی اور نہ ان نصوص وروایات میں غور کیا، جو مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ایک درجہ میں تحصیل علم کو فرض وواجب قرار دے رہے ہیں اور نہ اس تعلیم کو سمجھا جو کہ فرض ہے۔

علوم سے غرض نوکری نہیں ہے

سو سمجھ لینا چاہیے کہ علوم سے غرض نوکری نہیں ہے، کیوں کہ جو علم علی العین واجب التحصیل ہے وہ علم معاش نہیں ہے، بلکہ وہ علم دین ہے، جس سے انسان کے عقائد واعمال ومعاملات ومعاشرت واخلاق درست ہوں، جس کا ثمرہ دنیا میں ﴿أولئک علی ھدی من ربھم﴾ ترجمہ: (یہ لوگ ہدایت پر ہیں اپنے رب کی طرف سے) کی دولت اور آخرت میں ﴿أولئک ھم المفلحون﴾ (یہی لوگ کام یاب ہیں) کی بشارت ہے، سو اس کا وجوب ظاہر ہے، سمعًا بھی عقلًا بھی۔

دلائل سمعیہ یہ ہیں:
(1) طلب العلم واجبٌ علی کل مسلم․ (ھب عن انس)
(2) طلب العلم فریضةٌ علی کل مسلم․ (الدیلمی عن علی)
(3) طلب الفقہ حتمٌ واجبٌ علی کل مسلم․ (ک فی تاریخہ عن انس)
(4) تعلموا العلم وعلموہ الناس․ (قط عن أبی سعید وھب عن أبی بکر)
(5) تعلموا العلم قبل أن یرفع․ (الدیلمی عن ابن مسعود وعن أبی ھریرة)
(6) یا أیھا الناس، علیکم بالعلم قبل أن یقبض․ (طب والخطیب عن أبی أمامة)
(7) یا أیھا الناس، خذوا من العلم قبل أن یقبض العلم․ (حم والدارمی طب وابو الشیخ فی تفسیرہ وابن مردویہ عن أبی أمامہ)
(8) ویل لمن لا یعلم․ (حل عن حذیفة، کذا فی کنز العمال وغیر ذالک من النصوص العامة للرجل والمرأة)

دلیل عقلی

اور دلیل عقلی یہ ہے کہ اصلاح عقائد واعمال کی فرض ہے اور وہ موقوف ہے ان کی تحصیل کی بنا پر، چناں چہ ظاہر ہے اور فرض کا موقوف علیہ فرض ہے، پس تحصیل علم فرض ہوا اور ہر چند کہ موقوف ہونا عمل کا علم پر بالکل بدیہی ہے، مگر اس سے ترقی کر کے کہا جاتا ہے کہ حسی بھی ہے، چناں چہ بے علم عورتیں جس حالت میں ہیں سب دیکھتے ہیں کہ نہ ان کو شرک وکفر کی کچھ تمییز ہے، نہ ایمان اور اسلام کی کچھ محبت ہے۔ جو چاہیں خدا تعالیٰ کی شان میں بک دیتی ہیں، جو چاہیں احکامِ شرعیہ کے مقابلہ میں زبان درازی کر بیٹھتی ہیں، اولاد کے لیے یا شوہر کو مسخر کرنے کے لیے ٹونے ٹوٹکے، جادو منتر، جو کچھ کوئی بتلا دیتا ہے بلا امتیاز مشروع نا مشروع کے سب ہی کچھ کر گزرتی ہیں۔

جب عقائد ہی میں یہ حالت ہے تو نماز روزہ کا کیا ذکر ہے۔ حتی کہ بعض کی نوبت ترک سے گزر کر استخفاف، بلکہ تشاء ُم وتطیر (بد فالی) تک پہنچ جاتی ہے، یعنی بعض تو باوجود فرض سمجھنے کے اس کو ترک ہی کردیتی ہیں اور بعض اس کی وقعت بھی نہیں کرتیں۔ کوئی ضروری امر نہیں سمجھتیں اور بعض اس کو منحوس وموجب مضرت اعتقاد کرتی ہیں اور یہ دو درجہ کفر صریح ہے اور اول فسق وگناہ کبیرہ ہے۔

جب نماز روزہ میں یہ کیفیت ہے جس میں ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا تو زکوة وحج، جس میں پیسہ کا بھی خرچ ہے اس کو تو پوچھو ہی مت…! اور جب عقائد واعمال دیانت کا یہ حال ہے، تو معاملات کی درستی کا تو احتمال ہی نہیں ہوسکتا، کیوں کہ نماز روزہ کی صورت تو دین کی ہے اور معاملات تو عوام کی نظر میں بالکل دنیا ہی کی شکل رکھتے ہیں، اس لیے ان کی درستی کا اہتمام تو خاص لوگ کرتے ہیں، جاہل مستورات کیا درستی کریں گی؟!

پھر جب معاملات کے ساتھ یہ طرز عمل ہے تو معاشرت کی اصلاح تک تو کہاں ذہن جائے گا؟ کیوں کہ معاملات کو حقوق العباد تو سمجھا جاتا ہے، بخلاف معاشرت کے کہ اس میں یہ پہلو بھی ظاہر نہیں ہے، اس لیے اس کا بالکل ہی اہتمام کم ہے، پھر جب معاملات ومعاشرت سے اتنی بے پروائی ہے تو اخلاق باطنی مثل تواضع واخلاص وخوف ومحبت وصبر وشکر ونحو ذالک، کی طرف تو کیا ؟کیوں کہ معاملات کا زیادہ اور معاشرت کا اس سے کم دوسروں تک تواثر پہنچنا معلوم ہے۔ نیز بعض اوقات نیک نامی وبدنامی کا ترتب بھی ہوجاتا ہے۔ بخلاف اخلاق باطنی کے کہ اس کا غالب ہی ذات تک محدود ہے۔ اور بوجہ خفا کے دوسروں کو ان کا علم بھی کم ہوتا ہے، جس سے نیک نام کرسکیں۔ اس لیے اس کا اہتمام تو بالکل ہی ندارد ہے، حتی کہ بہت سے خواص میں بھی۔

بہرحال ان سب امور دینیہ میں قلت مبالات کا اصل منشا وسبب قلت علم دین ہے، جہاں بالکل ہی علم نہ ہو (اور اس سے بڑھ کر یہ فطرةً عقل بھی کم ہو، کیوں کہ طبقہٴ اُناث تو ناقص العقل ہیں، غرض جہاں نہ عقل ہو، نہ علم ہو) تو وہاں امور مذکورہ میں کوتاہی کی کیا حد ہوگی؟

غرض عقل اور مشاہدہ دونوں شاہد کو بدون علم کے عمل کی تصحیح ممکن نہیں اور عمل کی تصحیح اور فرض… بس تحصیل علم دین کا فرض ہونا جیسا اوپر دعوی کیا گیا ہے عقلا بھی ثابت ہوگیا اور فرض ہونا اس سے اوپر بیان کیا گیا ہے تو دونوں طرح تحصیلِ علم دین فرض ہوا۔

پس ان لوگوں کا یہ خیال کہ جب عورتوں کو نوکری کرنا نہیں ہے۔ توان کی تعلیم کی کیا ضرورت محض غلط ٹھہرا۔ یہ جواب ہوا ان کی مذکورہ کو تاہی کا۔

تعلیم نسواں کی فرضیت پر ایک شبہ اور اس کا جواب

البتہ اس پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ علم دین کی فرضیت سے تعلیم بطریق متعارف کا واجب ہو نالازم نہیں آتا کہ مستورات کو کتابیں بھی پڑھائی جائیں۔ بلکہ یہ فرض عالم سے پوچھ پا چھ رکھنے سے ادا ہو سکتا ہے۔

سواس کی تحقیق یہ ہے کہ واقعی یہ بات صحیح ہے اور ہم تعلیم متعارف کو فی نفسہ واجب بھی نہیں کہتے۔ لیکن یہاں تین مقد مے قابلِ غور ہیں۔

اول یہ کہ مقدمہ واجب کا واجب ہوتا ہے، گویا بغیر سہی۔ جیسے جو شخص پیادہ سفر حج کرنے پر قادر نہ ہو۔ اور اس شخص کے زمانہ میں ریل اور پانی کا جہاز سفر کا متعین ذریعہ ہو اور اس کے پاس اس قدر وسعت واستطاعت بھی ہو۔ تو اس شخص پر واجب ہو گا کہ سفر کا عزم کرے اور ریل اور جہاز کا ٹکٹ خرید کر اس میں سوار ہو، سو ریل اور جہاز کا ٹکٹ خریدنا اور اس پر سوار ہونا فی نفسہ شرعا فرض نہیں۔ لیکن چوں کہ ایک فرض کا ذریعہ ہے، اس لیے یہ بھی فرض ہو گا، مگر بالغیر، پس یہ مقدمہ تو ثابت ہو چکا۔

دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ تجربہ سے معلوم ہو گیا ہے کہ علم کا ذہنوں میں قابل اطمینان درجہ میں محفوظ رہنا موقوف ہے کتب کے پڑھنے پر، جو کہ تعلیم کا متعارف طریق ہے اور محفوظ رکھنا علم دین کا واجب ہے۔ پس بنا بر مقدمہٴ اولیٰ بطریق متعارف تعلیم کا جاری رکھنا بھی واجب ہے۔ البتہ یہ واجب علی الکفایہ ہے۔ یعنی ہر مقام پر اتنے آدمی دینیات پڑھے ہوئے ہونے چاہییں کہ اہل حاجت کے سوالوں کا جواب دے سکیں۔

تیسرا مقدمہ یہ ہے کہ یہ بھی تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ مردوں میں علماء کا پایا جانا مستورات کی ضروریات دینیہ کے لیے کافی وافی نہیں۔ دو وجہ سے، اولاً پردہ کے سبب (کہ وہ بھی اہم الواجبات ہے) سب عورتوں کا علماء کے پاس جانا قریباً ناممکن ہے۔ اور گھر کے مردوں کو اگر واسطہ بنایا جاوے تو بعض مستورات کو تو گھر کے ایسے مرد بھی میسر نہیں ہوتے اور بعض جگہ خود مردوں ہی کو اپنے دین کا بھی اہتمام نہیں ہوتا تو وہ دوسروں کے لیے سوال کرنے کا کیا اہتمام کریں گے؟

پس ایسی عورتوں کو دین کی تحقیق از بس دشوار ہے اور اگر اتفاق سے کسی کی رسائی بھی ہو گئی یاکسی کے گھر میں باپ بیٹا، بھائی وغیرہ عالم ہیں تب بھی بعض مسائل عورتیں ان مردوں سے نہیں پوچھ سکتیں۔ ایسی بے تکلفی شوہر سے ہوتی ہے، تو سب شوہروں کا ایسا ہونا خود عادتاً ناممکن ہے تو ان کی عام احتیاج رفع ہونے کی بجز اس کے کوئی صورت نہیں کہ کچھ عورتیں پڑھی ہوئی ہوں اور عام مستورات ان سے اپنے دین کی ہر قسم کی تحقیقات کیا کریں، پس کچھ عورتوں کو بطریق متعارف تعلیم دین دینا واجب ہوا۔
پس اس شبہ کا بھی جواب ہوگیا اور ثابت ہوگیا کہ لکھے پڑھے مردوں کی طرح عورتوں میں ایسی تعلیم ہونا ضروری ہے اور اس غلط خیال عدم ضرورة تعلیم نسواں کا بالکلیہ استیصال ہوگیا۔

دوسرے طبقہ والوں کے شبہات اور ان کا جواب

اب دوسرے طبقہ کے متعلق کچھ لکھا جاتا ہے جوتعلیم نسواں کے مخالف ہیں اور اس کو سخت ضرر رساں سمجھتے ہیں۔ دعویٰ ان کا یہ ہے کہ ہم نے لکھی پڑھی عورتوں کو اکثر آزاد اور بے باک اور قلیل الحیاء اور مکار اور عفت سوز دیکھا ہے۔ خاص کر اگر لکھنا بھی جانتی ہو اور بھی شوخ چشم ہو جاتی ہے، جس کو چاہا خط لکھ بھیجا، جس کوچاہا پیام وسلام پہنچا دیا۔ اس طرح دوسروں کو بھی طمع ہوتی ہے کہ اپنے نفسانی جذبات کوان تک بذریعہ تحریر پہنچا دیتے ہیں اور ان کے پاس پہنچیں تو کبھی تو وہ بھی متاثر ہو کر نرم جواب دیتی ہیں اور سلسلہ بڑھتا ہے، یہاں تک کہ جو کچھ واقع ہونا ہے واقع ہوتا ہے۔ اور کبھی جواب نہیں دیتیں اور سکوت کرتی ہیں تو مریض القلب لوگ اس سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ ان کے نیم راضی ہونے پر، پھر وہ لوگ آئندہ کے پیام وسلام وتحریر سے اُس کمی کو پُر کرنا چاہتے ہیں، چوں کہ گوش زدہ اثرے دارد، قاعدہ اکثر یہ ہے پھر بعض کا طرز بیان جاد ونشان ہوتا ہے، پھر نسوانی طبائع معمولی طور پر نرم بھی ہوتی ہیں تو شیطان کا جال پھیل جانا زیادہ عجیب نہیں ہوتا اور اگر کسی مکتوب الیہانے ناراضی بھی ظاہر کی اور اس ناراضی کا جواب کا تب تک بھی پہنچادیا ہے، مگر اپنے شوہر یا خاندان کا خوف ہے کہ خدا جانے کیا گمان کریں گے اور کیا معاملہ کریں گے۔ اپنے گھر والوں سے اس کا اخفاء کرتی ہیں، اس طور پر وہ کاتبین ہر طرح کی مضرت سے محفوظ رہتے ہیں، اس لیے ان کی جسارت بڑھتی ہے اور پھر دوسرے موقع پر اس کی سلسلہ جنبانی کرتے ہیں۔
اور ان سب واقعات کا مبنی ان مستورات کا تعلیم یافتہ ہونا ہے، اگروہ نا خواندہ ہوں تو ان کے پاس مضمون بھیجنے سے اندیشہ ہو گا۔ دوسرے کہ مطلع ہونے کا، یہ سبب ہو جائے گا اس باب کے مسدود ہو جانے کا۔

اور یہ مفسدہ اس صورت میں زیادہ محتمل ہے جب کہ کسی عورت کے مضامین اخباروں میں بھی چھپتے لگیں اور ان مضامین کو دیکھ کر سخن شناس شیاطین انداز کرتے ہیں کاتبہ کے رنگ، طبیعت اور جذبات اور خیالات کا تو اس شرارت کے شرارے وہاں زیادہ پھیلتے ہیں، بالخصوص اگروہ کلام نظم بھی ہو تو اور بھی آفت اور اس زمانے میں تو ایک اور غضب ہے کہ افتخار کے لیے صاحب مضامین کا نام اور پتہ تک صاف لکھا جاتا ہے کہ فلانے کی بیوی، فلانے کی بیٹی، فلاں جگہ کی رہنے والی اور یہ تمام تر خرابیاں ان کے لکھے پڑھے ہونے سے پیدا ہوتی ہیں اور اگران خفیہ ریشہ دوانیوں کی کسی طور پر شوہر یا اہل خاندان کو اطلاع ہی ہوگئی تو چوں کہ لکھا پڑھا آدمی ہوشیار اور سخن سازی پر زیادہ قادر ہوتا ہے وہ ایسی تاویلیں کرلیں گی کہ کبھی ان پر حرف ہی نہ آوے گا اور اُلٹا منھ ناک بنادیں گی۔ مکاری سے رو دیں گی کہ ہم کو یوں کہا، کہیں خود کشی اور کنویں میں ڈوبنے کی دھمکی دیں گی۔ حتی کہ اس غریب باز پرس کرنے والے کو خوشامد کرنا پڑے گا اور ڈر کے مارے پھر بھی زبان تک نہ ہلا وے گا۔

ایک خرابی عورتوں کے اس تعلیم یافتہ طبقہ میں یہ ہوتی ہے کہ ہر طرح کی کتابیں منگا کر پڑھتی ہیں۔ عشق بازی کے قصے، سازش اور لگاوٹ کے ناول، شوق انگیز غزلیں، پھر ان سے طبیعت بگڑتی ہے۔ کبھی ایسی غزلیں ذرا کھل کر پڑھتی ہیں کہ دروازہ میں یا پڑوس اور محلہ میں یا سٹرک پر آواز جاتی ہے اور آواز پر کوئی فریفتہ ہو کر در پے ہو جاتا ہے۔ اور اگر وہ بھی ناکام رہا، تاہم رسوائی اور پریشانی کا سبب تو بن ہی جاتا ہے۔
یہ خلاصہ ہے ان صاحبوں کے خیالات کا اور میں ان واقعات کی تکذیب نہیں کرتا، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ ان صاحبوں نے کوتاہ نظری سے کام لیا۔ واقعات کے حقائق میں غور نہیں کیا، اصل یہ ہے کہ ان سب خرابیوں کا ذمہ دار تعلیم نہیں ہے، بلکہ طرز تعلیم یا نصاب تعلیم ہے یا طرز عمل ہے یا سوئے تدبیر ہے، یعنی یاتو یہ ہوا کہ ایسی کتابیں نہیں پڑھائی گئیں جن سے احکام حرام وحلال اور تفصیل ثواب وعقاب اور طریقہ تہذیب اخلاق معلوم ہو اور جس سے خوف وخشیت ومعرفت وعظمت حق حاصل ہو، ان کو صرف حرف شناس بنا کر چھوڑ دیا ہے، انہوں نے اپنی رائے سے اردو کے مختلف رسالوں کا مطالعہ کر کے لکھنے پڑھنے کی مہارت بڑھائی ہے اور تعلیم یا فتہ کا لقب پا کر اس طرح تعلیم کو بد نام کیا ہے۔

تو ظا ہر ہے کہ محض حرف شناسی کو نہ تعلیم کہہ سکتے ہیں اور نہ حرف شناسی اصلاح اعمال واحوال کی کفالت کر سکتی ہے۔

اور یا یہ ہوا ہے کہ باوجو د نصاب تعلیم کے مفید وکافی ہونے کے، اس نصاب کے مضامین کو قلب میں جمانے کی کوشش نہیں کی گئی اور عمل کی نگرانی نہیں کی گئی۔ مثلاً اس کی ضرورت ہے کہ جس روز کسی لڑکی نے یہ مسئلہ پڑھا کہ غیبت گناہ ہے، اس کے بعد اگر وہ غیبت کرے تو فوراً اس کو یاد دلا دے کہ دیکھو! تم نے کیا پڑھا تھا، اس کے خلاف کرتی ہو اور مثلاً ان کو پردہ کی ضرورت یا پست آواز سے بولنے کی تاکید پڑھائی گئی ہے، پھر اس میں کوتاہی یا غفلت کا مشاہدہ ہوا۔ فوراً اس کو روکنا چاہیے، یا ان کو حرص مال وزیور کی مذمت پڑھائی تھی۔ پھر انہوں نے کسی تکلف کے کپڑے یا غیر ضروری زیور کی ہوس کی تو فوراً ان کو متنبہ کیا جا وے۔ اسی طرح امید ہے کہ اخلاق فاضلہ واعمال صالحہ کا ملکہ ان میں پیدا ہو جاوے گا۔

اور یا یہ ہوا ہے کہ ان کی خود طبیعت اور طینت ہی میں صلاحیت اور قابلیت نہیں ہے تو اس صورت میں مصداق ہوگا ”تربیت نا اہل را چون گردگان بر گنبدست“ کا، اور شعر ہے ۔

شمشیر نیک از آہن بد چون کند کسے
ناکس بہ تربیت نشود اے حکیم کس

یہ گفتگو توخود ان کے احوال واعمال کے متعلق تھی اور جو افعال دوسرے شریر لوگوں کے شمار کرائے ہیں ان کا امتداد سوئے تدبیر سے ہوتا ہے، اس کے انسداد کی اچھی تدبیر یہ ہے کہ واسطہ کے ساتھ نہایت سختی کی جاوے اور اپنے مردوں کو بالکل صاف اطلاع دے دی جاوے۔

غرض مفاسد کے اسباب یہ ہیں، جب یہ ہے تو اس میں عورتوں کی کیا تخصیص ہے؟ یہی اسباب فساد اگر مردوں کو پیش آویں وہ بھی ایسے ہی ہوں گے۔ پھر کیا وجہ کہ عورتوں کو تعلیم سے روکا جاوے اور مردوں کو تعلیم میں ہر طرح کی آزادی دی جاوے، بلکہ اہتمام کیا جاوے؟

اس فرق کی وجہ بعد تأمل بجز اس کے کچھ نہیں معلوم ہوئی کہ عورت سے صدور قبائح یا اس کی طرف نسبت قبائح عرفاً موجب ذلت اور رسوائی ہے اور وہی امور اگر مرد سے صادر ہوں یا اس کی طرف منسوب ہوں تو وہ عرفاً موجب ذلت اور رسوائی نہیں ہے، اس لیے عورت کے لیے ان مفاسد کے احتمال کو موانع تعلیم قرار دیا ہے اور مردوں کے لیے نہیں۔ باقی شرعا ظاہر ہے کہ اس باب میں مرد وعورت یکساں ہیں۔ اگر عورت کے لیے معصیت مذموم وقابل لوم ہے تو اسی درجہ میں مرد کے لیے بھی۔ اور اگر مرد کے لیے موجب طہارت و نزاہت ہے تو اسی درجہ میں عورت کے لیے بھی۔ پس جب شرعًا دونوں برابر ہیں اور عرفاً متفاوت، پس اس تفاوت سے عملاً متاثر ہونا یعنی ایک کے لیے ان احتمالات کا اعتبار کرنا دوسرے کے لیے نہ کرنا صاف عرف کو شرع پر ترجیح دینا ہے، جو بہت بڑا شعبہ ہے جاہلیت کا، جس کا منشا کبر اور ترفع ہے۔ اور یہ صرف میرا ہی دعویٰ نہیں، بلکہ مدعا علیہم کا اقرار بھی ہے، چناں چہ بکثرت ان لوگوں کی زبان سے سنا گیا ہے کہ میاں مرد کا کیا ہے۔ اس کی مثال تو برتن کی سی ہے کہ دس دفعہ سَن گیا اور جب دھویا صاف ہو گیا اور عورت کی مثال موتی کی آب کی سی ہے کہ اگر ایک دفعہ اتر گئی تو پھر چڑھ نہیں سکتی۔ اس کے معنی دوسرے لفظوں میں صاف یہ بھی ہیں کہ مردوں کے لیے معصیت کو خفیف سمجھتے ہیں۔ اور عورتوں کے لیے شدید تو علاوہ کبر کے اس میں تو فتویٰ استخفاف کے جاری ہونے کا بھی اندیشہ اور سخت اندیشہ ہے۔

تیسرے طبقہ والوں کی غلطیوں کی نشان دہی

اب صرف تیسرے طبقہ کے متعلق کلام باقی رہ گیا جو تعلیم کے حامی تو ہیں، لیکن اس تعلیم کے تعین میں یا اس کے طریقہ کی تجویز میں ان سے غلطی ہوئی، چناں چہ ان میں سے بعض کا بیان بضمن اصلاح خیال طبقہ ثانیہ کے اوپر ہو چکا ہے، مثلاً ان کو صرف حرف شناس بنا کر چھوڑ دینا۔ پھر ان کا اپنی رائے سے مختلف رسالوں کا مطالعہ کرنا اور مثلا بعد تعلیم کے عمل کی نگرانی نہ کرنا، جس کی متعدد مثالیں بھی ساتھ ساتھ مذکور ہوئی ہیں۔

عورتوں کو دنیوی علوم بغیر ضرورت کے نہیں پڑھانے چاہییں

اور بعض کا بیان اب کیا جاتا ہے، مثلاً بعض مستورات کو بجائے علوم دینیہ پڑھانے کے ان کو تاریخ وجغرافیہ یا اس سے بڑھ کر انگریزی پڑھاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انجیل پڑھاتے ہیں، جس کی وجہ صرف تقلید اہل یورپ کی ہے، یعنی ان کے نصابِ تعلیم میں شائستگی کو منحصر سمجھنا اس کی بنا ہے، مگر یہ خیال نہیں کرتے کہ ہم میں اور ان میں اگر رسوم وعادات وطبائع و خواص کا بھی فرق نہ ہوتا، تاہم سب سے بڑا فرق مذہب ہی کا ہے کہ ہم مذہب اسلام کا التزام کیے ہوئے ہیں اور وہ یا تو کوئی مذہب نہیں رکھتے اور زیادہ ان میں ایسے ہی ہیں اور یا ہمارے مذہب کے مغائر دوسرا مذہب رکھتے ہیں۔

اس کے لیے ان کے یہاں یا تعلیم مذہبی بالکل نہ ہوگی، صرف زبان کی تعلیم ہوگی یا دنیوی معلومات کی تعلیم ہوگی اور یا دوسرے مذہب کی تعلیم ہوگی۔

بہر حال ان لوگوں کی اس تعلیم کا تو ایک خاص مبنٰی ہے۔ لیکن ہم لوگ اگر ان کی تعلیم کو اختیار کریں تو اس کا کیامبنٰی ہے، جب غرض تعلیم سے ان کی اور ہے جس کا ابھی ذکر ہوا۔ اور ہماری غرض اور ہے جس کا مختصر بیان طبقہ اولیٰ کی اصلاح خیال کے ذکر میں ہوا ہے، یعنی اصلاح عقائد واعمال ومعاملات ومعاشرت واخلاق اور یہ غرض منحصر ہے علم دین میں تو ظاہر ہے کہ ان کی تعلیم کا اختیار کرنا ہر طرح بے ربط ہے۔ البتہ اگر کسی کو تحصیل معاش کی بھی حاجت واقع ہونے والی ہو تو بعد علوم دینیہ کے اس کو ان علوم کا حاصل کر لینا بھی مضائقہ نہیں، جو اس زمانہ میں معاش کا موقوف علیہ ہو۔ جیسے اس وقت انگریزی وتاریخ جغرافیہ وغیرہ۔ باقی انجیل کی اس شخص کو بھی ضرورت نہ ہوگی اور ظاہر ہے کہ کسب معاش کی حاجت صرف مردوں کو ہوتی ہے اور عورتیں اول اس وجہ سے کہ ان کا نان ونفقہ مردوں کے ذمہ ہے۔ دوسرے اس وجہ سے کہ اسلام میں پردہ کی تاکید ہے اور وہ ابواب خاص کے جو خاص علوم پر موقوف ہیں پردہ کے ساتھ حاصل نہیں کیے جا سکتے، اس لیے عورتوں کو بالکل فضول اور ان کے وقت کی اضاعت ہوگی کہ فضول سے متجاوز ہو کر ہر طرح مضر ہوگی، جیسا کہ ان مضار کا بیان بھی آوے گا۔

بہر حال یہ علوم، جن کا لقب تعلیم جدید ہے، عورتوں کے لیے ہرگز زیبا نہیں۔ البتہ فنون دنیا بقدر ضرورت لکھنا اور حساب اور کسی قسم کی دست کاری کہ اگر کسی وقت کوئی سرپرست نہ رہے تو ان کے ساتھ چار پیسے کما سکے، یہ مناسب ہے۔ رہا قصہ شائستگی کا جس کا دل چاہے تجربہ کر کے دیکھ لے کہ علم دین کے برابر دنیا بھرمیں کوئی دستورالعمل اور کوئی تعلیم شائستگی اور تہذیب نہیں سکھاتی، چناں چہ ایک وہ شخص لیجیے جس پر علم دین نے پورا اثر کیا اور ایک وہ شخص لیجیے جس پر تہذیب نے پورا اثر کیا ہے۔ پھر دونوں کے اخلاق اور معاشرت ومعاملہ کا مواز نہ کیجیے تو آسمان وزمین کا تضاد پائے گا، البتہ اگر تصنع وتکلف کا نام کسی نے تہذیب رکھ لیا ہو تواس کی یہی غلطی ہوگی، ایک مفہوم کا مطلب اس نے غلط ٹھہرا لیا اور اگر کسی کے ذہن میں اس وقت کوئی دین دار ایسا آیا جس میں تہذیب حقیقی نہ ہو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ اس نے علوم دینیہ کا پورا ثر نہیں لیا۔

دین صرف نماز وروزہ ہی کا نام نہیں ہے

یعنی دین کے اجزاء متعدد ہیں۔ عقائد واعمال ومعاملات ومعاشرت واخلاق باطنہ۔ بعضے لوگ صرف نماز وروزہ کے احکام کے جاننے کو علمِ دین اور احکام کی پابندی کرنے والے کو دین دار کا لقب دیتے ہیں، سو خود یہی غلط اور سب اجزاء مذکورہ کے احکام ضروریہ کا اچھی طرح جاننا علم دین اور سب کی پابندی دین داری ہے۔ سو جس کو دین دار لقب دے کر قلیل التہذیب قرار دیا گیا ہے وہ واقع میں سب اجزاء دین کا متوجہ نہیں اور کلام اس میں ہے جس نے سب اجزاء کا اثر لیا ہو پس وہ شبہ رفع ہوگیا، بندہ نے اس قسم کے شبہات کے جواب کے لیے رسالہ حقوق العلم لکھا ہے (جو قابل ملاحظہ ہے) ۔

غرض تہذیب علم دین کے برابر کسی علم سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ یہی علم دین تو تھا جس نے سلف میں اپنے اثر سے وہ اخلاق و شائستگی پیدا کی کر خود یورپ کو اس کا اعتراف بلکہ اس سے اغتراف بھی ہے، مگر ہم اپنے گھر کی دولت سے بے خبر ہو کر دوسروں سے اس کی دریوزہ گری کر رہے ہیں۔

لڑکیوں کے لیے آزاد اور بیباک استانی مقرر نہیں کرنی چاہیے

بعضے آدمی اپنی لڑکیوں کو آزاد بے باک عورتوں سے تعلیم دلاتے ہیں، یہ تجربہ ہے کہ ہم صحبت کے اخلاق وجذبات کا آدمی میں ضرور اثر ہوتا ہے، خاص کر جب وہ شخص ہم صحبت ایسا ہو کہ متبوع اور معظم بھی ہو اور ظاہر ہے کہ استاد سے زیادہ ان خصوصیات کا کون جامع ہوگا تو اس صورت میں وہ آزادی و بیباکی ان لڑکیوں میں بھی آوے گی۔ اور میری رائے میں سب سے بڑھ کر جو عورت کا حیاء اور انقباض طبعی ہے اور یہی مفتاح ہے تمام خیر کا۔ جب یہ نہ رہا تو اس سے پھر نہ کوئی خیر متوقع ہے نہ کوئی شر مستبعد ہے، ہر چند کہ ”إذا فاتک الحیاء فافعل ما شئت“ حکم عام ہے، لیکن میرے نزدیک ماشئت کا عموم عورتوں کے لیے بہ نسبت مرد کے زیادہ ہے، اس لیے کہ مردوں میں پھر بھی عقل کسی قدر مانع ہے اور عورتوں میں اس کی بھی کمی ہوتی ہے۔ اس لیے کوئی مانع ہی نہ رہے گا۔

اسی طرح اگر استانی ایسی نہ ہولیکن ہم سبق اور ہم مکتب لڑکیاں ایسی ہوں تب بھی اسی کے قریب مضرتیں واقع ہوں گی۔

اس تقریر سے دو جزئیوں کا حال بھی معلوم ہو گیا ہو گا، جن کا اس وقت بے تکلف شیوع ہے، ایک لڑکیوں کا عام زنانہ اسکول بنانا اور مدارس عامہ کی طرح اس میں مختلف اقوام اور مختلف طبقات اور مختلف خیالات لڑکیوں کا روزانہ جمع ہونا۔ گو معلمہ مسلمان ہی ہو اور یہ آنا ڈولیوں ہی میں ہو اور گو یہاں آکر بھی پردہ ہی کے مکان میں رہنا ہو، لیکن تاہم واقعات نے دکھلا دیا ہے اور تجربہ کرا دیا ہے کہ یہاں ایسے اسباب جمع ہو جاتے ہیں جن کا ان کے اخلاق پر برا اثر پڑتا ہے اور یہ صحبت اکثر عفت سوز ثابت ہوئی ہے اور اگر استانی بھی کوئی آزاد یا مکار مل گئی تو کریلہ اور نیم چڑھا کی مثال صادق آجاتی ہے۔

اور دوسری جزئی یہ کہ اگر کہیں مشن کی میم سے بھی روزانہ یا ہفتہ وار نگرانی تعلیم یا صنعت سکھلانے کے بہانہ سے اختلاط ہو، تب نہ آبرو کی خیر ہے اور نہ ایمان کی۔ مگر افسوس صد افسوس کہ بعضے لوگ ان آفات کو مایہٴ افتخار سمجھ کرخود اپنے گھروں میں بلاتے ہیں۔ میرے نزدیک تو ان مجسمہ سے بچی تو بچی اور تابع ہوکر تو کیا ذکر، کسی بڑی بڈھی مسلمان عورت کا متبوع ہو کر بھی عمر بھر میں ایک بار ہم کلام ہونا بھی خطر ناک ہے، جن مضرتوں کے ذکر کا اوپر وعدہ تھا ان میں سے بعض یہی ہیں اور بعض کا ذکر اوپر دوسرے طبقہ کے منشاءِ خیال کے ضمن میں ہو چکا ہے۔

لڑکیوں کی تعلیم کا اسلم طریقہ

اسلم طریق لڑکیوں کے لیے یہی ہے جو زمانہ دراز سے چلا آتا ہے کہ دو دو چار چار لڑکیاں اپنے اپنے تعلقات کے مواقع میں آویں اور پڑھیں اور حتی الامکان اگر ایسی استانی مل جاوے جو تنخواہ نہ لے تو تجربہ سے یہ تعلیم زیادہ بابرکت اور با اثر ثابت ہوئی ہے اور بدرجہ مجبوری اس کا بھی مضائقہ نہیں اور جہاں کوئی ایسی استانی نہ ملے اپنے گھر کے مرد پڑھا دیا کریں، پڑھانے کا تو یہ طرز ہوا۔

نصاب تعلیم

اور نصاب تعلیم یہ ہو کہ اوّل قرآن مجید حتی الامکان صحیح پڑھایا جاوے اور کتب دینیہ سہل زبان میں جن میں تمام اجزائے دین کی مکمل تعلیم ہو، (میرے نزدیک بہشتی زیور کے دسوں حصے ضرورت کے لیے کافی ہیں) اور اگر گھر کا مرد تعلیم دے تو جو مسائل شرم ناک ہوں ان کو چھوڑ دے اپنی بی بی کے ذریعہ سمجھوا دے اور اگر یہ انتظام بھی نہ ہوسکے تو ان پر نشان کردے، تاکہ ان کو یہ مقامات محفوظ رہیں، پھر وہ سیانی ہو کر خود سمجھ لیں گی یا اگر عالم شوہر ہو تو اس سے پوچھ لیں گی یا شوہر کے ذریعہ سے کسی عالم سے تحقیق کرالیں گی۔ (چناں چہ بندہ نے بہشتی زیور کے دستور العمل میں جو ٹائیٹل پر مطبوع ہوا ہے، اس کا خلاصہ لکھ دیا ہے، مگر بعضے لوگ اس کو دیکھتے ہی نہیں اور اعتراض کر بیٹھتے ہیں کہ اگر کوئی مرد پڑھانے لگے تو ایسے مسائل کو کس طرح پڑھا وے، اس لیے ان کا لکھنا ہی کتاب میں مناسب نہ تھا، کیسی کچی سمجھ ہے۔) بہشتی زیور کے اخیر میں مفید رسالوں کا نام بھی لکھ دیا گیا ہے، جن کا پڑھنا اور مطالعہ عورتوں کو مفید ہے، اگر سب نہ پڑھیں ضروری مقدار پڑھ کر باقیوں کو مطالعہ میں ہمیشہ رکھیں۔ اور تعلیم کے ساتھ ان کے عمل کی بھی نگرانی رکھیں اور اس کا بھی انتظام کریں کہ ان کو تدریس کا شوق ہو، تا کہ عمر بھر علمی شغل رہے تو اس سے علم وعمل کی تجدید وتحریض ہوتی رہتی ہے اور اس کی بھی ترغیب دیں کہ مطالعہ کتب مفیدہ سے کبھی غافل نہ رہیں اور ضروری نصاب کے بعد اگر طبیعت میں قابلیت دیکھیں عربی کی طرف متوجہ کریں، تاکہ قرآن وحدیث وفقہ اصلی زبان میں سمجھنے کے قابل ہوجاویں اور قرآن کا خالی ترجمہ جو بعض لڑکیاں پڑھتی ہیں۔ میرے خیال میں سمجھنے میں زیادہ غلطی کرتی ہیں، اس لیے اکثر کے لیے مناسب نہیں، یہ تو سب پڑھنے کے متعلق بحث تھی۔

عورتوں کو لکھنا سکھلانے کے متعلق حکم

رہا لکھنا تو اگر قرائن سے طبیعت میں بے باکی معلوم نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں، ضروریات خانگی کے لیے اس کی بھی حاجت ہوجاتی ہے اور اگر اندیشہ خرابی کا ہو تو مفاسد سے بچنا جلب مصالح غیر واجب سے اہم ہے، ایسی حالت میں لکھنا نہ سکھلاویں اور نہ خود لکھنے دیں اور یہی فیصلہ ہے عقلاء کے اس اختلاف کا کہ لکھنا عورت کے لیے کیسا ہے۔ اب مضمون کو ختم کرتا ہوں۔

اللّٰہ الموٴفق لکل ما یرضی، اللّٰھم وفقنا لما تحب وترضی