جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

اچھی صحت کے لیے ساگ بھی کھائیے

محترمہ سعدیہ قمر

ہرے پتوں والی سبزیوں میں حیاتین ( وٹامنز)، کیلسیئم اور فولاد کے علاوہ کئی دوسرے مفید غذائی اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔ انسان برسوں سے سبز پتوں والی سبزیاں اور ساگ کھا رہا ہے۔ ان کی غذائی اہمیت اور افادیت کے باوجود آج بعض لوگ ساگ کو معمولی درجے کی غذا سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہی ساگوں اور سبزیوں پر صحت کی بنیاد قائم ہے۔

قدرت ہماری صحت کے لیے ضروری اجزا پیدا کرتی ہے، سائنسی اعتبار سے ساگ میں کیلسیئم، سوڈئیم، کلورین، فاسفورس، فولاد، لحمیات (پروٹینز) او رحیاتین الف، ب اور ھ ( وٹامنزاے، بی اور ای) کافی مقدار میں پائی جاتی ہیں۔ بچوں کی نشو ونما میں بھی ساگ سے بہت مدد ملتی ہے او راگر ان میں بچپن ہی سے ساگ اور سبزیاں کھانے کی رغبت پیدا کی جائے تو یہ عادت انہیں زندگی بھر بہت سی بیماریوں اورمشکلات سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ بچے جب دودھ کی جگہ ٹھوس غذا کھانے لگتے ہیں، اسی وقت سے انہیں ساگ اچھی طرح پکا کر اور خوب گھوٹ کر کھلایا جائے۔ ذیل میں ساگ کی اقسام اور ان کے طبی خواص اور فوائد بیان کیے جارہے ہیں۔

سرسوں کا ساگ
جدید تحقیق کے مطابق سرسوں کے ساگ میں حیاتین ب، کیلسیئم اور فولاد کے علاوہ گندھک بھی پائی جاتی ہے۔ اس کی غذائیت گوشت کے برابر ہے۔ یہ ساگ خون کے زہریلے مادّوں کو ختم کرکے خون صاف کرتا ہے۔ ساگ گوشت کے ساتھ پکا کر مکئی اور باجرے کی روٹی کے ساتھ بھی کھایا جاتا ہے۔ یہ بہت لذیذ اور مقوی ہوتا ہے۔ اطبا نے سرسوں کے ساگ، مکئی کی روٹی او رمکھن کو مفید غذا قرار دیا ہے۔ دارچینی، بڑی الائچی اور کالا زیرہ پیس کر ساگ کے اوپر چھڑک کر کھانے سے گیس یا پیٹ میں مروڑ کی تکلیف نہیں ہوتی۔ حکما کے مطابق سرسوں کا ساگ اپنی تاثیر کے لحاظ سے گرم، خشک، قبض کشا اور پیشاب آور ہے۔ اسے کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں اور بھوک بڑھ جاتی ہے۔

بتھوے کا ساگ
بتھوا ایک مشہور ساگ ہے۔ اس میں وہ تمام مفید غذائی اجزا پائے جاتے ہیں، جو صحت اور توانائی کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ یہ ساگ قبض کشا ہے ۔ پیشاب لاتا ہے۔ گرمی کو دور کرتا ہے۔ پیاس بجھا تا اور حلق کا ورم دور کرنے کے لیے بھی مفید ہے۔ اس کے بیج بھی دوا کے طور پر کھائے جاتے ہیں، اس کے پتوں کا نچوڑا ہوا پانی پیشاب لاتا ہے۔

اطبا کے مطابق برص کے مرض میں روزانہ دن میں چار پانچ مرتبہ بتھوے کے پتوں کا رس سفید دانوں پر لگائیں اور بتھوے کے ساگ کی بھجیا بنا کر کھائیں، دو ماہ کھانے سے برص کے داغ دور ہو جائیں گے۔ بتھوے کا ساگ معدے اور آنتوں کو طاقت بخشتا ہے۔ یہ جگر او رتلّی کے امراض ختم کرنے میں بھی مفید ہے۔

قلفے کا ساگ
قلفہ بھی ایک مفید ساگ ہے۔ یہ معدے او رجگر کی گرمی کو دور کرتا ہے۔ اسے کھانے سے پیاس کی شدت کم ہو جاتی ہے، یہ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے بھی مفید ہے۔ اسے پکانے کے مختلف طریقے ہیں: مثلاً گوشت کے ساتھ پکانے سے گوشت کے مضر اثرات دور ہو جاتے ہیں، جن لوگوں کو کھٹائی پسند ہوتی ہے وہ اس میں ٹماٹر یا امچور ڈال کر کھاتے ہیں۔ قلفہ روٹی اور چاول دونوں کے ساتھ کھانے میں مزرہ دیتا ہے۔ بعض لوگ اسے باریک کتر کر نمک مرچ ملا کر گندم کے آٹے یا بیسن میں ملا کر روٹی پکا کر کھاتے ہیں۔ قلفے کا ساگ کھانے کے بعد تھوڑا سا گڑ کھانا مفید ہے۔

مکو کا ساگ
مکو کا ساگ فوائد سے مالا مال ہے۔ اطبا کے مطابق جب جگر بڑھ جائے یا پیٹ پھول جائے تو مکو کا ساگ پکا کر اس میں نمک کی جگہ نوشادر ملا کر چند دن یا چند ہفتوں تک کھانے سے پیشاب کے راستے جسم کا فالتو پانی خارج ہو جاتا ہے۔ یہ ورم دور کرتا ہے۔ جگر اور گردوں کی خرابی میں بدن پھول جاتا ہے اور ہاتھ پاؤں پر ورم آجاتا ہے تو ایسے میں چند روز مکو کا ساگ کھلانے سے یہ تکلیف دور ہو جاتی ہے۔ خونی بواسیر، پتھری او رکھانسی دور کرنے میں بھی یہ ساگ فائدہ مند ہے۔ یہ قبض کشا اور پیشاب آور ہے۔ یرقان کے مرض میں مکو کا ساگ کھلانے سے افاقہ ختم ہو جاتا ہے۔ ہچکی اور قے کو روکتا ہے۔ گردوں کے تمام امراض ختم کرنے میں مفید ہے۔

سوئے کا ساگ
اطبا نے اسے گیس تحلیل کرنے والی سبزی قرار دیا ہے ۔ صدیوں سے یہ اسی غرض سے کھایا جارہاہے، بے خوابی کی شکایت میں سوئے کے سبزپتے تکیے کے نیچے رکھنے کا رواج عام ہے۔ اطبا کے مطابق جب پیٹ میں درد رہنے لگے، معدہ غذا کو پوری طرح ہضم نہ کرسکے، ریاح کا زور ہو، طبیعت بوجھل اور پیٹ خراب ہو تو سوئے اور پودینے کے ہم وزن پتوں کا رس شکر ملا کر دودھ کے ساتھ پینے سے دودھ بھی ہضم ہو جاتا ہے او رمعدہ بھی درست ہو جاتا ہے گردے او رمثانے کی پتھری اور پیشاب کی تمام بیماریوں سے نجات دلانے میں سویا ایک نعمت ہے۔

سوئے کا ایک آسان استعمال یہ ہے کہ آپ روزانہ بنائے گئے سلاد میں اس کی چند پتیاں شامل کر لیں۔ یہ ہاضمے کے لیے مفید ہے۔ سویا جسم میں بادی اور اس سے پیدا ہونے والی متعد بیماریوں کو بھی ختم کرتا ہے۔

پالک کا ساگ
یہ سب سے زیادہ کھایا جانے والا ساگ ہے۔ اس میں حیاتین الف ( وٹامن اے) اور فولاد وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ جدید تحقیق کی رو سے سو گرام پکی ہوئی پالک میں 23حرارے (کیلوریز) 3 گرام لحمیات،4 گرام نشاستہ اور 2 گرام ریشہ ہوتا ہے۔ پالک زود ہضم او رپیشاب آور ہے۔ معدے کی سوزش او رجگر کی گرمی کو دور کرتا ہے۔ دماغ کی خشکی سے نجات کے لیے مفید اور آزمودہ ہے۔ غذائی ریشے کی خاص مقدار کی وجہ سے قبض کشا بھی ہے۔ جو بچے مٹی یا کوئلہ کھاتے ہیں، ان کا پیٹ بڑھا ہوا ہوتا ہے اورضدی ہوتے ہیں، انہیں پالک، میتھی، بندگوبھی اور شلجم زیادہ کھلانے چاہییں۔ یہ سبزیاں کھلانے سے ان کا نظام ہضم درست ہو گا اور جسم میں طاقت بھی آئے گی۔ پالک کے بیج دوا کے طور پر پیشاب لانے او رمعدے کی سوزش کو دور کرنے کے لیے کھائے جا تے ہیں۔ پیاس کو بھی تسکین دیتے ہیں۔ جن لوگوں کو دائمی قبض کی شکایت رہتی ہو، انہیں روزانہ پالک کھانی چاہیے۔

اطبا کے مطابق یرقان او رگرمی کے بخار میں بھی پالک کا کھانا فائدہ مند ہے۔ پالک کا ساگ خون بڑھاتا اور جگر کو تقویت دیتا ہے۔ جن لوگوں کے جسم میں خون کی کمی ہو وہ اسے ضرور کھایا کریں۔

چولائی کا ساگ
یہ عام ساگ ہے او رہر جگہ ملتا ہے۔ جلن اور سوزش دور کرنے کے لیے بہت مفید ہے۔ حرارت کو کم کرتا اور پیشاب آور ہے۔ کھانسی دور کرنے کے لیے مفید، بلکہ اکسیر ہے۔ یہ ساگ پیاس بجھاتا ہے۔ اس میں نمکیات اور حیاتین ج (وٹامن سی) ہوتی ہے۔ روزانہ مناسب مقدار میں کھانے سے بہت سی بیماریوں کو دور کیا جاسکتا ہے ، خوصاً پتھری ٹوٹ کر نکل جاتی ہے۔ یہ بلڈپریشر اور بلغم کو ختم کرتا ہے۔ یہ بواسیر دور کرنے کے لیے بے حد مفید ہے۔ سانپ کے ڈسے مریضوں کے لیے بہترین غذا ہے، جس سے نہ صرف توانائی ملتی ہے، بلکہ سانپ کا زہر بھی خارج ہو جاتا ہے۔ یہ واحد ساگ ہے، جو ہمیشہ اکیلا پکتا ہے۔ کوئی دوسری سبزی یا تیز مرچ مسالا شامل کرنے سے اس کا مزہ اور افادیت ختم ہوجاتی ہے۔

میتھی
میتھی میں تمام حیاتین ملی جلی شکل میں کافی مقدار میں ہوتی ہیں۔ اس کے زردرنگ کے بیج میتھی دانہ کھلاتے ہیں۔ یہ غذائیت سے بھرپور سبزی ہے۔ قدرت نے اس کے بیجوں میں حیاتین کوٹ کوٹ کے بھر دی ہے۔ بیجوں میں لحمیات گوشت کے برابر مقدار میں شامل ہیں۔

اطبا کہتے ہیں کہ میتھی مٹاپا پیدا کرتی ہے۔ موٹا ہونے کے خواہش مند افراد ایک پاؤ میتھی اور آدھا کلومنقیٰ اچھی طرح پیس کر ایک ایک تولے کے لڈو بنالیں۔ روزانہ ایک لڈوکھانے سے خاطر خواہ فائدہ ہو گا۔ میتھی جسم کے فاسد مادّوں کو خارج کرتی ہے، کیوں کہ اس کا ذائقہ تلخ ہوتا ہے۔ میتھی دانہ ہر اچار میں ڈلا جاتا ہے۔ یہ خون صاف کرتی اور پھوڑے پھنسیوں سے بچاتی ہے۔ چہرے کی رنگت نکھارنے میں بہت مفید ہے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.