جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

چقندر ایک مفید سبزی

محترمہ سعدیہ قمر

چقندر شلجم سے مشابہ ایک سبزی ہے، جو گہرے سرخ رنگ کی ہوتی ہے۔ اس کا رنگ اتنا تیز ہوتا ہے کہ جب اسے پکایا جائے تو پوری ہنڈیا سرخ ہو جاتی ہے، گہرے سرخ رنگ کی یہ سبزی نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے، بلکہ کئی امراض دور کرنے میں بھی مفید ہے۔ ایران میں اس کا رس بہت شوق سے پیا جاتا ہے۔ آئرلینڈ کے ساحلی علاقوں کے لوگ اس کے پتے بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ وہاں ڈنٹھل سمیت پکا کر کھانے کا رواج ہے ۔ یہ صحت بخش سبزی کئی امراض سے چھٹکارا دلانے میں مدد کرتی ہے۔

قبض
چقندر کھانے سے آنتوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، جس کے باعث اجابت آسانی سے ہو جاتی ہے۔ اسے سلاد کی طرح یا روزانہ پکا کر کھایا جائے تو قبض سے نجات مل جاتی ہے۔ جن لوگوں کو دائمی قبض کی شکایت ہو، انہیں چاہیے کہ وہ روزانہ رات کو سوتے وقت آدھا گلاس چقندر کا سُوپ پییں۔ جو افراد خون کی کمی کا شکار ہوں، وہ روزانہ چقندر کارس پییں، انہیں بہت فائدہ ہو گا۔

سر میں درد
کچھ لوگوں کے سر میں درد کی مسلسل شکایت رہتی ہے ۔ سربوجھل رہتا ہے۔ جکڑن سی محسوس ہوتی ہے۔ کام کاج میں دل نہیں لگتا۔ ایسی صورت حال میں ایک عدد چقندر پتوں سمیت کاٹ کر ایک درمیانی پتیلی میں ڈال کر دو گلاس پانی شامل کرکے جوش دیں، لیکن زیادہ نہ پکائیں۔ ذائقہ بہتر کرنے کے لیے اس میں تھوڑی سی چینی ملا دیں۔ سات سے آٹھ دن تک یہ پانی پینے اور چقندر کے ٹکڑے کھانے سے سر کا درد اور بوجھل پن دور ہو جاتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو ناشتے میں صرف یہی پانی پییں اور ٹکڑے کھائیں۔ اس کے بعد ایک گھنٹے تک چائے نہ پییں۔

ہاضمے کی خرابی
اگر یرقان کی وجہ سے متلی اور قے کی شکایت ہو یا اسہال یا پیچش ہو جائے تو اس میں بھی چقندر بہت کام آتا ہے۔ اس کے رس میں ایک چمچہ لیموں کا رس ملا کر پینے سے ہاضمے کی خرابی در ہو جاتی ہے۔ نہار منھ چقندر کے رس میں شہد ملا کر پینے سے معدے کے زخم ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس کا رس صحت کے لیے مفید ہے۔

جوڑوں کا درد
تِلوں کے ڈیڑھ لیٹر تیل میں چقندر اور ارنڈ کا رس ملا کر درمیانی آنچ پر پکائیں۔ پتیلی بڑی ہونی چاہیے، تاکہ تیل نیچے نہ گرے۔ جب پانی خشک ہو کر تیل اور رس کی مقدار کم ہو جائے تو اسے اتار کر کپڑے سے چھان لیں، اس سے جوڑوں پر مالش کروائیں۔ اس سے ورم رفتہ رفتہ ختم ہو جاتا ہے۔ پسلی میں درد کی صورت میں بھی اس تیل کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

داغ او رجھائیاں
چقندر کا رس چہرے کے داغ دھبّے اور جھائیاں دُور کرتا ہے۔ ایک چقندر کاٹ کر پانی میں اُبال کر رکھ لیں۔ یہ پانی روئی کی مدد سے داغ دھبّوں اور جھائیوں پر اچھی طرح لگائیں اور پانچ سے سات منٹ بعد منھ دھولیں۔ اس کے بعد چہرے پر گلاب کا عرق لگالیں۔ چند روز میں داغ دھبّے اور جھائیاں کم ہو جائیں گی۔ اگر جلد پر خارش ہو تو آپ تین حصے چقندر کے رس میں ایک حصہ پھلوں کا سرکہ ملا کر اس پر لگاسکتے ہیں۔ جِلد زیادہ خراب ہو تو آپ انہیں پتوں سیمت اُبال لیں اور اس پانی سے جلد کو دن میں دوبار دھوئیں، فائدہ ہو گا۔ کیل مہاسوں اور پھنسیوں کے خاتمے کے لیے بھی چقندر مفید ہے۔

ہائی بلڈ پریشر
چقندر کا رس ہائی بلڈ پریشر، شریانوں کی بندش اور دل کی تکالیف کو کم کرتا ہے۔ یہ پھُولی ہوئی رگوں کو درست کرتا ہے۔ جن افراد کو بلڈ پریشر کی شکایت ہو وہ اس کا رس پییں، چوبیس گھنٹوں میں ہی بہتر ی محسوس کریں گے۔

سر کی خشکی
اگر سر کے بالوں میں خشکی زیادہ ہو تو ایک چقندر کا رس نکال کر اس میں ایک بڑا چمچہ پھلوں کا سرکہ ملا لیں او ربالوں کی جڑوں میں لگا کر پندرہ بیس منٹ بعد سردھولیں۔ اگر بال خورے ( ایک مرض جس میں جگہ جگہ سے بال اُڑ جاتے ہیں)کی شکایت ہو تو اس کے نرم پتوں کا رس دن میں تین سے چار بار لگانے سے افاقہ ہوتا ہے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.