جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

حصولِ علم اور خواتینِ اسلام

مولانا محمد حبیب الرحمن حسامی

ایک مرتبہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم عید کے موقع پر باہر تشریف لے گئے آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ حضرت بلال تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا او رپھر آپ صلی الله علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ شاید میری آواز خواتین تک نہیں پہنچی ہو، چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، ان کو وعظ ونصیحت فرمائی اور صدقہ دینے کا حکم فرمایا کہ تم صدقہ دیا کرو۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی اس نصیحت کا خواتین پر اس قدر اثر ہوا کہ( وہ اپنے زیورات) کان کی بالیاں او رانگوٹھی (وغیرہ) دینے لگیں اور (اتنا سامان ہو گیا کہ ) حضرت بلال اپنے کپڑے کے کونے میں جمع کرنے لگے۔ (بخاری:20/1، باب عظة الامام اللنساء وتعلمھن)

اس حدیث پاک سے جہاں خواتین کے جذبہ ایمانی کا اندازہ ہوتا ہے وہیں پر عورتوں کو علیحدہ دینی تعلیم دلوانے کا جواز بھی معلوم ہوا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے کتنی فکر فرمائی ہے او راس کا اندازہ بھی ہوتا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے علیحدہ باضابطہ خواتین کو تعلیم ونصیحت فرمائی ہے، یہ حق ہے کہ علم کا حاصل کرنا ہر مرد وعورت پر فرض ہے، یہ بات سچ ہے کہ عورت کے تعلیم یافتہ ہونے سے سارا گھر وماحول تعلیم یافتہ ہو سکتا ہے، عورتیں علم کے حصول میں سبقت کریں، ہمت نہ ہاریں اور جو عصری علوم حاصل کر رہے ہیں یا عصری تعلیم یافتہ ہیں وہ اپنے دین ومذہب سے کنارہ کشی نہ کریں، دینی علم کے حاصل کرنے میں جتنی محنت اور جتنا وقت لگے گا وہ سب کا سب باعث اجر وثواب ہو گا، آج الحمدلله نسوانی مدارس جگہ جگہ قائم ہوتے جارہے ہیں، آج تعلیم کا حصول مشکل مسئلہ نہیں رہا، اس کے باوجود ہم دینی علوم سے آراستہ نہ ہوں تو یہ ہمارے لیے بڑی شرمندگی کا باعث ہو گا، صحابیات کے واقعات سے ہم کو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے حصول علم کے لیے کتنا اپنے آپ کو مشقت میں ڈالا اور کتنی محنت سے محدثات وعالمات بنیں، سابقہ اسلامی خواتین کے ذوق اور طلب کا اندازہ صحیح بخاری کی ایک حدیث سے ہو گا کہ حضرت ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ خواتین نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مرد حضرات ہم پر غالب ہیں ( وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس زیادہ آتے اور رہتے ہیں ) لہٰذا ہمارے لیے کوئی دن مقرر فرما دیجیے (تاکہ ہم بھی سیکھ لیں)۔ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کے لیے دن متعین فرما دیا اور آپ صلی الله علیہ وسلم اس متعین دن میں انہیں وعظ و نصیحت فرماتے تھے، ایک مرتبہ یہ فرمایا کہ اے عورتو! سن لو!جس عورت کے تین بچے مر گئے تو وہ بچے جہنم سے ماں کے لیے حجاب بنیں گے، ایک خاتون نے سوال کیا کہ دو بچے مر گئے تو کیا حکم ہے ؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا دو بچوں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ (وہ بچے جو کہ بلوغت سے قبل انتقال کر گئے ہوں)۔ دیگر روایت میں ہے کہ وہ سوال کرنے والی خاتون ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا تھیں، یہی وہ حضرت عائشہ ہیں جو کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے بڑی جرأت سے سوال کیا کرتی تھیں، بات سمجھنے تک سوال دہراتی تھیں، ان کا امت پر بڑا احسان ہے، کیوں کہ اگر وہ آپ صلی الله علیہ وسلم سے سوال نہ کرتیں تو علم نہ آتا، آپ  سے بڑے بڑے ذی شان صحابہ کرام بھی علمی سوال کیا کرتے تھے، یعنی آپ صحابہ کی بھی استاذ ہیں، حضرت عائشہ کے بارے میں حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری وحی کا آدھا علم میرے سارے صحابہ سے حاصل کرو اور آدھا علم تنہا عائشہ سے حاصل کرو، گویا حضرت عائشہ اتنی زبردست عالمہ ہیں کہ نبوت کا آدھا علم صدیقہ کے پاس ہے اور آدھا علم سارے صحابہ کے پاس ہے ۔ (خطبات حکیم الاسلام)

الغرض اتنا علم تو ہر ایک کے پاس ہونا لازم ہے، خواہ مرد ہو یا خاتون، ضعیف ہو یا قوی، عمر بڑھاپے کی ہو یا شباب کی، سب کو اتنا علم حاصل کرنا لازم ہے، جس سے عقائد کی درستگی ہو، عقیدہ معلوم ہو جائے، اخلاق کا پتہ چلے، حقوق کی ادائیگی، والدین، اولاد، رشتہ داروں اور پڑوسیوں وغیرہ کے کیا حقوق ہیں؟ الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کا کیا حق ہے۔

بیٹی جنت میں لے جائے گی
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جن کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں، پھر اچھی طرح ان کا ساتھ دیا ( اچھی طرح ان کی پرورش کی) اور ان کی پرورش کرنے میں الله سے ڈرا سو اس کے لیے جنت ہے۔ (ترمذی:13/2)

حبیب خدا صلی الله علیہ وسلم خواتین کے حق میں بہت رحیم وشفیق ہیں آپ صلی الله علیہ وسلم نے والدین کو، خصوصاً والداو ربھائی کو بتایا کہ بیٹیوں اور بہنوں کے وجود کو باعث ننگ وعار نہ جانیں،بلکہ ان کی پرورش اور حق رسانی کی تعلیم دی گئی، کیوں کہ وہ تمہیں جنت کا مستحق بنائیں گی اور ان لڑکیوں کی وجہ سے کوئی پریشانی میں گرفتار ہو جائے ،جیسے کہ فقر وفاقہ ہو یا مقروض ہو جائے تو اس پر صبر کریں تو الله تبارک وتعالیٰ اس کا اس قدر اجر وثواب عطا فرماتے ہیں کہ وہ لڑکیاں سرپرست کے لیے جہنم کے پاس پردہ وحجاب ہو جائیں گی، کیوں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ان لڑکیوں کی وجہ سے کسی بلا میں گرفتار ہو گیا اور اس نے اس پر صبر کیا تو یہ لڑکیاں اس کے لیے جہنم سے پردہ ہو جائیں گی۔ (ترمذی:13/2)

بلکہ لڑکی کا وجود ہر اعتبار سے باعث برکت ہوتا ہے #
        خاندان میں ایک لڑکی کا وجود
        باعث رحمت وبرکات لا محدود



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.