جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی

خواتینِ اسلام میں حصولِ علم کا شغف

محترمہ امِ حسن

صحابیات کی صحبت بابرکات میں جن خواتین نے پرورش پائی انہیں تابعیات کہا جاتا ہے۔ صحابیات سے علم کا فیض حاصل کرنے والی بے شمار تابعیات نے احادیث کی حفاظت میں بے مثل کردار نبھایا۔ بعض خواتین کا علم اس قدر زیادہ تھا کہ بڑے بڑے تابعین ان سے علم حاصل کیے بنا نہیں رہ سکے۔ حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمة الله علیہ نے اپنی کتاب ”تقریب التہذیب“ میں تقریباً ایک سوا کیس تابعیات اور چھبیس تبع تابعیات کا ذکر کیا ہے، جنہوں نے روایاتِ حدیث میں بہت محنت کی ہے۔ تابعیات کے بعد کے ادوار میں بھی ان کی پیروی میں خواتینِ اسلام حصولِ علم کے لیے کسی سے پیچھے نہیں رہیں۔

حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن
یہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی خاص تربیت یافتہ شاگردہ اور ان کی احادیث کی امین تھیں۔ ابن المدینی فرماتے ہیں ”حضرت عائشہ کی حدیثوں میں سب سے زیادہ قابل اعتماد احادیث عمرہ بنت عبدالرحمن، قاسم اور عروہ کی ہیں۔“ نیز ان کو معتبر علماء میں شمار کرتے ہوئے أحدثقات العلماء کہا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا مابقی أحد اعلم بحدیث عائشة کی احادیث کا ان سے زیادہ جاننے والا اس وقت کوئی اور نہیں ہے۔ابن سعدان کو عالمہ کہتے تھے۔ حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام رضی الله عنہم سے بھی روایتیں نقل کی ہیں۔

حضرت حفصہ بنت سیرین
انہوں نے متعدد صحابہ وتابعین سے احادیث روایت کی ہیں، جن میں حضرت انس بن مالک اور حضرت ام عطیہ رضی الله عنہما جیسے صحابہ بھی شامل ہیں۔ جرح وتعدیل کے امام یحییٰ بن معین نے ان کو ثقة حجة فرمایا ہے۔ ایاس بن معاویہ فرماتے ہیں ”میں نے حفصہ سے زیادہ فضل والا کسی کو نہیں پایا“ ابن حجر عسقلانی ”تہذیب التہذیب“ میں لکھتے ہیں کہ مشہور تابعی، حدیث اور خوابوں کی تعبیر کے فن کے امام حضرت محمد بن سیرین کی بہن حضرت حفصہ نے صرف بارہ سال کی عمر میں قرآنِ کریم معنیٰ ومفہوم کے ساتھ حفظ کر لیا تھا اور ابنِ جوزی کی ”صفة الصفوہ“ میں ہے کہ حضرت حفصہ فنِ تجوید وقرأت میں مقامِ امامت کو پہنچی ہوئی تھیں، امام ابن سیرین کو جب تجوید کے کسی مسئلے میں شبہ ہوتا تو شاگردوں کو اپنی بہن سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔

حضرت نفیسہ بنت حسن
حضرت حسن بن زید بن حسن بن علی بن ابی طالب کی صاحب زادی اور حضرت اسحاق بن جعفر کی اہلیہ حضرت نفیسہ کو تفسیر وحدیث کے علاوہ دیگر علوم میں بھی درک حاصل تھا۔ ان کے علم سے خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کی بھی معتدبہ تعداد فیض یاب ہوتی تھی۔ ان کا لقب ”نفیسة العلم والمعرفة“ پڑگیا تھا۔ حضرت امام شافعی رحمة الله علیہ جیسے رفیع القدر اہلِ علم دینی مسائل پر ان سے تبادلہٴ خیال کرتے تھے۔

حضرت فاطمہ بنت ابی عبدالله محمد
امام سہمی نے ”تاریخ جرجان“ میں فاطمہ بنت ابی عبدالله محمد بن عبدالرحمن طلقی جرجانی کے حالات میں لکھا ہے: ” میں نے فاطمہ کو اس زمانے میں دیکھا ہے جب ان کے والد ان کو امام ابو احمد بن عدی جرجانی کی خدمت میں لے جاتے تھے اور وہ ان سے حدیث کا سماع کرتی تھیں۔ فاطمہ بنت محمد بن علی لخمیہ اندلس کے مشہور محدث ابو محمد باجی اثبیلی کی بہن تھیں۔ انہوں نے اپنے بھائی ابو محمد باجی کے ساتھ رہ کر علم حاصل کیا اور دونوں نے ایک ساتھ بعض شیوخ واساتذہ سے اجازتِ حدیث حاصل کی۔“

تابعیات کے بعد کے ادوار
تابعیات اور تبع تابعیات کے خیر القرون کے دور کے بعد مختلف ادوار میں ان محدّثات کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے حفاظتِ حدیث کی ذمہ داری اٹھائی۔ ان خواتین میں کوئی شیخة الحدیث تھیں تو کسی نے حدیث کا علم حاصل کرنے کے لے اپنے محرم کے ساتھ اپنے گھرکو خیر باد کہا، کسی نے محدثین کے ایک جم غفیر کو روایت ِ حدیث کی اجازت دی تو کسی نے حدیث کی کسی مخصوص کتاب مثلاً صحیح بخاری وغیرہ کا درس دیا۔ احادیث کی کتابوں میں سینکڑوں حدیثیں ایسی ہیں جو کسی محدثہ یاراویہ نے بیان کی ہیں۔ امام بخاری، امام شافعی، علامہ ابنِ حجر عسقلانی او رامام سیوطی رحمہم الله جیسے علم وفن کے اساتذہ کی فہرست میں متعدد خواتینِ اسلام کے نام ملتے ہیں۔ مردوں کی طرح خواتین نے بھی نہایت ذوق وشوق سے نہ صرف علمِ حدیث حاصل کیا، بلکہ اس کی نشرواشاعت بھی کی۔ جس طرح مردوں میں علمِ حدیث کی خدمت کی سعادت حاصل کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے ،اسی طرح اسماء الرجال کی کتابوں میں حدیث نقل کرنے اور اسے محفوظ کرنے والی خواتین کی بھی ایک طویل فہرست موجود ہے۔

علمِ حدیث کے لیے سفر
مردوں کی طرح اسلام کے ابتدائی دور میں خواتین نے بھی احادیثِ رسول صلی الله علیہ وسلم کی تلاش وجستجو میں عالمِ اسلام کی خاک چھانی، دور دراز کے ملکوں اور شہروں کا طویل سفر کیا، سفر کی تمام صعوبتیں برداشت کیں اور محدّثات کی فہرست میں اپنانام درج کروایا۔

حضرت زینب بنت برہان الدین اردبیلیہ رحمة الله علیہا مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں، بڑے ہونے پر علم حدیث کے شوق میں اپنے چچا کے ساتھ مختلف شہروں کا سفر کیا اور بیس سال کے بعد مکہ مکرمہ واپس آئیں۔

حضرت ام محمد زینب بنت احمد بن عمر رحمة الله علیہا بیت المقد س میں پیدا ہوئیں۔ علمِ حدیث کی اس طالبہ نے دور دراز کا سفر کرکے حدیث کا علم حاصل کیا۔ علم حدیث حاصل کرنے کے شوق میں سفر پر سفر کرنے والی اس خاتون کو امام ذہبی نے المعمرة الرحالة کا لقب دیا۔ ان کی اس مشقت کا ثمر یہ ملا کہ بعدمیں دور دراز کے ملکوں سے طلبہٴ حدیث ان سے روایت کرنے ان کے پاس حاضر ہوتے تھے۔ان خواتین کے یہ سفر اپنے محرم کے ساتھ ہوتے تھے اور ان کی درس گاہوں میں شرعی پردے کی پابندی ملحوظ خاطر رہتی تھی۔

حلقہٴ درس
جن خواتین نے حدیث کا علم حاصل کرنے کے شوق میں اپنی زندگیاں گزار دیں ،ان سے شرف تلمذ حاصل کرنے کے لیے دور دراز ملکوں سے صرف طلبہ حدیث ہی نہیں،بلکہ ائمہ وحفاظِ حدیث بھی جوق درجوق حاضر ہوتے تھے۔ حضرت ام محمد زینب بنت مکی حرانیہ رحمة الله علیہا نے چورانوے سال کی عمر تک حدیث کا درس دیا۔ امام ذہبی نے اپنی کتاب العبر میں لکھا ہے ”وازدحم علیھا الطلبة“ ان کی در س گاہ میں طلبہ کا کافی ہجوم رہا کرتا تھا۔ حضرت ام عبدالله زینب بنت کمال الدین رحمة الله علیہا کی پوری زندگی احادیث کی روایت اور کتبِ حدیث کی تعلیم میں گزری۔ امام ذہبی نے ان کے بارے میں لکھا ہے ”تکاثر علیھا وتفردت وروت کتبا کثیرا “ان کی درس گاہ میں طلبہ کی کثرت ہوا کرتی تھی۔

جب کہ بعض محدثات نے مختلف شہروں میں بھی درس دیا ہے۔ خطیب بغدادی نے اپنی کتاب تاریخ بغداد میں لکھا ہے کہ حضرت خلدیہ بنت جعفر بن محمد بغداد کی رہائشی تھیں، ایک سفر کے دوارن دینور میں ان سے خطیب ابو الفتح منصور بن ربیعہ زہری نے حدیث کی روایت کی۔

خواتین محدّثات کی درس گاہیں
ان محدّثات کی مجلسِ درس عموماً ان کی رہائش گاہوں میں ہی ہوتی تھی اور طلبہٴ حدیث وہاں جاکر علم حاصل کرتے تھے۔امام ذہبی او رابنِ جوزی نے ان کی قیام گاہوں کی نشان دہی بھی کی ہے۔

مولانا قاضی اطہر مبارک پوری قرنِ اوّل اور اس کے بعد طالبات کے تعلیمی اسفار اور ان کے طریقہٴ تعلیم وتربیت کے بارے میں لکھتے ہیں: ” عام طور سے ان تعلیمی اسفار میں طالبات کی صنفی حیثیت کا پورا پورا لحاظ رکھا جاتا تھا اور ان کی راحت وحفاظت کا پورا اہتمام ہوتا تھا، خاندان اور رشتہ کے ذمہ دار ان کے ساتھ ہوتے تھے۔“ آگے چل کر لکھتے ہیں:”ان محدثات وطالبات کی درس گاہوں میں مخصوص جگہ ہوتی تھی، جس میں وہ مردوں سے الگ رہ کر سماع کرتی تھیں اور طلبہ وطالبات میں اختلاط نہیں ہوتا تھا۔“

محدّثات کی علمِ حدیث میں تصانیف
محدّثات نے مردوں کی طرح اپنی مرویات کو بھی کتابی شکل میں مدوّن کرکے محفوظ کیا اور فن اسماء الرجال وفن حدیث میں بھی کتابیں تصنیف کیں:
1..حضرت ام محمد فاطمہ بنت محمد اسفہانی: ان کی بہت سی تصنیفات تھیں جن میں ”الرموز من الکنوز“ پانچ جلدوں میں آج بھی موجود ہے۔
2..عجیبہ بنت حافظ بغدادیہ: انہوں نے اپنے اساتذہ وشیوخ کے حالات او ران کے مسموعات پر دس جلدوں میں ”المشیخة“ نامی کتاب لکھی۔
3..ام محمد محمد شہدہ بنت کمال: ان کو بہت سی حدثیں زبانی یاد تھیں۔ لہٰذا انہوں نے بہت سی احادیث کو کتابی شکل میں یکجا کیا۔
4..ا مة الله تسنیم : یہ ماضی قریب کے مشہور عالم دین مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمة الله علیہ کی بہن ہیں۔ انہوں نے امام نووی کی کتاب ”ریاض الصالحین“ کا اردو ترجمہ ”زاد سفر“ کے نام سے کیا ہے۔

الحمدلله! آج پاکستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں بنات کے مدارس قائم ہیں، جن کے وجود سے اسلاف کا یہ سلسلہ آج بھی جاری وساری ہے۔ ان دینی درس گاہوں میں خواتینِ اسلام دینی علوم کے حصول کا شوق پورا کرتی ہیں، قرآن وحدیث کے علوم اپنے قلب میں محفوظ کرتی ہیں، درسِ قرآن وحدیث دیتی ہیں او راپنے اسلاف کی یاد تازہ کرتی ہیں۔



English
عربي

ابتداء
اپنے بارے میں
جامعہ فاروقیہ
الفاروق
اسلام
قرآن
کتب خانہ
منتحب سائٹس
This site is developed under the guidance of eminent Ulamaa of Islam. 
Suggestions, comments and queries are welcomed at info@farooqia.com
ابتداء  |  اپنے بارے میں  |  جامعہ فاروقیہ  |  الفاروق  |  اسلام  |  قرآن  |  کتب خانہ  |  منتخب سائٹس
No Copyright Notice.
All the material appearing on this web site can be freely distributed for non-commercial purposes. However, acknowledgement will be appreciated.