جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

اسلام میں علم کے حصول کا خاص طرز اسلام کو دیگر مذاہب سے ممتاز کرتا ہے۔ الہامی تعلیمات کا حصول اسلامی علوم کی صورت میں ہمیشہ ایسے ماہراور تربیت یافتہ استاد کے ذریعے کیا جاتا ہے کہ جس نے خود پہلے طالب علم کی حیثیت سے کسی ماہر اور تربیت یافتہ استاد سے یہ علوم حاصل کیے ہوں۔اسی طرح اُن تربیت و صحبت یافتہ اساتذہ نے بھی اپنے سے پہلے تربیت و صحبت یافتہ اساتذہ سے یہ علوم حاصل کیے ہوں۔ اور یہ سلسلہ اس طرح چلتا چلتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین تک پہنچتا ہے۔اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بلاواسطہ شاگرد تھے۔

بلاشبہ، پرنٹنگ اور الیکڑونک ٹکنالوجی کی آمدبعد علوم کی منتقلی اور ترویج کےنئے طریقے سامنے آئے ہیں اور اسلامی علوم بھی اس نئی ٹکنالوجی سے بہرہ ور ہوئے ہیں۔ نہ صرف ترقی یافتہ ممالک نے بلکہ بہت سے ترقی پذیر ممالک نے بھی نئی ٹکنالوجی کا استعمال شروع کردیا ہے۔ تاہم، اس کے برخلاف، برصغیر پاک و ہند کے ممالک میں اسلامی تعلیمات کی ترویج کی اصل اور بنیادی طرز کو برقرار رکھا ہے۔ چنانچہ اسلامی علوم کا حصول اسی طرح سے ایسے اساتذہ سے کیا جارہا ہے کہ جن کا سرا بہ ہر کیف آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جاکر ملتا ہو۔
اسی الہامی طرز پر ہندوستان کے علاقے یوپی میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں بھی کئی مدارس اسی مقصد اور روح کے ساتھ قائم کیے گئے۔ جامعہ فاروقیہ کراچی، الحمدللہ، چند منفرد خصوصیات کے ساتھ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

جامعہ فاروقیہ، اسلامی تعلیمات کی ترویج و تعلیم کی ایک معروف انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی ہے۔ اس وقت جامعہ فاروقیہ میں 2300 سے زائد طلبہ اندرونِ پاکستان اور بیرون پاکستان سے یہاں آکر دین کے مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ جامعہ فاروقیہ میں درج ذیل علوم کی تعلیم دی جاتی ہے:

  • حفظ قرآن کریم

  • ثانویہ عامہ (میٹرک کے مساوی)

  • ثانویہ خاصہ (انٹرمیڈیٹ کے مساوی)

  • عالیہ (بی اے کے مساوی)

  • عالمیہ (ایم اے کے مساوی)

  • تخصص (پی ایچ ڈی کے مساوی)

ہر تعلیمی سال (اکیڈمک لیول) کے اختتام پر جامعہ فاروقیہ کے طلبہ کا امتحان وفاق المدارس العربیہ، پاکستان کی زیر نگرانی لیا جاتا ہے۔ وفاق المدارس العربیہ، پاکستان اسلامی تعلیمات کا ایک بورڈ ہے جویونیورسٹی گرانٹس کمیشن، وزارتِ تعلیم، حکومت پاکستان کی مشاورت و منظوری سے قائم کیا گیا تھا۔

یہاں اساتذہ اور ریکٹر کی خاص توجہ اس بات پر رہتی ہے کہ دوران تعلیم طلبہ کے اندر فکر آخرت کی تربیت کے ساتھ ساتھ جدید دور کے مسائل پر بھی ان کی نظر رہے۔

جامعہ فاروقیہ کے زیر انتظام منعقد ہونے والی غیر نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں (مثلاً، کمپیوٹر لٹریسی پروگرام، مختلف زبانوں یعنی انگلش، اردو، عربی میں مہارت، مارشل آرٹ، تبلیغی دورے، حضرت شیخ الحدیث کی اصلاحی مجالس) میں شرکت کے لیے بھی طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

جامعہ فاروقیہ کے بانی اور ریکٹر شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خاں صاحب ہیں جنھوں نے دارالعلوم دیوبند سے تحصیل علم کی۔ وہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد رشید اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے متوسلین میں سے ہیں۔ حضرت شیخ الحدیث وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر بھی ہیں۔

جامعہ فاروقیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو تعلیم، کتابیں، خورد ونوش، رہائش، دوائیں اور دیگر سہولیات بلامعاوضہ فراہم کی جاتی ہیں اور ان سے کسی بھی مد میں کوئی رقم نہیں لی جاتی۔ تمام اخراجات مخیر اور مخلص مسلمانوں کے تعاون سے پورے کیے جاتے ہیں۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.