جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

جڑی بوٹیوں سے لذت بھی، فائدہ بھی

محترمہ مریم نعیم خاں

کم وبیش سبھی خواتین کھانا پکا لیتی ہیں، لیکن خالہ فہمی کا اس معاملے میں جواب نہیں۔ وہ نت نئے مسالوں سے کھانوں کا لطف دوبالا کر دیتی ہیں، مثلاً لنچ کے لیے جب وہ آٹے کی سویاں(LASAGNE) بنا کر اس کے ساتھ پالک پنیر کی ڈش تیار کرتی ہیں تو انہیں ملا کر کھانے سے ذائقے کے ساتھ انبساط بھی حاصل ہوتا ہے۔ انہیں جڑی بوٹیوں کا استعمال بھی خوب آتا ہے، وہ نازبو (OREGANO) کی پتیوں کو آٹے کی سویّوں پر چھڑک دیتی تھیں تو چہارسو خو ش بوپھیل جاتی تھی۔ یہی جڑی بوٹی جب وہ ٹماٹر کی چٹنی پر چھڑکا کرتی تھیں تو اس کا ذائقہ چرپرا ہو جایا کرتا تھا۔ اسی طرح سے جائفل(NUTMEG) کے سدا بہار درخت کی پتیاں، نمک، کالی مرچ، تیز پات (BAYLEAF) اور پالک شامل کرنے سے ذائقے میں ایک توازن پیدا ہو جاتا تھا۔ خالہ فہمی پالک پنیر میں قصوری میتھی(FENUGREEK) کے پتے ڈالتی تھیں تو ایک منفرد خوش بو پھیل جاتی تھی، لیکن اس کا ذائقہ قدرے تلخ ہو جاتا تھا۔ ان کے ہاتھ کے پکے ہوئے کھانوں سے ہم ذائقوں کی ایک نت نئی دنیا میں پہنچ جاتے۔ ہر ڈش ایک نئے مزے اور لذت سے آشنا کرتی۔

وہ ایشیائی اور مغربی دونوں قسم کے کھانے پکانے سے کماحقہ واقف تھیں۔ ان کے ساتھ صرف ایک دن باورچی خانے میں گزارنے پر پکوان کے نت نئے طریقے معلوم ہو جاتے۔ انہوں نے مجھے بتایا: ” میں مختلف جڑی بوٹیوں سے کھانوں اور سلاد میں ذائقہ اور خوش بو پیدا کرتی ہوں۔“

بہت سی خواتین قدیم جڑی بُوٹیاں یا پھر آیورویدک بُوٹیاں استعمال کرتی تھیں۔ ان کے پیش ِ نظر صرف ذائقہ ہی نہیں ہوتا تھا، بلکہ ان جڑی بُوٹیوں کے طبّی اور صحی فوائد بھی تھے، مثلاً ہم دھنیے اور پودینے کی پتیاں سلاد او رکھانوں میں شامل کرتے چلے آئے ہیں، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ پودینہ اور لہسنی پود(CHIVE) سلاد کو سجانے اور دل کشی پیدا کرنے کے لیے شامل کیے جاتے ہیں؟ یہ نہ صرف خوش بودار ہوتے ہیں، بلکہ توانائی بخشتے اور کھانے والوں کی بھوک میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔

خالہ فہمی نے بتایا کہ پودینہ سبز رنگ کی جڑی بوٹی ہے، جس کا ذائقہ گھاس جیسا ہوتا ہے او راس میں بہت سی حیاتین بھی ہوتی ہیں اور فولاد وغیرہ بھی۔ اس میں جلن اور سوزش دور کرنے کی خاصیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پودینہ ہاضمے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی چائے بنا کر پینی چاہیے، جس سے جسم کے فاسد مادّے خارج ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح سے کالی تلسی کی پتیاں مانع تکسید (ANTIOXIDANT) ہوتی ہیں۔ یہ ایسی جڑی بوٹی ہے، جو ہندوستان میں گزشتہ پانچ ہزار سال سے استعمال کی جارہی ہے۔ کالی تُلسی کے پتوں کی لگدی (پیسٹ) بھی بنائی جاسکتی ہے او راس سے مزید فوائد حاصل کرنے کے لیے اس میں بیسن اور گلاب کا عرق ملایا جاسکتا ہے۔ اس آمیزے کو اپنے چہرے پر لگائیے اور تھوڑی دیر بعد چہرہ دھو ڈالیے۔ کچھ مدت بعد آپ دیکھیں گے کہ آپ کے کھلے ہوئے مسامات بند ہونا شروع ہو گئے ہیں اور آپ کا چہرہ تروتاز ہو گیا ہے۔ بیوٹی پارلروں میں چہرے کے ماسک کے لیے جو چیزیں فروخت کی جاتی ہیں، ان میں کیمیائی اجزا شامل ہوتے ہیں، جو چہرے کی جلد کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔

ایک بڑے ہوٹل کے باورچی گلزار حسین نے بتایا کہ جڑی بُوٹیوں سے کھانوں میں ایک اشتہا انگیز خوش بو پیدا ہو جاتی ہے۔ اس نے کہا کہ میں ان جڑی بُوٹیوں کو مختلف مسالوں، بیجوں او رگری دار میووں کے ساتھ ملا دیتا ہوں، جس سے جڑی بوٹیوں کی افادیت اور لذت بڑھ جاتی ہے۔ میری پسندیدہ بوٹی ناز بو ہے، جب کہ میں پودینہ، روز میری (ROSEMARY) اسطو خودوس(lAVENDER) اور لیمن بام(LEMON BALM) وغیرہ بھی مختلف کھانوں میں شامل کرتا ہوں۔

میں نے پوچھا:” تم جڑی بُوٹیاں کن کھانوں میں ڈالتے ہو؟“

”میں جو بھی کھانا تیار کرتا ہوں، اس میں کوئی نہ کوئی جڑی بُوٹی ضرور ڈالتا ہوں۔ اس کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔“ وہ بولا۔ پھر اس نے چند جڑی بُوٹیوں کی خاصیت بتائی او رکہنے لگا: ”جب تازہ پتیاں کھانے میں شامل کی جائیں تو انہیں رگڑ کر خوب دھو لیا جائے، تاکہ ان سے خوش بو نکلنے لگے۔“

اس کا کہنا تھا کہ ناز بو جڑی بوٹی کی پتیاں خوش بو دار ہوتی ہیں، لیکن ہلکی سی چر پری بھی۔ انہیں کم مقدار میں شامل کرنا چاہیے، اس لیے کہ ان کی خوش بوباقی سب خوش بوؤں پر غالب آجاتی ہے۔ ابتدا میں اسے ہانڈی میں کم ڈالیں۔ پھر جب مزہ نہ آئے تو اس کی مقدار بڑھا دیں۔ ناز بو جب غذاؤں میں شامل کی جاتی ہے تو یہ سوزش اور جلن دور کرتی ہے۔ جسم سے زہریلے مادّوں کو نکالتی اور قوتِ مدافعت میں اضافہ کرتی ہے، جب کھانا پکانے کی ابتدا ہو تو آنچ تیز ہوتی ہے، ایسے میں اسے ہانڈی میں ڈال دیا جائے تو اس کے مفید اجزا خوب گھل مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب ہانڈی پک کر تیار ہوجائے تو نازبو کی پتیاں اوپر سے چھڑک دینی چاہییں۔

گلزار حسین نے بتایا:”اس کے بعد میں پودینہ شامل کرنے کو ترجیح دتیا ہوں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پودینے کو گوشت، مرغی اور سبزی کے ساتھ پکایا جاسکتا ہے۔ سُوپ کو بھی اس سے سجایا جاسکتا ہے۔ سُوپ کے تیز مسالوں میں پودینہ توازن پیدا کرکے لذت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ روز میری ہے، جو اسی جنس سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کا ذائقہ لیموں اور انناس جیسا ہے، لہٰذا اسے کم مقدار میں شامل کرنا چاہیے۔

پودینے کی خشک پیتاں کمرے کو خوش بو دار بنانے کے کام بھی آتی ہیں۔ پیالوں میں خوش بو دار پتیاں بھر کر رکھ دی جاتی ہیں تو کمرا خوش بو سے مہکتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ اس سے ماؤتھ واش کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔ اس کی چائے بنا کر پی جاسکتی ہے۔ پودینے کا تیل قدیم زمانے سے دوا کے طور پر استعمال کیاجارہا ہے۔ آج کل بھی اطبّا اس تیل کو ان خواتین کے لیے تجویز کرتے ہیں، جنہیں ایام کے دنوں میں تکلیف ہو جاتی ہے۔

روز میری کیڑے مکوڑوں کو ہلاک کر دیتی ہے، جب کہ اس کا تیل سر کے بالوں کو مضبوط کرتا اور بڑھاتا ہے۔ آپ اس تیل کو استعمال کریں گے تو اس کے فوائد سے خود آگاہ ہو جائیں گے۔

جب گلزار حسین نے اسطو خودوس کا ذکر کیا تو مجھے اسطو خودوس کا کیک یاد آگیا، جو دادی بنایا کرتی تھیں۔ اس کیک سے پودینے کی بھینی بھینی خوش بو آتی تھی، جب کہ اس میں لیموں ملا ہوتا اور اوپر کریم بھی جمی ہوتی تھی۔ اس کریم پر وہ اسطوخودوس پیس کر ڈال دیا کرتی تھیں۔ وہ کہا کرتی تھیں: ”اسطوخودوس کو شامل کرنا مذاق نہیں ہے۔ اسے نہایت احتیاط سے ملانا چاہیے۔“

مجھے اچھی طرح سے یا دہے کہ وہ اپنی سنگارمیز پر اسطوخودوس کا تیل رکھا کرتی تھیں اور سونے سے پیشتر اس کو چہرے پر لگاتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے کیل مہاسے دور ہو جاتے ہیں۔

”تم نے کبھی مچھلی کے ساتھ طرخون(TARROGON) کھائے ہیں؟ یہ ایک پودے کے مزے دار پتے ہوتے ہیں۔“ گلزار حسین نے پوچھا۔

”ہاں انہیں سفید چٹنی کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔ اس سفید چٹنی پر جن سبز پتوں کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے، انہیں طرخون کہتے ہیں۔ یہ جڑی بُوٹی مچھلی اور مرغی کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے۔ اس کا ذائقہ میٹھا، لیکن قدرے کڑوا ہوتا ہے۔ طرخون کی پیتاں دانت کا درد ختم کرتی اورتھکن دور کرتی ہیں۔“ میں نے جواب دیا۔

گفت گو کے اختتام پر میں نے گلزار حسین سے پوچھا کہ کیا یہ جڑی بُوٹیاں پاکستان میں ملتی ہیں؟ تو اس نے جواب دیا کہ ہاں! یہ پاکستان میں درآمد کی جاتی ہیں اور مناسب قیمت پر بڑے اسٹوروں پر دست یاب ہیں۔ چناں چہ انہیں شامل کرکے کھانوں کی لذت اور ذائقہ بڑھانا چاہیے۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.