إنفاق فی سبیل الله راہِ خدا میں خرچ کرنے کی فضیلت

idara letterhead universal2c

إنفاق فی سبیل الله راہِ خدا میں خرچ کرنے کی فضیلت

مولانا اسامہ یوسف
استاذ جامعہ فاروقیہ کراچی

مال ودولت کی فراوانی ،اس کا حصول اور دولت مند ہونا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، جس کے ذریعے انسان کی بے شمار دنیوی اور دینی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔یہ نعمت اس نے انسان کو ایک خاص مدت تک استعمال کرنے کے لیے دی ہے، لہٰذا اسے یہ کلی اختیار ہے کہ وہ انسان کو اس بات کا پابند بنائے کہ مال کو کس طرح کمایا جائے ،کس طرح خرچ کیا جائے، کہاں خرچ کیا جائے اور کہاں نہیں؟

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:﴿وَابْتَغِ فِیمَا آتَاکَ اللَّہُ الدَّارَ الْآخِرَةَ﴾(سورة القصص:77)یعنی جو مال اللہ نے تمہیں دیا اس سے آخرت کا گھر تلاش کرو۔اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:﴿وَآتُوہُمْ مِنْ مَالِ اللَّہِ الَّذِی آتَاکُمْ﴾(سورة النور:33)یعنی تم اپنے اس مال سے جو اللہ نے تمہیں عطا فرمایا ہے، مستحقین کو دیا کرو،اسی طرح متعدد بار قرآن کریم میں ایسے مضامین کو مختلف انداز میں اللہ رب العزت نے ذکر فرمایا ہے۔اس لیے کہ یہ مال اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہے تو زحمت بھی ہے اور یہ اسلام کا نظریہ ہے کہ مال ودولت کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے اور انسان کو اللہ رب العزت نے ایک خاص مدت تک استعمال کے لیے مال عطا فرمایا ہے۔

معروف محدث حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ نے اپنے تجربات کی روشنی میں بہت ہی معقول اور صحیح بات کہی ہے،فرماتے ہیں:اب سے پہلے دورِ نبوت وخلافت میں مال ایک ناپسندیدہ چیز سمجھا جاتا تھا، لیکن ہمارے اس زمانے میں مال مؤمن کی ڈھال ہے۔ اور فرمایا کہ اگر ہمارے پاس آج یہ درہم ودینار نہ ہوتے تو بادشاہ وامراء ہم کو اپنا رومال بنالیتے(یعنی باطل اغراض میں استعمال کرتے)، آج جس شخص کے پاس یہ درہم ودینار ہوں تو انہیں اچھی حالت میں رکھے،کیوں کہ یہ ایسا زمانہ ہے کہ اگر آدمی محتاج وتنگ دست ہوجائے تو سب سے پہلے وہ اپنا دین بیچ دے گا۔اس لیے کہ مال ودولت ایسی چیز ہے جس کی لالچ میں انسانوں کے دلوں میں نفاق اور ذہنوں میں کدورت بیٹھ جاتی ہے، مالی محتاج ہونے کی وجہ سے ارباب دولت وثروت کو اسلام کے پیغام حق سے واقف نہیں کراسکتا، ان کی ناراضگی اور ہدایا وتحائف کے بند کردینے کے اندیشے ہوتے ہیں، عہدے داروں سے وہ آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات نہیں کرسکتا کہ بہت سے خطرات دل میں پیدا ہوتے ہیں، ظاہر ہے کہ ایک شخص کے دل میں دوسروں کے مال ودولت کی حرص پیدا ہو اور دنیوی عہدوں سے مرعوب ہوتا ہو، تو وہ دعوت و تبلیغ کا کام کیا انجام دے سکتا ہے؟ بلکہ ایسے افراد کا دین پر قائم رہنا بھی مشکل ہوجاتا ہے، شریعت اسلامی نے اپنے پیروکاروں کو حلال کمائی حاصل کرنے اور اس کے لیے دوڑ دھوپ کرنے کی نہ صرف اجازت دی ہے ،بلکہ بعض مقامات پر اس کی ترغیب بھی دی ہے، قرآن مجید میں اللہ رب العزت ارشاد فرمارہے ہیں:﴿فَإِذَا قُضِیَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِی الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّہِ وَاذْکُرُوا اللَّہَ کَثِیرًا لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ﴾(سورة الجمعة:10)یعنی پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل(روزی) تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے۔مذکورہ آیت میں دنیا کے حصول اور رزق کو تلاش کرنے کی صاف طور پر ہدایت دی گئی ہے، البتہ اللہ کے حقوق یاد رکھنے اور اس کے ذکر کی بھی تلقین کی گئی، تاکہ لوگ دنیا کمانے میں کہیں اپنے رب اور حقیقی وابدی دولت وسعادت سے محروم نہ رہ جائیں،اس لیے کہ اگر انسان اپنی حیات کا مقصد اور ساری سرگرمیوں کا مرکز دنیا کی آسائشوں اور وسائل کو بنالے ، مال ودولت کو اپنی توجہ ولچسپی کا مرکز بنالے اور مشن کے طور پر حاصل کرنا شروع کردے تو اللہ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے خود بخود اس کی توجہ ہٹ جاتی ہے، پھر وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس لیے کہ اس کی رگوں میں دنیا کی لذت بیٹھنے کی وجہ سے اللہ کا خوف ختم ہوجاتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب کسی کو اللہ کا خوف اور کسی گرفت کا احساس نہ ہو ،تو اسے گناہوں اور بے حیائیوں سے کوئی طاقت نہیں بچاسکتی۔

آج جتنے جرائم اور بدکاریاں ہورہی ہیں، تمام کے پیچھے یہی دنیا کی محبت کارفرما نظر آئے گی، قتل وقتال، لڑائی جھگڑے، گالم گلوچ، چوری وڈاکا زنی، قطع رحمی، عداوت ،بغض، حسداور دشمنی وغیرہ کی بنیاد کو کریدا جائے اور جائزہ لیا جائے تو ان سب کی اساس وبنیاد دنیا کی محبت ہی نظر آئے گی، اسی وجہ سے رسول اکرم صلی الله علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا:”حب الدنیا رأس کل خطیئة“․(مشکاة المصابیح، کتاب الرقاق، رقم الحدیث:5213)دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے اور اسی خطرے کے پیش نظر، آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل رسالت مآب صلی الله علیہ وسلمنے اس بات کی پیشن گوئی فرمادی تھی کہ میری امت کا فتنہ مال ہے، چناں چہ حضرت کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:ہر امت کے لیے فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔(ترمذی)اس کے علاوہ بھی بہت سی آیات واحادیث مبارکہ میں دنیا کی مذمت اور اس کے طلب گار کی قباحت بیان کی گئی ہے۔

تاہم دنیا کے حصول اور اس سے بے نیازی کے درمیان بہت باریک فرق ہے، جس کی رعایت اہل ایمان کے لیے نہایت ضروری ہے، اس لیے کہ دنیا کے بغیر بھی انسان کا گزارا نہیں ہے اور دنیا کی طرف رغبت سے بھی منع کیا گیا ہے ،تو اسی تناظر میں دونوں چیزوں کو جمع کرتے ہوئے مولانا رومی رحمہ اللہ نے اچھی مثال سے سمجھایا ہے کہ: انسان کی مثال کشتی جیسی ہے اور دنیا کی مثال پانی جیسی، جیسے پانی کے بغیر کشتی نہیں چل سکتی، اسی طرح انسان کے زندہ رہنے کے لیے دنیا اور اس کے اسباب چاہییں، اس کے بغیر گزربسر مشکل ہے، لیکن جس طرح پانی کشتی کے لیے اس وقت تک مفید ہے جب تک پانی کشتی کے اردگرد ہے، اگر پانی اردگرد رہنے کے بجائے کشتی کے اندر چلا جائے تو کشتی ڈوب جائے گی ، اسی طرح یہ دنیوی اسباب ووسائل جب تک دل ودماغ سے باہر ہیں اور محض انہیں زندگی گزارنے کے لیے سہارا اور نفع کے درجے میں رکھے جائیں، لیکن جب دنیا سے محبت کی جائے اور مال ودولت کو اپنے دل میں بسالیا جائے ،تو یہی دنیا اب نفع کے بجائے نقصان کا باعث بن جاتی ہے۔

اسی طرح بعض صوفیاء نے ایک اور مثال کے ذریعے سے اس بات کوسمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اللہ نے انسان کا ایک دل بنایا ہے، جس میں بیک وقت ایک ہی چیز کی محبت پیدا ہوسکتی ہے، ایسا نہیں ہے کہ ایک وقت میں دو چیزوں کی محبت پیدا ہو، لہٰذا اگر انسان اپنے دل میں اللہ کی محبت پیدا کرے گا تو مال ودولت اوردنیا کی محبت نہیں ہوگی اور اگر مال دولت کی محبت پیدا کرے گا تو اللہ کی محبت پیدا نہیں ہوگی،ایسا ممکن نہیں کہ ایک ہی وقت میں دونوں چیزوں کی محبت پیدا ہوجائے، اگر ایسا کوئی کہتا ہے تو یہ سراسر جھوٹ ہے۔
اس لیے مال ودولت کے فوائد ونقصانات سے جو شخص واقف ہوجائے تو وہ اس پر قدرت حاصل کرسکتا ہے کہ اس کے

فوائد حاصل کرے اور اس کے نقصانات سے محفوظ رہے ،چنانچہ اس کے فوائد دو قسم کے ہیں:

1.. دنیوی 2.. دینی۔

دنیوی فوائد تو ہر ایک شخص جانتا ہے ،اس لیے ان کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ دینی فوائد بیان کرنا ضروری ہیں،جن سے آج کل شاید اکثر لوگ ناواقف ہیں یا اگر واقف ہیں تو ان کا ذہن اس طرف جانے سے قاصر ہے۔

∗…پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ مال بالواسطہ یا بلاواسطہ عبادت کا سبب بنے۔بالواسطہ تو یہ کہ انسان اپنے کھانے پینے اور ضروریات میں خرچ کرے اور بلاواسطہ یہ ہے کہ مال اس طرح عبادت کا سبب بنے کہ انسان حج کرے، زکوٰة ادا کرے، صدقہ وصدقات دے اوردیگر مالی عبادات میں خرچ کرے۔

∗…دوسرا فائدہ یہ ہے کہ انسان اپنی آبرو کے تحفظ کے لیے خرچ کرے۔ یعنی مال کا ایسی جگہ خرچ کرنا کہ جہاں اگر خرچ نہ کیا جائے تو کم تر لوگوں کی طرف سے بد گوئی اور مضرتوں کا اندیشہ رہتا ہے،لہٰذا یہ بھی صدقہ کے حکم میں آجاتا ہے۔

∗…تیسرا فائدہ یہ ہے کہ مال سے عمومی خیر وبھلائی کے اخراجات نمٹائے جاتے ہیں، جن میں کسی دوسرے معین شخص پر تو خرچ نہیں کیا جاتا، البتہ عمومی فوائد اس سے ضرور حاصل ہوجاتے ہیں ،جیسے مساجد ومدارس کا بنانا اور دیگر رفاہی کام جن سے تمام لوگ مستفید ہوسکتے ہیں اور مزید یہ کہ یہ ایسا صدقہ جاریہ ہے کہ اس کا اجر وثواب مرنے کے بعد بھی انسان کو ملتا رہتا ہے اور ان سے فوائد حاصل کرنے والے اللہ کے نیک اور متقی لوگوں کی دعائیں بھی انسان کو پہنچتی رہتی ہیں اور راہِ خدا میں مال خرچ کرنا ایک لحاظ سے صدقہ جاریہ ہے، جو بندے کے لیے دنیا میں بھی اور دنیا سے جانے کے بعد بھی بے شمار اجر وثواب کا باعث بنتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بے شمار فضائل بیان فرمائے ہیں،اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں:﴿مَثَلُ الَّذِینَ یُنْفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِی کُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّہُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَشَاء ُ وَاللَّہُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ﴾․(سورةالبقرة:261)

ترجمہ:جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بڑھاکردے اور اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔

﴿وَمَثَلُ الَّذِینَ یُنْفِقُونَ أَمْوَالَہُمُ ابْتِغَاء َ مَرْضَاتِ اللَّہِ وَتَثْبِیتًا مِنْ أَنْفُسِہِمْ کَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَہَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُکُلَہَا ضِعْفَیْنِ فَإِنْ لَمْ یُصِبْہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ﴾․(سورة البقرة:265)

ترجمہ:ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، اس باغ جیسی ہے جو اونچی زمین پر ہو اور زوردار بارش اس پر برسے اور وہ اپنا پھل دگنا لاوے اور اگر اس پر بارش نہ بھی برسے تو پھوار ہی کافی ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

اس لیے جس قدر خلوص کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کریں گے، اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا اجر وثواب زیادہ ہوگا۔ ایک روپیہ بھی اگر اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کے لیے کسی محتاج کو دیا جائے گا، تو اللہ تعالیٰ 700 گنا، بلکہ اس سے بھی زیادہ ثواب دے گا۔ مذکورہ بالا آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات ذکر کی گئی ہیں: وسیع اور علیم۔ یعنی اس کا ہاتھ تنگ نہیں ہے کہ جتنے اجر کا عمل مستحق ہے وہ ہی دے، بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ دے گا۔ دوسرایہ کہ وہ علیم ہے کہ جو کچھ خرچ کیا جاتا ہے اور جس جذبہ سے کیا جاتا ہے، اس سے بے خبر نہیں ہے، بلکہ اس کا اجر ضرور دے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں زیادہ سے زیادہ اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق عطافرمائے اور دنیا کی محبت ،مال ودولت کی عظمت دل سے دور فرمائے۔آمین۔

مقالات و مضامین سے متعلق