جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

جوڑوں کا درد اور ورم

محترم عمران سجاد

ہمارے جسم کے مدافعتی نظام میں اگر خرابی پیدا ہو جائے تو مختلف قسم کے امراض سر اٹھانے لگتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تکلیف دہ مرض جوڑوں کا درد و ورم(Arthritis) ہے۔ جوڑوں کا درد و ورم ایک سے سو برس کی عمر کے افراد کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اس کی علامات میں جوڑوں میں درد، سوجن، ہڈیوں کا ٹوٹنا اور اکڑاؤ شامل ہیں۔ اس مرض میں جوڑوں کی اندرونی جھلیاں متاثر ہوتی ہیں۔ اس کا اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو متاثرہ فرد معذور بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں دل کی بیماریاں او رجوڑوں کا درد و ورم معذوری کے دو بڑے اسباب ہیں۔ امریکا میں بھی جوڑووں کا درد و ورم معذوری کا سب سے بڑا سبب بن چکا ہے۔

جوڑوں کے درد وورم کا شکار مرد اور خواتین دونوں ہوتے ہیں۔ یہ مرض نہ صرف ہڈیوں اور جوڑوں، بلکہ گردوں، شریانوں، جلد، آنکھوں، پھیپڑوں اور دل و دماغ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مرض کی سو سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں۔ کوئی بھی مرض، جو جوڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے، وہ جوڑوں کے درد و ورم کا مرض ہو سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں جوڑوں کے پتھرانے کا عارضہ (Rheumatoid Arthritis) زیادہ دیکھنے میں آتا ہے۔ جوڑوں کے پتھرانے کے مرض میں خواتین زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔

اس بیماری کی سب سے خطرناک قسم ”اوسٹیو آرتھرائٹس“ (Osteo Arthritis) ہے، جسے ”ڈی جنریٹیو آرتھرائٹس“ (Degenerative Arthritis) بھی کہتے ہیں۔ اس مرض میں عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیاں گھسنے لگتی ہیں۔ جوڑوں کے درد و ورم کا مرض دنیا بھر میں بڑھ رہا ہے۔ ہر تین میں سے ایک فرد کسی نہ کسی قسم کے جوڑوں کے درد وورم کی تکلیف میں مبتلا نظر آتا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی لوگ اس مرض کی لپیٹ میں زیادہ ہیں۔

جوڑوں کے درد و ورم کی ایک قسم ”اینکی لوزنگ اسپونڈی لیٹس“(Ankylosing Spondylitis) ہے، جو کمر کو متاثر کرتی ہے۔اس کی تشخیص آسانی سے نہیں ہو پاتی۔ یہ 17 سے 30 برس کی عمر کے نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے۔ نوجوانوں کی کمر کے نچلے حصے میں درد رہنے لگتا ہے۔ اس کی تشخیص بعض اوقات پانچ سے دس برس میں ہو پاتی ہے، اس لیے کہ متاثرہ نوجوان عام معا لجین کے پاس چلے جاتے ہیں، جو تشخیص نہیں کر پاتے، کیوں کہ وہ اس مرض کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

اس مرض کی ایک اور قسم”ویسکیولیِٹس“ (Vasculitis) کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس میں جوڑوں کے ساتھ شریانیں بھی متورم ہو جاتی ہیں۔ شریانوں کے متورم ہونے کی وجہ سے جسم کا متاثرہ حصہ کام نہیں کر پاتا، لہٰذا فالج کا خطرہ سر اٹھانے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ دل اور گردے بھی ناکارہ ہوسکتے ہیں۔ جوڑوں کے درد و ورم کی بہت سی قسمیں ہیں، مثلاً گاؤٹ آرتھرائٹس(Gout Arthritis)، لیوپیس آرتھرائٹس(Lupus Arthritis) اور اوسٹیوپوروسز(Osteoporosis) وغیرہ۔

اگر کسی فرد کے جوڑوں میں تکلیف رہنے لگی ہو تو اسے فوراً کسی اچھے معالج سے رجوع کرنا چاہیے، تاکہ معالج خون کا ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ کروا کر آپ کو کسی ماہر کے پاس بھیج سکے، اس لے کہ ایک ماہر ہی تشخیص کرسکتا ہے کہ متاثرہ فرد جوڑوں کی کس قسم کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ اس مرض کی لپیٹ میں بچے آئیں یا بڑے، پابندی سے علاج کروانا بہت ضروری ہوتا ہے۔ جو مریض علاج چھوڑ دیتے ہیں، انہیں بعد میں پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ملک میں جوڑوں کے درد وورم میں مبتلا مریضوں کی تعداد 20 لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ اس مرض کے خاتمے کے لیے معالج روایتی قسم کی ادویہ تجویز کرتا ہے۔ اگر مرض پیچیدہ ہو جائے تو دوسری قسم کی ادویہ دی جاتی ہیں، لیکن یہ بہت مہنگی او رغریب مریضوں کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں۔ مرض کی تشخیص کے لیے معالجین کے تجویز کردہ بعض ٹیسٹ بھی بہت مہنگے ہوتے ہیں۔

جوڑوں کے درد وورم میں مبتلا فرد کو چاہیے کہ وہ گاہے گاہے کسی ماہر کے پاس جاکر اپنا مکمل چیک اپ کراتا رہے او را س کی تجویز کردہ ادویہ پابندی سے کھائے۔ اگر سگرٹ نوشی کرتا ہو تو اسے فوراً ترک کر دے او راپنے طرز زندگی کو بھی تبدیل کر لے۔ یہ مرض کسی کو بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ مرض صرف بوڑھے افراد کو ہی اپنی لپیٹ میں لیتا ہے، جب کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ بیماری مختلف شکلوں میں بچوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ پاکستان میں اس عارضے کی تمام اقسام کاعلاج دست یاب ہے، لیکن بد قسمتی سے لوگ عام معالجین کے پاس جاکر اپنا وقت اور پیسا دونوں ضائع کرتے ہیں، اس لیے کہ انہیں اس مرض کے بارے میں معلومات نہہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ اس کے علاہ بعض ادویہ بھی دست یاب نہیں اور جو دست یاب ہیں، وہ بہت مہنگی ہیں۔

جوڑوں کے درد و ورم کو دور کرنے میں روغنی مچھلی کا تیل بہت مفید ہے۔ یہ تیل جسم میں جاکر ایک ایسے مادّے میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو درد و ورم کو ختم کر دیتا ہے۔ ادرک بھی جوڑوں اور پٹھوں کے درد میں کمی کرتی ہے۔ جوڑوں کے درد و ورم میں مبتلا افراد کو پھل اور سبزیاں زیادہ کھانی چاہییں، کیوں کہ ان میں سلینئیم اور حیاتین الف اور ج (وٹامنز اے اور سی) ہوتی ہیں، جو درد و ورم کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ اس عارضے میں اسٹرابیری بھی کھانی چاہیے، یہ جوڑوں کوآزاد اصلیوں (فری ریڈیکلز) کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتی اور جوڑوں میں روانی پیدا کرتی ہے۔

جوڑوں کے درد و ورم کے علاج میں فزیوتھراپی، وزن میں کمی، ورزش، غذاؤں میں تبدیلی، ہڈیوں پر پٹیاں باندھ کر سہارا دینا، ٹکور کرنا، درد و ورم دور کرنے والی ادویہ کھانا، روزانہ آٹھ گلاس پانی پینا، مچھلی زیادہ کھانا، سرخ گوشت اور تلی ہوئی اشیا سے پرہیز شامل ہیں۔

میٹھے کدو (Pumpkin) کے بیج بھی کھانے چاہییں، اس لیے کہ یہ جوڑوں کے درد کو کم کرتے ہیں، پالک بھی جوڑوں کے ورم کو کم کر دیتی ہے، کیوں کہ اس میں مانع ورم اجزا پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جوڑوں کا ماہر اعلیٰ معیار کے کثیر الحیاتین ضمیمے بھی تجویز کرسکتا ہے۔ یہ ضمیمے جوڑوں کے روغنی مادّے کو گاڑھا کرتے ہیں او رگھسی ہوئی ہڈیوں کو درست کر دیتے ہیں۔اگر مرض شدت اختیار کر لے تو جوڑوں کی تبدیلی کے لیے آپریشن کرانا پڑتا ہے۔

جوڑوں کے درد وورم کی بعض اقسام آنکھوں کو بھی متاثر کرتی ہیں اور بینائی تک ختم کرسکتی ہیں۔ اس کے علاہ جسم کے بعض اعضا بھی ناکارہ ہو سکتے ہیں۔ اس کی ایک قسم موروثی بھی ہے۔ یہ اگر ماضی میں والدین کو لاحق رہی ہو تو بچوں میں بھی منتقل ہوسکتی ہے۔ اس مرض کی چند اقسام میں جلد شفایابی مل جاتی ہے، لیکن بعض میں بہت وقت لگتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں جوڑوں کے درد و ورم کے ماہرین کی بھی کمی ہے۔20 کروڑ کی آبادی والے ملک میں تقریباً40 ماہرین ہیں، جو بہت تشویش ناک صورت حال ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں تو ایسے ماہرین ہی نہیں پائے جاتے۔ اس مرض سے متعلق بنیادی معلومات سے آگاہی بہت ضروری ہے۔ مرض کی بروقت تشخیص کرانی چاہیے، تاکہ شفا یابی جلد حاصل ہو اور وقت وپیسا برباد نہ ہوں۔ اس کے علاوہ علاج معیاری اور سستا ہونا چاہیے او رمعا لجین کو مرض کے بارے میں مکمل معلومات اور ہدایات دینی چاہییں۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.