جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

کیا ہم رسول صلی الله علیہ وسلم سے محبت کا حق ادا کررہے ہیں؟

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالیٰ ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلاھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد فأعوذ بالله من الشیٰطن الرجیم بسم الله الرحمٰن الرحیم﴿وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا﴾․ (سورة الحشر، آیت:7)

”عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِی وَسُنَّةِ الْخُلَفَاء ِ الرَّاشِدِینَ الْمَہْدِیِّینَ“․ (شرح معانی الآثار، کتاب الصلوٰة، باب صفة الجلوس فی الصلوٰة کیف ھو؟ رقم الحدیث:1428) صدق الله مولٰنا العظیم، وصدق رسولہ النبي الکریم، ونحن علی ذلک لمن الشھٰدین والشاکرین، والحمدلله رب العٰلمین․

میرے محترم بھائیو، بزرگو اور دوستو!

الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ﴾، الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم جو کچھ تمہیں دیں اسے تم لے لو﴿وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ﴾ اور جس سے وہ تمہیں روک دیں، اس سے تم رک جاؤ۔ سرورکائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”علیکم بسنتی…“، تم پر میری سنت پر عمل کرنا لازم ہے اور تم پر میرے خلفاء کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے۔

میرے دوستو! آج جو دنیا کے احوال ہیں، مسلمانوں کے حوالے سے وہ کسی پر مخفی نہیں ہے، پوری دنیا میں، گھر گھر، گاؤں گاؤں ،بستی بستی، قصبہ قصبہ، شہر شہر، ملک ملک، جہاں بھی چلے جاؤ، آج ہر مسلمان پریشان ہے اور یہ پریشانی رکنے کا نام نہیں لے رہی، مسلسل پریشان ہیں، پریشانیاں بڑھ رہی ہیں ، مسائل بڑھ رہے ہیں اور نوبت خوف ناک حالات کی طرف لے جارہی ہے، جب کہ ہمارے خالق ، ہمارے مالک، ہمارے پروردگاراور ہمارے پیدا کرنے والے نے، ہمارے لیے بہت سھل، بہت آسان طریقہ اور راہ نمائی قدم قدم پر بیان فرمائی ہے، آج سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ہم الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے، جن کے ہم پر احسانات ہی احسانات ہیں، ہم ان سے دور ہو گئے اور ہماری وہ دوری بڑھتی جارہی ہے، اسی کا وبال اور اسی کی مصیبت ہے جسے ہم سب بھگت رہے ہیں، ورنہ سرورکائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم جس زمانے میں تشریف لائے جن حالات میں تشریف لائے، وہ زمانہ او رحالات بہت خوف ناک تھے، الله تعالیٰ کی یہ سنت اور طریقہ ہے کہ جب یہ دنیا ظلم سے کفر سے، شرک سے، جہل سے ،اندھیری ہو جاتی ہے، تاریک ہو جاتی ہے تو الله رب العزت انسانوں پر رحم فرما کر اپنے نبی اور رسول بھیجتے ہیں ،وہ آتے ہیں، آکر محنت کرتے ہیں۔ جدوجہد کرتے ہیں اور ظلم سے ، شرک سے، کفر سے، اندھیرے سے انسانوں کو نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، سرورکائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم آخری نبی اور رسول ہیں، آپ کے بعد اور کوئی نبی رسول نہیں آئے گا، آپ صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم تمام انبیاء اور رسل کی جماعت میں سب سے بڑے ہیں، آپ سے بڑا نبی اور رسول کوئی نہیں ، آپ صلی الله علیہ وسلم کا زمانہ نبوت ورسالت بھی سب سے بڑا ہے، اتنا بڑا زمانہ نبوت ورسالت کا کسی کو نہیں ملا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم قیامت تک کے لیے نبی اور رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں، اب کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا، اگر کوئی دعویٰ کرے گا وہ کافر ہو گا، وہ مسلمان نہیں ہو گا، تو اب آپ غور فرمائیں کہ اتنے بڑے نبی اور رسول کی آمد کے موقع پر دنیا کا کیا حال ہے؟

دنیا کفر سے ، شرک سے، ظلم سے ، اندھیرے سے بھری ہوئی ہے، لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کی نبوت کا زمانہ تئیس برس ہے،تیئس برس آپ نے مکہ مکرمہ ، مدینہ طبیہ اور عرب میں محنت فرمائی ، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورا عالم، جو اندھیرے میں بسا ہوا تھا ،وہ جگمگانے لگا اور وہ لوگ جو سو سو قتل کیے ہوئے تھے زمانوں ان کی زندگیاں ظلم اور قتل میں گزری تھیں، وہ ہدایت یافتہ ہو گئے، ان کے دلوں کے اندر سے کفر نکل گیا ، شرک نکل گیا، ظلم نکل گیا اور ان کے دلوں میں رحم پیدا ہو گیا، تمام صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کی آپ حیاة مبارکہ پڑھیں گے، تو آپ کو یہی ملے گا، مکہ کا حال آپ کو یہی ملے گا، مدینہ کا حال آپ کو یہی ملے گا، عرب کا حال پڑھیں گے یہی ملے گا، آپ صلی الله علیہ وسلم جو دین ، تعلیمات اور شریعت لے کر آئے اس پر جب ان لوگوں نے عمل کیا تو وہی ظلم اور جبر کا ماحول عدل اور انصاف میں تبدیل ہو گیا میں جو بات عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ وہ تعلیمات، دین اورشریعت جیسے اس زمانے میں مؤثر تھی آج بھی اسی طرح مؤثر ہے، یہ نہیں ہے کہ چودہ سو سال پہلے تو اثر تھا اب نہیں، ایسا نہیں، قیامت تک اس میں وہی اثر موجود ہے، قیامت تک اس کی وہی تاثیر ہے۔

مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم نے اسے چھوڑ دیا، ہم نے اسے ترک کر دیا، چناں چہ الله رب العزت ارشاد فرمارہے ہیں:﴿وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ﴾ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم جو دین ، شریعت اور تعلیمات لائے ہیں، اس کو مضبوطی سے پکڑلو، اس کو مضبوطی کے ساتھ لے لو،﴿وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا﴾ او رجس سے وہ روکیں اس سے تم رک جاؤ، اس سے باز آجاؤ۔ اب آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کیا ہیں؟ میں نے بار بار عرض کیا کہ پیدائش سے لے کر موت تک کوئی مرحلہ زندگی کا ایسا نہیں ، جس کی تعلیمات اور جس کے لے شرعی ہدایات موجود نہ ہوں، ہر چیز موجود ہے، خواہ ان کا تعلق عبادات سے ہو، خواہ ان کا تعلق معاملات سے ہو، ہر چیز کی راہ نمائی موجود ہے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”الصدق ینجی“ (الجامع الصغیر لجلال الدین سیوطی، رقم الحدیث:4212) ترجمہ: سچ آدمی کو نجات دیتا ہے۔) اب آپ غور کریں کہ ہم آپ صلی الله علیہ وسلم کی اس تعلیم پر کتنا عمل کرتے ہیں؟!

میرے دوستو! آج سمجھ دار آدمی وہ سمجھا جاتا ہے جو زیادہ سے زیادہ جھوٹ بولے، حالاں کہ وہ خود بھی تباہ ہو رہا ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں جن جن سے اس کا تعلق ہوتا ہے وہ بھی تباہ ہو رہے ہوتے ہیں۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی سچ بولتا ہے اور سچ بولتا رہتا ہے تو الله تعالیٰ کے اور جنت کے قریب ہوتا جاتا ہے اور جو آدمی جھوٹ بولتا ہے اور مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے وہ الله تعالیٰ سے دور اورجہنم سے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔

”إِنَّ الصِّدْقَ یَہْدِی إِلَی الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ یَہْدِی إِلَی الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْکَذِبَ یَہْدِی إِلَی الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ یَہْدِی إِلَی النَّارِ“(سنن الدارمی، باب فی الکذب، رقم الحدیث:2715)

ہمارے ہاں آج جو بہت بڑا مسئلہ ہے اور مسلمان کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی شریعت پر، آپ کی سنت اور آپ کے طریقے پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں، ہندؤوں کے طریقے پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے اور نہ صرف یہ کہ ہندؤوں کے طریقے پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے، بلکہ اس پر بہت بڑے بڑے خرچے کرتا ہے۔

آپ مسلمانوں کی شادیاں جاکر دیکھیں ،ان کی تقریبات جاکر دیکھیں، اس میں بہت بڑا حصہ، مہندی کی رسم ہے، جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، خالص ہندوانہ طریقہ ہے، کون ہندو؟ وہ ہندو جو مسلمان کو صرف اس وجہ سے کہ اس نے گائے کا گوشت کھایا ہے، ذبح کر رہے ہیں، ہندوستان کے حالات صبح شام آپ مجھ سے زیادہ خبروں میں پڑھتے ہیں۔

لیکن یہاں مسلمان… آپ جائیے جن کے گھروں میں شادیاں ہورہی ہیں، وہاں مہندی کی رسم ہوتی ہے اور لاکھوں لاکھ روپیہ اس پر خرچ ہوتا ہے، شامیانہ لگارہے ہیں ہرے رنگ کا ،میزوں کے اوپر میز پوش بچھا رہے ہیں ہرے رنگ کے، لڑکے، عورتیں لباس پہن رہے ہیں، ہرے رنگ کے۔ بھائی! ایسا کیوں ہے؟ آج مہندی ہے، یہ لاکھوں روپے کا خرچ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کے لیے ایک مسلمان کر رہا ہے ۔

علیکم بسنتی، آپ نے تو ارشاد فرمایا: میرے طریقے پر عمل کرو، لیکن مسلمان نہیں مانتا، اسی طرح سے اور بہت ساری چیزیں جو صبح شام ہمارے ماحول کے اندر ہیں، ابھی مارچ کا مہینہ ختم ہو رہا ہے اور اپریل کا مہینہ شروع ہو گا، تو یکم اپریل کو ہمارا مسلمان، لا إلہ إلا الله محمد رسول الله کہنے والا وہ اپریل فول منائے گا، اپریل فول کیا ہے؟

جھوٹ بولنا ، جو جتنا زیادہ، جتنا بڑا جھوٹ بولے گا وہ فخر کرے گا، میں نے اتنا بڑا جھوٹ بولا ہے!! یہ کس کا طریقہ ہے بھائی؟ یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جو محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دشمن ہیں، لیکن ایک مسلمان نہ صرف یہ کہ منار ہا ہے، بلکہ اس پہ فخر کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں کتنے بڑے بڑے حادثات پیش آتے ہیں۔

آپ نے صبح یکم اپریل کو فون کیا، بھائیآپ کہاں ہیں؟ میں فلاں جگہ ہوں، بھائی جلدی گھر پہنچیں، آپ کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ اس بے چارے نے وہاں سنا تو اس کا انتقال ہو گیا، ایسا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ ماں کی موت کی خبر، باپ کی موت کی خبر، بیوی کی موت کی خبر، بھائی کی موت کی خبربہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس کو برداشت نہیں کرپاتے اور آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دشمنوں کے طریقے پر اپریل فول منارہے ہیں، ان کا طریقہ اپنا رہے ہیں۔

میرے دوستو! یاد رکھیں، مسلمان کا یہ شیوہ نہیں ہے، محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے امتی کا یہ طریقہ نہیں ہے، مسلمان کو تو باحمیت ہونا چاہیے، باغیرت ہونا چاہیے، اسے تو ایک ایک چیز میں یہ تجزیہ کرنا چاہیے اور غور کرنا چاہیے کہ میں کیا کر رہا ہوں، یہ میرے حبیب صلی الله علیہ وسلم کا طریقہ ہے یا نہیں؟ مجھے اس پر عمل کرنا ہے یا نہیں ؟ اور آپ صلی الله علیہ وسلم کا حال کیا تھا؟ آپ پڑھیے، احادیث کی کتابیں پڑھیے، حیات الصحابہ پڑھیے، صحابہ کیا کہتے ہیں، فداہ أبی وأمی، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں اپنے آپ کو بھی آپ پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوں ، میں اپنے ماں باپ کو بھی آپ صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوں، ہم بھی اپنے جملوں میں اپنی باتوں میں یہ کہتے ہیں۔ لیکن ہمارا عمل کیا ہے؟ میرے دوستو! سر سے لے کر پیر تک، پیدائش سے لے کر موت تک، چاہے وہ کھانا ہو، پینا ہو، سونا ہو، چاہے وہ چلنا ہو، بیٹھنا ہو، ہر چیز۔

محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا یہ امتیاز ہے اور یہ امتیاز قیامت تک رہے گا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی ہر ہر ادا محفوظ ہے، آپ چلتے کیسے تھے؟ سب موجود ہے۔ آپ بیٹھتے کیسے تھے؟ سب موجود ہے۔ آپ لیٹتے کیسے تھے؟ سب موجود ہے، آپ کھاتے کیسے تھے؟ سب موجود ہے، آپ نے شادی کیسے کی؟ سب موجود ہے، آپ نے ولیمہ کیسے کیا؟ سب موجود ہے، آپ نے پیدائش اور موت کے موقع پر کیا کیا؟ سب موجود ہے۔ کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں، اور یہ قیامت تک محفوظ رہے گی، اگر کوئی کسی سے پوچھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کچھ طریقے بیان کرو، تو ہم نہیں بیان کرسکتے، حالاں کہ وہ سچے اور برحق نبی ہیں۔ ان کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں، وہ الله کے خلیل ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کوئی پوچھے ، ہم نہیں بیان کرسکتے، حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں پوچھے، ہم نہیں بیان کرسکتے، لیکن محمد رسول الله صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم، آپ کی ہر چیز محفوظ، قیامت تک محفوظ رہے گی، آپ کا چہرہ کیسا تھا؟ آپ کی آنکھیں کیسی تھیں؟ آپ کی بھنویں کیسی تھیں؟ آپ کی پلکیں کیسی تھیں؟ آپ کے رخسار کیسے تھے؟ آپ کے کندھے کیسے تھے؟ آپ کے بال کیسے تھے؟ ہر چیز۔

لیکن بات وہی ہے کہ ہماری دلچسپی کیا ہے؟ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ ہم کیا پسند کرتے ہیں ؟ہم زبان سے کیا بولتے ہیں اور ہمارے اندر کیا ہے؟ جہاں یہ امتحان مسلمان کے سامنے آجاتا ہے کوئی بچہ گھر میں نیکی کی طرف آجائے، دین دار بن جائے اور باپ سے یہ کہے کہ بہن کی شادی ہو رہی ہے، اس موقع پر محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے، ماں سے یہ کہے تو وہ کیا کہہ رہا ہے؟ وہ یہودیوں کے طریقے کو اختیار کرنے کی بات نہیں کر رہا، وہ عیسائیوں کا طریقہ اختیار کرنے کی بات نہیں کر رہا، وہ ہندؤں کا طریقہ اختیار کرنے کی بات نہیں کر رہا، وہ یہ کہہ رہا ہے کہ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بھی اپنی بیٹیوں کی شادیاں فرمائیں تو ہمیں بھی اپنی بہن کی شادی ویسے کرنی چاہیے تو مسلمان باپ کیا کہتا ہے، میں معاشرے کو کیا جواب دوں گا؟ میں خاندان کو کیا جواب دوں گا؟ میری ناک کٹ جائے گی، ماں کہتی ہے کہ ہم یہ نہیں کرسکتے۔ ایسا ہے یا نہیں؟ ایسا صبح وشام ہے یا نہیں؟ ایک مسلمان نوجوان ، الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا چاہتا ہے، داڑھی رکھنا چاہتا ہے، محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم والا لباس پہننا چاہتا ہے، اپنی ازار اور شلوار ٹخنے سے اونچی رکھنا چاہتا ہے، آپ بتائیے یہ ہندؤوں کا طریقہ ہے؟ نصرانیوں کا ہے؟ یہودیوں کا ہے؟ کس کا ہے؟ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ہے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کون ہیں؟ آپ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر، الله کے بعد اگر کسی کا مرتبہ اور مقام ہے تو وہ محمد رسول الله کا ہے لیکن آج گھر میں ایسے نوجوان کے لیے گنجائش نہیں ہے، باپ کہتا ہے کہ میاں ایسا مت کرو، ماں بھی منع کرتی ہے، بہنیں بھی منع کرتی ہیں، چچا بھی منع کرتا ہے، خالو بھی، سب منع کرتے ہیں اور اگر وہ یہودیوں کا طریقہ اختیار کرے ، نصرانیوں کا طریقہ اختیار کرے، ہندؤوں کا طریقہ اختیا رکرے تو سب خوش ، دیکھو! ہمارا بیٹا کیسا لگ رہا ہے؟! تھری پیس سوٹ پہن کر، ٹائی لگا کر، کیا بات ہے؟ سب خوش ہیں اور یہ کون لوگ ہیں خوش ہونے والے؟ یہ یہودی نہیں ہیں، نصرانی نہیں ہیں، یہ ہندو نہیں، یہ مسلمان ہیں ۔

میرے دوستو! یہ ترازو ہے، یہ میٹر ہے، میزان ہے، آپ اپنے آپ کو دیکھ لیں، الله تعالیٰ کیا فرمارہے ہیں؟ ﴿وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا﴾ ، صحابہ رضوا ن الله علیہم اجمعین نے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی سنتوں اور آپ کے طریقوں کو اختیار کرنے کے حوالے سے اس کی پروا نہیں کی کہ ہماری گردن اڑا دی جائے گی، لیکن محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے طریقے کو نہیں چھوڑیں گے، ہر حال میں اسے اختیار کریں گے، چناں چہ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے پاس ایٹمی طاقت نہیں تھی، ان کے پاس میزائل ٹیکنالوجی نہیں تھی، لیکن دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اور قوتیں جو کبر او رغرور میں مبتلا تھیں، سب ان کے پیروں کے نیچے آگئیں، یہ سچ ہے یا نہیں؟ کیا اس زمین وآسمان نے یہ دیکھا یا نہیں؟ یہ ایک دو دن کا قصہ نہیں، صدیوں کا قصہ ہے کہ مسلمان اور اسلام، پوری کے اوپر غالب رہے ہیں، لیکن وہ غلبہ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی اتباع پر ملا ہے، اس کے علاوہ اور کسی طریقے سے نہیں اور آج بھی اگر ہم کام یاب ہوں گے باعتبار فرد کے بھی او رباعتبار مجتمع کے بھی، انفرادی کام یابی بھی اور اجتماعی کام یابی بھی اگر ملے گی وہ اسی بنیاد پر ملے گی۔

آدمی اس معاملے میں بالکل واضح ہو کہ میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا غلام ہوں، آپ صلی الله علیہ وسلم کا امتی ہوں، میرا ایمان، میرا دین، میری ایمانی اور دینی غیرت اس کو گوارا نہیں کرتی کہ میں کسی غیر کا طریقہ اختیار کروں، آپ صلی الله علیہ وسلم کے طریقے ہی میں کام یابی ہے اور آپ کے علاوہ جتنے طریقے ہیں، ان سب میں ناکامی ہے، آج مسلمان جوناکام ہو رہا ہے اسی لیے ہو رہا ہے کہ اس نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے طریقوں کو چھوڑ کر غیروں کے طریقے اختیار کیے ہوئے ہیں۔ الله رب العزت ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.