جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

مقامِ نبوت!

مولانا سیّد محمدیوسف بنوریؒ

”نبوت“ کی اصلی حقیقت تو اسی رب العزت قدوس وسبوح جل ذکرہ کو معلوم ہے، جس نے نظامِ عالم کی ظاہری وباطنی اصلاح کے لیے اس ربانی عطیہ کی سنت عالم میں جاری کر دی تھی، یا پھر اس کو جو اس عطیہٴ الہٰی سے سرفراز کیا گیا ہو، کسی اور پر اس کی پوری حقیقت کا روشن ہونا حقیقت سے بعید ہے، اس لیے کہ انسان کے پاس حقائق اشیاء کے معلوم کرنے کے لیے عقل ہے اور ”نبوت“ ایک ایسی حقیقت ہے جو عقل سے وراء الوراء ہے۔ عقل وعقلیات کی سرحد جہاں ختم ہوتی ہے وہاں سے ”نبوت“ کی سرحد شروع ہوتی ہے، لیکن محققینِ اسلام او راکابرامت نے قرآن کریم کی روشنی میں اور امام الانبیاء حضرت محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مقدس زندگی کے آثار واحوال کے مشاہدہ وعلم کے بعد جو تحقیقات پیش کی ہیں وہ یقینا ایک حد تک اس حقیقتِ کبریٰ کی جلوہ نمائی کے لیے کافی ہیں اور ان کی عقولِ سلیمہ نے اس حقیقت کی تفہیم میں جو عقلی پیرائے اختیار کیے ہیں اور نظائر وشواہد سے اس کو سمجھایا ہے وہ ہمارے ”علم کلام“ کااہم ترین جز ہیں۔

امام ابوالحسن اشعری، ابن حزم ظاہری، قاضی ابوبکر باقلانی، ابواسحاق اسفرائینی، ابویعلی، ابو المعالی، امام الحرمین، عبدالکریم شہرستانی، امام غزالی، فخرالدین رازی، سیف الدین آمدی، ابن خلدون، عزالدین بن عبدالسلام، ابن تیمیہ رحمة الله علیہم وغیرہ وغیرہ، محققین اسلام نے تیسری صدی ہجری کے وسط سے لے کر آٹھویں صدی کے وسط تک اس موضوع پر گراں بہا علمی جوہرات کا ایک نادر ترین ذخیرہ چھوڑا ہے۔

محققین ہند اور متاخرین علمائے اسلام میں حضرت شاہ ولی الله دہلوی رحمة الله علیہ او رحضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی دیوبندی رحمة الله علیہ کے اسمائے گرامی اس سلسلہ کی صف اوّل میں درج ہونے چاہییں اور سچ تو یہ ہے کہ اس موضوع پرجو جو اہر پارے شاہِ دہلی نے پیش کیے ہیں قدماء میں سوائے حجة الاسلام غزالی رحمة الله علیہ کوئی دوسری ہستی زیادہ نمایاں نظر نہیں آتی، یا تو یہ واقعہ ہے یا ہماری نظر کا قصور ہو گا۔

یہ دوسری بات ہے کہ ایک ہزار برس کی تحقیقات کا عطر ان کے سامنے موجود تھا اور ان کی تحقیقات کی تیز شعاعوں میں منزل مقصود کی راہ نمائی آسان ہو گئی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے حقائق کی تفہیم وافہام کے لیے جس سر چشمہ کی ضرورت تھی شاہِ دہلی خود اس سے سر شار تھے۔ امام غزالی رحمة الله علیہ کی کتابوں میں یہ بحث ”المنقذ من الضلال“ و”معارج القدس“ میں سب سے عمدہ شکل میں موجود ہے۔ امام رازی رحمة الله علیہ کی ”تفسیر کبیر“ و ”مطالب عالیہ“ میں کافی سامان ہے۔ شاہ دہلی  نے چند کتابوں میں اس کی پوری تحلیل اور کامل تجزیہ کیا ہے، بالخصوص اپنی کتاب”حجة الله البالغة“ کی پہلی جلد کے مختلف ابواب میں نبوت کی حقیقت، منصب نبوت کی تشریح، نبوت کے خواص ولوازم، انبیاء ومصلحین کے فروق وغیرہ کو خوب واضح کیا ہے۔

امیر یمانی رحمة الله علیہ کی ”إیثار الحق علی الخلق“ میں اس موضوع میں کافی لمبی بحث موجود ہے۔ ابن تیمیہ رحمة الله علیہ کی اس موضوع پر”کتاب النبوات“ تقریباً تین سو صفحات میں موجود ہے، لیکن حق یہ ہے کہ ابن تیمیہ رحمة الله علیہ نے باوجود علمی تبحر وتدقیق اور باوجود جلیل القدر محقق ہونے کے اس موضوع کا حق نہیں ادا کیا۔ غزالی  کے چند صفحے اور شاہِ دہلی  کے چندورق کو میں اس سار ی کتاب پر ترجیح دیتا ہوں، چند ضمنی فوائد ونکات کے سوا اس میں کوئی اہم بات یا علمی تحقیق اس موضوع پر نہیں جس کی ان سے توقع تھی۔ مجھے اس وقت نبوت کی عقلی تشریح کرنی منظور نہیں ، کیوں کہ اس کی تشریح سے پہلے ”روح“ کی حقیقت سمجھانی ہو گی، جو بجائے خود ایک مستقل دقیق وغامض علمی مضمون ہے، جس میں ارسطو نے ”کتاب النفس“ لکھی ہے او راس کی تلخیص وتراجم وشروح ثامسطیوس، لا مقید وروس، استیلقوس، اسکندر افرودوسی، ابن بطریق وغیرہ وغیرہ نے کی ہیں۔

اسلامی دور میں ابو العباس احمد سرخسی (المتوفی:386ھ)، صدقة بن منجا الدمشقی(260ھ)، مؤرخ مشہور مسعودی(346ھ)، ابن القیم (752ھ) برہان الدین بقاعی (885ھ) وغیرہ وغیرہ متکلمین اسلام اور علمائے امت نے ”روح“ پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سے ”معارج القدس“ غزالی کی اور ”کتاب الروح“ ابن القیم  کی اور”سر الروح“بقاعی کی اور ”کتاب الفتوح لمعرفة أحوال الروح“ بعض علماء عصر کی اور ”الطاف القدس“ شاہ ولی الله  کی ہمارے سامنے مطبوعہ موجود ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ حقیقت نبوت کی تشریح کے لیے ” حقیقت روح“ بیان کرنا ضروری ہو گی۔ اس وقت ان غامض ودقیق علمی موضوعات کی طرف جانا نہیں او رنہ فیصلہ کرنا ہے۔ صرف اپنے سلف صالحین کے چند علمی کارناموں سے طلبہ کو واقف کرانا تھا، کوئی مشکل سے مشکل ، دقیق سے دقیق علمی موضوع اورخصوصاً جس کا تعلق دین اسلام سے ہو ایسا نہیں ہو گا جس پر کہ ہمار ے اکابر نے اپنی بیش بہا تحقیقات کا ذخیرہ جمع نہ کیا ہو۔

اس وقت مقصود صرف اتنا ہے کہ یہ بتلایا جائے کہ ”نبی“(پیغمبر) کسے کہتے ہیں؟ اور قرآن کریم میں ”انبیاء“ اور”نبوت“ کے کیا کیا خواص بتلائے گئے ہیں؟ تاکہ آیاتِ بینات کی روشنی میں ایک مسلمان صحیح عقیدہ کو سمجھ سکے اور جب کسی کی نبوت ثابت ہو جائے مسلمان کے لیے ان کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہو گا او رجب ایمان لایا گیا تو اس وقت ”نبی“ ایک امتی کے لیے ایک برگزیدہ، مقدس ،واجب الاطاعت ہستی ہو گی۔ اس کے احکام، اس کی مرضیات، اس کے اوضاع واطوار، اس کے اخلاق وعادات، غرض کل نظامِ حیات میں اس کی سنت افراد امت میں سے ہر فرد کے لیے دلیل راہ ہو گی۔ پھر وہاں کیوں؟ او رکیوں کر ؟ کا سلسلہ ہی ختم ہو جاتا ہے ۔سوائے تسلیم اور انقیاد واطاعت وفرماں برداری کے کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ اس کی اطاعت الله تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہے۔ اس کی رضا مندی خدائے تعالیٰ کی رضا مندی ہوتی ہے، اس لیے کہ خود حق تعالیٰ یوں ہی فرماچکے ہیں، جیسا کہ آئندہ ان شاء الله تعالیٰ! واضح ہو جائے گا۔

ہاں! عبادت بہرحال الله تعالیٰ کی ہو گی، رسول کی اطاعت سے اس کی عبادت لازم نہیں آتی، عبادت وبندگی او رچیز ہے ،اطاعت وتسلیم اور چیز ہے، دونوں میں خلط نہ کرنا چاہیے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ رسول کی راہ نمائی میں الله تعالیٰ شانہ کی عبادت وبندگی کی جائے۔ اب وہ راہ نمائی مختلف صورتوں میں ہو گی ، کبھی الله تعالیٰ کی طرف صاف طور پر نسبت کرکے ارشاد فرمایا جائے گا، کبھی اپنی طرف سے کچھ ارشاد فرمائیں گے، گو وہ بھی الله تعالیٰ کی جانب سے ہو گا۔ لیکن لفظوں میں الله تعالیٰ کی نسبت نہیں ہو گی، کبھی ان کی اتباع، ان کے طرز وطریقہ کو دیکھ کر راہ نمائی حاصل کریں گے۔ غرض کہ راہ نمائی حاصل کرنے کے طریقے مختلف ہوں گے۔

نبی ورسول یا پیغمبر
لغت عرب میں ”نبا“ اس خبر کوکہتے ہیں جس میں فائدہ ہو اور فائدہ بھی عظیم اور ا س خبر سے سننے والے کو علم واطمینان بھی حاصل ہو۔ غرض کہ تین چیزیں اس میں ضروری ہوں:۱۔ خبر فائدے ۔۲… فائدہ بھی عظیم الشان ہو۔۳… سننے والے کو یقین کامل یا اطمینان قلب حاصل ہو جائے۔ قرآن کریم نے اسی لغت سے ”نبی“ کا لفظ ایک ایسے انسان کے لیے استعمال کیا جس نے الله تعالیٰ کے بندوں کو الله تعالیٰ کی جانب سے فائدے اور نفع کی ایسی عظیم الشان خبریں سنائیں، جن سے ان کی عقول قاصر ہیں، اپنی عقل نارساسے وہاں تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے۔ ظاہر ہے کہ ایسی باتیں وہی ہوں گی جو الله تعالیٰ شانہ کی طرف سے ہوں گی اور پھر ان خبروں پر اطمینان یا علم جب حاصل ہو سکتا ہے کہ خبر دینے والا اس پر الله تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل بھی پیش کرے یا صرف اس کی زندگی ہی اتنی پاکیزہ، اتنی اعلیٰ ومقدس ہو کہ اس پر جھوٹ کا وہم وگمان بھی نہ ہو سکے، اس کی بات سنتے ہی لوگوں کو یقین آجائے۔ اب صرف ”نبی“ کا لفظ ہی لغتِ عرب کے مطابق ان سب حقائق پر روشنی ڈالتا ہے، جس کی تفصیل وتحقیق کے لیے صفحات بھی ناکافی ہیں۔ شیطانی وساوس یا طبعی جحود وعناد اگر قبول سے مانع آجائے یہ دوسری بات ہے۔

رسالت
لغت عرب میں”رسالت“ کے معنی ایک پیغام کے ہیں اور ”رسول“ کہتے ہیں پیغام پہنچانے والے کو۔ قرآن کریم نے اس لفظ کو اس پیغام پہنچانے والے کے لیے استعمال کیا جو الله تعالیٰ شانہ کی جانب سے دین ودنیا کے مصالح کے بارے میں پیغامات اس کے بندوں تک پہنچائے۔

اب خلاصہ یہ ہی ہوا کہ اسلام کی زبان میں ”نبی ورسول“ وہ سفیر ہے جس کا خود الله تعالیٰ نے انتخاب فرمایا ہو۔ خدائے تعالیٰ کے پیغامات اس کے بندوں تک پہنچاتا ہو، دین ودنیا کے مصالح ومنافع کے لیے ایک ”قانونِ حیات“ ”نظام العمل“ ایک ”دستور اساسی“ پیش کرتا ہو۔ ایسے احکام، ایسے حقائق، ایسے امور اُن کو ارشاد کرتا ہو جن سے ان کی عقول قاصر ہوں۔ ایسی دقیق وغامض باتوں کی اطلاع دیتا ہو جہاں ان کا طائر عقل پروازنہ کر سکتا ہو، ان کے شکوک وشبہات کا ازالہ کرتا ہو، نہ کرنے پر الله تعالیٰ کی ناراضگی وعذاب سے ڈراتا ہو۔ جو حکم دیتا ہووہ خود کرتا ہو، خود ان کے لیے مجسم پیکر عمل ہو اس قانونِ حیات ونظام عمل کے لیے اس کا وجود آئینہ ہو۔ یہ ہیں اسلام کی زبان میں، شریعت کی لغت میں ”رسول ونبی“ کے معنی، اسی کو ہم اپنی زبان میں ”پیغمبر“ کہتے ہیں۔ ”رسول“ و”نبی“ میں کیا فرق ہے؟ یہ ایک محض علمی چیز ہے۔ ہمارے موضوع سے خارج ہے، لیکن اجمالاً اتنا واضح رہے کہ حافظ ابن تیمیہ رحمة الله علیہ نے ”کتاب النبوات“ میں جو فرق بیان کیا وہ ہمیں سب سے بہترمعلوم ہوتا ہے، جس کا خلاصہ صرف اتنا ہے کہ : ”جو الله تعالیٰ کی جانب سے صرف غیب کی خبروں سے قوم کو اطلاع دیتا ہو، ان کو نصیحت کرتا ہو، ان کی اصلاح کرتا ہو اور الله تعالی کی جانب سے اس کو ”وحی“ ہوتی ہو وہ”نبی“ کہلاتا ہے۔ اگر ان اوصاف کے ساتھ وہ کفار کی طرف اور نافرمان قوم کو تبلیغ پر مامور بھی کیا جائے تو وہ ”رسول“ بھی ہو گا۔“

اب ہم قرآن کریم کی روشنی میں ”انبیاء و رسل“ کے خواص ولوازم پیش کرتے ہیں، لیکن معلوم رہے کہ ”انبیاء ورسل علیہم الصلوٰة والسلام“ کے عام خصائص بحیثیت نبوت ورسالت سب مشترک ہیں، قرآن کریم نے جتنے کمالات اور اوصاف انبیاء ورسل علیہم الصلوٰة والسلام کے بیان کر دیے ہیں وہ سب حضرت خاتم الانبیاء رسول الله صلی الله علیہ وسلم میں بوجہ کمال موجود ہیں، کیوں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم سب انبیاء ورسل علیہم الصلوٰة والسلام سے افضل ہیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم سیّد الانبیاء ہیں، خاتم الانبیاء ہیں۔ یہ نصوصِ قطعیہ کا مفاد ہے اور اُمتِ مرحومہ کا ”اجتماعی عقیدہ“ ہے اور تاریخِ عالم کی ”حقیقتِ ثابتہ“ ہے اور اسلامی دور کے حیرت انگیز کارنامے اس کے شاہد عدل ہیں۔ قرآن کریم نے بہت سے انبیاء ورسل علیہم الصلوٰة والسلام کے خصائص وکمالات بیان کرنے کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم کو حکم دیا اور فرمایا:﴿أُوْلَئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہ﴾․(الانعام:90)
ترجمہ:” یہ حضرات ہیں جن کو الله تعالیٰ نے ہدایت کی ہے، آپ بھی انہیں کے طریقے پر چلیے۔“

اس سے یہ صاف معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کے جتنے عملی وعلمی کمالات تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم ان سے مالا مال تھے۔ اس لیے ہم جتنی آیاتِ کریمہ مختلف انبیاء ورسل علیہم الصلوٰة والسلام کے خصائص واوصاف میں پیش کریں گے۔ مقصود ان سے صرف نبوت کے کمالات وخصائص ہوں گے، جو اصل نبوت کی وجہ سے قدر مشترک سب میں موجود ہیں۔

منصبِ نبوت ورسالت
نبوت ایک عطیہٴ ربانی ہے ،جس کی حقیقت تک رسائی غیر نبی کو نہیں ہو سکتی، اس کی حقیقت کو یا تو حق تعالیٰ جانتا ہے، جو نبوت عطا کرنے والا ہے یا پھر وہ ہستی جو اس عطیہ سے سرفراز ہوئی۔ مخلوق بس اتنا جانتی ہے کہ اس اعلیٰ وارفع کے لیے جس شخص کا انتخاب کیا گیا ہے وہ:
1… معصوم ہے، یعنی نفس کی ناپسندیدہ خواہشات سے پاک صاف پیدا کیا گیا ہے اور شیطان کی دست رس سے بالاتر۔ عصمت کے یہی معنی ہیں کہ ان سے حق تعالیٰ کی نافرمانی کا صدور ناممکن ہے۔
2… آسمانی وحی سے ان کا رابطہ قائم رہتا ہے اور وحی الہٰی کے ذریعہ ان کو غیب کی خبریں پہنچتی ہیں۔ کبھی جبریل امین کے واسطہ سے او رکبھی بلا واسطہ، جس کے مختلف طریقے ہیں۔
3… غیب کی وہ خبریں عظیم فائدے والی ہوتی ہیں او رعقل کے دائرے سے بالاتر ہوتی ہیں، یعنی انبیاء علیہم السلام بذریعہ وحی جو خبریں دیتے ہیں ان کو انسان نہ عقل وفہم کے ذریعہ معلوم کر سکتا ہے، نہ مادی آلات وحواس کے ذریعہ ان کا علم ہو سکتا ہے۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو”کتاب النبوات“ ص:272 تا274)

ان تین صفات کی حامل ہستی کو مخلوق کی ہدایت کے لیے مبعوث ومامور کیا جاتا ہے ، گویا حق تعالیٰ اس منصب کے لیے ایسی شخصیت کا انتخاب فرماتا ہے جو افراد بشر میں اعلیٰ ترین صفات کی حامل ہوتی ہے ، اس انتخاب کو قرآن کریم کہیں ”اجتباء“ سے، کہیں”اصطفاء“ سے او رکبھی لفظ”اختیار“ سے تعبیر فرماتا ہے، یہ عام صفات وخصوصیات تو ہر نبی ورسول میں ہوتی ہیں، پھر حق تعالیٰ ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرما کر وہ درجات عطا کرتا ہے، جن کے تصور سے بھی بشر قاصر ہے، گویا نبوت، انسانیت کی وہ معراج کمال ہے جس سے کوئی بالاتر منصب اور کمال عالمِ مکان میں نہیں، ان صفاتِ عالیہ سے متصف ہستی کو ہدایت واصلاح کے لیے مبعوث کرکے انہیں تمام انسانیت کا مطاع مطلق ٹھہرایا جاتا ہے ،ارشاد ہے:﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِیُطَاعَ بِإِذْنِ اللّہِ﴾․(النساء:64)
ترجمہ:”یعنی ہم نے ہر رسول کو اسی لیے بھیجا کہ اس کی اطاعت کی جائے الله کے حکم سے۔“

پس حکم خدا وندی یہی ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے، وہ مطاع اور واجب الاطاعت متبوع ہے اور امت اس کی ہدایت کے تابع اور مطیع فرمان۔

نبی ہر نقص وکوتاہی سے بالاتر ہوتا ہے
جب نبوت ورسالت کے بارے میں یہ صحیح تصور قائم ہو گیا کہ وہ ایک عطیہ ربانی ہے، کسب ومحنت او رمجاہدہ وریاضت سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ حق تعالیٰ اپنے علم محیط ، قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے پاک اور معصوم ومقدس ہستی کو پیدا فرماکر اس کو وحی آسمانی سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کی ہدایت وارشاد کے منصب پر اُسے کھڑا کرتاہے تو اس سے عقلی طور پر خود بخود یہ بات واضح ہو گئی کہ نبی ورسول کی شخصیت ہر نقص سے، ہر کوتاہی سے اور ہر انسانی کمزوری سے بالاتر ہوتی ہے، کیوں کہ اگر خود اس کی شخصیت انسانی کمزوریوں میں ملوث ہو تو وہ ہدایت واصلاح کی خدمت کیسے انجام دے سکے گا؟!
”آنکہ خود گم است کر ارہبری کند۔“

چناں چہ سنت الله یہی ہے کہ نبی کا حسب ونسب، اخلاق وکردار، صورت وسیرت، خلوت وجلوت اور ظاہر وباطن ایسا پاک اور مقدس ومطہر ہوتا ہے جس سے ہر شخص کا دل ودماغ مطمئن ہو اور کسی کو انگشت نمائی کا بال برابر بھی موقع نہ مل سکے، یہ الگ بات ہے کہ کوئی شخص شقاوتِ ازلی کی وجہ سے اس کی دعوت پر لبیک نہ کہے اور جحود وانکار میں مبتلا ہو کر ہدایت سے محروم رہ جائے، لیکن یہ ممکن نہیں کہ بدتر سے بد تر دشمن بھی نبی میں کسی ”انسانی کمزوری“ کی نشان دہی کرسکے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.