جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

آداب نکاح

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالیٰ ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلاھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد فأعوذ بالله من الشیٰطن الرجیم بسم الله الرحمٰن الرحیم ﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیرًا وَنِسَاء ً وَاتَّقُوا اللَّہَ الَّذِی تَسَاء َلُونَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیبًا﴾․(سورة النساء، آیت:1)

وقال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: النکاح من سنتی، وقال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: أعظم النکاح برکة أیسرہ مؤونة․“ (سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب ماجاء فی فصل النکاح، رقم:1846) (مسند احمد، مسند الصدیقة عائشة بنت الصدیق رضی الله عنہا، رقم الحدیث:24529)

صدق الله مولٰنا العظیم، وصدق رسولہ النبی الکریم، ونحن علی ذلک لمن الشھدین والشکرین، والحمدلله رب العالمین․

میرے محترم بزرگو، بھائیو اور دوستو! قرآن کریم میں انسان کی تخلیق الله تعالیٰ نے بیان فرمائی، جس میں مرد اور عورت اور توالد اور تناسل کا تذکرہ ہے، ایسے ہی سرورکائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو نکاح سہل اور سادہ ہو، وہ برکت کے اعتبار سے بہت بابرکت نکاح ہے، ہمارے ہاں عمومی طور پر دین کو سیکھنے کا رواج بہت کم ہوتا جارہا ہے، ایک طبقہ توان خوش قسمت اور خوش بخت لوگوں کا ہے جو اپنے بچوں کو دینی تعلیم دیتے ہیں، وہ بڑے خوش بخت اور الله اور اس کے رسول کے ہاں بڑے مقرب ہیں لیکن بہت بڑا طبقہ دین سے غافل ہے۔

ایک بہت بڑا طبقہ جو عمومی ہے، اس دنیا سے متاثر ہے، وہ دین صرف نماز کو سمجھتا ہے وہ دین صرف روزے کو سمجھتا ہے وہ دین صرف زکوٰة کو سمجھتا ہے اس وجہ سے دین کے ایک بڑے حصے سے ناواقف ہے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”النکاح من سنتی“ آپ نے کبھی غور کیا، کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے گیارہ نکاح کیے، وہ ایک الگ موضوع ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے گیارہ نکاح کیوں فرمائے، لیکن دوسری بات جو ہم سمجھ سکتے ہیں وہ یہ کہ نکاح اہم ہے، اس لیے گیارہ نکاح کیے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ نکاح صرف جنسی ضرروت پوری کرنے کا کام نہیں۔

بیوی کے حقوق ہیں اور اس نکاح کے نتیجے میں کتنا بڑا انقلاب آتا ہے کہ نکاح سے پہلے دلہا کے لیے دلہن کے پاس جانا جائز نہیں، حرام ہے،لیکن چند کلمات کے نتیجے میں اتنا بڑا حرام حلال ہو جاتا ہے،۔

میرے دوستو! یہ نکاح بہت سادہ، بہت سہل اور آسان تھا، ہم نے اس کو اپنے لیے عذاب بنا دیا اور اس عذاب میں مبتلا ہو کر ناجائز حرام ہر چیز میں ہم مبتلا ہو گئے ۔ یاد رکھیں سب سے سچی خبر دینے والے محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہیں، کسی ہندو، عیسائی، یہودی، کسی چینل، ریڈیو اور ٹی وی کی خبر سچی نہیں، یہ ہمارا عقیدہ ہے، سب سے سچی خبر محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ہے، آپ سے زیادہ سچا نہ آپ سے پہلے کوئی آیا ہے اور نہ قیامت تک آئے گا، انبیا ئے کرام کی ساری جماعت سچی ہے، لیکن آپ ان سچوں کے بھی سردار ہیں، وہ کیا فرمارہے ہیں؟ وہ فرمارہے ہیں۔

”أعظم النکاح برکة أیسرہ مؤونہ“ سب سے زیادہ برکت اس نکاح میں ہے جو بالکل سہل اور آسان ہو۔

حضرت عبدالله بن مبارک رحمہ الله بہت بڑے محدث ،بہت بڑے عابد اور زاہد، بہت بڑے فقیہ، بہت بڑے مجاہد، بہت بڑے تاجر، ساری صفات ان میں جمع تھیں۔ (سیر أعلام النبلاء:8/378)

چناں چہ اپنی تجارت کی آمدنی حرمین شریفین کے محدثین اورفقہاء پر خرچ کرتے تھے، ان کے والد کا نام مبارک تھا، یہ مبارک ایک رئیس اور مال دار شخص کے باغ میں، مالی تھے، لیکن بہت متقی، بہت پرہیزگاراور بڑے الله والے تھے، ایک دفعہ مبارک نے دیکھا کہ ان کا مالک بڑا پریشان بیٹھا ہے، یہ اس کے پاس گئے اور جاکے کہا کہ میں آپ کو پریشان دیکھتا ہوں، میں آپ کا خادم، نوکر ہوں، مجھے آپ بتائیں، شاید میں آپ کی مدد کر سکوں۔مالک نے کہا کہ یہ گھریلو مسئلہ ہے، آپ دعا فرمائیں، تھوڑے دنوں بعد دوبارہ مبارک نے دیکھا کہ مالک بہت پریشان بیٹھا ہے، پھر جاکے درخواست کی کہ مجھ سے آپ کا غم دیکھا نہیں جاتا، میں آپ کی کوئی مدد کرسکوں؟ آپ ارشاد فرمائیں۔ دوسری بار بھی ٹال دیا، تیسری مرتبہ پھر انہوں نے عرض کیا تو مالک نے کہا کہ بھائی بات یہ ہے کہ میری ایک ہی بیٹی ہے اور اب وہ شادی کے قابل ہو گئی ہے ،ہم میاں بیوی پریشان ہیں کہ اس کا رشتہ ہو جائے، کوئی جوڑ سمجھ میں نہیں آرہا، وقت گزر رہا ہے، عمر بڑھ رہی ہے، ہر باپ جانتا ہے کہ جب بیٹی شادی کے قابل ہو جاتی ہے تو ماں باپ پریشان ہوتے ہیں ۔ مبارک نے ان سے کہا کہ اس میں پریشانی کی بات تو نہیں، نکاح کے کئی طریقے ہیں، ایک طریقہ ہے یہودیوں کا کہ وہ مال دار لڑکا ڈھونڈتے ہیں اور دوسرا طریقہ ہے عیسائیوں اور نصرانیوں کا کہ وہ خوب صورت لڑکا تلاش کرتے ہیں اور ایک طریقہ ہے محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا اور وہ یہ ہے کہ دین اور شرافت دیکھو، اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں۔مالک گھر گیا اور ساری صورت حال بیوی کو بتائی،اب یہ دونوں میاں بیوی سر جوڑ کر بیٹھے ، اور دونوں تھوڑی دیر بعد اس پر متفق ہو گئے کہ مبارک سے زیادہ شریف اور دین دا رکوئی نہیں۔ چناں چہ دونوں نے اتفاق کیا کہ ہم بیٹی کا نکاح مبارک سے کر دیں گے ، مبارک سے شادی ہوئی تو ایسی مبارک ہوئی کہ اس کے نتیجے میں کون پیدا ہوئے؟ عبدالله اور وہ عبدالله بہت بڑے محدث، فقیہ، عابد اور زاہد تھے، بہت بڑے مجاہد، بہت بڑے تاجر تھے۔

آپ مجھے بتائیے کہ کون ماں باپ ایسا ہو گا جو یہ صفات نہ چاہتا ہو، لیکن میرے دوستو!رسم ورواج کی زنجیروں میں ہم جکڑے ہوئے ہیں، لوگ جھوٹ بولتے ہیں کہ اگر میں ایسا کروں گا تو میری ناک کٹ جائے گی، آپ نے کسی کی ناک کٹتی ہوئی دیکھی ہے؟! یہ اندر کی گڑ بڑ ہے کہ ہم نے محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی سچی اتباع، کامل اتباع چھوڑ دی ہے۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، جن کو دنیا میں جنتی ہونے کی بشارت سنائی گئی۔ (سنن الترمذی، مناقب عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنہ، رقم الحدیث:3747) انہوں نے ہجرت فرمائی، مدینہ طیبہ آئے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ایک انصاری سے ان کی مواخات فرمائی، انصاری نے ان کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ میری دو بیویاں ہیں، ایک کو میں طلاق دے دیتا ہوں، جب عدت گزر جائے تو تم اس سے نکاح کر لینا اور میرے دو باغ ہیں، میری ضرورت ایک باغ سے پوری ہو جاتی ہے، ایک باغ میں آپ کو ہدیہ کردیتا ہوں۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنہ نے اپنے انصاری بھائی کا شکریہ ادا کیا کہ الله آپ کو اس میں برکت دے، مجھے نہ بیوی کی حاجت ہے نہ باغ کی، مجھے تو آپ بازار کا راستہ بتائیں بازار کدھر ہے؟ انہوں نے بازار کا چکر لگایا، دیکھا کہ بازار کے سرے پر ایک صاحب پنیر لیے بیٹھے ہیں اور بیچ رہے ہیں، انہو ں نے سلام کے بعد ان سے کہا کہ آپ یہ پنیرمجھے کل تک کے اُدھار پر بیچ سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا ضرور۔ اب حضرت عبدالرحمن نے بازار کے دوسرے کنارے پر بیٹھ کر وہ پنیر بیچ دیا او راگلے دن ادھار چکا کر اس کے نفع سے اپنی رقم سے پنیر خریدا، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنہ نے تجارت اس طرح شروع کی، یہ بنیاد ہے۔(الطبقات الکبری لابن سعد:3/126) (الجامع الصحیح، کتاب البیوع، رقم:2048) اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنہ نے سات سو اونٹوں کا غلے سے لدا ہوا قافلہ الله کی راہ میں صدقہ کیا۔ (سیر اعلام النبلاء، عبدالرحمن بن عوف:1/76)

اب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنہ کی شادی ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم کی حیاة مبارکہ میں، آپ کی موجودگی میں، ہمارے ہاں تو اگر شادی میں چچا کو ،تایا کو، ماموں کو، پھوپا کو نہ بلائیں تو ساری زندگی کا مسئلہ بن جاتا ہے یا نہیں؟ او راب تو یہاں تک ہے کہ کارڈ دینے خود نہیں آئے، فلاں کے ذریعے کہلوایا تھا، ہم نہیں جائیں گے۔

اور عشرہ مبشرہ میں سے حضرت عبدالرحمن بن عوف شادی کر رہے ہیں، مدینہ منورہ میں کر رہے ہیں ،آپ صلی الله علیہ وسلم کی حیاة مبارکہ میں کر رہے ہیں اور آپ صلی الله علیہ وسلم کو دعوت نہیں دی، آپ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے کپڑوں پر زرد رنگ لگا ہوا تھا اور زرد رنگ کی خوش بو کی عورتوں کو اجازت ہے۔عورتوں کو ایسی خوش بو استعمال کرنے کا حکم ہے جس میں خوش بو ہو اور رنگ بھی ہو، لیکن خوش بو پھیلے نہ:”قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: طیب الرجال ماظھر ریحہ، وخفی لونہ، وطیب النساء ماظھر لونہ وخفی ریحہ․“ (سنن الترمذی، ابواب الأدب، ما جاء فی طیب الرجال والنساء، رقم:2787) اس لیے کہ عورت اگر ایسی خو ش بو استعمال کرے گی جو پھیلے تو فتنہ پیدا ہو گا۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنہ پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے عورتوں والا رنگ دیکھا تو آپ نے پوچھا کہ یہ کیا ہے عورتوں والی خو ش بو؟! حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنہ نے شرماتے ہوئے عرض کیا کہ میں نے شادی کر لی ،شاید بیوی کی خوش بو کا رنگ میرے کپڑوں کو لگ گیا ہے۔آپ صلی الله علیہ وسلم نے ذرہ برابر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”أولم“ولیمہ کر لینا، ”ولوبشاة “چاہے ایک بکری ہی کا کیوں نہ ہو۔ (الجامع الصحیح للبخاری، کتاب البیوع، رقم الحدیث:2048)

آپ بتائیں یہ ناراضگی ہے یا خوشی ہے؟ شرکت کی دعوت نہیں دی۔

میرے پاس ایک دعوت نامہ آیا اتنا بڑا کہ میرے تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ دعوت نامہ ہے ،میں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ بتایا دعوت نامہ ہے، اتنا بڑا ڈبہ، جب اس کو کھولا گیا تو اس میں دو جوڑے تھے اور اس پر دعوت نامہ رکھا ہوا!! میں نے کہا یہ آپ میرے لیے لائے ہیں؟ کہا جی آپ کے لیے۔

میرے دوستو! آج ہمارا معاشرہ تباہ ہو گیا ہے ہم سمجھ نہیں رہے، آج گھروں کے اندر بیٹیاں بیٹھی ہوئیہیں،کیوں؟ اس لیے کہ انتظامات نہیں ہیں ،پھر اس کے نتیجے میں کیا ہوتا ہے، حدیث کا مفہوم ہے، جب نکاح مہنگا ہو جائے گا تو زنا سستا ہو جائے گا۔

میرے دوستو! آج سارا طاغوت پوری دنیا کا طاغوت اسی پر لگا ہوا ہے کہ مسلمان کو ہر اعتبار سے تباہ کر دیں، آج ہم بڑے شوق اور فخر سے کہتے ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے، بیٹی کو سمارٹ فون لے کر دیا ہے، آپ نے سمارٹ فون لے کر نہیں دیا، بلکہ آپ نے بیٹے اور بیٹی کو داؤ پر لگا دیا، ایک سکینڈ، ایک لمحے کے اندر وہ لڑکا اور لڑکی دنیا کے بد ترین سے بد ترین گناہ کو دیکھنے پر قادر ہو گئے ،آپ کیا چوکیداری کریں گے او رکتنی چوکیداری کریں گے؟ہم اپنے ہاتھوں سے اپنے خاندانوں کو اپنی نسلوں کو اپنے جوان بیٹوں اور بیٹیوں کو تباہ کر رہے ہیں ،ہم اگر اس سے اپنے آپ کو نہیں بچائیں گے تو تباہی اور بربادی ہے۔

نوجوانوں سے میری درخواست ہے، جنہوں نے شادی نہیں کی، وہ علماء کے پاس جائیں، پوچھیں ، میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے، کیا آداب ہیں؟ کیا احکام ہیں؟ جن کی شادیاں ہو گئی ہیں، نہیں پوچھا ،اب پوچھیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے جو احکام، جو آداب بیان فرمائے ہیں، ان پر عمل سے محبت بڑھے گی، لوگ کہتے ہیں دین پر عمل بہت مشکل ہے، ایسا ہر گز نہیں! آپ نے دین کو پڑھا ہی نہیں، آپ نے دین کو سمجھا ہی نہیں ،دین اسلام تو کہتا ہے کہ اگر تم اپنے ہاتھ سے لقمہ اپنی بیوی کے منھ میں رکھو گے تو اس پر بھی اجر ہے ،یہ دین سکھاتا ہے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی زوجہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے ساتھ باقاعدہ دوڑ لگائی ہے، ایک دفعہ آپ صلی الله علیہ وسلم اس دوڑ میں ہار گئے، حضرت عائشہ رضی الله عنہاجیت گئیں، پھر اس کے بعد ایک دفعہ دوڑ لگائی تو آپ صلی الله علیہ وسلم جیت گئے او رحضرت عائشہ رضی الله عنہا ہار گئیں۔ (مصنف ابن أبی شیبہ، السباق علی الٴاقدام، رقم:33588) یہ کیا ہے؟ محبت ہے۔ جب یہ پیار اور محبت دین کے حوالے سے ہوگی تو سو فیصد یہ پیار اور محبت نسلوں کے اندر منتقل ہو گی، جب اولاد اپنے ماں باپ کو اس طرح سے دیکھے تو ان میں پیار ومحبت ہو گی، ان میں دین اسلام پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا ہو گا۔

میرے دوستو! گزارش یہ ہے کہ ہم دین پر عمل کرنے کی کوشش کریں، اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔

الله تعالیٰ ہمیں دین پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.