جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

مبصر کے قلم سے

ادارہ

تبصرہ کے لیے کتاب کے دو نسخے ارسال کرنا ضروری ہے۔ صرف ایک کتاب کی ترسیل پر ادارہ تبصرے سے قاصر ہے۔ تبصرے کے لیے کتابیں صرف مدیر الفاروق یا ناظم شعبہ الفاروق کو بھیجی جائیں (ادارہ)

درس ابی داود
افادات: حضرت مولانا شمس الحق صاحب 
صفحات:617 سائز:20x30=8
ناشر: شمسی کتب خانہ کراچی

زیر نظر کتاب دارالعلوم کراچی کے سابق استاذ الحدیث وناظم تعلیمات حضرت مولانا شمس الحق صاحب رحمة الله علیہ کے سنن ابی داود کے دروس کا مجموعہ ہے،جسے تحقیق ومراجعت کے بعد شائع کیا گیا ہے۔ اس کی اشاعت کا اہتمام مولانا طلحہ شمسی نے کیا ہے اور پیش لفظ میں کتاب کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:

”درس ابی داود“ حضرت والد صاحب  کے ان اسباق کا مجموعہ ہے، جو دورانِ درس طلباء نے ضبط کیا۔ اس درس ابی داود کا بڑا حصہ ڈاکٹر مفتی خلیل احمد اعظمی حفظہ الله اور بعض دیگر حضرات کا ضبط شدہ ہے۔

احقرنے حضرت والا کے ان دروس کے مجموعے کو مراجعت اور تحقیق کے لیے اپنے بردار عزیز ”مولانا وحید الزمان متخصص فی علوم الحدیث جامعة الاسلامیہ بنوری ٹاؤن“ کے سپر دکیا۔ ماشاء الله انہوں نے بہت محنت ، لگن ، شوق اور عمدگی سے اس تقریر پرتحقیقی کام کیا۔

خاص طور پر پورے درس کا بذل المجہود اور دوسری شروحات سے تقابل انتہائی دقتِ نظر سے کیا اور فقہاء کرام کے مذاہب اور مسائل وواقعات وغیرہ کی تخریج کے ساتھ ساتھ عبارات کی تقدیم وتاخیر کی تصحیح، کتب احادیث اور شروحات سے ذمہ دارانہ طرز پر نقل فرمائی اور خصوصاً فقہاء کے مذاہب کے بیان میں بدایة المجتہد، شرح المسلم للامام النووی، فتح الباری، مرقاة المفاتیح، بذل المجہود او رمعارف السنن وغیرہ پر اعتماد کیا۔ اور متن ِ تقریر میں کہیں فرق یا تضادنظر آیا تو حاشیے میں اس کی وضاحت بھی کر دی۔ نیز آخر میں مراجع ومصادر کی فہرست دے کر کام کو مکمل فرمایا“۔

یہ مجموعہ ایک جلد پر مشتمل ہے اور اس میں پوری سنن ابی دواد کے چیدہ چیدہ اور اہم مقامات وابواب کی وضاحت وتشریح مختصر انداز میں کر دی گئی ہے۔ ابتدا میں مقدمة العلم میں حدیث کی لغوی واصطلاحی تعریف، مقام ومرتبہ اور آداب بیان کیے گئے ہیں، نیز امام ابوداود اور سنن ابی داودکا تعارف بھی مختصر وجامع انداز میں کرا دیا گیا، جب کہ بالکل آغاز میں صاحب افادات حضرت مولانا شمس الحق صاحب رحمة الله علیہ کے حالات زندگی بھی شامل کیے گئے ہیں، جس میں ان کی ولادت، تعلیم وتربیت ، اساتذہ وشیوخ اور دینی خدمات کا مختصر تذکرہ شامل کیا گیا ہے۔ البتہ اساتذہ کی فہرست میں شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم الله خان صاحب نوّرالله مرقدہ کا ذکر موجود نہیں ہے، حالاں کہ حضرت شیخ الحدیث رحمة الله علیہ بھی حضرت مولانا شمس الحق صاحب  کے استاذ تھے اور ان حضرات کا آپس میں گہرا ربط وتعلق بھی تھا، چناں چہ حضرت نوّرالله مرقدہ نے اپنی آپ بیتی میں کئی جگہ حضرت مولانا شمس الحق صاحب کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں:

”مولوی شمس الحق صاحب رحمہ الله جو دارالعلوم کراچی کے حدیث، تفسیر اور فنون کے استاد تھے، جلال آباد کے رہنے والے تھے، انہوں نے ”شرح وقایہ“، ”قطبی“، ”نورالانوار“ اور ”مختصر المعانی“ وغیرہ تک تعلیم مفتاح العلوم جلال آباد ہی میں حاصل کی اور کتابیں تو یاد نہیں ہیں ، کون کون سی انہوں نے مجھ سے پڑھیں، البتہ ”مختصر المعانی“ یاد ہے کہ وہ مجھ سے پڑھی تھی، ان کے ایک بھائی فوج میں ملازم تھے ، تو جیسے اور فوجی اپنے رشتے داروں کو پاکستان منتقل کر رہے تھے، ان کے بھائی نے بھی ان لوگوں کو پاکستان منتقل کیا، مولوی شمس الحق صاحب کے والد مولوی عبدالواحد صاحب بھی مفتاح العلوم میں اردو، فارسی اور حساب وغیرہ کو عرصے تک پڑھاتے رہے ہیں، جب یہ لوگ پاکستان منتقل ہوئے تو انہوں نے لکڑی کے بڑے بڑے بکسے مدرسے کو دیے، جن میں حدیث، تفسیر وغیرہ کی بہت سی کتابوں کے قلمی نسخے موجود تھے۔ جو مولوی شمس الحق صاحب کے دادایا پردادا کے قلم سے لکھے ہوئے تھے۔ ان قلمی نسخوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کہ کیسا عجیب علمی ذوق تھا کہ ہزار ہا صفحات کو اپنے قلم سے تحریر کیا۔ یہ قلمی نسخے اس بات کی واضح علامت تھے کہ یہ خاندان علمی خاندان ہے ، مولوی شمس الحق صاحب پاکستان آئے، راولپنڈی میں ان لوگوں کا قیام ہوا ، ایک سال یہ وہیں پڑھتے رہے ، اس کے بعد جامعہ اشرفیہ لاہور آگئے اور وہیں انہوں نے تکمیل کی“۔

ریکارڈ کی صحت کے لیے یہ وضاحت کر دی گئی ہے۔

کتاب کی طباعت واشاعت خوب صورت ومعیاری ہے۔

نماز اور اس کے ضروری مسائل
تالیف: مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی
صفحات:368 سائز:23x36=16
ناشر: ادارہ اشاعت الاسلام مانچسٹر، برطانیہ

زیر نظر کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حصہ اوّل میں نماز کی عظمت ، اہمیت وافادیت اور فوائد وثمرات پر گفت گو کی گئی ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ نماز جیسی عظیم الشان اور انتہائی اہمیت کی حامل عبادت اور فریضے کی ادائیگی میں اہتمام اور احساس ذمہ داری سے کام لیں اور وہ اس کو ٹھیک سنت کے مطابق ادا کرنے کی کوشش کریں۔ جب کہ کتاب کے دوسرے حصے میں نماز کے ان مسائل کو مدلل ومبرہن اسلوب میں بیان کر دیا گیا ہے جنہیں برصغیر پاک وہند کے نادان غیر مقلدین نے حق وباطل کا معرکہ بنالیا ہے اور اس کے ذریعے وہ امت میں افتراق وانتشار کا بیج بوتے ہیں اور عوام الناس کو دین سے دورکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ کتاب نماز کے موضوع پر ایک اچھی اصلاحی کاوش ہے اور اس جیسی کتابوں کے معاشرے کی صلاح وفلاح پر نیک اور اچھے اثرات وثمرات مرتب ہوں گے۔مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی کی دیگر تالیفات کی طرح زیر نظر تالیف میں بھی علامات ترقیم کا خیال نہیں رکھا گیا، جب کہ اہل اعلم کے ہاں اس کی اہمیت وافادیت مسلم ہے۔

کتاب کا کا غذاعلیٰ، ٹائٹل خوب صورت اور طباعت معیاری ہے۔

امام اعظم ابوحنیفہ رحمةالله علیہ
تالیف: مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی
صفحات: جلد اوّل:600،جلد دوم:560،سائز:23x36=16
ناشر: ادارہ اشاعت الاسلام، مانچسٹر، برطانیہ

برصغیر پاک وہند کے عام غیر مقلدین نے روافض کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سلف صالحین کے خلاف ہرزہ سرائی کو اپنا شوہ بنایا ہوا ہے او ران کی تنقید کا زیادہ تر ہدف امام اعظم ابوحنیفہ رحمة الله علیہ کی ذات بابرکات ہوتی ہے اور اس میں بھی وہ آداب تو کجا دینی حدود وقیود سے بھی آزاد ہو جاتے ہیں۔ مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی نے زیر نظر کتاب امام اعظم ابوحنیفہ رحمة الله علیہ کی حیات وسوانح اور فضائل ومناقب کے سلسلے میں تالیف کی ہے اور اس میں اس عظیم ہستی پر کیے جانے والے بے بنیاد وبے جاا عتراضات کا تسلی بخش جواب بھی دیا ہے اور جلد اول کے مقدمہ میں بعض غیر مقلدین کی ہر زہ سرائیوں کے کئی نمونے بھی پیش کیے ہیں۔

یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے، جلد اول کے بڑے عنوانات مقدمہ، حضرت احمد بن حجر ہیتمی مکی کا تعارف، انعام المنان فی مناقب النعمان، امام الأئمہ امام اعظم ابوحنیفہ،امام اعظم ابوحنیفہ کے اساتذہ کرام، امام اعظم ابوحنیفہ کے چند اساتذہ کا تعارف ،امام اعظم کے محبوب ترین شیخ، امام اعظم ابوحنیفہ کی شرعی علوم میں مہارت ، امام اعظم کی عربیت پر اعتراض کا جواب، امام اعظم کے چند مشہور تلامذہ کا تعارف، تدوین فقہ اور اس کا طریقہ کار، اولیات امام اعظم ابوحنیفہ، فقہ حنفی کی عالمی مقبولیت اور اس کے اسباب، امام اعظم ابوحنیفہ کے شمائل وخصائل، امام اعظم ابوحنیفہ کا سانحہ ارتحال، امام اعظم ابوحنیفہ کی اولاد ہیں، جب کہ جلد دوم کے بڑے عنوانات پیش لفظ، امام ابوحنیفہ قرآن کے سائے میں، امام ابوحنیفہ حدیث کے سائے میں، امام ابوحنیفہ پر طعن کرنے والے نادان، امام اعظم اور سترہ حدیثیں؟، امام اعظم ابوحنیفہ کا نظریہٴ حدیث ، صحابہ کا قول وفعل حجت ہے، امام ابوحنیفہ پر ترک حدیث کا بھونڈا الزام، فقہ الحدیث میں امام اعظم کا مقام،رائے اور اصحاب الرائے، دفع الوسواس فی بیان القیاس، امام اعظم ابوحنیفہ اور عقیدہ ارجاء، امام اعظم پر مخالفت حدیث کا الزام، امام ابوحنیفہ معاصرین کی نظر میں ہیں اور پھر ان عنوانات کے تحت سینکڑوں ذیلی عنوانات قائم کیے گئے ہیں۔

اپنے موضوع پر یہ ایک جامع اور مفصل کتاب ہے اور اس میں ہر بات کا حوالہ دینے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ اس کے مطالعے سے امام اعظم ابوحنیفہ رحمة الله علیہ کی درخشاں حیات کے روشن پہلو قارئین پر اجاگر ہوں گے اور بے جاا عتراضات کا سیاہ دھواں چھٹ جائے گا۔

مؤلف کی دیگر تالیفات کی طرح زیر نظر کتاب بھی رموزواوقاف کے سنہری نقوش سے خالی ہے اور اس کی کمی کو واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔

کتاب کی طباعت میں معیار کا خیال رکھا گیا ہے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.