جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

روحانی بیماریوں کا علاج

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالیٰ ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلاھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد فأعوذ بالله من الشیٰطن الرجیم بسم الله الرحمٰن الرحیم ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَکَّیٰ ،وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّیٰ ،بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا، وَالْآخِرَةُ خَیْرٌ وَأَبْقَیٰ ، إِنَّ ہَٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْأُولَیٰ ، صُحُفِ إِبْرَاہِیمَ وَمُوسَیٰ﴾․(سورة الاعلیٰ، آیت:19-14)

صدق الله مولٰنا العظیم، وصدق رسولہ النبی الکریم․

میرے محترم بھائیو، بزرگو اور دوستو! الله جل جلالہ کا ارشاد ہے:﴿قذْأَفْلَحَ مَن تَزَکَّیٰ ،وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّیٰ ،بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا، وَالْآخِرَةُ خَیْرٌ وَأَبْقَیٰ ، إِنَّ ہَٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْأُولَیٰ ، صُحُفِ إِبْرَاہِیمَ وَمُوسَیٰ﴾

یہاں کئی باتیں الله رب العزت ذکر فرمارہے ہیں، پہلی بات ہے تزکیہ، دوسری بات ہے الله کا ذکر ، تیسری بات ہے بندگی و عبادت اور چوتھی بات ہے دنیا اور آخرت۔ تزکیہ اگر یہ کہا جائے کہ سب سے زیادہ اہم چیز ہے اور سب سے زیادہ غفلت بھی اسی میں ہے۔

آدمی دو چیزوں کا مرکب ہے، ایک اس کا جسم ہے، جسے آپ اور میں دیکھ رہے ہیں، آپ کا جسم مجھے نظر آرہا ہے ، میرا جسم آپ کو نظر آرہا ہے، لیکن ہم سب جانتے ہیں اور نہ صرف یہ کہ جانتے ہیں، بلکہ اس کا صبح شام مشاہدہ کرتے ہیں کہ جسم باقی نہیں رہے گا، جو چاہوکشتہ استعمال کر لو، جو چاہو خمیرہ استعمال کرلو، جو چاہو دنیا جہاں کی دوائیں استعمال کر لو، جیسا چاہو طبیب اور ڈاکٹر اپنے لیے مقرر کر لو، مگر یہ طے ہے تمام ادیان اور مذاہب میں کہ یہ جسم باقی نہیں رہے گا، اسے ختم ہو جانا ہے اور اس کا ختم ہونا بھی بڑا سبق آموز اور عبرت انگیز ہے، بڑی عجیب بات ہے، الله اکبر! سرور کائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو جو مقام اورمرتبہ الله تعالیٰ نے عطا فرمایا، اس کائنات میں کسی انسان کو عطا نہیں فرمایا، آج بھی آپ صلی الله علیہ وسلم کے تذکرے سے ہماری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں، محبت ہے آخری درجے کی، کیسی محبت ہے، فداہ اَبی واُمی، میرے ماں باپ بھی آپ پر قربان ہوں، ایسی محبت ہے۔

لیکن عجیب بات ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا بھی وصال ہوایا نہیں ہوا؟ حضرت فاطمة الزھراء رضی الله تعالیٰ عنہا نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے وصال پر آپ کی تدفین کے بعد۔

حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے ایک عجیب جملہ کہا کہ اے انس! کیا تمہیں الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم پر مٹی ڈالتے ہوئے اچھا لگ رہا تھا؟”عن فاطمہ رضی الله عنہا لما دفن رسول الله صلی الله علیہ وسلم قالت لأنس یاأنس کیف طابت نفوسکم أن تحثو علی رسول الله صلی الله علیہ وسلم التراب؟!“(السیرة الحلبیہ :3/493)

تو ہماشما کیا ہیں بھائی؟ ہم اور آپ کیا ہیں؟ہمیں اس گڑھے میں جانا ہے یا نہیں جانا؟ جانا ہے، ہمیں اس قبر میں جانا ہے، یہ جسم فنا ہو جائے گا۔ آدمی دو چیزوں کا مرکب ہے، ایک اس کا جسم اور دوسری چیز روح ہے، جسم ختم ہوجائے گا، آج ساری دنیا، چھوٹا بڑا، مرد، عورت، جوان ، بوڑھا ،سب کو جسم کا پتہ ہے، اس کی بیماریوں کا پتہ ہے، اس کی صحت کا پتہ ہے، ساری بیماریوں کے نام معلوم ہیں، یہنمونیا ہے، یہ ملیریا ہے، یہ ٹائیفائیڈ ہے، یہ ڈینگی ہے، یہ چکن گونیا ہے، یہ دل کی بیماری ہے ،یہ گردے کی بیماری ہے، یہ سر کی بیماری ہے یہ پیٹ کی بیماری ہے، یہ جلد کی بیماری ہے، سب پتہ ہے سب کو پتہ ہے اور بہت سے لوگ تو جومبتلا ہوتے ہیں انہیں علاج کا بھی پتہ ہوتا ہے، چھوٹے چھوٹے بچے ،بابا تھکے ہارے شام کو گھر آئے اور کہا ! آج میرے سر میں بڑا درد ہے، صبح شام ہمارے ساتھ یہ معاملات ہوتے ہیں، گھر میں داخل ہو کے کہا سر پکڑ کر آج سر میں بڑا درد ہے، سر کادرد جسم کی بیماری ہے، تو آپ کا چھوٹا سا بچہ ، چھوٹی سی بچی معصوم ، وہ بھاگ کے آتی ہے، کہتی ہے بابا! میں ابھی پینا ڈول لاتی ہوں، وہ کیا کہتی ہے؟ میں پینا ڈول لاتی ہوں۔ اس بچی کو بھی پتہ ہے، اس بچے کو بھی پتہ ہے کہ سر کے درد میں کیا کھاتے ہیں، کوئی کہتا ہے گرم گرم چائے لاتا ہوں، چائے پئیں ،سر کا درد ٹھیک ہو جائے گا۔ ایسا ہے یا نہیں؟ تو جو فنا ہو نے والا جسم ہے اس جسم کی بیماریوں کا ہمیں خوب پتہ ہے، اس کے علاج کا پتہ ہے لیکن عجیب بات ہے کہیہ جسم ،یہمیں یہ آپ ،یہ ہم، اس جسم کی بنیاد پر نہیں بیٹھے ہوئے ، ایک اور چیز ہے جس پر یہ جسم سواری کر رہاہے اور وہ نہ ہو تو جسم بے کار ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ چیز جو اس کا جوہر ہے، جو اس کی اصل ہے، جس کو بقا ہے، جس کو فنا نہیں ہے، وہ روح ہے، و ہ کیا ہے؟ روح، اور ہم سب اس سے غافل ہیں، ہمیں جسم کا بھی پتہ ہے صحت کا بھی پتہ ہے، بیماریوں کا بھی پتہ ہے، علاج کا بھی پتہ ہے، انتظامات بھی ہیں اعلیٰ درجے کے، ڈاکٹر ہیں، ہسپتال ہیں، مشینیں ہیں، لیبارٹریاں ہیں، ٹیسٹ ہیں، سب کس کے ہیں؟ جسم کے۔ روح کے نہیں، روح کی کوئی فکر نہیں بلکہ فکر تو بہت بعد کی چیز ہوتی ہے ،اس کا تو علم ہی نہیں، جب علم ہی نہیں تو فکر کس بات کی؟ اس کی کوئی فکر نہیں ہے، اس کا کوئی علم نہیں ہے، اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، جب کہ اصل وہی ہے، روح کی بیماریاں ہیں، روح کی صحت اور اس کا مرض ہے اور وہ اتنا خوف ناک ہے کہ اگر وہ بیماریاں لگ جائیں اور ان کا علاج نہ ہو تو آدمی اندر ہی اندر ختم ہوتا رہتا ہے، مثلا ہمیں علم نہیں کہ ریا، دکھاوا، یہ جسمانی بیماری نہیں ہے، یہ روحانی بیماری ہے، ہم مسجد میں بیٹھے ہیں، پہلی صف میں بیٹھے ہیں، اندر ہی اندر یہ جذبہ چل رہا ہے کہ لوگ کہیں کہ یہ صاحب جمعے میں پہلی صف میں آکے بیٹھے ہیں، لمبی نماز پڑھ رہے ہیں،لمبی دعا ئیں کررہے ہیں، لمبے سجدے کر رہے ہیں، تلاوت کر رہے ہیں ۔ لوگ مجھے یہ کرتا ہوا دیکھیں او ر کہیں کہ یہ بڑے زبردست نمازی ہیں۔

لوگ حج پر جاتے ہیں، ابھی گئے نہیں، اگر کوئی کہے کہ بھائی صدیق صاحب! کیا حال ہے؟ تو کہتے ہیں کہ نہیں، حاجی صدیق صاحب، کہیں؟ ابھی تک گئے نہیں ہیں اورجناب وہاں سے تصویریں بنابنا کے بھیج رہے ہیں اوراگر کوئی استقبال کے لیے نہیں آیا، توشکایت کہ انہوں نے میرا استقبال ہی نہیں کیا، پھر جناب گاؤں دیہات میں تو ہم نے یہ بھی دیکھا کہ دور تک لائٹیں لگی ہوئی ہیں، جھنڈیاں لگی ہوئی ہیں، بھائی کیا قصہ ہے؟ جی ہمارے حاجی صاحب آئے ہیں، حج مبارک، حج مبارک،جگہ جگہ دیواروں پہ، بینروں پہ، یہ سب کیا ہے؟ ریا ہے، دکھاوا ہے، یہ جسمانی بیماری نہیں ہے، یہ روحانی بیماری ہے اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کو شرک خفی سے تعبیر فرمایا، کیوں؟ اس لیے کہ حج تو الله کے لیے ہوتا ہے، اب اگر یہ دنیاکودکھانے کے لیے کر رہا ہے تو پھر الله کے ساتھ اس نے مخلوق کو شریک کر دیا اور ﴿إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ﴾ شرک بہت بڑا ظلم ہے ۔ اسی طرحسمعہ ہے، یہ روحانی بیمار ی ہے جسمانی بیماری نہیں ہے کہ آپ ڈاکٹر سے کہیں کہ مجھے سمعہ ہو گیا ہے، وہ کہے گا یہ کیا ہوتا اس بے چارے کو سمعہ کا نہیں پتہ، اسے تو ملیریا، نمونیا معلوم ہے ، سمعہ کیا ہے؟ سمعہ یہ ہے کہ میں آپ کے سامنے دین کی باتیں کر رہا ہوں اور میرے اندر یہ جذبہ پیدا ہو رہا ہے کہ نماز کے بعد لوگ مجھے کہیں کہ جناب! آج آپ نے بڑی زبردست بات کی، میں لوگوں سے یہ سننا چاہتا ہوں،میرے اندر یہ جذبہ پیدا ہورہا ہے کہ آج آپ نے جو تقریر کی بڑی زبردست کی، ایسی تو ہم نے سنی ہی نہیں تھی، یہ میرے اندر جذبہ پیدا ہو رہا ہے، یہ بھی روحانی بیماری ہے اور خوف ناک بیماری ہے، ساری بات پر پانی پھر جاتا ہے، کوئی اثر اس بات کا نہیں ہوتا، کوئی فائدہ اس بات کا نہیں ہوتا، الله تعالیٰ سخت ناراض ہوتے ہیں، بات تو کی جائے الله کی رضا کے لیے، کوئی بھی کام دین کا اگر آدمی اس جذبے سے کر رہا ہے کہ میں لوگوں سے سنوں کہ آپ نے سبق ایسا پڑھایا، آپ نے تقریر ایسی کی، آپ نے نماز ایسی پڑھائی، آپ نے فلاں ایسا کیا، یہ میرے اندر جذبہ پیدا ہو رہا ہے کہ میں لوگوں سے اس کو سنوں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے الله تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے کہ جلسہ عام ہے ،سیرت النبی کا جلسہ ہے ، خلافتِ راشدہ کا جلسہ ہے اور اگر تقریر کے بعد مقرر صاحب کی، خطیب صاحب کی کوئی تعریف نہیں ہوتی تو سخت ناراض ہوتے ہیں، کسی نے کچھ کہا ہی نہیں! چاہتے ہیں کہ لوگوں سے سنیں، لوگ کہیں کہ صاحب! شعر آپ نے ایسا پڑھا، تلاوت آپ نے ایسی کی، انداز بیان آپ کا ایسا تھا،ایک زمانے سے ہم تقریریں سن رہے ہیں، ایسی تقریر ہم نے آج پہلی مرتبہ سنی، یہ سمعہ ہے۔

ایسے ہی کبر ہے، الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں، الله تعالیٰ نے فرمایا: یعنی حدیث قدسی ہے، الله تعالیٰ کیا فرماتے ہیں؟ فرماتے ہیں: کبر میری چادرہے، الکبر ردائی کبر میری چادر ہے۔ سوائے الله کے اور کسی کے لیے نہیں ہے بڑائی، عظمت صرف الله کے لیے ہے، الله اکبر الله اکبر، الله اکبر ،نماز میں کتنی دفعہ کہتے ہیں ، بار بار کہتے ہیں الله بہت بڑے ہیں الله سب سے بڑے ہیں الله سے بڑا اور کوئی نہیں ہے اور جو آدمی کبر کر رہا ہے، الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ میری چادر کو پھاڑ رہا ہے او ربھائی جو آدمی الله کی چادر کو پھاڑے گا الله تعالیٰ اس سے ناراض ہوں گے یا راضی ہوں گے؟ آپ نے سنا ہے کہ شیطان جس کو قرآن میں بھی شیطان کہا گیا ہے، احادیث میں بھی اس کا ذکر شیطان سے ہے، ہم لوگ بھی اسے شیطان کہتے ہیں اس کا نام عزازیل تھا،جیسے جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل اس کا نام عزازیل تھا اور یہ معلم الملائکہ یعنی فرشتوں کا استاد تھا، بڑا علم الله نے اس کو دیا تھا۔ (وکان اسمہ بالسریانیہ عزازیل… وکان من خزان الجنة وکان رئیس ملائکة السماء، وکان لہ سلطانھا وسلطان الأرض، وکان من أشد الملائکة اجتھاداً واکثرہم علماً․ (الجامع لأحکام القرآن، سورة البقرة: 34، 1/295)
        تکبر عزازیل را خوار کرد
تکبر نے عزازیل کو ذلیل اور رسوا کر دیا اسے راندہ درگاہ کر دیا، اسے مردود کر دیا، اسے شیطان لعین کہا جانے لگا، کس وجہ سے ہوا؟ کبر کی وجہ سے اور میر دوستو! یہ کبر ایسی خوف ناک بیماری ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے، بڑی بڑی عجیب عجیب چیزیں ہیں، دین اسلام عاجزی سکھاتا ہے، دین اسلام تواضع سکھاتا ہے، دین اسلام سادگی سکھاتا ہے اور جتنے غیروں کے طریقے ہیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ ہمارے اندر آرہے ہیں، ایسا لباس ہو، ایسا فلاں ہو، ایک لمبا قصہ ہے او رجتنے ماتحت ہیں، جتنے نیچے کے لوگ ہیں یا اپنے علاوہ ہیں، ان کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ نہایت ذلت آمیز ہوتا ہے، بڑی عجیب بات ہے ۔سر کا ردو عالم صلی الله علیہ وسلم کو الله تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے، آپ کی نبوت اور رسالت تا قیامت ہے ، آپ خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ چناں چہ جب آپ اس دنیا سے پردہ فرمارہے ہیں، اس دنیا سے تشریف لے جارہے ہیں تو اس وقت اگر کوئی بات آپ فرمائیں گے، تو وہ بہت اہم ہو گی، آخری بات قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے، آپ کا آخری پیغام کتنا اہم ہو گا، وہ پیغام معلوم ہے کیا ہے؟ وہ پیغام ہے:﴿الصَّلاَةَ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ﴾ نماز نماز، نماز اوراپنے ماتحتوں کے ساتھ حسن سلوک۔ آخری پیغام ، نماز کو مضبوطی سے تھامے رکھو، نماز میں کوتاہی مت کرو۔ الصلوٰة وما ملکت ایمانکم ․(سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی ذکر مرض رسول الله صلی الله علیہ وسلم، رقم:1625)او رجو تمہارے غلام، نوکر، خادم، ماتحت، تم سے نیچے کے لوگ ہیں ان کے ساھ حسن سلوک کرو ،کبر اس کی اجازت نہیں دیتا، غرور اور تکبر اس کی اجازت نہیں دیتا۔

میں عرض کر رہا ہوں کہ یہ کبر بھی خوف ناک، خطرناک روحانی بیماری ہے، چناں چہ اس وقت جو شدید ضرورت ہے، کم از کم ہم روح کو سمجھیں، روح کی صحت اور بیماری کو سمجھیں، اس لیے کہ روح ختم نہیں ہو گی، جسم تو ختم ہو جائے گا،جس کی ہم اتنی فکر کر رہے ہیں،اتنی خدمت کر رہے ہیں، اتنا علاج کر رہے ہیں، وہ ختم ہو جائے گا، وہ باقی نہیں رہے گا، روح باقی رہے گی، وہ ختم نہیں ہو گی۔

چناں چہ اس روح کو سمجھنا، کہ روح کیا ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم سے صحابہ نے پوچھا﴿وَیَسْأَلُونَکَ عَنِ الرُّوحِ﴾ قرآن میں ذکر ہے کہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں ﴿ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ ﴾

آپ مجھے بتائیے کیا الله کو فنا ہے؟ تو الله کے امر کو فنا کیسے ہو سکتی ہے قل الروح من امر ربی یہ جو میں بات کررہا ہوں یہ جو میں آپ کو دیکھ رہا ہوں، آپ جومیری بات سن رہے ہیں ، یہ جو آپ مجھے دیکھ رہے ہیں، اس میں سارا کا سارا کردار اس امر ربی کا ہے، وہ امر ربی نکل گیا قصہ ختم، پھر یہ آنکھیں دیکھیں گی؟ پھر یہ کان سنیں گے؟ پھر آپ اٹھ بیٹھ سکیں گے؟ پھر آپ چل پھر سکیں گے؟ ختم، امر ربی نکل گیا ،اس امر ربی، اس روح کی فکر کریں، اس کی بیماریاں ہیں ان سے بچنے کی کوشش کریں، اپنے آپ کو ریاء سے دکھاوے سے بچائیں، خالص الله کے لیے، شیطان آئے گا ، وسوسے ڈالے گا، لیکن فوراً رد کر دیں، صرف الله کے لیے کام کر رہا ہوں، میں صرف الله کے لیے نماز پڑھ رہا ہوں، میں صرف الله کے لیے حج کر رہا ہوں، میں صرف الله کے لیے زکوٰة دے رہا ہوں میں صرف الله کے لیے حسن سلوک کر رہا ہوں، میں صدقہ خیرات الله کے لیے کر رہا ہوں، میں کسی کے ساتھ معاملہ کر رہا ہوں الله کے لیے کر رہا ہوں۔ بار بار ایسے ہی سمعہ ،بدنظری ۔ جھوٹ اور غیبت ہے، یہ جسمانی بیماریاں نہیں، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے پاس ان کا علاج نہیں ہے، کوئی لیبارٹری ایسی نہیں ہے جہاں جاکر آپ ان امراض کو چیک کروا سکیں، یہ سب روح کی بیماریاں ہیں او ران روحانی بیماریوں کی وجہ سے آدمی پست سے پست تر ہو تا چلا جاتا ہے، صبح شام کا معاملہ ہے، ہم بھی اس محلے میں رہتے ہیں آپ بتائیے کتنے ہمارے مسلمان بھائی ایسے ہیں جو روحانی بیماری کی وجہ سے بے حس ہو گئے، ان سے حس ختم ہو گئی ہے کہ آج جمعے کا دن ہے، سید الایام ہے، جمعہ کے دن کو آپ صلی الله علیہ وسلم نے سارے دنوں کا سردار کہا ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم جمعے کے دن کے لیے اہتمام فرماتے تھے، غسل فرماتے تھے، نئے اچھے کپڑے پہنتے تھے، خوش بو لگاتے تھے، جیسے عید، بقرہ عید کے لیے آدمی تیاری کرتاہے، ایسی تیاری کرتے تھے اور جمعے کی نماز کے لیے آتے تھے، آج میرے دوستو! کتنے لوگ ہیں جمعے کا کوئی اہتمام نہیں ۔میں تو کہا کرتا ہوں مسجد کی دکانوں میں دکان ہے، کتنی مساجد ایسی ہیں جن میں دکانیں ہیں، پانچ وقت اذان ہوتی ہے۔ جو وقت دکانوں کا ہے، اس میں ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء میں اذان ہو رہی ہے ،دکانیں کھلی ہوئی ہیں، لوگ آرہے ہیں ،نماز کے لیے مسجد میں جارہے ہیں کتنے دکان داروں کو دیکھیں گے کہ وہ مسلمان ہیں کافر نہیں ہیں ، لیکن وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ اندر روح اتنی لاغر ہو گئی ،اتنی کم زور ہو گئی کہ وہ الله اکبر الله اکبر کی صدا جب مؤذن لگاتا ہے تو اسے پتہ نہیں چلتا، وہ کہہ رہا ہے حی علی الصلوٰة، حی علی الفلاح آؤ نماز کی طرف آؤ، کام یابی کی طرف ۔پتہ ہے کیوں وہ اس صرف نہیں آتے؟ اس لیے نہیں کہ ان کا جسم کم زور ہے، نہیں،جسم تو بڑا طاقت ور ہے، اندر جو روح کی قوت اور صحت ہے وہ متاثر ہے حدیث میں آتا ہے آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”آدمی ایک گناہ کرتا ہے، اس کے قلب پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتاہے ، دوسرا گناہ کرتا ہے دوسرا نکتہ لگ جاتا ہے، تیسرا گناہ کرتا ہے تیسرا لگ جاتا ہے، چوتھا کرتا ہے چوتھا لگ جاتا ہے، یہاں تک کہ گناہوں کی کثرت سے اس کا دل سیاہ کالا ہو جاتا ہے ۔اب باوجود اس کے کہ مسجد کی دکانوں میں ہے، الله اکبر الله ا کبر کی صدا لگ رہی ہے روح کمزور ہوگئی، حس باقی نہیں رہی اور میرے دوستو! یاد رکھنا یہ گناہوں اور توبہ کا قصہ ایسا ہے کہ الله رب العزت تو بہانے ڈھونڈتے ہیں کہ میرا بندہ میری طرف آئے او راپنے گناہوں کو مجھ سے معاف کروالے، ایسا نہیں ہے کہ اگر کوئی آدمی گناہ گار ہو گیا ہے تو کوئی راستہ ہی نہیں ہے ،نہیں ایک آنسو ندامت کا اگر اس کی آنکھوں سے نکل گیا اورا س نے الله تعالیٰ کی طرف رجوع اور انابت اختیا رکر لی او راس نے کہہ دیا اے الله! میں توبہ کرتا ہوں، اے الله! میں توبہ کرتا ہوں، ختم، سب کچھ ختم، ساری سیاہی ختم، سارا کالا پن ختم،اور وہ اسی طرح سے چمک دار ہو جائے گا، وہ اسی طرح سے طاقت ور ہو جائے گا ،یہ صرف الله تعالیٰ کے ہاں ہے دنیا میں اورکہیں نہیں ہے، ہم بہ ظاہر یہ سمجھتے ہیں کہ ماں باپ محبت کرتے ہیں، بہن بھائی بڑی محبت کرتے ہیں،خالہ، خالو بڑی محبت کرتے ہیں، ممانی اور ماموں بڑی محبت کرتے ہیں، پھوپھا، پھوپھی بڑی محبت کرتے ہیں، لیکن صبح شام کے مسائل ہیں، ہمارے قبیلے کا سردار بڑی محبت کرتا ہے، ہم اس کے علاقے میں رہتے ہیں، اس کو سردار مانتے ہیں، لیکن صبح شام کیا ایسا نہیں ہوتا کہ باپ ناراض ہو گیا؟ آپ ہاتھ جوڑ رہے ہیں، مجھ سے غلطی ہو گئی، مجھے معاف کر دیں، وہ کیا کہتے ہیں؟ دفع ہو جاؤ، میں تمہاری شکل دیکھنا نہیں چاہتا ۔بڑا بھائی ہے، ناراض ہو گیا، آپ ہاتھ جوڑتے ہیں، اس سے زیادہ کیا کر سکتا ہے آدمی؟ ہاتھ جوڑتے ہیں، لیکن وہ کہتا ہے دفع ہو جاؤ، لوگ جرگے لیے کر جاتے ہیں، بھائی کے پاس، عزیزوں کے پاس سردار کے پاس، معزز لوگوں کو لے کے جاتے ہیں کہ ہم سب اس کی سفارش کرتے ہیں آپ معاف کر دیں وہ کیا کہتا ہے؟ دفع ہو جاؤ، میرے ڈیرے سے نکل جاؤ۔ ایسا ہے یا نہیں؟ صبح شام کے واقعات ہیں، لیکن میرے دوستو! اس پوری کائنات کا اکیلا مالک، ساری عظمتیں اس کے لیے ہیں، ساری بڑائی اس کے لیے ہے، اس کے سامنے اگر آپ صرف اتنا کہہ دیں کہ اے الله! میں آپ سے معافی مانگتا ہوں، اے الله! میں توبہ کرتا ہوں ۔سارے گناہ معاف۔

میرے دوستو! الله تعالیٰ ہمیں اپنی روح کے تزکیے کی توفیق عطا فرمائے۔ الله تعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ، وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ﴾․



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.